پاکستان پوسٹ آفس ۔۔۔۔ سب سے منافع بخش ادارہ بن سکتا ہے: مدثر سلیم

5
  • 135
    Shares

لاہور سے چھپنے والے اخبار کی خبر”6 سال میں 25ارب روپے کا خسارہ، پاکستان پوسٹ کی نجکاری کا فیصلہ” بظاہر دو کالمی معمو لی خبر ہے۔ لیکن در حقیقت یہ خبر ارباب اختیار، پاکستان پوسٹ کے سربراہان اور ادارے کی پالیسیوں پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کیوں؟ کیوں کہ پاکستان پو سٹ آفس ایک وفاقی ادارہ ہے۔ اسکی برانچز ملک کے مشرق سے لے کر مغرب اور شمال سے لیکر جنوب تک ملک کے کونے کونے میں مو جود ہیں۔ وطنِ عزیز کا کوئی ایسا شہر، قصبہ، گاوئں نہیں ہے جہاں پوسٹ آفس کی برانچ مو جو د نہ ہو۔ ملک کے طول و عرض میں پھیلے اس ادارے کی 13000 کے لگ بھگ برانچیں ہیں جن میں پچاس ہزار کے لگ بھگ لوگ کام کرتے ہیں۔ جو کہ ادارے کے حجم اور ذمہ داریوں کی نسبت بہت کم ہے۔ ادارے کے پاس 100کھرب روپے سے زائد مالیت کی 4500 سے زیادہ عمارتیں ہیں۔ جن میں سے 3500 سے زیادہ عمارتیں کمر شل ہیں۔ تاریخی ورثہ قرار دیے جانے والے لاہور جی پی او سمیت پاکستان بھر میں 85 جی پی اوز ہیں جو شہروں کی پرائم لوکیشن پے ہیں۔ اس کے باوجود محکمہ ڈاک مسلسل خسارے کا شکار ہے اور یہ خسارہ پچھلے چھ سال کی عرصہ میں پچیس ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔

پاکستان پوسٹ کی قبر کھودنے میں صرف پرائیویٹ کورئیر کمپنیوں کا ہی حصہ نہیں ہے۔ بلکہ اس نہج تک اپنے ہاتھوں سے لے کے جانے میں اس ادارے کے سربراہان اور زمانہ قبل از فرعون کی پالیسیاں بھی شامل ہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان اس مملکتِ خداداد کا نام ہے جسکی بنیاد ہے ”لا الہ الااللہ”۔ نہایت دکھ ہے کہ بنیاد کے اوپر لگا یا گیا مٹیریل اس کمپنی کا نہیں ہے۔ جس کمپنی کا سامان بنیاد میں ہے۔

اپنے گھر کے باتھ روم میں استعمال کرنے کیلئے ٹوائلٹ کلینر بھی خریدنے کے لئے جائیں تو آپ دیکھتے ہیں کہ کسی کمپنی کی پراڈکٹ اچھی، سستی اور معیاری ہے۔ قیمت کس کی مناسب ہے۔ سائیڈ افیکٹ کس کا کتنا ہے۔ میری جیب کیا کہتی ہے۔ تب جا کر آپ ٹوائلٹ کلینر خریدیں گے۔ اس کے بر عکس آپ کے ملک، جس میں آپ نے پیدائش سے لے کر بعد از وفات تک رہنا، جینا اور مرنا ہے کے متعلق آپ کا خیا ل ہے کہ خود بہ خو د ہی سب کچھ ٹھیک چلتا رہے گا۔ بحیثیتِ شہری آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

ہمیں یہ سوچ بدلنا ہو گی۔ ہمیں اس دیس کو جس نے ہمیں پہچان دی، کو اپنا گھر سمجھنا ہو گا۔ اس کے نفع نقصان کو اپنا نفع نقصان ماننا ہو گا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ ہم نے محنت کرکے اپنا مستقبل محفوظ کرنا ہے یا سب کچھ پرائیوٹائز کرتے جانا ہے۔ پرائیوٹائز کرتے جائیں گے تو بہت دیر نہیں گزرے گی جب ہمارے اقتدار کے ایوانوں کا حال بہادر شاہ ظفر کے ایوان جیسا ہو جائیگا۔ جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے غلاموں سے بھی بد ترہو گیا تھا۔ اور اگر ہم آج یہ طے کر لیں کہ ہم نے پاکستان پوسٹ آفس کو پرائیوٹائز نہیں کرنا۔ ہم نے اس کے موجودہ عملہ کو ہی استعمال کرتے ہوئے بغیر کسی انویسٹمنٹ کے صرف اتنا کرنا ہے کہ تمام سرکاری اداروں کو قانون کے دائرے میں لا کر پا بند کر دینا ہے کہ کوئی ایک کاغذ بھی اگر پو سٹ کرنا ہے تو کسی بھی پرائیویٹ کمپنی کے ذریعے نہیں بلکہ پاکستان پو سٹ کے توسط سے بھیجیں گے۔ اور پاکستان پو سٹ کو ہدایات دی جائیں کہ اگر کریں گے تو رہیں گے ورنہ مٹ جائیں گے۔ جس ڈاک کو سات دن میں منز ل تک پہنچاتے ہیںاسے تین دن میں پہنچائیں گے۔ سرکاری وسائل کو ذاتی نہیں عوام کی خدمت کے لئے استعمال کریں گے۔ ادارے کی موجودہ برانچوں کو ہی اس طرح منظم کر یں گے کہ ریونیو میں اضافہ ہو سکے۔ عملے کی تنخواہوں میں اضافہ ہو سکے۔ ترسیل کے اخراجات کم ہو سکیں۔ ادارے میںکام کرنے والے تمام ملازمین جو سکیل 1 تا 15 میں ہیں، کی تنخواہوں میں پوسٹل الاونس متعارف کروائیں گے۔ جو ان کی بنیادی تنخواہ کے برابر ہو گا۔ ملک کے دور دراز علاقوں میں موجو د ان دفاتر کو جن کی عمارتیں کسی بھی وقت زمیں بوس ہونے کا خطرہ ہے کو ہنگامی بنیادوں پر مرمت کروایا جائے۔ ایسے دفاترجہاں کام تھوڑا اور عملہ زیادہ ہے وہاں سے عملہ ان دفاتر میں ٹرانسفر کیا جائے جہاں کام زیادہ اور عملہ کم ہے۔

اس خاکے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لئے حکومت کو اس صورت میں ضرورت محسوس ہو گی اگر وہ پاکستان پوسٹ آفس کو عوام کی فلاح کیلئے استعمال کرنا چاہیں گے۔ افسران کی فوج ظفرموج اس کام کیلئے کچھ نہیں کر سکے گی۔ کیونکہ یہ کام کسی فوج کا نہیں صرف ایک اچھے ٹیم لیڈر کا ہے۔ المیہ ہے کہ جو کام کرتا ہے اسے کرنے نہیں دیا جاتا۔ اور جسکے وسائل ہوتے ہیں وہ اس ملک میں اپنا آپ “ضائع” نہیں کرنا چاہتے کہ کیا رکھا ہے اس ملک میں  تیرے سامنے آسمان اور بھی ہیںاور پرواز کرجاتے ہیں گوروں کے دیس ” خدمتِ خلق “کیلئے۔

ا س وقت وطنِ عزیز میں ایسے مایہ ناز افراد ہیں کہ جس کام کو شروع کیا بہتر سے بہترین کے درجے تک پہنچا کر دم لیا۔ ان میں سے کوئی ایک اگر اس ذمہ داری کے لئے منتخب ہوتا ہے توامید رکھیں کہ نہ صرف پاکستان پوسٹ آفس پرائیوٹائز ہونے سے بچ سکتا ہے۔ بلکہ ملک کا سب سے زیادہ منافع بخش ادارہ بھی بن سکتا ہے۔

برطانیہ میں ڈاک کی ترسیل کیلئے سب سے معتبرادارہ “یو کے میل” ہے۔ جو نہ صرف تیز ترین بلکہ محفوظ ترین ذریعہ ہے۔ لو گ اسے استعمال کرتے، اس پر اعتماد کرتے اور اسے کامیاب بناتے ہیں۔ ہمیں بھی پاکستان پو سٹ آفس کی بحالی کیلئے اس کو استعمال کرنا ہو گا۔ اس پر بھرو سہ کر نا ہوگا۔ اور اسے کامیاب بنانا ہو گا۔ پھر دیکھیں سب سے زیادہ منافع بخش ادارہ بنتا ہے یانہیں۔ اگر پھر بھی عقل کے چیمپیئن یہ الجبراء حل نہ کر سکیں تو عوام سے رائے لے لیں کہ عوام ہی اصل پاکستان ہیں۔ پاکستان زندہ باد۔

Leave a Reply

5 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: