ملحد روس، کمیونسٹ چین اور سی پیک منصوبہ ۔۔۔۔ انوار احمد

2
  • 127
    Shares

روس ایک ملحد اور منکر خدا ریاست تھا اسلئے اسکو “گرم پانی” اور مکران کے ساحلوں تک پہنچنے سے روکنے کیلئے ہم نے امریکی اسپانسرڈ جہاد شروع کیا اور ساری “مسلم امہ” جو دراصل امریکہ ہی کی ذیلی بستیاں تھیں اس نام نہاد جہاد میں ہمارے ساتھ رہیں یہاں تک کہ روس کو عبرتناک شکست دے کر دریائے آمو کے پرے پھینک دیا۔۔۔۔

اس شکست کے بعد بالاخر کیمونسٹ روس ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور دنیا بائی پولر (Bi polar) سے یونی پولر (Uni polar) ہو گئی اور دنیا کی شہنشاہیت کا تاج امریکہ کے سر سجا۔۔۔۔ اس کار خیر میں ڈالروں کے علاوہ اسلامی جمہوریہ پاکستان, اسکے تیار کردہ جہادیوں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کا بڑا ہاتھ تھا ۔۔۔ عجیب اتفاق ہے کہ ہم آج اسی کیمونسٹ روس کے ساتھ تجارتی اور فوجی معاہدے بھی کررہے ہیں اوراسے خطے میں اپنا حلیف سمجھتے ہیں۔۔

اس نام نہاد جہاد کے دوران ملحد روس سے ٹکر لینے اور اسے جہنم واصل کرنے کے کیلئے ہم نے طالبان پیدا کئے۔۔۔۔ اس دوران ملک عزیز میں کارخانے تو بند ہوگئے لیکن ہزارہا مدرسے کھل گئے جہاں سے امریکی ڈالروں کی بارش میں جہادی اور لشکری دھڑا دھڑ نکلنے لگے۔ اس عمل میں دائیں بازو کی دینی جماعتوں, مدرسوں اور انتہا پسندوں نے خوب مال بٹورا اور اس قتل و غارتگری کو “جہاد” کا نام دیا۔ جماعت اسلامی کے مطابق چونکہ روس ایک ملحد ملک تھا اسلئے مردود ٹھرا اور اسکے خلاف جہاد کی ترغیب دی گئی جبکہ اسکے مقابلے میں امریکی چونکہ اہل کتاب تھے لہذا انکی تائید ضروری اور جائز قرار دی گئی۔۔۔ مذہب کے تشریحات اپنے اپنے مفادات میں کی گئیں اور قوم کو نئے بیانیوں سے روشناس کرایا گیا۔۔۔ نوجوانوں کے ذہنوں میں جہاد اور قتل و غارت گری کو “صحیح اور عین اسلام” بنا کر پیش کیا گیا اسطرح پوری دو نسلوں کو ذہنی طور پر مفلوج کردیا گیا۔۔۔

اور تو اور جماعت اسلامی کے امیر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ طالبان تو “شہید” کہلانے کے مستحق ہیں جبکہ پاکستانی فوجی کی شہادت پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔۔۔ انکے خیال میں طالبان کی حکومت افغانستان بہت “با برکت” دور تھا ۔۔۔ قربان جائیے انکی فراست اور فہم پر ۔۔۔

پاکستان کی قیادت اور مذہبی انتہا پسندوں نے اسٹریٹجک ڈیپتھ کے چکر میں افغانستان جو ایک روشن خیال اور ترقی پزیر ملک تھا برباد کر ڈالا، اسکے داخلی معاملات اور اندرونی سیاست میں اپنی ٹانگ اڑائی جس کے نتیجہ میں وہاں جو بدامنی اور قتل و غارتگری کا سلسلہ شروع ہوا وہ آجتک جاری و ساری ہے اور اسکے ختم ہونے کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔۔۔۔ اس انتشار اور بدامنی کا فال آئوٹ پاکستان میں بھی آیا اور ہم بھی کہیں کے نہ رہے۔۔ ابتک ایک لاکھ کے لگ بھگ معصوم شہری اور سرکاری اہلکار جاں بحق ہوچکے ہیں۔ اسکے علاوہ ملک کے ہر گوشے میں مذہبی انتہا پسندی اور عدم برداشت و بد امنی کی جو فضا طاری ہے اس سے نکلنے کیلئے کم از کم تین نسلیں درکار ہونگی وہ بھی اگر ہم نے اس سمت کوئی مثبت قدم اٹھایا تو ۔۔۔

جس گرم پانی سے ہم نے کمیونسٹ روس کو روکنے میں خود کو برباد کر ڈالا آج اسی گرم پانی کو پلیٹ میں سجا کر ہم نے “سی پیک” کے نام پر کیمونسٹ چین کے حوالے کردیا اور خوب بغلیں بجائی جارہی ہیں ۔۔۔ یاد رہے کہ سیاست میں کوئی کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا۔ سارا کھیل مفادات کا ہوتا ہے۔ کل تک یہی چین ہندوستان کا بہترین دوست تھا اور “ہندی چینی بھائی بھائی” کے نعرے لگتے تھے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ ساٹھ کی دیائی میں چین نے ایک معمولی سرحدی تنازعہ پر بھارت پر حملہ کردیا اور ایک خون آشام جنگ لڑی گئی۔۔ ۔۔۔

جس روس کی مدد سے بھارت نے ہمارے ملک کو دولخت کیا آج ہم اسی روس کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے ہیں اور مشترکہ جنگی مشقیں بھی کررہے ہیں۔ کیا یہ مفادات کی سیاست نہیں؟؟؟

منگولوں کی یہ نسل کسی کی نہیں اور مجھے وہ دن دور نہیں لگتا جب چینی لڑکیاں ہمارے گھروں میں ماسیاں اور چینی مزدور سڑکوں پر ہمارے محنت کشوں کی جگہ لے لینگے اور کھیت کھلیانوں میں بھی چینی کسان ہی ہل چلاتے نظر آئینگے ۔۔۔۔۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے برصغیر پر قبضہ کے بعد بہت سے اچھے کام بھی کئے مثلا گوروں نے تعلیم اور صحت عامہ کو عام کیا اور اس خطے کو بہت سے سسٹم جیسے کہ ریونیو، پولیس ایکٹ، ڈاک و تار کا نظام اور ریلوے وغیرہ۔۔۔۔ کیا ہم اسکے بعد آج تک ریلوے کا دوسرا ٹریک یا کوئی اور سرنگ اور پل بنا سکے؟؟؟

آج سی پیک اور چین کے گن گانے والے سن لیں کہ یہ منگول کی نسل ہماری ہڈیاں تک بھنبھوڑ ڈالینگے اور اقتصادی غلامی کا وہ طوق پہنا دینگے جس سی نکلنا نا ممکن ہوجائے گا ۔۔۔۔۔

کیا آج ہماری مذہبی جماعتوں کو اسلام خطرے میں نظر نہیں آتا۔ کیا سیاسی قوتوں میں اتنی بصیرت نہیں کہ آنے والے خطرے کا ادراک کر سکیں۔۔۔۔

لگتا ہے ان سب ’مجبوروں‘ کو شٹ اپ کال مل چکی ہے ۔۔۔۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. جماعت اسلامی کے مطابق چونکہ روس ایک ملحد ملک تھا اسلئے مردود ٹھرا اور اسکے خلاف جہاد کی ترغیب دی گئی جبکہ اسکے مقابلے میں امریکی چونکہ اہل کتاب تھے لہذا انکی تائید ضروری اور جائز قرار دی گئی

  2. آج سی پیک اور چین کے گن گانے والے سن لیں کہ یہ منگول کی نسل ہماری ہڈیاں تک بھنبھوڑ ڈالینگے اور اقتصادی غلامی کا وہ طوق پہنا دینگے جس سی نکلنا نا ممکن ہوجائے گا ۔۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: