سوشل میڈیا کا ادب اور خواتین : احمد اقبال

0
  • 140
    Shares

کیا آپ بھی سمجھتے ہیں کہ شاعری کے زوال کے ذمے دار وہ سب ہیں جو خیال خاطر احباب میں ہر اوٹ پٹانگ شعر پر لائک اور واہ لکھنا ادبی بد دیانتی نہیں ایک اخلاقی ذمے داری سمجھتے ہیں ؟۔ خواتین کو ترجیحی طور پر، (اکثر پروفائل کے حسن کی بنیاد پر) ستائشی تبصرے بہت زیادہ ملتے ہیں ؟ اتنے کہ انہیں خود کو عظیم شاعرات کی صف میں کھڑا کر لینے کا جواز مل جاتا ہے؟

فیس بکی شاعری کرنے والوں میں اکثریت ان کی ہے جو شاعری کے اصول و قواعد سے یکسر نا آشنا یا منکر ہیں۔ خیال ان کا یہ ہے کہ شاعری میں صرف قافیہ ہی تو ہوتا ہے کہ ایک مصرعہ خر پر ختم ہوا اور دوسرا شتر پر اور دونو مصرعے ہیں بھی 44 ملی میٹر کے تو یہ شعرکیسے نہیں؟ بحر اور وزن کی بات کرنے والے پر براہ راست الزام ہے کہ یہ ادب کے ٹھیکے دار ہیں۔ خود ساختہ نقاد ہیں جوہر نو وارد کی حوصلہ شکنی کر کے اپنی اجارہ داری قائم رکھتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان کے لیے ایک گالی بھی ایجاد کرلی گئی ہے کہ یہ ’’عروضی‘‘ ہیں۔

یہ میرا حالیہ تجربہ ہے۔ فیس بک فرینڈشپ سے قائم ہونے والی انجمن ستائش باہمی کے ایک نجی مشاعرے میں چار صاحب دیوان شاعرات کا تعارف بڑے فخر سے کرایا گیا، ان میں ایک خاتون کے تو 4 مجموعے منظر عام پر آچکےتھے کیونکہ وہ افورڈ کر سکتی تھیں ورنہ آج بھی؎ پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں۔ کوئی ناشر ان کا دیوان شائع کرکے خسارے کا سودا نہیں کرتا جو واقعی شاعر ہیں۔ معیار کی میں بات ہی نہیں کرتا۔ ان شاعرات نے اپنے دیوان سے جو غزلیات سنائیں تو کسی نہ کسی میں ایک دو اشعار وزن سے خارج تھے۔8 شاعرات کو تین شاعر داد دیتے رہے تو پاس ادب سے یہ ناچیز بھی بارھویں کھلاڑی کی طرح چپ بیٹھا بس صورتیں دیکھتا رہا۔ گو ایسی ایک بھی نہ تھی جس پر نظرٹھہر جاتی۔ لگتا ہے کہ شاعری کے شعبے میں خواتین نے میدان مار لیا ہے لیکن یوں بھی لگتا ہے کہ وہ جن پر اب کسی کی نظر ٹھہرتی نہیں۔ وہ یوں توجہ حاصل کرلیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ شاعر بن کے ان حضرات و خواتین کی دستارفضیلت میں کون سا سرخاب کا پر لگ جاتا ہے کہ وہ غالب اور اقبال یا فیض اور فرازکے اشعارکا بھی ریپ کرنے سے نہیں چوکتے۔ کیا راہ چلتے عوام انہیں جھک جھک کے سلام کرنے لگتے ہیں کہ دیکھو یہ ہمارے ملک کتنا عظیم شاعرجا رہا ہے؟ اپنی دلآزار و دل شکن رائے پر میں ایسے تمام شاعر اور شاعرات سے معذرت کروں تو یہ گویا سچ کہنے کو اپنا جرم تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔ اوکھلی میں دیا سر تو موصلوں کا کیا ڈر۔ میں ان فیس بکی شاعر وشاعرات کے رد عمل کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن کیا ان کے پاس میرے دو سوالات کا جواب ہے۔

1۔ کیا یہ فنون لطیفہ میں ممکن ہے کہ جو سرتال سے آشنا نہ ہو وہ موسیقار بن جائے؟ یا وہ مصور بن سکتا ہے۔ جو بقول ضمیر جعفری مصوری کی نمائش میں تصویر دیکھے تو کہے

حسن محبوب دریچے میں سجا رکھا تھا
میں یہ سمجھا کہ تپایؑ پہ گھڑا رکھا تھا

2۔ یہ فیس بکی شاعر اگر واقعی تخلیقی ذہن رکھتے ہیں تو اپنے ادب عالیہ کو ان ادبی سہ ماہی جرائد میں شائع کیوں نہیں کراتے جو واقعی معیار رکھتے ہیں اور ہر شہر سے شائع ہوتے ہیں۔

کیا ستم ہے کہ جہاں اردو زبان کی قومی حیثیت تسلیم کرانے والے اسے ایک سیاسی نعرہ بنالیں اور سپریم کورٹ کے تائید میں فیصلے پر بغلیں بجاتے ہوں جہاں نقوش، سویرا سیپ اور فنون جیسے جرائد قصۂ پارینہ ہو جائیں۔ مشاعروں کی روایت داستان ماضی بن جائے۔ نئی نسل ماہانہ گروسری کو سودا اور میر کو رضا میر ایکٹر سمجھتی ہو۔ بیالیس نہ جانے فورٹی ٹو سمجھے۔ صرف ایک شہر کے باسی جھنڈا اور ڈنڈا لیے نعرہ زن ہوں کہ بس ہم اردو اسپیکنگ ہیں۔ وہاں اچانک رابطے کا بچت بازار فیس بک ادب و شاعری کے فروغ کی وہ درس گاہ بن جائے کہ انجمن ترقی اردو اور رائٹرز گلڈ اکادمی ادبیات اور نیشنل بک فائونڈیشن جیسے قومی ادارے شرمائیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ شاعر بن کے ان حضرات و خواتین کی دستارفضیلت میں کون سا سرخاب کا پر لگ جاتا ہے کہ وہ غالب اور اقبال یا فیض اور فرازکے اشعارکا بھی ریپ کرنے سے نہیں چوکتے۔

معاملہ صرف شاعری تک محدود نہیں رہا۔ فکشن خصوصاً افسانے کی تکنیک کے ساتھ وہی سلوک ہوا جو بیوٹی پارلر والے دیسی رنگ کی دلہن کو ولایت کی گوری میم بنانے کے لیے کرتے ہیں۔ شب عروسی کا سورج طلوع ہو تو دولھا گھبرا کے اٹھ بیٹھتا ہے کہ رات والی پری کی جگہ یہ چڑیل کہاں سے آگئی۔ کم سے کم ملبوس میں بازی لے جانے والی آئٹم گرل کی طرح مقابلہ سو الفاظ میں افسانہ لکھنے سے شروع ہوا کسی زیادہ بڑےا فسانہ نگارنے مزید دس الفاظ بچانے کا اعزاز حاصل کیا۔ نوبت بہ اینجا رسید کہ پچاس اور پھر دس لفظوں میں شہکار افسانے تخلیق ہونے لگے۔ واللہ کیا کفایت شعار قوم ہے۔ اس بچت سے اردو زبان مالا مال ہوگئی۔ افسانہ کون سا شہکار بنا جیسے سیاہ حاشیے میں منٹو نے چار سطروں میں لکھے؟

لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ انسانی سوچ کا دھارا تاریخ کے صفحات میں ایسے ہی بہتا آیا ہے۔ میرے جیسے کی ناراضی سے بھی کیا فرق پڑے گا۔ کچھ احباب احتجاجاً فیس بک چھوڑ جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ کسی کے دنیا چھوڑ جانے سے بھی کیا ہوتا ہے۔ تعمیری اور تخلیقی سوچ کا بہتا دریا رواں دواں ہے اور رہے گا۔ اسی زمانے میں جتنے شہکار افسانے اور ناول میں نے پڑھے۔ جو اعلیٰ شاعری میرے لیے باعث افتخار دوست ارسال کر رہے ہیں وہ کل کا جزو ہے لیکن وہ اس دور کا نمائندہ ادب ہے اور رہے گا۔ جو کچھ میں نے اپنی دسترس میں کبھی سمجھا نہ تھا پی ڈی ایف سے ملا تواے ناشکرے انسان۔ تو اپنی رب کی کس کس نعمت کو جھٹلائے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: