ایک تصویر جو بول نہ پائی : زاہد نثار

1
  • 345
    Shares

کچھ تصویریں بولتی ہیں، کلام کرتی ہیں، جیسے کوئی زندہ دوسرے زندہ سے بات کرتا ہے ہم کلام ہوتا ہے کچھ تصویریں چیختی ہیں چلاتی ہیں جیسے کوئی زندہ شدید اذیت میں ہو اور دوسرے زندہ لوگوں کو پکار رہا ہو۔ کچھ تصویریں خاموشی سے بہت کچھ بتاتی ہیں، جیسے کوئی میت زبانِ حال سے زندہ لوگوں کو بتاتی ہے کہ عبرت کرو فااعتبروا یا اولی الابصار۔ اور کچھ تصویریں زندہ لاشوں کی ہوتی ہیں، یہ بولتی نہیں اور نہ ہی چیختی چلاتی ہیں، بس ایسے زندہ لوگوں کے سینے میں برچھی کی طرح پیوست ہوجاتی ہیں جن کے ضمیر زندہ ہوں۔

عام طور پر جب ایسی تصویریں نظروں میں آجائیں تو ہمارے حسن پرست معاشرے کی اکثریتی سوچ کو کسی خاص سمت ڈھالنے والے متحرک اور اثرانداز ہونے والی اشرافیہ کا گھناونا پہلو آڑے آتا ہے، جو ایسی غیراہم تصاویر کو نظرانداز کردیتی ہے کہ نازک طبع لوگوں کی طبعیت ایسی تصاویر کو دیکھنے سے مکدر ہو جاتی ہے۔ یہ نازک طبع لوگ اس ورچوئل معاشرے کی جان ہیں اور ہر اہم فورم پر موجود ہیں۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر بھی ایسی کسی تصویر کے نصیب میں وہ شہرت کہاں؟ جو خوب صورت ماڈل محسود نقیب کو ملی ایسی تصویر نے وہ شہرت کہاں پانی؟ جو عاصمہ رانی کو ملی۔ ایسی تصویر کہاں اتنی پیاری؟ جیسی زینب انصاری کی تھی ایسی تصویر کیوں بنے مثال؟ جیسی مشال کی بنی اور یہ تو زندہ لاش کی تصویر ہے یہ نہ تو غیر معمولی خوب صورت بچہ ہے اور نہ اس کا میڈیا پر ایسا وائرل ہونے کا چانس ہے۔ یہ تو زندہ لاش ہے جو غریبی و بے کسی کی شاہ کار ہے۔ ایسی زندہ لاشوں کی تصویریں اچانک تو کیمرے کی آنکھ میں نہیں آتیں۔ برسوں کی محرومی اور جبر مل کر ایسی تصویروں میں بدبختی کے رنگ بھرتے ہیں۔ بے حس معاشرہ ان کی نسل در نسل غلامی کی نوک پلک سنوارتا ہے۔ دکھ اور احساسِ کمتری ان کا منظر اور پسِ منظر بناتے ہیں اور ہر پل لپکتے جھپکتے حادثے ان کو کیمرے کی آنکھ تک کھینچ کھانچ کرلاتے ہیں۔ یونہی نہیں ایسی تصویریں بنتیں۔ کسی دوراندیش نے خوب کہا تھا:

ع وقت کرتا ہے پرورش برسوں۔ حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

یہ تصویر کہ جسے ایک ٹرک ٹرالر آٹوز مارکیٹ میں کھینچا گیا ہے، جو کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے دوسرے سب سے بڑے ٹرک ٹرالر آٹوز مارکیٹ اڈے میں واقع ہے، یہ ماچھی گوٹھ کے علاقے میں قائم دیگر چھوٹی بڑی مارکیٹوں میں سے ایک اکبر مارکیٹ میں اس وقت کھینچی گئی جب حادثہ رونما ہو چکا تھا۔ حادثہ بہت سادہ سی بات ہے، وہ تو ہونا ہی تھا۔ یہ بچہ بدنصیب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت بے وقوف بھی ہے۔ بھلا اس کو کس دکھ نے مجبور کیا کہ یہ اتنی سی عمر میں آگ سے کھیلے۔ اس کے تو ہاتھ میں قلم کتابیں ہونی چاہیے تھیں، تاکہ یہ پڑھے لکھے اور پڑھا لکھا پنجاب کا نعرہ سچ ثابت کرے۔ اس نے تو گیس سلنڈر کے گیج والی نوزل پکڑ لی۔ ایسی بھیانک غلطی کی سزا تو پھر بھگتنا پڑتی ہے، سو بھگتی۔ بے شمار بچے ہیں، مارکیٹوں کی دکانوں میں کام کرتے چھوٹے چھوٹے 14 سال سے کم عمر۔ ان بچوں کی کہانیاں ایسی دل دوز ہیں کہ دل دہل جائے۔ یہ کہانیاں روز پروان چڑھتی ہیں۔ نہ ان کو کوئی ایسی دادی سناتی ہے جو گرم لحاف میں دبکے بچوں کو خوش گوار حیرت میں مبتلا رکھے. نہ ان کی اپنی ماوں کو مفلسی کے چنگل سے فرصت کہ ان کی مٹی ڈیزل سے میلی پیشانیاں چوم چوم کر کہانیاں سناتی رہیں۔ نہ ان کہانیوں میں کوئی بہادر شہزادہ نہ لال پری نہ حسین شہزادی نہ عادل بادشاہ نہ ہی کوئی عاقل وزیر ہوتا ہے۔ بس غربت کی چڑیلیں جہالت کے دیو اور ظلم کے جنات ہوتے ہیں۔ یہ کہانیاں تو بس سینہ بہ سینہ ان بچوں پر بیتتی ہیں۔ ان کو تحقیر اور ذلت کی بجائے اگر شفقت سے سنیں تو پتا چلے کہ یہی سینہ اندر سے بھی اتنا ہی جلا ہوا ہے جتنا اس وقت باہر سے جلا ہوا ہے۔ ورنہ بم کے ساتھ بھی کوئی کھیلتا ہے۔

ان بچوں کی کہانیاں ایسی دل دوز ہیں کہ دل دہل جائے۔ یہ کہانیاں روز پروان چڑھتی ہیں۔ نہ ان کو کوئی ایسی دادی سناتی ہے جو گرم لحاف میں دبکے بچوں کو خوش گوار حیرت میں مبتلا رکھے. نہ ان کی اپنی ماوں کو مفلسی کے چنگل سے فرصت کہ ان کی مٹی ڈیزل سے میلی پیشانیاں چوم چوم کر کہانیاں سناتی رہیں۔ یہ کہانیاں تو بس سینہ بہ سینہ ان بچوں پر بیتتی ہیں۔

یہ بچہ ایک ایسے سوئے ہوئے بم کے ساتھ کھیل رہا تھا جسے اس کے دکان مالک اور استاد نے روزی کا ذریعہ بنایا ہوا تھا، جس کے پھٹنے کا کوئی وقت متعین نہیں کیا جاسکتا۔ کسی بھی وقت بغیر چھیڑے بھی پھٹ سکتا ہے۔ سامنے ہی تو لوگ سڑک پر آئے دن مرتے ہیں کوئی پوچھتا نہیں معمول کا حادثہ سمجھ کر پھر سے لوگ اپنی مصروفیات میں جُت جاتے ہیں، تو پھر اس گیس سلنڈر کے گیج پھٹنے سے کیا ہوتا؟ ہوا تھی نکل گئی، گیس تھی سو پھیل گئی۔ بس اس کے سینے پر غریبی کا تمغہ داغ گئی۔ چہرہ تو دیکھیے اس معصوم مزدور کا۔ چہرے پر سکون ایسا کہ جو زندہ ضمیر لوگوں کا سکون چھین لے۔ اطمینان ایسا جو مطمئن لوگوں کو مضطرب کردے۔ یہ کیسا سکون ہے یہ کیسا اطمینان ہے اس سینہ جلے معصوم کے چہرے پر؟ شاید اس نے کسی سے سنا ہوگا کہ خادم اعلٰی پنجاب مرنے والوں کو لاکھوں دیتے ہیں۔ خود وہاں پہنچتے ہیں۔ ایسے مرنے والوں کے والدین کو ٹھنڈی کاروں میں بٹھا کر وزیراعلیٰ کے سامنے لے جایا جاتا ہے اور بھرپور ہجوم کے سامنے میڈیا کی موجودگی میں ان کو لاکھوں کے چیک دیے جاتے ہیں۔ اس ناسمجھ کو نہیں پتا چلا کہ خادم اعلیٰ تو وہاں پہنچتے ہیں جہاں پہلے ہی میڈیا 3 دن سے ماتمی ٹکر چلاچلاکر اور اینکرز اونچی آواز میں ماتمی سروں اور غمگین دُھنوں کے ساتھ کسی واقعے کو سانحہ عظیم بناکر پیش کرتے ہیں۔ یہ کونسا کوئی ایسا واقعہ ہے جسے سانحہ بناکر پیش کیا جائے۔ یہ تو بس معمول کے واقعات ہیں جو آئے دن اس وسیب کی شناخت بن گئے ہیں، جو میڈیا میں چھوٹی چھوٹی سرخیوں میں بہ مشکل جگہ پاتے ہیں۔

یہ بھلا وہ شہر تھوڑی ہے جس کے بارے میں وقت کا وزیراعظم کہے کہ ترقی دیکھنی ہو تو لاہور کی دیکھو۔ یہ تو پنجاب کا سندھ کے ساتھ ملنے والی سرحد والا ضلع اور پنجاب کی آخری تحصیل ہے جہاں ایسی بے شمار ان گنت گیس سلنڈر اور ہوا بھرنے والی ٹنکیاں کسی بھی سڑک کے کنارے دیکھی جا سکتی ہیں۔ نہ کوئی حفاظتی انتظامات نہ ہی کوئی قانون کی پروا۔ یہ بم ہیں بم۔ کسی بھی وقت ہوا بھرتے گیس بھرتے پھٹ سکتے ہیں۔ یہ روزی کا ذریعہ تو ہیں ہی موت کا پیغام بھی ہیں۔ کیا ایسے گیس سلنڈروں میں ہوا بھرنے والی ٹنکیوں کا کوئی سدباب بھی ہے کہ یہ فٹنس سرٹیفیکیٹ سے مشروط ہوں؟ قانون تو ہوگا ہی مگر عمل درآمد کون کرے یا کروائے؟ ان کا ہر سال چیکنگ کا نظام ہوگا مگر کون دردِ سر مول لے؟ ان کو باہر رکھنا یا دکان کے اندر بغیر کسی حفاظتی شیلڈ کے رکھنا جرم قرار دیا جائے، مگر کوئی جرم سمجھے بھی تو؟ اگر عوامی تحفظ کے تحت پیٹرول اور ڈیزل چھوٹی چھوٹی تیل بیچنے والی دکانوں یا آئل ایجنسیوں سے ختم کیے جا سکتے ہیں تو یہ موت کے بم نظرانداز کیوں؟ یہ معمول بنتا جارہا ہے، کبھی ویگنز کے اندر سلنڈر پھٹنے سے لوگ جان سے جارہے ہیں تو کبھی ایسے سلنڈروں اور ٹنکیوں کے پھٹنے سے کوئی مزدور جان سے جاتا ہے تو کبھی کوئی معصوم اپنا بچپن داغ دار کرتا ہے۔ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقیناً ریاست کی ذمے داری ہے، لیکن سیفٹی کے قوانین کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی کوئی کارروائی تو درکنار اس کو قابل توجہ ہی نہیں سمجھا جاتا۔ کسی دکان کی چھت اُڑجائے کسی کے جسم کو گیس سلنڈر جھلساکر ادھ موا کردے یا کوئی ہوا بھرنے والی ٹنکی بَھک سے اُڑ جائے، کسے پوچھنا ہے؟ اور پوچھا بھی کیوں جائے؟ تحصیل صادق آباد کے علاقے ماچھی گوٹھ کی اکبر مارکیٹ میں ہونے والے اس واقعے کی ذمے داری کا احساس کون کرے؟

یہ ضلع رحیم یار خان میں ہی کیوں کبھی ”کیمل جوکی“ بچوں کا غلغلہ اٹھتا ہے تو کبھی بھٹہ خشت یا ایسی چائلڈ لیبر کا۔ چند این جی اوز اپنے کاغذی مسائل کے ساتھ یہاں آئے دن فوٹو سیشنز میں اعلیٰ حکام کے ساتھ کارکردگی دکھاتی نظرآتی ہیں۔ ایسی تصویروں کی مانگ ان کی مارکیٹ میں نہیں۔ نہ تو اس پر کوئی فنڈنگ کا چانس ہے اور نہ ہی یہ عوامی دل چسپی کا محور، تو پھر کیوں وقت ضائع کیا جائے.کس سے کہیں؟ کہ ہاں کبھی فرصت ملے تو ایسی تصویروں کو ذرا چائلڈ لیبر کے حوالے سے آئین پاکستان کے آرٹیکل 3 آرٹیکل 11(3) آرٹیکل 25(A) اور آرٹیکل 37 (e) کے تناظر میں دیکھیے گا، اک ٹیس سی دل سے نہ اٹھے تو پھر کہنا۔


زاہد نثار کی تحریریں ملکی اخبارات میں شایع ہوتی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ فیس بک پر ان کی شعور کے در وا کرتی مختصر پوسٹس پسند کی جاتی ہیں۔ ان کے علم کا دائرہ ادب سے تصوف اور سیاست وسماجیات سے تاریخ تک دراز ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ان بچوں کی کہانیاں ایسی دل دوز ہیں کہ دل دہل جائے۔ یہ کہانیاں روز پروان چڑھتی ہیں۔ نہ ان کو کوئی ایسی دادی سناتی ہے جو گرم لحاف میں دبکے بچوں کو خوش گوار حیرت میں مبتلا رکھے. نہ ان کی اپنی ماوں کو مفلسی کے چنگل سے فرصت کہ ان کی مٹی ڈیزل سے میلی پیشانیاں چوم چوم کر کہانیاں سناتی رہیں۔ یہ کہانیاں تو بس سینہ بہ سینہ ان بچوں پر بیتتی ہیں۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: