کوکڈوو کووڈوو : مرغے کا سال —– لالہ صحرائی

0
  • 60
    Shares

ہر نیا سال نوع انسان کی فلاح پر مبنی کسی کاز پر کام کرنے کیلئے مختص ہونا چاہئے مگر چینی قوم اپنی زوڈیئک تقویم کے حساب سے ہر سال کسی ایک جانور کے نام کر دیتی ہے، اس کام کیلئے انہوں نے بارہ عدد جانور مختص کر رکھے ہیں، گویا ہر جانور کی باری بارہ سال بعد آتی ہے، یہ ہم سے تو خیر اچھے ہی ہیں کیونکہ ہمارے ہاں ایک تو بہت سے جانور ہیں، پھر جو جانور جہاں ہو تاحیات وہیں رہتا ہے۔

ہر سال جانوروں کے نام کرنا بہت ہی ضروری ہے تو پچھلے سال جس کسی نے عالمی یا علاقائی جانور ہونے کا ثبوت دیا ہو اس غریب کے نام کر دینا چاہئے، بندہ اوچھی حرکتیں بھی تو آخر نام کیلئے ہی کرتا ہے۔

جس بندے نے اسے کار خیر سمجھ کے جاری کیا تھا، اسے سندھ کے کسی ویران سے بس اسٹاپ پہ بٹھا کے پوچھ لینا چاہئے تھا کہ بھائی تیرا مسئلہ آخر ہے کیا، شادی شدہ ہو یا کنوار پنے نے ہی گنوار پنے تک پہنچا دیا ہے۔

میرے حساب سے تو وہ شادی شدہ ہوگا جو انہماک سے اس کام میں جتا رہا، کنوارے بندے کو تو ہردم جوڑی بنانے کی فکر کھائے رکھتی ہے، وہ کوئی تقویم خاک سیٹ کرے گا۔

ایسے نام رکھنے میں چینیوں کا کوئی خاص قصور بھی نہیں، یہ ایک یونیورسل مسئلہ ہے، ایک اچھی بھلی چیز کو خوامخواہ ایک ایسا نام دے دیا جاتا ہے جو اس چیز کی طبع سے قطعی مطابقت نہیں رکھتا، لیکن رکھے گئے ناموں کا اجرام و اجسام پر بہت گہرا اثر واقع ہوتا ہے، اسلئے کہتے ہیں کہ انسانوں کے اچھے اچھے نام رکھنے چاہئیں تاکہ وہ نام کے اثر سے اسمِ بامسمیٰ ہو جائیں۔

شائد یہی وجہ ہے کہ اسمِ بامسمیٰ کرنے کیلئے ہمارے ہاں اساتذہ اکرام کی اکثریت طلباء کو گدھا کہتی ہے، وہی طلباء بڑے ہو کے جس طرح سے مُلک چلاتے ہیں اس سے پتا چلتا ہے کہ نظامِ مملکت میں خرابیوں کی اصل وجوہات میں صرف اساتذہ اکرام کی اس عادت کا دخل ہے۔

مانا کہ تجدد کا دور ہے اسلئے دنیا میں نت نئی منطق ایجاد ہو رہی ہے لیکن یہ منطق سمجھ میں نہیں آتی کہ سالوں کا نام رکھنے والا سالا اپنے سالوں کو چھوڑ کے سب کے سالوں کا نام جانوروں پہ کیوں رکھنے لگ گیا ہے۔

اللہ بخشے ملا نصیرالدین زندہ ہوتے تو اس منطق کی تہہ تک ضرور پہنچتے، ہمیں وہ نام رکھنے والا بندہ بالمشافہ مل جائے تو ہم اس بات کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے ہی شائد اسے تہہ تک پہنچا دیں، یہ شدت پسندی نہیں بلکہ ہمارا تفتیشی کلچر ہے جس میں اکثر مجرم تفتیش میں ہیں پوری سزا بھگت لیتے ہیں، باقی کی سزا پھر دنیا کو دکھانے کیلئے پندرہ بیس سال بعد دی جاتی ہے۔

خوش گمانی ایک اچھی چیز ہے، چلیے مان لیتے ہیں کہ شائد اس کا خیال ہو کہ اس طرح سے دنیا کو ایک پیج پر لایا جا سکتا مگر خوش گمانی کی بھی ایک حدہوتی ہے، یہ کیلنڈر تو دنیا کو ایک پیج کی بجائے ایک طویلے میں لے گیا ہے۔

سال دو ہزار سولہ بندر کے نام تھا، بندروں نے اس موقع پر اپنے بیان میں واضع طور پر کہہ دیا تھا کہ اس عزت افزائی سے انہیں بحیثیت قوم کوئی خاص فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ آپ جتنی چاہیں کوشش کرلیں اب ان میں سے کوئی ایک بھی انسان بننے کے قابل نہیں ہے۔

بندروں کو تو یہ بھی یاد نہیں کہ وہ انسان کے آباؤاجداد سے تعلق رکھتے ہیں البتہ اس بات پر انہوں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ اس بات کو اگر سچ مان لیا جائے تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انسانوں کا ایک طبقہ اپنے خاندان اور ماضی کو نہیں بھولا، بندروں کی طرف سے یہ انسان کا بڑاپن تو قرار دیا گیا ہے مگر انہیں یہ معلوم نہیں کہ انسان ترقی کرجائے تو آجکل اپنے پچھلوں کو بھول جاتا ہے تاکہ کوئی چار پیسے نہ مانگ لے۔

بندروں کے مطابق 2016 میں ان کی فلاح کیلئے کوئی خاص کام نہیں کیا گیا بلکہ حسب معمول اسی طرح سے نچایا گیا جیسے پہلے نچایا کرتے تھے تاہم اتنا ضرور ہوا کہ اس سال کئی بندروں کی شادیاں ہو گئیں اور وہ اپنے اپنے سسرال میں جا کے سیٹ بھی ہو گئے اس بات کی تصدیق ان کے بوڑھے والدین نے بھی کی ہے جو ان کی تنخواہ سے خرچے کی اس لگائے بیٹھے تھے۔

سال دو ہزار سترہ مرغے کا سال تھا، مرغے کے ساتھ انسان کا تعلق بہت قدیم ہے، ککو اور جمی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق سب سے پہلے مرغے کی کھال ایک بیوی نے اتاری تھی جسے شوہر کے سامنے اپنا ردعمل دکھانے کا اور کوئی طریقہ نہیں سوجھ رہا تھا لیکن یہ آئیڈیا ہٹ ہونے کے بعد یہی کام پھر شوہروں نے بھی سنبھال لیا، پھر رفتہ رفتہ طاقت کا توازن راست ہونے کے بعد سب پہلے والے معمول کے مطابق ہی لڑنے لگے اور یہ کام قصائیوں تک محدود ہو کے رہ گیا۔

مرغے کی اہمیت واضع ہونے کے بعد انیسویں صدی کے سیانوں نے عوام کو مرغا بنا کے رکھنے کی ایک تجرباتی سکیم بھی شروع کی تھی جو اب باقائدہ ایک تحریک بن چکی ہے اور کامیابی سے چل بھی رہی ہے، لوگ اس کے حق میں نعرے بھی لگاتے ہیں اور ووٹ بھی اسے ہی دیتے ہیں۔

اس کے بعد معاشرے نے جب تعلیم و تربیت کا معقول بندوبست کیا تو اسکولوں میں بچوں کو اوائل عمر سے ہی مرغا بنے کی مشق بھی شروع کرا دی جس کی بدولت بیسویں صدی کے بچے اسقدر مرغا بنے ہیں کہ عمر بھر انہوں نے اصلی مرغے اتنی بار نہیں دیکھے جتنی بار دوستوں کو مرغا بنتے دیکھا ہے۔

ہمارے دور میں اسکولوں کے اندر ہر ہما شما کو مرغا نہیں بنایا جاتا تھا بلکہ یہ اعزاز ان خاص خاص بچوں کو ہی ملا کرتا تھا جو اس مقام و مرتبے کا بوجھ باآسانی اٹھانے کے اہل ثابت ہوتے تھے، یہ الگ بات ہے کہ قابلیت کی فراوانی ہی اتنی تھی کہ ان دنوں اسکولوں کا غالب طبقہ اس مرتبے کا اہل ثابت ہو جایا کرتا تھا۔

آجکل سنا ہے جدید نظام تعلیم میں زیرو ٹالرینس کا رجحان بہت ہے اسلئے جسمانی طور پر مرغا نہیں بنایا جاتا بلکہ اس سعادت کا اہتمام اب عقلی و فکری طور پر نصاب میں ہی ڈال دیا گیا ہے، آجکل جو بھی پڑھ کے فارغ ہو رہا ہے وہ فکری طور پر مرغا ہی نکلتا ہے۔

بیسویں صدی کے معاشرے میں طلاق کی شرح انتہائی معمولی تھی اس کی بڑی وجہ مردوں کی وہی مرغا بننے کی تربیت تھی جو عمر بھر ان کے کام آتی رہی یہاں تک کہ پرانے وقتوں میں علیحدگی صرف ان کے ہاں ہوتی تھی جن خواتین کو مرغا بھی قابو کرنا نہیں آتا تھا۔

آجکل سنا ہے جدید نظام تعلیم میں زیرو ٹالرینس کا رجحان بہت ہے اسلئے جسمانی طور پر مرغا نہیں بنایا جاتا بلکہ اس سعادت کا اہتمام اب عقلی و فکری طور پر نصاب میں ہی ڈال دیا گیا ہے، آجکل جو بھی پڑھ کے فارغ ہو رہا ہے وہ فکری طور پر مرغا ہی نکلتا ہے۔

کسی خاندانی کنوارے نے اپنی فرصت کے بے کنار لمحات میں مرغے کی یخنی ایجاد کی تھی پھر ملانصیرالدین نے اس یخنی کی یخنی کی یخنی بھی نکال کے دکھا دی بلکہ دوستوں کو بھی پلائی، پھر یہ کلیہ نظام تعلیم کے ہاتھ آیا تو انہوں نے علمی دنیا میں پہلے نکتے نکالے پھر ان نکتوں کے نکتے نکالے، اب حالت یہ ہے کہ علمی دنیا میں اتنے نکتے تھے نہیں جتنے انہوں نے نکال کے رکھ دئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اہل علم اب کسی ایک نکتے پر متفق نہیں ہو پاتے، یہ سارا فتور اس یخنی کا ہے یا پھر یخنی کی یخنی کی یخنی کا ہے۔

اللہ بخشے ملانصیرالدین کو جو خود تو اس دار فانی سے چلے گئے مگر جاتے جاتے ہمارے نظام تعلیم کو اسقدر غیرفانی کرگئے کہ ان بکھرے ہوئے نکتوں کو سمیٹنے سے اب ہائر ایجوکیشن بھی عاجز ہے، اس کی مثال وہ اسکالرز ہیں جو کبھی جسمانی طور پر تو مرغا نہیں بنے مگر ان نکتوں کے چکر میں البتہ فکری بانگیں دینا سیکھ گئے ہیں۔

ہائر ایجوکیشن کی ڈگری کتنی محنت سے ملتی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ انہیں کوئی اپنے جیسا فارغ سیاستدان نظر آئے تو اسے بھی ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری تھما دیتے ہیں۔

ماضی بعید اور قریب کے تقریباً وسط میں ملانصیرالدین کے طریقے سے ایسے ہی کچھ نکتوں کے نکتے ملا جلا کر ایک روشن خیال تحریک کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا کام بوقت ضرورت ریاست کو نت نئے بیانیے گھڑ کے دینا تھا۔

ملانصیرالدین نے یخنی کی یخنی کی یخنی کرنے میں اتنا کھیلواڑ اس بنیادی یخنی کیساتھ نہیں کیا جتنا ان نکتہ سنج افراد نے اپنی اس تحریک کیساتھ کیا ہے بلکہ اب تو یہ اس قدر خیرسگالی واقع ہو چکے ہیں کہ جہاں کسی کو خونی بواسیر نکل آئے یہ وہاں بھی ہمدردی کیلئے موم بتیاں جلانے پہنچ جاتے ہیں۔

بات زیادہ دور نہ نکل جائے اسلئے واپس مرغے پہ آتے ہیں کیونکہ اس کے بعد کتا ڈسکس کرنا ابھی باقی ہے، اس چینی تقویم کے اعتبار سے، جو کہ ہمیں نہیں کرنا چاہئے، موجودہ سال کتے کے نام کرنے کی باری ہے، یہ مرحلہ بارہ سال کے بعد گھوم کے آت ہے، گویا ایک انسان کی اوسط عمر میں اسے پانچ بار کتے کا سال دیکھنا پڑ جاتا ہے۔

شہد میں ہمیشہ ان پھولوں کی خوشبو مہکتی ہے جن کا رس چوس کر مکھی شہد بناتی ہے، اسی اعتبار سے، جو کہ ہمیں کرلینا چاہئے، انسان میں بھی اب برائلر کی پراپرٹیز بخوبی دیکھی جا سکتی ہیں، اسی رفتار سے مرغے کی زوجہ آید بکار رہی تو شنید ہے کہ رواں صدی میں انسان مرغ والی بانگ دینے کے قابل بھی ہو جائے گا یا مردوں کے بارے میں کہہ سکتے ہیں وہ مرغی کا ہم زباں تو ہو ہی جائے گا، مرد بیچارہ صنف نازک کا تو اب بھی ہم نوا ہے اگر وہ اپنی نہ ہو یا پھر اس کا تعلق فیمینسٹ طبقے سے ہو تو۔

گزشتہ سال مرغے کا سال تھا، یہ سال اپنی کرپٹ برادری پر خوب بھاری رہا، سارا سال ہی یہاں مرغوں کی پکڑ دھکڑ میں گزر گیا، سال تو جیسے تیسے گزر گیا مگر تب کے ہلے ہوئے مرغے ابھی تک سفر میں ہیں، کبھی کہیں بیٹھ کے پھڑپھڑاتے ہیں تو کبھی کہیں، سچ کہا تھا کسی نے نااہلی سب سے بڑا روگ ہے۔

نام رکھنے والے چینی نااہل نے رواں سال کتے کا سال قرار دے دیا ہے، برادرانِ ایرانیان تو چلو سگ کہہ کے گزارا چلا لیں گے، زیادہ ہی تنگ یا محتاط ہوئے تو سالِ سگانِ شما کہہ کے جان چھڑا لیں گے، مسئلہ تو اصل میں ہمارے لئے کھڑا ہو گیا ہے، ہمارے پاس تو سوائے اظہارِ لاتعلقی کے اور کوئی آپشن بچتا ہی نہیں۔

جہاں تک میرا قیاس اور ہمارے ملک کے اندرونی حالات کا تقاضا ہے، مجھے نہیں لگتا بعض غریبوں کا اظہار لاتعلقی بھی کسی کام آئے گا، ڈر ہے کہ اس سال میں بھی کہیں مرغوں کیساتھ کتے والی ہوتے ہی نہ گزر جائے۔

نام دینے والے نے اگر کسی سپرپاور کی کسی مہان ہستی کو سامنے رکھ کے یہ نام منتخب کیا ہے تو پھر یقین رکھیں اگلے دو تین سال کے نام بھی وہ ایسے کھردرے ہی رکھے گا، مطلب یہ کہ اگلا سال خنزیر کا سال ہوگا اور اس سے اگلا سال چوہے کا ہوگا، اس کا مزید مطلب یہ بھی نکل سکتا ہے کہ اگلے سے اگلے سال شوہر نامی مخلوق زرا حوصلے سے گھوم پھر سکے گی لیکن چوہے کے سال میں حوصلہ کرکے کیٹ واک دیکھنے کے شوقین شوہر اگر بیگمات کے ہاتھوں پکڑے گئے تو نتیجۃً ان کے ساتھ اس سال والی ہی ہوگی۔

چینی تقویم کا ماہر، یعنی وہ نام رکھنے والا بھلا آدمی، اس سال چھ مہینے بلی کے نام لگا دیتا تو ہم اسے موسلا دھار بارش کی پیشگوئی سمجھ کے خود کو کوئی جھوٹی تسلی ہی دے لیتے مگر اس نے صرف کتے پر ہی اکتفا کیا ہے لہذا خشکی کا امکان غالب رہے گا۔

رواں سال کے اس زوڈیئک نام سے بے فکر طبقہ صرف شادی شدگان کا ہے، ان بیچاروں کو فرق اسلئے نہیں پڑتا کہ ان کے ساتھ تو اس سال والی ہمیشہ ہوتی ہی رہتی ہے تاہم جو لوگ اس سال شادی کا پکا منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں انہیں نظرثانی کرلینی چاہئے، آگے چل کے ہونی تو ان کے ساتھ بھی اس سال والی ہی ہے مگر اس سال نہ ہی شروع کروائیں تو اچھا ہے۔

عام حالات میں کتے کو وفادار سمجھا جاتا ہے لیکن جو ہمارے ساتھ وفاداری نہ کرے ہم تو اسے ہی کتا کہتے ہیں، جنہوں نے شروع میں ہی اسے کتے کا سال قرار دے دیا ہے پتا نہیں ان کے ذہن میں کیا ہے مگر ہم تو اس کے اطوار دیکھنے کے بعد ہی بتائیں گے کہ یہ وفادار رہا یا کتے کا سال ہی تھا۔

ہم نے چونکہ لاتعلقی کا اظہار کر دیا ہے، اسلئے ہمیں اتنا فرق نہیں پڑتا البتہ باہر کی دنیا جو اس نام سے مطمئن ہے انہیں سوال اٹھانا چاہئے تھا کہ اس سال کے بارہ مہینے الگ الگ نسل کے کتوں کے نام لگائے گئے ہیں یا نہیں، اس طرح انہیں ہر ماہ نئے انداز سے بیحیوو کرنے کی آسانی رہتی، اوپن رکھنے سے اب ہر وقت کوئی ایک قسم کا کتا پن کرے گا تو کوئی دوسری قسم کا۔

ہماری ہاں کوئی چیز کسی کے نام انتساب کرنے کا مطلب اس کی عزت افزائی کرنا ہوتا ہے لیکن چینی جن بارہ جانوروں کے نام سالوں کا انتساب کرتے ہیں ان میں سے ڈریگن کو چھوڑ کے باقی سب کو کھا جاتے ہیں، ڈریگن کو اسلئے چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ پہلے سے ہی ناپید ہے، ناپید ہونے کی وجہ شائد یہی ہوگی کہ جو سال یہ جس چیز کو انتساب کرتے ہیں اس سال میں یہ اسی چیز کو زیادہ کھاتے ہیں، مجھے تو یہ تقویم سے زیادہ کھانے کا چکر ہی لگتا ہے حالانکہ ان چیزوں کو خوش خوراکی کہنا خوش ذوقی کے بالکل متضاد سی چیز ہے۔

چینی زوڈیئک تقویم کے مطابق کتے کا سال سولہ فروری سے شروع ہو جائے گا، فی الحال ہم مرغے کے سال میں ہی جی رہے ہیں، جس کسی کو چکن کڑاہی کھانی ہو یا کوئی کتاپن سوجھ رہا ہو وہ سولہ فروری سے پہلے پہلے کرلے، سولہ کے بعد تو خیر ہوتا ہی رہے گا اور اپنے یہاں تو اس سال الیکشن بھی ہوگا یعنی کہ چینی زوڈیئک تقویم اس سال یہاں فٹ فاٹ بیٹھتی دکھائی دے رہی ہے۔

دوہزار اٹھارہ کو سالِ سگ قرار دینے پر اور کوئی خوش ہو نہ ہو، ہمارے قریبی دوست شاہ جی کے سگانِ کوچہ بہت خوش ہیں، باقی منکرین کو عرفی شیرازی صاحب کے الفاظ میں بس تسلی ہی دی جا سکتی ہے۔

عرفی تو میندیش ز غوغائے رقیباں
آوازِ سگاں کم نہ کند رزقِ گدا را

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: