پھول اور کتابیں – پشاور اور کوئٹہ — دو شھروں کا خوشبودار تذکرہ : مطربہ شیخ

1
  • 99
    Shares

مصالحہ ٹی وی پر شیف محبوب کهانا پکانا سکها رہے ہیں، ترکی حلوہ سیکهنے کے لئے میں چینل پر رک گئ۔ شیف صاحب کا تعلق کوئٹہ سے ہے سب کو معلوم ہی ہے، برسبیل تذکرہ وہ بتا رہے ہیں کہ کوئٹہ شہر میں بہت سی اقسام کے پهول ہائے جاتے ہیں اور گلاب کے بہت بڑے سائز کے پهول ہوتے ہیں لیکن کوئٹہ شہر میں پهولوں کی کوئی دکان نہیں، وہ ایک با رکسی مریض کی عیادت کے لئے پهول خریدنا چاہتے تهے مگر ناکام ہوئے۔

البتہ کوئٹہ شہر میں کتابوں کئی دکانیں ہیں۔ یہ بات پچهلے سال مجهے کراچی کے بک فیئر میں معلوم ہوئی جب میرے میاں کی بهانجی کافی سال سے کوئی اولڈ کلاسک انگلش ناول ڈھونڈ رہی تهی اور وہ بڑے بڑے بک اسٹورز سمیت کہیں نہیں ملا تها لیکن ایک بک اسٹال پر مل گیا، صاحب اسٹال نے بتایا کہ وہ کوئٹہ سے آئے ہوئے ہیں اور وہاں بهی انکی کتابوں کی دکان ہے۔ بہت خوشی ہوئی تهی کہ وہاں بهی لوگ کتابیں پڑهتے ہیں۔ چلئے پهولوں کی دکان نہ سہی کتابوں کی تو ہے نا۔ بلکل اسی طرح جیسے میرے میاں اور میں پشاور گئے تهے۔

ان دنوں میرے شہید ماموں وہاں پوسٹڈ تهے۔ ہم انکے گهر سے پیدل چلتے ہوئے صدر پہنچے توبلیو بیلز نامی ایک میوزک شاپ نظر آئی، میرے کزن نے بتایا کہ آپکو دنیا کا ہر گانا یہاں مل سکتا ہے۔ میرے میاں نے کہا ’’ممکن ہی نہیں ہے‘‘۔ میں نے کہا چیک تو کیجئے، تصدیق ہو جائے گی۔ ہم سیڑهیاں چڑھ کر اوپر پہنچے، میرے میاں نے ایک انگلش اور ایک اسپینش اور میرے کزن نے ایک بہت پرانا فارسی گانا بتایا۔ دکان دار نے کہا تهوڑا وقت دیں ابهی سب مل جائیں گے اور وہ سب مل گئے۔ میرے میاں نے کہا یہ کمال ہے کیونکہ یہ گانا مجهے یو کے کی ایک میوزک لائیبریری کے علاوہ کہیں نہیں ملا اور میں اسکو کاپی نہیں کروا سکا تها۔ بہت حیرت بهری خوشی ہوئی تھی۔

کوئٹہ اور پشاور ہمارے قدیم اور خوبصورت شہروں میں سے ہیں۔ وہاں کے لوگوں کی بهی ایک الگ اور خوبصورت فطرت ہے، دونوں شہروں کی آب و ہوا اور پانی صحت بخش ہے۔ پهلوں، پهولوں اور میوہ جات کی بہتات ہے لیکن حالیہ دنوں میں سڑکوں کو کشادہ کرنے کے چکر میں درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ مہمان نوازی ان شہروں کا خاصہ ہے۔

پشاور میں نمک منڈی کے تکے ہر مہمان کو کهلائے جاتے ہیں، چپلی کباب کی تو کیا ہی بات ہے جیسا ذائقہ وہاں کے چپلی کباب میں ہوتا ہے وہ کسی اور جگہ چاہ کر بھی نہیں لایا جا سکتا۔ وہاں کے مقامی افراد کی مہارت اور محبت و خلوص ان میں شامل ہوتا ہے۔ کوئٹہ کا مشہور پکوان سجی ہے جو سالم مرغ یا بکرے کو روسٹ کر کے بنائی جاتی ہے۔ مقامی افراد کی مہارت اس پکوان میں بہت خاص ہے۔

دونوں شہروں کے عوام محنتی اور جفاکش ہیں۔ پچهلے کچھ سالوں سے ہمارے دونوں شہر کچھ ریاستی اور قبائلی غلط فہمیوں کی وجہ سے بہت متاثر ہیں اور ہم نے ان دونوں شہروں کو تباہ و برباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چهوڑی۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں کے اپنے لوگوں کی عدم توجہی اور روایتی بے نیازی نے بهی یہ دن دکهایا ہے۔ ہر کام حکومت یا ریاست کے کرنے کا نہیں ہوتا، ہمارے بهی کچھ فرائض ہوتے ہیں۔ لوگ ان شہروں کو چهوڑ کر ملک سے باہر جا کر بس گئے یا ملک کےدوسرے شہروں میں آ گئے اور پلٹ کر اپنے شہر کو نہیں دیکها۔

اب کچھ لوگ ویلنٹائن ڈے منانے کی بات کر رہے ہیں، جس شہر میں آپ پهولوں کی ایک دکان نہیں کهول سکے ملک سے باہر بیٹھ کر غیر روایتی دن منانے کی بات نہ کیجئے۔ کوئٹہ شہر کے اور بہت سے مسائل ہیں۔ لاپتہ افراد، ناقص امن و امان کی صورتحال، عدم استحکام و تحفظ۔ اتنی اچهی کتابیں پڑهنے والے اور موسیقی سننے والے کیسے دہشت گردی کر سکتے ہیں، ہمیں سوچنا ہے۔ ان شہروں کی اسی شناخت کو لوٹانا ہے، خوشبو اور آہنگ کا سفر جاری رکھنا ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: