دھوکہ ——- عنبر عبیر

0
  • 1
    Share

فضا میں جیٹ طیاروں کی گھن گرج سنائی دی اور سب بچے جوشیلے نعرے مارتے ہوئے اپنے اپنے کمروں سے باہر کی طرف بھاگے.طیارے قلابازیاں کھاتے ہوئے اپنے کرتب دکھا رہے تھے.وہ چشم زدن میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جاتے۔ ان کی گھن گرج دل دہلا دینے والی تھی.لیکن ان سے ہزاروں فٹ نیچے‘ زمین پر‘ سینکڑوں بچے بے خوفی سے انہیں دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے.کیونکہ یہ اپنے جہاز تھے.یہ انہیں ڈراتے نہیں تھے بلکہ ان میں جوش بھر دیتے تھے۔

“وہ والا جہاز میرا ہے“ ایک بچے نے جو ان سب میں بڑا تھا شیخی بگھاری اور ہاتھوں کا دائرہ بنا کر جہاز کا تخیلاتی ہینڈل چلانے لگا.وہ گاڑی اور جہاز کا فرق کہاں جانتا تھا؟.ساتھ ساتھ وہ منہ سے سیٹی کی آواز بھی نکال رہا تھا.جب جہاز نے قلابازی کھائی تو وہ بچہ بھی زمین پر گر کر لوٹیں لگانے لگا.باقی بچے ہنسنے لگے۔
ایک چھوٹا بچہ اس کے پاس آیا اور معصومیت سے بولا”دادا مجھے بھی جہاز میں بٹھاؤ نا“
دادا جوش سے بولا “کیوں نہیں.. آؤ! ابھی ایک چکر دیتا ہوں.دیکھنا! خود کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا اور الٹیاں بالکل نا کرنا ورنہ بغیر چھتری کے نیچے پھینک دوں گا“اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو کمر پر لادا اور تیز تیز دوڑتا ہوا صحن میں گول گول چکر کاٹنے لگا.چھوٹا ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہا تھا۔
“اور تیز چلاؤ دادا“ چھوٹا اپنے دادا کی گردن میں اپنی بانہیں حمائل کرکے بولا.
دادا مزید تیز دوڑنے لگا.تھوڑی دیر بعد وہ رک گیا.وہ بری طرح ہانپ رہا تھا.
اس کے باقی دوست اس کے پاس جمع ہونے لگے.جیٹ طیارے اب بھی فضا میں چکرا رہے تھے.اس کے دوست بری طرح اس سے مرعوب نظر آرہے تھے.جہاز کا پائیلٹ بننے پر سب اسے رشک بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے.
ایک دوست آگے بڑھ کر بولا
“تم بڑے ہوکر پائیلٹ بنو گے؟.تمہارے ابو ایسا کہتے ہیں“
وہ فخر سے بولا”میں دشمن کی بینڈ بجاؤں گا۔ تم سب کی حفاظت کروں گا.جب رات کو تم سب لوگ سو رہے ہوں گے نا تب میں اپنے جہاز میں گاؤں کے گرد چکر لگا رہا ہونگا.میں ایک بار پائلٹ بن جاؤں نا بس تمہارے مزے ہیں پھر“
ایک دوست بولا”میں نے کبھی جہاز کو اندر سے نہیں دیکھا.کیا وہ میرے ابو کے ٹریکٹر کی طرح ہوتا ہے“
دادا ہنستے ہوئے بولا”ٹریکٹر کی طرح نہیں ہوتا.جہاز میں کئی ٹریکٹروں جتنی طاقت ہوتی ہے.میرے خیال میں اس میں ریل گاڑی کی طرح سسٹم ہوتا ہے“
سب بچے خاموش ہوگئے.گویا وہ بزبانِ حال اس کے موقف کی تائید کر رہے تھے.اختلاف تو وہی کرتا جس نے ریل گاڑی دیکھی ہو۔

ایک چھوٹی لڑکی آگے بڑھ کر بولی
“شہر سے جو میری کزن آئی تھی وہ کہتی تھی کہ اس کا ابو جہاز چلاتا ہے. اور کبھی کبھی اس کے گھر پر پھول بھی گراتا ہے.دادا! تم بھی میرے گھر پر پھول گراؤگے؟.پھولوں کی فکر نا کرو ہمارے باغ میں بہت ہیں.چنبیلی کے پھول ہیں گلاب بھی ہیں ڈھیر سارے ہیں“
“وہ دیکھو میرے جہاز کو“دادا نے انہیں آسمان کی طرف متوجہ کیا.وہ سب سر اٹھا کر جہاز کی طرف دیکھنے لگے.وہ سفید لکیر بناتا ہوا ان کے سروں پر چکر لگا رہا تھا.
“یہ کیا چیز پھینکی ہے جہاز والوں نے؟“ اچانک ایک لڑکا چلا کر بولا.
“پھول ہوں گے.جہاز والوں نے میری بات سن لی ہوگی“چھوٹی لڑکی خوشی سے تالی بجا کر بولی.

وہ چیز تیزی سے نیچے آئی اور ہر طرف زوردار دھماکے ہونے لگے.چیخ و پکار سنائی دینے لگی.تھوڑی ری بعد سب دوست زمین پر زخموں میں لت پت پڑے تھے.کئیوں کے چیتھڑے اڑ گئے تھے.جابجا زمین پر خون بہہ رہا تھا.
جان بلب چھوٹی لڑکی بڑبڑا رہی تھی
“یہ.. کیسے.. پھول تھے.. دادا؟“
ایک لڑکا اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا”جہاز.. میں تو.. ریل گاڑی .سے.. بھی زیادہ ..طاقت ہوتی ہے.. دادا!“

جبکہ دادا کے چہرے پر موت کی زردی سے زیادہ ندامت کی پرچھائیں تھیں.اس نے اپنے دوستوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کی حفاظت کریگا.دادا اپنے دوستوں سےآنکھیں نہیں ملا پا رہا تھا اس لئے انہیں ہمیشہ کیلئے بند کرگیا!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: