سٹیل کی پلیٹ : عنبر عبیر کا افسانچہ

0
  • 16
    Shares

میں تب سے شازیہ کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھانے لگا تھا جب اس کے گھر والے ہمارے پڑوسی بن کر آئے تھے۔وہ ایک خاموش طبع اور بات بات پر شرما جانے والی لڑکی تھی۔ شاید اسے گھر میں اپنی بے وقعتی کا احساس تھا۔ اس لئے جلد ہی میری چکنی چپڑی باتوں سے رام ہوگئی۔ کیونکہ میں اس کی وہ خوبیاں بھی اجاگر کرتا تھا جو گھر والوں کی نظروں سے پوشیدہ تھی۔

ہمارے گھر میں جب بھی کوئی اچھا پکوان پکتا تو اس کے گھر ایک پلیٹ ضرور بجھواتا۔ سٹیل کی اس پلیٹ کے پچھلے حصے پر میں نے جان بوجھ کر اپنا نام کندہ کیا ہوا تھا۔ وہ پلیٹ جب ان کے گھر سے واپس آتی تو سب سے پہلے‘ مَیں ہونٹوں کے اس نشان کو مٹانے دوڑ پڑتا‘ جو اس کے پچھلے حصے پر میرے نام کے اوپر بنا ہوتا۔ شازیہ کے گھر والے سمجھتے کہ پاس پڑوس والے ان کا بہت خیال رکھتے ہیں جب کہ شازیہ جانتی تھی کہ یہ کوئی اور ہے جو صرف اس کا خیال رکھتا ہے!

ایک سال کرائے کے گھر میں رہنے کے بعد وہ چلے گئے۔ شاید وہ ہمارے گاؤں سے ہی چلے گئے تھے۔ کیونکہ پھر کبھی اس کے خاندان کے مردوں سے مڈبھیڑ نہیں ہوئی۔ میں بھی اسے بھول گیا تھا۔ ہمارے گاؤں میں لڑکیوں کی کوئی کمی نہیں تھی!

لڑکپن، جوانی کے مزے گزر گئے۔ زندگی بہت مصروف ہوگئی تھی۔ اپنے بچوں کیلئے کمانے سے فرصت نہ ملتی۔ بجلی کا بل, پانی کا بل, سکول کی فیسیں اہل و عیال کیلئے دو وقت کا کھانا کتنی ہی ٹینشنیں سر پر سوار رہتی۔ کب ہمارے پڑوس میں ایک مطلقہ عورت تین چار بچوں کے ساتھ آ پدھاری پتا ہی نہ چلا۔ کون ڈھیر ساری ذمہ داریوں کے ہوتے پڑوسی کا خیال رکھتا ہے؟

ایک رات دروازے پر دستک ہوئی۔ میں نے دروازہ کھولا۔ سامنے جو عورت کھڑی تھی وہ بلا توقف اپنی کتھا سنانے لگی۔ وہ ہماری پڑوسن ہی تھی۔
“بہت انتظار کیا کہ آپ لوگ ایک پلیٹ کھانا بھیجیں گے“ اس نے شاید شکوہ کیا
میں نے غور سے اس کے چہرے کو دیکھا۔ اور ایک طویل سانس لے کر بیزاری سے بولا “او بی بی جی! وہ خواب تھے اور یہ زندگی ہے“

اس نے ایک سرد آہ بھری اور مغموم لہجے میں گویا ہوئی”خواب میں کسے کھانا کھانے کی ضرورت ہوتی ہے؟ آپ کو بھی چاہئے تھا تب اپنا کھانا سنبھال کر رکھتے۔ آج ہمارا بھلا ہوجاتا“

میں نے دروازہ بند کر دیا۔ اور اپنے بچوں کو اس کے بچوں کے ساتھ کھیلنے سے منع کرنے لگا۔ کم ازکم میں تو اس عورت کا ماضی جانتا تھا۔ ہر باپ اپنے بچوں کی بھلائی کا ہی سوچتا ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو بھی منع کردیا کہ کبھی بھی کھانا ضرورت سے زائد نہ پکایا کرے خوامخواہ کا خرچہ ہوجاتا ہے۔۔۔

وہی گھر تھا وہی مٹی کی مشترکہ دیوار تھی جس کے پرے وہی عورت تھی جس کے پہلو میں محبت بھرا دل دھڑکتا تھا۔لیکن سٹیل کی ایک پلیٹ درمیان میں سے کم ہوگئی تھی جس پر میرا نام کندہ تھا!!

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: