عسکری کا شعورِِ نثر —– عزیز ابن الحسن

0
  • 3
    Shares

محمد حسن عسکری ہمارے ان لکھنے والوں میں سے تھے جن کا شعورِ نثرنگاری بھی ان کے شعورِ زندگی اور ادب کی طرح اپنی مثال آپ تھا۔ شمس الرحمن فاروقی نے عسکری کی نثر اور خیال کو یکجا کردینے والی قدرت کے اعتبار سے انہیں برٹرینڈ رسل کے ہم پلہ قرار دیا ہے۔ اس مشابہت سے اختلاف و اتفاق سے قطع نظر، میری رائے یہ ہے کہ اپنی ابتدائی اردو نثر میں ہی عسکری نے بڑی شعوری کوشش سے دو چیزوں کو جمع کر دیا تھا:

یک آنی مشاہدے/خیال/تجربے کو اسکی کلیت میں گرفت کرنا اور پھر ایسا طویل جملہ لکھ پانا جو اس یک آنی مشاہدے اور تجربے کو پڑھنے والے کے ذہن تخیل اور محسوسات کو بیک وقت مخاطب بنائے۔ ایسی نثر لکھنے کا کامیاب تجربہ انہوں نے بہ عمر بیس سال اپنی نوجوانی میں ہی اپنے افسانوں میں کر دکھایا تھا۔ صرف ایک مثال دیکھئے:

”جب وہ اپنی اُونچی ایڑیوں پر لڑکھڑاتی، سنبھلتی، دُھوپ میں جلتی بھنتی، سڑکوں پرسے گزُرتی تو اُسے دور آلھا گانے کی آواز، ڈھول کی کھٹ کھٹ، اور درختوں کے نیچے تاش کی پارٹیوں کے بلند اور کرخت قہقہے، دوپہر کی نیندحرام کر دینے والی بوجھل مکّھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح بیزارکُن، اور پُر استہزا معلوم ہوتے، اور وہ چار مہینے پہلے چھوڑ ے ہوئے شہر کا خیال کرنے لگتی”۔ (”حرام جادی”، عسکری کے افسانے،ص،٤٨)

اس یک آنی مشاہدے/خیال کو گرفت میں لینے اور ایسی نثر تخلیق کرنے کا خیال انہوں نے مغربی خصوصاً فرانسیسی ناول و افسانے سے لیا تھا جن میں سے بعض کے بے مثل اردو تراجم انہوں نے بول کر لکھوائے تھے۔ مگر انکے بے مثل تخلیقی جوہر نے اس شے کو محض نقل کرنے کے بجائے اپنے ہندوستانی مزاج اور اردو کی کلاسیکی نثر کے ساتھ اسطرح ہم آہنگ کرکے دکھایا کہ کہیں بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ اپنی روایت سے جڑے رہنے کے اسی شدید احساس نے آخراً انہیں مغربی اور مشرقی طرز احساس کے فرق اور مابعد الطبیعاتی روایت کے شعور تک پہنچایا تھا۔ جو انکے خیال کے مطابق تحریک تنوریر نے مغرب سے چھین لیا تھا۔ ایسی ہی کچھ بآتیں آج میلان کندیرا کے ہاں بھی دیکھی جاسکتی ہیں جنہیں نصف صدی قبل عسکری بیان کر چکے تھے۔

بعداً جب عسکری نے افسانہ نگاری ترک کردی تب بھی سرسید تحریک کی پیدا کردہ بے تہہ نثر سے ان کا اختلاف کم نہ ہوا. سرسید کے زیر اثر آج اردو میں سادہ سلیس چھوٹے اور رواں جملے والی نثر ہی منتہائے کمال سمجھی جانے لگی ہے۔ موجودہ اردو نثر میں افعال کی کمی صفات کے استعمال کے مسئلے اور پیچیدہ تجربے اور فکر کے بیان کی عدم استطاعت پر انہوں نے بڑے تواتر کے ساتھ لکھا ہے۔

موجودہ اردو نثر کی بے بضاعتی پر عسکری نے محض تنقیصی انداز ہی میں نہیں لکھا بلکہ پہلے خود ایسی تخلیقی نثر پیدا کرکے بھی دکھائی ہے جسکی ایک مثال ہم نے اوپر دی ہے۔

عسکری کے بعض نقادوں نے جب بھی ان کے اسلوبِ نثر پر لکھا ہے تو وہ ان کی بیگماتی زبان اور کرخنداری لہجے ہی میں الجھ کر رہ گئے. کم ہی لوگ ہوئے ہیں جنہوں نے عسکری کے ادبی تصورات کی حقیقی معنویت کی طرح ان کے تصور نثر اور انکی نثر کی حسیاتی تاثیر اور ذہن کو مغلوب کر دینے والی نثر کی قوت پر توجہ دی ہے. اردو نثر کی اس خرابی کے پیچھے عسکری لجلجے جذبات کو مخاطب کرنے والے پلپلے رومانوی اسلوبِ نثر کے اثرات اور زندگی میں ہر طرح کے مشکل اور سنجیدہ چیلنچز سے آنکھیں چرانے والے ہمارے عمومی مزاج کو دیکھتے تھے۔ عزیز خالد بلغاری نے ایک جگہہ نثر کے بارے میں عسکری کا ایک اقتباس دیا ہے:

“اصل میں ہمارے یہاں ‘روانی’ کا مطلب یہ ہوگیا ہے کہ دماغ کے اوپر بوجھ نہ پڑے اور دماغ قطعی انفعال کی حالت میں بھی نثر سے کچھ نہ کچھ اخذ کرسکے. یا یوں کہیے کہ دماغ معطل رہے اور جذبات متاثر ہوتے رہیں. مرے کو ماریں شاہ مدار.”
محمد حسن عسکری. (کچھ اردو نثر کے بارے میں ـ ۱۹۵۴ء)

اس اقتباس میں ذرا اس چھوٹے سے جملے کو دیکھئے “دماغ معطل رہے جذبات متاثر ہوتے رہیں”۔

عسکری کا یہ چھوٹا سا جملہ صرف موجودہ اردو نثر ہی کا عیب نہیں بتا رہا بلکہ تمام تخلیقی اظہارات بلکہ کل زندگی اسکے تخلیقی جوہر کے زوال کے سبب کی داستان سنا رہاہے۔ ساٹھ پینسٹھ سال پہلے عسکری نے ہمارا جو المیہ بتایا تھا وہ آج میڈیائی عہد کی پیدا کردہ جذباتی فضا اور نعروں کی طلسماتی دنیا میں کئ گنا بڑھ چکا ہے۔ وہ دنیا جو سوچنے سمجھنے کی اذیت سے محفوظ اور جذباتی ہیجان میں مبتلا رکھنے کا بہترین سامان اپنے  اندر رکھتی ہے۔


(نوٹ یہ تحریر خالد ولی اللہ بلغاری کے فیسبک پہ سانجھ کردہ عسکری کے ایک اقتباس سے پیدا ہونے والی سرشاری سے وجود میں آئی، لہٰذا اس کا انتساب انہی کے نام ہے۔)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: