خواتین کا معاشی مقام اور عزت ِ نفس : عینی خان

0
  • 74
    Shares

ذرا سوچئیے کہ آپ کے آگے بار بار ہاتھ پھیلانے والے کی آپ کی نظر میں کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ چاہے وہ کتنا ہی خوبصورت ہو!
آپ اس کو بادل ناخواستہ بھیک بھی دے دیں گے مگر دل میں اسے سخت سست جانیں گے اور بوجھ سمجھیں گے۔ اس کی خوبصورتی، دلکشی اور attraction آپ کی نظر میں ختم ہو جاۓ گی۔

آپ کی طرف نفرت سے ٹکڑے اُچھالنے والے کی آپ کے دل میں اور نظر میں کیا جگہ ہوسکتی ہے؟ آپ نفرت سے اُچھالے ٹکڑے بھی اُٹھا لیں گے مگر دل میں آپ نفرت محسوس کریں گے۔ دل میں اسے کوسیں گے۔ سوچیں گے کے پیسے کا اس قدر غرور! ایک بار میرے پاس پیسہ آۓ تو میں اس کا غرور توڑ دوں۔

المیہ یہ ہے کہ بعض گھروں میں میاں بیوی کے تعلقات ایک خاص حد تک خراب ہونے کے بعد ایسی ہی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
جب وہ ذہنی اور دلی طور پر تو ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں مگر کسی وجہ سے رشتہ نہیں توڑ سکتے اور ساتھ رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
عورت معاشی طور پر پوری طرح شوہر پر انحصار کر رہی ہوتی ہے۔ ایسے میں اُسے نہ صرف شوہر کی عدم دلچسپی اور بے توجہی کا سامنا ہوتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ معاشی ضروریات اور اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی بار بار انکار کی ذلت برداشت کرنی پڑتی ہے۔

زندگی صرف سر پر چھت اور خوراک کا نام نہیں۔ انسان جب تک زندہ ہے اسے خواب دیکھتے رہنا چائیے۔ ہمارے کئ خواب معاشی تنگی کے باعث ادھورے رہ جاتے ہیں۔ جو کے میری نظر میں شخصیت ادھوری رہ جانے کے مترادف ہے اور نہایت افسوس کی بات ہے۔

کئ بار تو میاں بیوی میں کوئی لڑائ یا ناچاقی بھی نہیں ہوتی مگر مالی معاملات میں بدمزگی معمول بن جاتا ہے۔ جیب خرچ تو دُور خواتین کو روز مرہ کے گھر کے اور بچوں کے خرچوں کے لیے شوہر سے بار بار مانگنے پر بھی پیسے نہیں ملتے۔
جو معاملات باآسانی خوش اسلوبی سے طے پا سکتے ہیں اُنہیں مرد کی جانب سے دانستہ اور غیر دانستہ طور پر پاور گیم بنا دیا جاتا ہے۔ اور وہ خواتین جنہیں مسلسل نہ سننے کی عادت ہو جاتی ہے وہ بھی گھوم پھر کر ایک ہی بات دہرانے لگتی ہیں جو کے مرد کے لیے کوفت کا باعث ہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف گھر کا ماحول خراب ہوتا ہے بلکہ بچوں کے ذہنوں پر بھی بُرا اثر ہوتا ہے۔
میاں بیوی کے درمیان ایسا تعلق عدم توازن کا شکار ہوتا ہے۔ میرے خیال میں دو انسانوں کے درمیان ایسے غیر متوازن تعلق میں attraction زیادہ عرصہ قائم نہیں رہ سکتی۔

پچھلے دور میں سلائی کڑھائی، سینا پرونا، کھانا پکانا نیز گھر داری اور سلیقہ عورت کے قدر و قیمت میں اضافے کا سامان تھے۔ ان خوبیوں کی اہمیت سے آج بھی انکار نہیں۔ مگر آج کل کے مادی دور میں جب سب ready made مل جاتا ہے اور ہر چیز کو مادی ترازو میں تولہ جاتا ہے یہ بات بھی اور زیادہ اہمیت اختیار کر گئ ہے کے کوئی کتنا پیسہ بناتا ہے۔ کتنی financial support فراہم کرتا ہے۔ عورت کی کہی بات، اُس کی دی گئ راۓ، پسند نا پسند، گھر میں اور خاندان میں اس کی حیثیت نیز ہر چیز میں وزن پیدا ہوتا ہے جب وہ معاشی طور پر independent ہوتی ہے۔ اپنے پاؤں پر کھڑی عورت ایک معاشی طور پر محتاج عورت کے مقابلے میں ہمیشہ زیادہ دلکش محسوس ہوتی ہے۔
ورنہ کئ بار عورت کا تمام تر سگھڑاپا، سلیقہ، خوش گفتاری، خود اعتمادی، تمام صلاحتیں شوہر کی نظر میں اور پھر اپنی نظر میں مٹی ہو جاتے ہیں۔

اس معاملے میں نچلے طبقے کی خواتین یا اُن کے خاندان والے عموماً گھر میں رہ کر یا گھر سے باہر جا کر کام کرنے کو معیوب نہیں سمجھتے یا شاید معاشی تنگی کے پیشِ نظر لوگ کیا کہیں گے کے خوفناک جن اور بوسیدہ معاشرتی روایات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ کئ دفعہ تو غیر شادی شدہ لڑکیاں بھی لڑکوں کی طرح گھر کی، والدین اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمی داری اُٹھاتی ہیں۔ ماں باپ کا بوجھ بانٹتی ہیں۔

اپر کلاس کی خواتین خاوند اور خاندان والوں سے الگ اپنی شناخت بنانا چاہتی ہیں اسلیے وہ بھی اگر چاہیں تو کسی مخالفت کو خاطر میں نہ لاتے ہوۓ معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑی ہو جاتی ہیں۔
مسئلے زیادہ تر مڈل کلاس یعنی سفید پوش طبقے کے حصے میں آتے ہیں جہاں “لوگ کیا کہیں گے“ کی نفسیاتی بیماری کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔

یہ معاشرے کی کڑوی حقیقت ہے رشتوں کی کڑوی حقیقت ہے۔ کون سا گھرانہ ایسا ہے جہاں خاوند اپنی بیوی سے جھگڑنے کے بعد اور ناراضگی کے باوجود بھی اسے پہلے کی طرح خوشی خوشی جیب خرچ دے گا۔
اگر خاوند کو کوئی بات ناگوار گزری ہو گی یا وہ ناراض ہو گا تو عورت کو اپنی چھوٹی چھوٹی معاشی ضروریات کے لیے محتاجی محسوس ہو گی۔ ایسے میں ناراضگی ختم کر کے بیوی محبت کا ثبوت کم دے گی اور اپنی معاشی بےچارگی کا اعلان زیادہ کرے گی۔

عزت ِ نفس کو مجروح کرنے والا یا پھر وہ شخص جسے آپ بوجھ تصور کرتے ہیں وہ کبھی بھی آپ کی روح کے لیے باعث ِ سکون نہیں ہو سکتا۔ یہی بات آگے چل کر جنسی ناآسودگی کا سبب بھی بن جاتی ہے۔

اسلام نے معاشی ذمے داری مرد کے سپرد کی ہے مگر سر پر چھت اور خوراک کے علاوہ اگر مرد بعقی مالی و معاشی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں یا کسی بھی وجہ سے پوری نہیں کرتا تو اس کے ساتھ کوئ زور زبردستی نہیں کر سکتا۔ ایسے حالات میں عورت مظلومیت کی تصویر بننے کی بجاۓ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کرے۔

زندگی صرف سر پر چھت اور خوراک کا نام نہیں۔ انسان جب تک زندہ ہے اسے خواب دیکھتے رہنا چائیے۔ ہمارے کئ خواب معاشی تنگی کے باعث ادھورے رہ جاتے ہیں۔ جو کے میری نظر میں شخصیت ادھوری رہ جانے کے مترادف ہے اور نہایت افسوس کی بات ہے۔

نوکری کرنے والی عورت نہ صرف شوہر کو پیش آنے والی مشکلات کو بہتر طور پر سمجھ کر بہتر رفیق ثابت ہو سکتی ہے بلکہ اس مہنگائ کے دور میں معاشی طور پر شوہر کا بوجھ بانٹ سکتی ہے جو کے میاں بیوی کے باہمی محبت اور تعلق کو بہتر بنانے کا باعث ہو سکتا ہے۔
آج کے دور میں جب والدین پرورش اور تعلیم کے معاملے میں بیٹے اور بیٹیوں میں فرق نہیں کرتے تو غیر شادی شدہ لڑکیوں کو والدین کا معاشی بوجھ بھی بانٹنا چاہیے۔ ۔ ایسا کرنے کی صورت میں بیٹیاں نہ صرف نوکری کرنے کا تجربہ حاصل کر کے اپنی شخصیت مزید بہتر اور پُر وقار بنائیں گی بلکہ ماں باپ کا معاشی طور پر ہاتھ بٹا کر اُن کے لیے مزید راحت کا سامان ہونگی۔ لیکن ایسا نہ ہونے کی صورت میں بےشک معاشی بوجھ جتنا بھی بڑھ جاۓ چونکہ والدین سے خون کا رشتہ ہے تو میاں بیوی کے رشتے کی طرح محبت اور attraction ختم ہونے کا کوئ سوال پیدا نہیں ہو گا۔ اسی طرح بدقسمتی سے مرد حضرات کے لیے بھی باقی خون کے رشتوں کے مقابلے میں بیوی کے ساتھ معاشی معاملات میں بار بار ہونے والی تلخی اور بحث زیادہ شدید اور ناگوار ہو گی جو رشتے کی ڈور کمزور کرنے، ایک دوسرے سے سرد مہری، لاتعلقی اور کبھی کبھی علیدگی کا سبب بن سکتی ہے۔

ضروری نہیں کے نوکری کرنے کے لیے گھر سے باہر ہی جانا پڑے۔ اگر بچے چھوٹے ہیں تو گھر میں ہی ٹیوشن یا سپارہ پڑھایا جا سکتا ہے۔ سلائی کڑہائی نہیں بھی آتی تب بھی بہت سی فیکٹریاں ایسی موجود ہیں جہاں خواتین کو گھر میں بٹن یا لیس لگانے، استری کرنے، پیکنگ کرنے، ٹیگ لگانے کا کام یا پھر ایسے ہی آسان کام دیے جاتے ہیں۔ بڑے ہوٹلز والے بھی کامپلیمنٹری چیزوں مثلاً شامپو، کنڈشنر، لوشن وغیرہ کی پیکنگ کا کام دیتے ہیں۔ مصالحہ جات کی پیکنگ، کیٹرنگ کا کام اور آن لائن آرٹیکل رائیٹنگ، interpreter اور translator کا کام بھی کر سکتی ہیں۔
ایسے کام کرتے رہنے سے خواتین ملک کی معاشی ترقی میں بھی فعال کردار ادا کر سکتی ہیں۔

اگر ایک جگہ دوپہر کا وقت اور شدید گرمی ہے۔ لوگ باہر دھوپ میں کام کر رہے ہیں اور پیاس سے نڈھال ہیں۔ ایسے میں اگر آپ کو دو آپشن دیے جاتے ہیں کے سب کو ٹھنڈا شربت پلاؤ یا گرم چاۓ پلاؤ اُس وقت جب کے آپ جانتے ہیں کے لوگ پیاس سے نڈھال اور پانی یا شربت کے طلبگار ہیں آپ یہ نہیں کہیں گے کے مجھے چاۓ اچھی بنانی آتی ہے اس لیے میں تو چاۓ ہی بناؤں گی۔ ایسے میں اگر آپ کی چاۓ کی ناقدری ہو تو قصور دوسروں کا نہیں آپ کا اپنا ہے۔ ہر ہنر دکھانے کا ایک صحیح وقت ہوتا ہے۔ آپ کی سلیقہ شعاری اور گھرداری جتنی بھی قابلِ تعریف ہو جب حالات آپ سے معاشی تعاون کا تقاضا کر رہے ہیں تو اُس وقت تقاضا پورا کرنے کی کوشش کرنا حقیقت پسندی اور سمجھداری ہے۔

آپ لوگوں کو وہ نہ دو جو آپ دینا چاہتے ہو بلکہ وہ دو جس کی اُنہیں ضرورت ہے۔ اپنی بیٹیوں کو پڑھانے کے ساتھ ساتھ اتنا اعتماد ضرور دیں کے وہ کوئی ہنر سیکھ کر یا نوکری کر کے اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکیں۔ عزتِ نفس سے قیمتی کوئی سونا کوئی زیور نہیں۔ شادی شدہ خواتین بھی تب نوکری کا سوچتی ہیں جب پانی سر سے گزر جاتا ہے یا سر پر چھت نہیں رہتی۔ مگر ان کی ذات کی عمارت جو خوداعتمادی کی اینٹوں سے بنی ہوتی ہے وہ بار بار ضرب لگنے کے بعد ڈھے جاتی ہے اور عزت نفس کی دھجیاں اُڑ جاتی ہیں۔
یہ نقصان بہت بڑا اور ناقابلِ تلافی ہوتا ہے۔

آپ کوئی رشتہ تب تک ہی احسن طریقے سے نبھا سکتے ہیں جب تک آپ میں اپنی ذات کا شعور موجود ہوتا ہے۔ ایک پُر اعتماد اور مضبوط عورت ہی اپنے بچوں کو مکمل طور پُر اعتماد اور مضبوط شخصیت کا مالک بنا سکتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: