پویلئین اینڈ سے ۔۔۔۔ اک سفر اونچے نیچے راستوں کا — قسط 5

0
  • 155
    Shares

پینسٹھ کی جنگ تو ختم ہوگئی لیکن اپنے اثرات چھوڑ گئی،اگلے ایک ڈیڑھ سال تک ہم اسی کے زیر اثر رہے۔ جنگ کے بعد بہت عرصہ تک جنگی اور قومی نغمے قلب وروح کو گرماتے رہے۔ غیبی طاقتوں کی مدد کے قصے کئی عرصہ گردش کرتے رہے۔ جگہ جگہ بھارتی جاسوسوں کے پکڑنے کی خبریں ملتیں۔ افواہ تھی کی دشمن نے پیراشوٹ سے بہت سے جاسوس اتار دئے ہیں جنہیں کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ اکثر فقیروں کی مصیبت آتی جنہیں جاسوس سمجھ کر انکی ‘شناخت’ خاص طریقے سے ہوتی۔ یہ بھی سننے میں آتا کہ فلاں سرحدی علاقے میں فلاں مسجد کا مولوی جو کئی سالوں سے امامت کررہا تھا دراصل دشمن کا جاسوس تھا۔

لیکن شکر ہے کہ آہستہ آہستہ ہم اپنے معمول پر آتے گئے۔ سن چھیاسٹھ کے آخر میں ‘سیلون’ کی ٹیم پاکستان آئی۔ اس وقت تک لنکا کا نام تو معلوم تھا لیکن سری لنکا کا نام ںہیں سنا تھا۔ سیلون بے چاری بڑی مسکین سی ٹیم تھی جسے ہم نے بڑی آسانی سے ہر میچ میں بھاری شکست دی۔ حنیف، مشتاق اور سعید احمد کی سنچریاں کیا کم تھیں کہ کراچی میں جاوید برکی نے ڈبل سنچری بنا ڈالی۔
البتہ سیلون کی ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں نے متاثر بھی کیا۔ کپتان مائیکل ٹیسیرا کے علاوہ جے سنگھا اور کلائیو انمین نے بیٹنگ کے ہاتھ دکھائے، ایک بالر غالبا” کر وزئیر نام کا تھا جس نے زیادہ تر وکٹیں لیں۔ سانولے سلونے بلکہ سیاہی مائل سیلونیز کے دورے کی کچھ زیادہ باتیں یاد نہیں۔

پھر اگلے سال کے شروع میں انگلستان کی پچیس سال سے کم عمر کے کھلاڑیوں کی ٹیم آئی۔ اس سال شاید انگلستان کا کوئی غیر ملکی دورہ نہیں تھا چنانچہ انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کے ایک مضبوط ٹیم بنا کر پاکستان روانہ کردی۔ ان میں سے مائیک بریرلی، ڈینس ایمس، جیف آرنلڈ، ڈیوڈ براؤن، پیٹ پوکاک اور ڈیرک انڈر وڈ انگلستان کے بڑے نام بننے والے تھے۔
انگریزوں کے بارے میں تو یقین تھا کہ پچیس سال تک کی عمر کے ہی ہونگے۔ ہمارے کھلاڑیوں کا کچھ ٹھیک سے پتہ نہیں تھا کہ ہمارے ہاں تیس سال تک کے ‘لڑکے’ انڈر نائنٹین’ کھیلتے پائے جاتے تھے۔ آصف اقبال کپتان تھے، ساتھ مشتاق، ماجد، پرویز سجاد وغیرہ تھے۔ اس سیریز نے بھی کوئی خاص طوفان نہیں اٹھایا نہ کرکٹ کے جوش میں کچھ اضافہ ہوا۔

میں نے بتایا ناں کہ جنگ کے اثرات بہت عرصہ ہمارے ذہنوں پر چھائے رہے۔ ایسے ہی ایک دن ایک جنگی طیارے کو بہت نیچی پرواز کرتے دیکھ کر خیال آیا کہ یہ شاید دشمن کا جہاز ہے۔ طیارہ اپنے پیچھے گہرا سیاہ دھواں چھوڑتا ہوا تیزی سے نیچے کی جانب جارہا تھا۔ لیکن اس پر پاک فضائیہ کے نشانات واضح نظر آرہے تھے۔
میں ان دنوں عالمگیر روڈ پر اپنی دادی کے پاس آیا ہوا تھا۔ شام کوسنا کہ بہادر آباد کے پیچھے کوئی جہاز گر گیا ہے۔ بہادر آباد میرے گھر سے ‘ اک ذرا گردن جھکائی اور دیکھ لی’ جتنے فاصلے پر تھا۔ جہاز کو نیچے جاتے تو دیکھا تھا لیکن یقیناً یہ بہادر آباد سے کہیں دور ہی گرا ہوگا۔
پھر تفصیلات مل گئیں کہ فضائیہ کا طیارہ جسے ایرکموڈور مسرور حسن اڑا رہے تھے کسی فنی خرابی کا شکار ہوگیا۔ انہوں نے اپنے نیوی گیٹر کو اسلامیہ کالج کے سامنے مسلم آباد کی قریب پیراشوٹ سے نیچے اتار دیا اور جہاز کو۔ شہری آبادی سے باہر لے جاکر یونیورسٹی روڈ اور کریم آباد کے درمیان میدان میں گرا دیا اور خود جاں بحق ہوگئے۔ شاید کے ڈی اے کے دو تین مزدور بھی اس کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے۔ انہی مسرور حسن کے نام پر ماری پور ائیر بیس کا نام مسرور ائیر بیس رکھا گیا ہے۔
یہ عین وہی جگہ تھی جہاں آج ہمارے گھر بنے ہوئے ہیں۔ حسن اسکوائر وغیرہ کا اس وقت تک کوئی وجود نہیں تھا اور یونیورسٹی شہر سے بارہ میل پرے تھے لیکن کچھ زیادہ ہی دور محسوس ہوتی۔ پرانی سبزی منڈی کے قریب حئی سنز بلب فیکٹری تھی جو اس حادثے سے قریب ترین عمارت تھی۔

ایسی کوئی خبر ہو اور ہم گھر بیٹھے رہیں؟ بھلا یہ کیسے ہوسکتا تھا۔ ہم لڑکوں کی ٹولی جائے حادثہ کی تلاش میں روانہ ہوئی، دوہرا جی کالونی، اسٹیڈیم سے ہوتے ہوئے ہم موجودہ حسن اسکوائر پہنچے جہاں سے کافی دور جہاز کا ملبہ پھیلا ہوا نظر آرہا تھا۔ ہمارے ایک ساتھی کو ایک دھاتی ٹکڑا ملا جسے فورآ سول ڈیفنس یا سول ایوی ایشن والوں نے اپنے قبضہ میں لے لیا اور ہمیں وہاں سے بھگا دیا۔ ہم کچھ دور جاکر کھڑے ہوگئے لیکن کچھ ہی دیر بعد پولیس کے سپاہی نے ہمیں وہاں سے بھی ہنکال دیا۔
ہم وہاں سے پلٹ رہے تھے کہ ہم نے کچھ اسمارٹ سے نوجوانوں کو بھی واپس جاتے دیکھا۔ یہ نوجوان آگے چل کر نیشنل اسٹیڈیم میں غائب ہوگئے۔
پتہ چلا کہ یہ پاکستان ٹیم کے کھلاڑی ہیں جن کا کیمپ اسٹیڈیم میں لگا ہوا ہے اور یہ کہ یہ دورہ انگلستان کی تیاری ہورہی ہے۔
ہمیں اب ایک نیا مشغلہ ہاتھ آگیا۔ ہماری چھٹیاں تھیں، ہم سہ پہر کو نیشنل اسٹیڈیم پہنچ جاتے۔ کراچی ان دنوں بے حد پرسکون اور پرامن شہر تھا۔ سیکیورٹی وغیرہ کس چڑیا کا نام تھا، اس سے کوئی واقف نہیں تھا، ہم آزادی سے اسٹیڈیم میں داخل ہوجاتے اور ہمیں کوئی نہ روکتا۔ ہم آٹو گراف لینے ڈریسنگ روم میں گھس جاتے اور ہمیں کوئی کچھ نہ کہتا۔ ہماری عمریں بھی گیارہ بارہ سال کی تھیں اور ہم کسی کے لئے کوئی خطرہ نہیں تھے۔ ہم کھلاڑیوں کی چھوٹی موٹی خدمت کردیا کرتے۔ گراؤنڈ سے باہر گیند آتی تو اٹھا کر دیتے۔ کسی کے پیڈز بندھواتے میں مدد کرتے۔ کسی نے میدان میں بلا منگوایا تو ہم دوڑ کر یہ ڈیوٹی بجا لاتے۔
مجھے یاد ہے کہ میں نے پہلی بار حنیف محمد کو کمینٹری باکس کی سیڑھیوں سے نیچے اترتے دیکھا تو دوڑتا ہوا ان کے آٹوگراف لینے پہنچ گیا۔ حنیف نے آتوگراف بک اپنے ہاتھ میں لی تو خوشی کے مارے میرا جسم کانپ رہا تھا، اپنی بارہ سالہ زندگی میں کسی مشہور شخصیت کو اتنے قریب سے دیکھنے کا پہلا اتفاق تھا۔

حنیف محمد سے ملنے کے بعد ہماری ہمت بڑھ گئی اور ہم دوسرے کھلاڑیوں یعنی سعید احمد، الیاس، پرویز سجاد وغیرہ سے بھی ملتے۔ لیکن جس کھلاڑی سے سب سے زیادہ دوستی تھی اور جس کے ساتھ ہم اسٹیڈیم کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر باتیں کرتے وہ تھے آصف اقبال۔ وہ ہم بچوں سے بہت اچھی طرح پیش آتے۔
بہت سے مقامی کھلاڑی بھی جو ٹیم کا حصہ نہیں تھے، وہ بھی کھلاڑیوں کو پریکٹس کروانے آتے۔ جن میں مسعود الحسن، مفسر الحق اور آفتاب عالم کے نام یاد ہیں۔ اور ایک دن ہم ایک دبلے پتلے اور سانولے کھلاڑی سے بات کررہے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ وہ بھی کوئی مقامی کھلاڑی ہے۔ ہماری ٹولی کے ایک چھوٹے سے لڑکے نہ پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے۔ اس نے دبے لفظوں میں بتایا کہ اس کا نام نیاز احمد ہے۔ُ
یہ نیاز احمد شاید واحد مشرقی پاکستانی یا بنگالی کھلاڑی تھے جنہوں نے پاکستان کی نمائندگی کی۔

ان دنوں شاید کوچ وغیرہ کا ٹنٹا نہیں تھا۔ کھلاڑی آپس میں ہی آزمائشی میچ کھیلتے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ کوئی سلیکشن کمیٹی بھی وہاں ہوتی تھی یا نہیں۔ البتہ بہت سے پرانے اور نئے کھلاڑی وہاں نظر آتے۔ میدان کی ایک جانب جھلنگا چارپائی کی شکل کی ایک بنچ پڑی ہوتی جس پر لکڑی کی لمبی لمبی پٹیاں ہوتی تھیں۔ شام کو سارے کھلاڑی اس کے پیچھے کھڑے ہوتے اور دوسری جانب سے حنیف محمد اس بنچ پر تیزی سے گیند مارتے جو دوسری طرف کھڑے کھلاڑیوں کو سلپ کی پوزیشن کی طرح مختلف زاویوں سے ملتی۔ یہ شاید سلپ میں کیچ کرنے کی پریکٹس تھی۔

مجھے نہیں یاد کہ فیلڈنگ میں ہمارے کھلاڑی کچھ زیادہ تردد کیا کرتے تھے۔ گیند اگر ان کے قریب سے گذر جاتی تو میانہ روی سے اس کے پیچھے جاتے اور باؤنڈری لائین سے گیند اٹھا کر ایک شان استغناء کے ساتھ وکٹ کیپر کی جانب اچھال دیتے۔ آج کل کے کھلاڑیوں کی طرح نہیں کہ گیند کے پیچھے پوری قوت سے دوڑ لگاتے ہیں اور باؤنڈری سے پہلے ڈائئیو مارکر یا سلائیڈ ہوکر گیند کو روک کر چاہے، ایک ہی رن بچتا ہو، جان کی بازی لگا دیتے ہیں۔ بعض اوقات دو یا تین کھلاڑی آخر وقت تک دوڑتے ہیں اور ایک گیند کو دوسرے کی جانب پھینکتا ہے اور وہ اسے وکٹ کی جانب روانہ کرتا ہے۔ اتنی تکلیف کا ان دنوں رواج نہیں تھا۔ چند ایک کھلاڑی جیسے آصف اقبال وغیرہ کے چھوڑ کر باقی اپنی پتلون کی کریز کو ڈائیو مارنے پر ترجیح دیتے۔

انگلستان جانے والی اس ٹیم میں سارے نام ہی بہت بڑے تھے لیکن کارکردگی کوئی خاص نہیں تھی۔ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بلے باز تو اعلی درجے کے تھے لیکن بالنگ کا کوئی حال نہیں تھا۔ بہت ہی کمزور اور پھسپھسی سی بالنگ تھی۔ آصف اقبال، ماجد خان اور عارف بٹ ہمارے افتتاحی بالر تھے۔ایک میچ میں نیاز احمد بھی تھے۔ اپنا شاہد آفریدی جن سے کہیں زیادہ تیز اسپین بالنگ کیا کرتا ہے۔ یوں تو اسپنرز کی بھی بھرمار تھی اور آل راؤنڈر بھی بہت سے تھے۔ آصف، ماجد، انتخاب، نسیم الغنی، خالد عباداللہ اور سعید احمد سب آل راؤنڈر تھے اور شاید سب کے کھاتےمیں کم از کم ایک سنچری بھی موجود تھی۔
انگلستان کے اس دورے کا حال آپ انٹرنیٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔ بس اتنا بتاتا چلوں کہ یہ ہمارے پچھلے دورہ انگلستان سے اس لحاظ سے بہتر تھا کہ 1962 میں جاوید برکی کی قیادت میں کھیلے گئے پانچ میچوں میں سے چار میں ہمیں شکست ہوئی اور ایک قسمت کی مہربانی سے ڈرا ہوگیا تھا۔ اس سے کہیں بہتر 1954 میں اپنا پہلا دورہ کرنے والی ٹیم تھی جس نے اوول میں انگلستان کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ پاکستان اب تک واحد ٹیم ہے جس نے اپنے پہلے دورہ انگلستان میں انگلستان کو ہرایا۔

اسی سال ہم سے کچھ دن پہلے بھارت کی ٹیم اپنے سارے ٹیسٹ میچ ہار کر واپس جاچکی تھی۔ ان کی بدقسمتی کہ موسم سخت سرد تھا۔ ہم جب پہنچے تو موسم خاصا بہتر تھا۔ مشتاق، انتخاب، نسیم الغنی اور بلی عباداللہ کے پاس کاؤنٹی کرکٹ کا تجربہ تھا۔
ہم نے لارڈز ٹسٹ تقریباً ‘ برابری’ کی بنیاد پر کھیلا۔ اس میچ کی خاص بات حنیف محمد کی 187 کی ناقابل شکست اننگز تھی۔ برائن کلوز کی جس ٹیم نے ہندوستان کا صفایا کیا تھا، امید تھی کہ پاکستان کا بھی وہی حشر ہوتا لیکن ہم ںے لارڈز ٹسٹ بچالیا۔ انگلستان کی جانب سے کین بیرنگٹن نے سنچری کی۔ کلوز نے آخری دن پاکستان کو ساڑھے تین گھنٹے میں جیتنے کے لئے 257رنز کا ہدف دیا جو کہ اگر آسان نہیں تو ناممکن بھی نہیں تھا۔ لیکن ان دنوں اتنی تیز ٹسٹ کرکٹ کھیلنے کا رواج نہیں تھا۔ ماجد جہانگیر جیسے جنہوں نے گلیمورکن کاؤنٹی کے خلاف دھواں دار سنچری بنائی تھی اور تیرہ چھکے لگائے تھے، لیکن ٹسٹ میچوں میں ان سب کے بلوں کو سانپ سونگھ جاتا تھا۔

حنیف نے برائن کلوز کے اس چیلنج کا جواب محتاط انداز سے کھیل کر ڈرا کرکے دیا۔ اگر ہم تھوڑی سی ہمت دکھاتے تو شاید آنے والے نتائج کے مقابلے میں کچھ زیادہ باعزت نتیجہ یعنی دو کے مقابلے میں ایک ہوتا۔ آخری نتیجہ بیر حال دو صفر سے ہماری شکست رہا۔
اگلا میچ ٹرینٹ برج، ناٹنگھم میں تھا جہاں ہم پہلی اننگز میں 140 اور دوسری میں 114 پر ڈھیر ہوگئے۔ جبکہ دوسری باری میں اکیلے سعید احمد نے باسٹھ رنز بنائے تھے۔ انتخاب عالم کے سولہ رنز کے علاوہ کسی بھی کھلاڑی نے دوہرا ہندسہ حاصل نہیں کیا۔ کین بیرنگٹن نے یہاں بھی نہیں بخشا اور سنچری بنا ڈالی۔ دس وکٹوں سے شکست ہمارا مقدر بنی۔،
تیسرا اور آخری ٹسٹ گو کہ پاکستان ہار گیا لیکن اس سے کچھ خوشگوار یادیں بھی وابستہ ہیں۔ پہلی باری میں پاکستان نے صرف 216 بنائے جس کے جواب میں انگلینڈ نے 440 رنز کا پہاڑ کھڑا کردیا۔ کمبخت بیرنگٹن کو بری عادت پڑ گئی تھی۔ ہر میچ میں ہمارے خلاف سنچری کیا کرتا تھا۔ یہاں بھی باز نہ آیا اور 142 رنز بنا ڈالے۔

دوسری اننگز میں صرف پینسٹھ رنز پر ہمارے آٹھ کھلاڑی پویلئین میں آرام کررہے تھے کہ آصف اور انتخاب عالم نے ایک تاریخی اننگز کھیل ڈالی۔ نویں وکٹ کی شراکت میں ان دونوں نے 190 کی باری کھیلی جو کہ اگلے اکتیس سال تک عالمی ریکارڈ رہا۔ انتخاب نے 51 جبکہ آصف اقبال نے 146 رنز کی ناقابل شکست اننگز کھیلی۔ یہیں سے آصف کی شکل میں پاکستان کو ایک مرد بحران مل گیا جس نے آگے چل کر کئی میچوں میں ہماری عزت رکھنی تھی۔
دوسری اننگز میں بیس رنز کے حصول کے لئے انگلستان نے اپنی دو وکٹیں کھودیں اور یہ دونوں وکٹیں بھی آصف کے حصے میں آئیں۔
آصف جو نیشنل اسٹیڈیم میں ہمارے دوست بنے تھے اب ہمارے آئیڈیل کھلاڑی بن گئے۔

باقی کی کہانی انشاءاللہ اگلی قسط میں۔۔

اس سلسلہ کی پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: