ادب میں ’’کاسہ لیسی‘‘ کی روایت اور پروفیسر سحر انصاری : خرم سہیل

0
  • 231
    Shares

اردو زبان میں کئی اصطلاحات ایسی ہیں، جن کی معنویت بڑی زرخیز ہے، ان میں سے ہی ایک ’’کاسہ لیسی‘‘ ہے، جس کے لغوی معنی خوشامد، چاپلوسی اور جھوٹے برتن چاٹنے والے کے ہیں۔ یہ لفظ فارسی زبان سے اردو میں شامل ہوا، معنویت میں اپنی مثال آپ ہے، کیونکہ انفرادی لفظ ہونے کے باوجود اجتماعی ہونے کے معنی دیتا ہے، یعنی اس لفظ کے لغوی معنی ہی دیکھ لیں ’’کاسہ لیسی‘‘ یعنی خوشامد کرنے والا، اب وہ جس کی خوشامد کرے گا، اس کے مخاطب کو ملا کر ہی یہ فعل مکمل ہو سکتا ہے، اس لیے تنہا اصطلاح ہونے کے باوجود دو افراد کے فعل کو بیان کرتا ہے۔ یہی اردو زبان کا کمال ہے۔

ہمارے ادب میں کئی لفظوں اور اصطلاحات نے دیرپا حکمرانی کی، ان میں سے یہ ’’کاسہ لیسی‘‘ بھی ہے۔ یہ بڑا حیرت انگیز لفظ ہے، پاکستانی ادبی منظر نامے کو غور سے دیکھا جائے، تو ایک کثیر تعداد اس حرف میں قید نظر آتی ہے، ہمارے ادبی منظرنامے پر، تخلیق کاروں کی زندگیوں میں اکثریت کے لیے لازمی جز بن چکا ہے۔ اس لفظ کو بسر کیے بغیر ان کا گزارہ نہیں ہے۔ ایک وقت ہوا کرتا تھا، جب خود نمائی، خود ستائشی، اپنے بارے میں خود تعریفی کلمات کہنا، بے ادبی تصور کیا جاتا تھا، اس طرح کا کوئی بھی عمل بچکانہ اور غیر علمی قرار دیا جاتا تھا، مگر اب تو صورتحال بالکل اس کے برعکس ہے۔

ادبی منظر نامے پر کاسہ لیسی کے کئی عبرت ناک مناظر ہیں، جن کو دیکھ کر صرف پناہ ہی مانگی جا سکتی ہے۔ آپ اگر شاعر، ادیب، محقق وغیرہ ہیں اور آپ کا شمار سینئرز میں کیا جاتا ہے، تو آپ سیاسی حلقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھائیں، قسمت اچھی ہوئی، تو کم وقت میں ہی، آپ کی خواہشیں، ثمرات میں تبدیل ہونے لگیں گی، آپ صحافی ہوں چاہے ادیب، صرف کاسہ لیسی کے فن پر عبور ہونا چاہیے، پھر آپ کو پاکستان ٹیلی وژن کا چیئرمین بھی بنایا جا سکتا ہے، وہاں آپ اپنی ذات کو مرکز بنا کر، آن ایئر زیادہ سے زیادہ نشر ہوں، جب معاملات قابو میں نہ رہیں اور بالخصوص اگر آپ کے ہاتھ سے شہد کا کٹورہ چھوٹنے کو ہو تو مستعفی ہو جائیں اور اگر آپ کسی روزنامے میں کالم لکھتے ہیں تو اپنی دیانت داری کی تسبیح پڑھ ڈالیں، افاقہ ہوجائے گا۔ یہ سلسلہ یہی تک محدود نہیں رہتا، آپ چاہیں تو سیاسی شاباش کے نتیجے میں کسی ادبی ادارے کے سربراہ بھی بنائے جاسکتے ہیں، پھرجب چاہیں، پتلی گلی سے رفو چکر ہوا جاسکتا ہے، آپ کے کیے ہوئے وعدے صرف ریت کا ڈھیر ثابت ہوں گے، کیونکہ آپ تو کبھی خود سے مخلص نہیں رہے، تو شعر و ادب سے اخلاص نبھانا فطری طور پر آپ کی شخصیت کا خاصا نہیں ہو سکتا، اب لوگ نہیں سمجھتے، تو اس کی پرواہ نہ کریں، عوام کا کیا ہے، وہ کیا جانیں، ادرک کا مزا۔ نوازنے کی اور بھی منزلیں ہیں، آپ کی صلاحیتوں پر منحصر ہے، آپ اس میں سے کیسے اور کتنا گھن سمیٹ سکتے ہیں۔

اسی ادبی منظر نامے پر اگر آپ کا شمار ابھی جونیئرز میں ہوتا ہے تو پھر اس کے لیے مختلف حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ سیاسی حلقوں میں تو شاید آپ کو کوئی گھاس نہ ڈالے، البتہ ادبی حلقوں میں سینئرز، جن کی سیاسی حلقوں تک پہنچ ہے، بس آپ ان تک پہنچ جائیں۔ ان کے گھٹنوں میں سر یاہاتھ رکھ کربیٹھ جائیں، یہ آپ کی داخلی کیفیت پر منحصر ہے۔ ان کے شعری وصف اور تخلیق کے معیار کی گردان کرنا نہ بھولیں، ہر اہم موقع پر لوگوں کو یاد دلاتے رہیں کہ وہ صرف وہ ہی بڑے تخلیق کار ہیں، ان کی کتابوں کی تشہیر کریں، سوشل میڈیا پر اگر ان کی توصیف میں کچھ کر گزریں تو اسے اضافی خوبی تصور کیا جائے گا۔ دھیرے دھیرے آپ کے لیے شہرت کے راستے کھلنے لگیں گے، آپ کی شایع شدہ کتابوں میں چاہے دم ہو یا نہ ہو، آپ نے وہ ساری کتابیں، احباب کو چائے پلاتے ہوئے تقسیم کر دی ہوں، پھر بھی آپ کاتذکرہ سینئرزکے حلقہ احباب میں ہونے لگے گا، کیونکہ چائے کا ہوٹل ہو یا ادب کا چائے خانہ، چھوٹے کی ضرورت ہر جگہ ہوتی ہے۔ سرِراہ کسی سینئرکے لیے کوئی جھگڑا مول لے لیں تو یقین جانیے روشن مستقبل آپ سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑا، آپ کی راہ تک رہا ہے، یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں، منہ تک رہا ہے۔

سرِراہ کسی سینئرکے لیے کوئی جھگڑا مول لے لیں تو یقین جانیے روشن مستقبل آپ سے کچھ ہی فاصلے پر کھڑا، آپ کی راہ تک رہا ہے، یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں، منہ تک رہا ہے۔

تیسرا اور آخری مرحلہ یہ ہے، کوشش کریں مخالفین کی باتوں پر دھیان نہ دیں، یہ توحاسدین ہوتے ہیں، ان کی پرواہ کیے بغیر آپ توصیف و توفیق کی منزلیں طے کرتے چلے جائیں، ادب میں ترقی کرنے کا سب سے مختصر راستہ یہ ہے کہ ادب کے بڑوں کے چھوٹے بن جائیں۔ رہ گئی بات اصل ادب، تخلیق، تشنگی، کسک، بے چین ہونے کی، تو چند ایک بیوقوف ہر دور میں ہوتے ہیں، جن کا کام صرف حقیقت میں کام اور کام کرنا ہی ہوتا ہے، بغیر کاسہ لیسی کیے، اپنی تخلیقی دیوانگی میں مست رہتے ہیں، یہ الگ بات ہے، آخری کسوٹی، جس کو وقت کہا جاتا ہے، وہاں تعلقات عامہ، انجمن ستائش باہمی، میلے ٹھیلے اور عہدوں کی جگہ صرف آپ کا ہنر اور کام ہی کام آتا ہے، مگر اتنی دیر انتظار کون کرے، یہ قوم تو ویسے بھی مردہ پرست ہے، مرنے کے بعدزیادہ عزت سے نوازتی ہے، اگر زندگی میں عزت حاصل کرنی ہے تو اپنا ضمیر مار دیجیے، صرف عقلی فیصلے کیجیے، پھر دیکھیے آگے کیا کیا ہوتا ہے۔

ادب کے سماج میں دیوانے کے ساتھ کوئی نہیں ہوتا، منافق معاشرے میں سچائی یتیم ہوتی ہے۔ ہرطرف ایک خاموشی ہوتی ہے، جس میں احتجاج کی بجائے اتفاق کا رنگ غالب ہوتا ہے، اسی لیے آج کے عہد میں دیوانگی کی منزل کا کوئی نام رکھا جائے تو وہ پروفیسر ’’سحر انصاری‘‘ ہوگا، جن کی کمر کتابوں کے بوجھ سے جھک گئی ہے، بالوں میں ریاضت کی چاندی اور ہاتھوں میں ادب کی مزدوری کا رعشہ طاری ہے، مگر کوئی بھی ان کی ساری زندگی کی اخلاقی جمع پونجی لوٹ کر، یک جنبش تماشا برپا کر سکتا ہے، چاہے وہ برحق ہے بھی یا نہیں؟ یہ معاملہ موضوع بحث ہی نہیں ہے کیونکہ مجال ہے ادبی منظرنامے پر معدودے چند کے سوا کسی نے اس دیوانے کا ساتھ دیا ہو، وجہ یہ ہے کہ اب کاسہ لیسی والے اکثریت میں ہیں، ہرکوئی اپنی بساط کے مطابق کاسہ لیسی کر رہا ہے، رہ گیا خالص شعر و ادب، وہ اب ترجیحات کاحصہ نہیں رہا، اب ادب کے پادری، کردار کی سندیں بھی تقسیم کیا کریں گے۔

مغربی دنیا میں ہر روز ادب کے نت نئے زاویے دریافت کیے جارہے ہیں، ان کے ہاں ادیبوں کی زندگی کو ذات اور تخلیق دو خانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے، تہمت لگانے کے بھی کچھ اخلاقی اصول ہوتے ہیں، مگر میں بھول گیا، مغرب نے بہت ترقی کر لی، مگر کاسہ لیسی کا ادب ڈھنگ سے ایجاد نہ کر سکا، اس فن میں صرف ہم ہی خود کفیل ہیں۔ اپنے آپ کو دھوکہ دینے کا عمل ایک ایسے ہی نشے کی طرح ہے، جس میں لطف و سرور تو ملتا ہے، لیکن آپ تباہ ہو جاتے ہیں، اس تباہی کا بھی اپنا ہی لطف ہے، اگر یہ سب زمینی حقائق نہ ہوتے تو جون ایلیا جیسا باکمال شاعر یہ نہ لکھتا کہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

میں بھی بہت عجیب ہوں اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کو تباہ کر لیا اور ملال بھی نہیں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: