بند کرو یہ فلم : الیاس بابر

0
  • 57
    Shares

18دسمبر 1879کو ایک روسی گائوں Gori میں ایک جفت ساز Besarion Jughashvili اور دوسروں کے لباس دھونے والی خاتون Ketevan Geladze کے ہاں ایک بچہ Vissarionovich Dzhugashvili پیدا ہوا۔ ابتدائی دنوں ہی سے یہ کمزور اور بری صحت والا بچہ تھا۔ سات برس کی عمر میں اس پر پہلا حملہ چیچک کا ہوا جس کو اس نے شکست تو دے دی مگر جاتے جاتے چیچک اپنی شکست کے داغ اس کے چہرے پر چھوڑ گیا۔ چیچک کے ان داغوں کی وجہ سے یہ بچہ ہمیشہ احساس ِ کمتری کا شکار رہا۔ اگلے چند برسوں میں ایک حادثے میں اس کا بایاں بازو بری طرح زخمی ہوا جس کی وجہ سے یہ بازو اپنی اصل حالت میں نہ رہتا یعنی اس میں اس کی شخصیت کی طرح کا ایک ٹیڑھ پن سا آگیا۔

اس کے گائوں کے لڑکے اس کی کمزوریوں اور عیوب کا تمسخر اڑاتے رہتے۔ اسی احساسِ کمتری نے ہی اس بچے کو اپنے مستقبل کی کٹھن راہ متعین کرنے پر اکسایا، اور عملی زندگی میں جب بھی کوئی شخص اس سے برتر ہوتا یا آگے بڑھنے کی جسارت کرتا تو وہ اس کے عتاب کا نشانہ بنتا۔ اس بچے کی والدہ عملی طور پر ایک قدامت پسند عیسائی تھی اور وہ چاہتی تھی کہ کسی طرح اس کا بیٹا مذہب کی طرف راغب ہو اور اس کی شخصیت میں سختی کم ہو۔ حقیقت میں وہ اسے ایک مذہبی پیشوا بنانا چاہتی تھی۔ اس سلسلے میں اس کی ماں نے اسے ایک مذہبی ادارے میں داخل کرادیا بعد ازاں اس بچے کی ملاقات چند سوشلسٹ فکر رکھنے والوں لوگوں سے ہوئی جنہوں نے اسے کارل مارکس اور ولادی میر لینن کی تعلیمات سے متعارف کروایا جن سے یہ بہت شدید متاثر ہوا۔ عملی طور پر کمیونسٹ پارٹی کا جنرل سیکرٹری بنااور ولادی میر لینن کے موت کے بعد یہ بچہ جو ایک بھرپور جوان بن چکا تھا سوویت روس کا مطلق العنان آمر بنا۔ جی ہاں یہ بچہ وہی ہے جسے دنیا جوزف اسٹالن کے نام سے جانتی ہے۔ روسی زبان میں سٹیل کو سٹالن کہا جاتا ہے یعنی جوزف نے اپنے لیے مردِ آہن کا ستعارہ اختیار کیا۔

اسٹالن ایک آمر تھا جس نے سوویت یونین پر دو دہائیاں دہشت کے بل بوتے پر حکومت کی بلکہ دہشت کو اداراتی شکل عطا کی۔ اسٹالن کی Red Army نے جرمن نازیوں کو دوسری جنگِ عظیم میں شکست دینے میں مدد کی۔ اس آمر نے دورِ جدید کی ضروریات کے پیشِ نظر روس میں صنعتوں کو فروغ دیا اور بے کاشت زمینوں میں کاشت کاری کے رجحان کو فروغ دیا۔ 1924 میں لینن کی موت کے بعد اسٹالن نے پارٹی کے پرانے عہدیداروں اور انتظامیہ کو تہس نہس کرنا شروع کردیا جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ پناہ کی خاطر یورپ کے دوسرے ممالک میں بھاگ گئے۔ اسٹالن جن لوگوں سے خائف ہوتا انہیں رات کی تاریکی میں گرفتار کرتا، ان لوگوں پر الزام ہوتا کہ یہ سرمایہ دار اقوام سے ملے ہوئے ہیں جو عوام کے حقوق کا استحصال کرتی ہیں۔ ان لوگوں پر نہایت ہی مختصر وقت میں مقدمہ چلایا جاتا اور اپنی مرضی کے فیصلے حاصل کیے جاتے۔ اسٹالن اپنے سامنے ممکنہ طور پر کھڑی ہونے والی دیواروں کو گرادیتا۔

’’ آزادی ء اظہار‘‘، ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے بیانیوں سمیت بیسیوں بیانیے محض سیاسی اور معاشی بالادستی کے قیام کے ٹولز ہوتے ہیں جن کا لقمہ عام عوام بنتے ہیں جنہیں اپنی موت کی وجہ بھی معلوم نہیں ہوتی۔

جب 1939 میں یورپ پر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے تو اسٹالن نے اڈولف ہٹلر کے ساتھ ’’معاہدہ عدم تشدد‘‘ پر دستخط کیے۔ اسٹالن کو ہٹلر پر اتنا یقین تھا کہ روسی فوج کی طرف سے ان وارننگز کے باوجود کہ ہٹلر اپنی افواج سرحد کر قریب کر رہا ہے اس نے ان وارننگز پر کوئی دھیان نہ دیا۔ اسٹالن ہٹلر کے اس فریب پر اتنا دل گرفتہ ہوا کہ کئی دن تک اپنے دفتر میں چھپا رہا تاکہ اپنے ساتھیوں کا سامنا نہ کرے۔ اس دوران جرمن افواج نے بیلارس اور یوکرائن پر قبضہ کرلیا تھا۔ بالآخر اسٹالن نے اپنے عزم کا اکٹھا کیا اور پھر ایسا ہوا کہ 1943 کے آخر میں اسٹالن مشرقی یورپ کے علاقوں کو آزاد کروا رہا تھا۔
اسٹالن ہمیشہ سے اپنے حریفوں حتیٰ کہ اپنے حلیفوں کے بارے میں بھی مشکوک رہتا جب اس نے امریکی صدر رُوزویلٹ اور برطانوی وزیرِ اعظم ونسٹن چرچل سے جرمنی کے خلاف محاذ کھولنے کا کہا تو انہوں نے پس و پیش کی۔ اسٹالن جوکہ پہلے ہی لاتعدا د روسیوں کی جانیں گنوا بیٹھا تھا اس بات پر بہت دلبرداشتہ ہوا۔ روزویلٹ کا یہ ماننا تھا کہ ایسا کرنے سے شدید نقصان ہوگا۔ بہرحال عالمی منظر نامہ تبدیل ہوتا رہا۔ بڑی طاقتیں بعد از جنگ حالات پر سوچ رہی تھیں۔ اسی دوران امریکہ اور برطانیہ میں مقتدر شخصیات بدل گئیں۔ روس کی جاپان پر بھی نظریں تھی تاہم امریکہ کی طرف سے ایٹم بم گرائے جانے کے بعد جاپان شکست خوردہ ہوچکا تھا اور عالمی منظر نامہ بدل چکا تھا۔ اسٹالن چاہتا تھا کہ کسی طرح یورپی ریاستوں کو کمیونسٹ ریاستوں میں تبدیل کیا جائے۔ بہرحال بعد از جنگِ عظیم دوم عالمی منظر نامہ اقوام متحدہ کی تشکیل اور چین، روس وغیرہ کی اقوام متحدہ تک رسائی ایک الگ موضوع ہے۔

اگرچہ اسٹالن کی دوسری جنگِ عظیم میں فتوحات نے اس کی شخصیت کو بہت نمایاں کردیا تھا۔اس دوران اس کی صحت خراب ہونا شروع ہوگئی۔ اسی دوران اس پر یہ بھی کھلا کہ اسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ 5 مارچ 1953 کو اسٹالن موت کی آغوش میں چلا گیا۔اس کے ساتھ ہی دنیا سے دہشت اور خوف کا ایک عہد غروب ہوگیا۔ بعد ازاں Nikita Khrushchev نے اسٹالن کی پالیسوں کو بہت برا بھلا کہا اور اس کے جرائم کو طشت از بام کیا۔ ان سب کے باوجود اسٹالن کئی برسوں تک روسی جوانوں کے دلوں کی دھڑکن بنا رہا۔ حال ہی میں The Death of Stalin کے نام سے ایک فلم بنی ہے جسے اسکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے Armando Lannucci نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ بنیادی طور پر یہ فلم ایک فرانسیسی تصویری ناول La mort de Staline سے ماخوذ ہے۔ اس فلم میں اسٹالن کے کردار کو پرمزاح انداز میں پیش کیا گیا ہے جس میں طنز کا عنصر زیادہ غالب ہے۔ روسی وزارتِ ثقافت کی طرف سے اس فلم کی نمائش سے سینمائوں کو روک دیا گیا۔ روسی انتظامیہ کے نزدیک ایسا کرنا روسی آمر کی ’’کردار کشی‘‘ کے مترادف ہے۔ وزارت کی طرف سے جاری ’’حکم نامے‘‘ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے روس کے تاریخی سینما میں اس فلم کی نمائش کی گئی جس پر 26 جنوری 2018 کو روسی پولیس نے مداخلت کرکے فلم کی نمائش روک دی۔ باوجود یکہ ایک روسی آرٹ ہائوس میں اس کی ہاوس فل نمائش کی گئی جن میں سے کم از کم دو بزرگ ایسے بھی شامل تھے جوں اسٹالن کے جنازے میں شامل تھے۔ ان کے مطابق اس فلم سے ان کی نظروں کے سامنے اسٹالن کا عہد آگیا خاص کر اسٹالن کی لاش کو دیکھنا ان کے نزدیک ایک عجیب نشاط انگیز احساس تھا۔ فلم دیکھنے والے زیادہ تر تماشائیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ماضی سے جڑے واقعات کو دیکھ کر بہت لطف اندوز ہوئے۔ دوسری طرف روسی مقتدر ذرائع کا ماننا ہے کہ فلم میں ماضی کے روس کا تمسخر اڑایا گیا ہے۔

میں بطورِ عوام عالمی سامراج سے یہ کہتا ہوں کہ ’’بند کرو  یہ فلم‘‘ جس کا لقمہ ہم بے گناہ عوام بن رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہوکہ رفتہ رفتہ بیانیوں کے اس عفریت کا لقمہ دنیا کا ہر فرد بن جائے۔

یاد رہے کہ اس فلم نے دنیا کے بیشتر ممالک میں خو ب پیسا کمایا ہے۔ بصری اور متنی بیانیوں کے ذریعے بڑی طاقتوں کا تمسخر اڑانا کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی کے بے شمار متون اپنے اپنے دشمنوں کی غلط نمائندگی کا مظہر ہوتے تھے۔ بظاہر سادہ دکھائی دیتے والے متنو ن بھی لسانی سیاست کا شکار نظر آتے ہیں۔ کرسٹوفر مارلو، اور شیکسپیئر سے لے کر معاصر عہد کے کئی ایک تخلیقی اظہاریے Othering کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ 1991 میں امریکہ میں بننے والی فلم JFK ہو یا ہندوستان میں بننے والی بیسیوں فلمیں؛ جہاں مقامی سماج کی طرف سے غلط نمائندگی کادعویٰ کیا گیا اور ان کے خلاف لوگ سڑکوں پر بھی نکل آئے۔ اس کی تازہ ترین مثال ہندوستانی فلم پدماو ت ہے۔ اس سے ایک بات طے ہوئی کہ ’’آزادیء اظہار‘‘ کا بیانیہ محض ایک خام خیالی ہے اور اس اصطلاح کا منفی استعمال خاص کر مسلمانوں کے خلاف بہت کھل کر سامنے آتا ہے اور جب مسلمان اس پر سراپا احتجاج بنتے ہیں تو انہیں ’’ آزادی ء اظہار‘‘ کے محاسن گنوائے جاتے ہیں۔ ح

قیقت یہ ہے کہ ’’ آزادی ء اظہار‘‘، ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے بیانیوں سمیت بیسیوں بیانیے محض سیاسی اور معاشی بالادستی کے قیام کے ٹولز ہوتے ہیں جن کا لقمہ عام عوام بنتے ہیں جنہیں اپنی موت کی وجہ بھی معلوم نہیں ہوتی۔ شاید اسی لیے اپنے بیانیے سے متصادم بیانیے کے خلاف روسی مقتدر ذرائع کہہ رہے ہیں کہ ’’بند کرو یہ فلم‘‘ اور میں بطورِ عوام عالمی سامراج سے یہ کہتا ہوں کہ ’’بند کرو  یہ فلم‘‘ جس کا لقمہ ہم بے گناہ عوام بن رہے ہیں کہیں ایسا نہ ہوکہ رفتہ رفتہ بیانیوں کے اس عفریت کا لقمہ دنیا کا ہر فرد بن جائے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: