پاکستانی شناخت کے متلاشی قبائل ’’اُن‘‘ کی نظر میں ۔۔۔۔ سمیع اللہ خان

0
  • 37
    Shares

“وہ” کہتے ہیں کہ فاٹا کے مالک، فاٹا کے لوگ ہیں۔ ہم نے فاٹا کا قصد اپنی مرضی سے نہیں کیا بلکہ وفاق کے ایجنٹ یعنی پولیٹیکل ایجنٹ کی درخواست پر فاٹا میں مداخلت کی ہے۔ اب چونکہ فاٹا کے لوگ فاٹا کے مالک ہیں اس لیے یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ نہ صرف یہ کہ اپنی حفاظت کریں بلکہ ہمیں بھی اگر کسی قسم کا نقصان پہنچا تو ذمہ دار قبائل ہوں گے۔ اس لیے قبائل کو چاہیے کہ “غلط” لوگوں کو قبائلی علاقوں میں داخل ہونے سے روکیں۔ کیونکہ “غلط” لوگوں کو روکنا اور قبائلی علاقوں میں آباد نہ ہونے دینا ہماری نہیں بلکہ قبائل کی ذمہ داری ہے۔ یہ ہے وہ پس منظر جس کی بدولت ہم دیکھتے ہیں کہ جب قبائلی علاقے میں سیکورٹی اداروں کو جب بھی نقصان پہنچا، جائے وقوعہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کےباشندوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا اور اُن کو سزا دی گئی۔ بغیر کسی ثبوت، تفتیش اور عدالت کے۔ اوربقول قبائل کے کہ یہی وہ مکمل اور اندھی آزادی ہے جو کہ علاقہ غیر میں برتی جاتی ہے۔

قبائل اپنی نظر میں۔۔۔

قیام ِ پاکستان کے وقت، ہم اپنی آزادی کے لیے نہیں بلکہ اپنے عم زادوں کے کشمیر کی آزادی کے لیے پاکستان کے بازوئے شمیرزن بنے۔آج جس طرح آزاد کشمیر، تحریکِ آزادئ کشمیر کا بیس کیمپ ہے اسی طرح قبائلی علاقے، ریاست کی سیکورٹی پالیسی کے پیشِ نظر افپاک کے لیے بیس کیمپ قرار پائے۔ مگر آزاد کشمیر کو بیس کیمپ بننے کی وہ قیمت نہیں اداکرنی پڑی جو کہ قبائل کے حصے میں آئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کشمیر میں بھی پاکستانی ریاست نے جہادی بیانیے کو ڈِس اون کیا یعنی یو ٹرن لیا مگر اللہ کا لاکھ شکر ہے کہ ہندوستان کو وہ بات نہ سوجھی جو امریکہ کو سوجھی۔ یعنی امریکہ نے افغانستان میں مصروف جہادی عناصرکی، جو پاکستان کی پوسٹ نائن الیون افغان پالیسی سے متفق نہیں تھے ان کی درپردہ پشت پناہی شروع کی۔ جس کی وجہ سے پاکستان اور خاص طور پر قبائلی علاقوں میں اس تباہی کا آغاز ہوا جس نے سب کچھ ملیا میٹ کردیا۔ قبائل نے نہ صرف یہ کہ جانی اور مالی قربانی ادا کی بلکہ اپنی ادھوری پاکستانیت پر بھی صبر وشکر کیا۔ قبائلی علاقے کم وبیش صاف چٹیل میدان بنادیے گئے۔ آج بھی قبائلی علاقے میں ہماری حیثیت ایک مکمل پاکستانی شہری کی نہیں۔ہماری شناخت کے لیے نادرا کاشناخت کارڈ کارآمد نہیں، بلکہ ہماری شناخت کے لیے وطن کارڈ متعارف کرایا گیا۔ ہمارا مطالبہ پاکستان سے آزادی کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہمیں مکمل پاکستانی تسلیم کیا جائے۔ ہمیں بھی وہ آئینی حقوق دیے جائیں جو کہ ایک عام پاکستانی کو میسر ہیں۔

ان کا مسئلہ صرف نقیب نہیں، بلکہ نقیب تو فقط ایک آئس برگ ہے جس کے نیچے ناانصافی، محرومی اور ادھوری شناخت کے المیے ہیں۔ آپ کو ان کی باتیں تلخ لگیں گی، یہ آپ کو جلی کٹی بھی سنائیں گے کیونکہ ان کےنہ صرف یہ کہ گھر جل گئے ہیں بلکہ ان روح تک جلی ہوئی ہے۔

قبائل یہ کہتے ہیں کہ جب زمین ہماری ہے اور ہم ہی اس کے وارث ہیں تو پھر ہماری مرضی کہا ں ہے؟ پولیٹیکل ایجنٹ مختارِکُل کیوں ہے؟ افغانستان میں گذشتہ کئی دہائیوں سے جو عالمی کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کا ایندھن بننے سے ہمیں بچانے کے لیے ریاست نے کیا کردارادا کیا؟ قبائلی علاقوں میں دنیا بھر سے جو لوگ آئے تو وہ چھاتہ بردار تو تھے نہیں کہ براہِ راست قبائلی علاقوں میں نازل ہوئے ہوں، ظاہر ہے کسی نہ کسی سرحد کو پار کرکے ہی وہ لوگ قبائلی علاقوں میں داخل ہوئے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا سرحدوں کی نگرانی بھی ہمارا ہی کام ہے؟

قبائل پاکستانیوں کی نظر میں۔۔۔۔

قبائل پاکستانیوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ کیونکہ ان کی رسائی قبائلی علاقوں تک ہے ہی نہیں۔ نہ خود جاسکتے ہیں اور نہ میڈیا۔ سو مکمل اندھیرا ہے۔ اب ایک صورت بنی ہے کہ قبائلی نوجوان خود پاکستانیوں کے پاس چل کر آئے ہیں۔ اس لیے ہر پاکستانی کو چاہیے کہ ان قبائلی نوجوانوں کے دل کا حال جاننے کےلیے ان کے دھرنے میں پہنچے اور ان کی بات سُنے۔ ان کا مسئلہ صرف نقیب نہیں، بلکہ نقیب تو فقط ایک آئس برگ ہے جس کے نیچے ناانصافی، محرومی اور ادھوری شناخت کے المیے ہیں۔ آپ کو ان کی باتیں تلخ لگیں گی، یہ آپ کو جلی کٹی بھی سنائیں گے کیونکہ ان کےنہ صرف یہ کہ گھر جل گئے ہیں بلکہ ان روح تک جلی ہوئی ہے۔ یہ نوجوان پاکستان کا اثاثہ ہیں اس لیے ہوشیار رہیے کہ کہیں کوئی بدفطرت آپ سے آپ کا یہ اثاثہ چُرا نہ لے۔ ان کے پاس جائیے اور ان کو اپنے پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی، کشمیری اور مہاجر سینے سے لگائیے اور ان کو بتائیے کہ ہم بھی آپ ہی کے طرح دل جلے پاکستانی ہیں۔ ان کو بتائیے کہ آپ اپنی انفرادی حیثیت میں بھلے ایک پنجابی، سندھی، بلوچی،سرائیکی،کشمیری یا مہاجر ہوں مگر فقط یہ بتانے آ ۓہیں کہ مجھے آپ سے کوئی مسئلہ نہیں اور نہ ہی میرے نام پر کسی اور کو آپ سے مسئلہ ہونا چاہیے۔ اپنا دکھ ان کو سنائیں اور ان کا دکھ ان سے سنیں۔جائیے اورمل کراپنے سینوں کی آگ سے وہ روشنی کشید کریں جس سے ظلمت فروشوں کا یہ شیطانی کھیل اپنے انجام کو پہنچے۔ ان شیطانی قوتوں کا کھیل جو پاکستانی کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنا چاہتا ہے۔جائیے اور ان قبائلی نوجوانوں کے دست و بازو بنیں۔ یہ آپ کے مہمان ہیں۔ ان کی میزبانی کیجیے۔ جاکر ان کی خاطر داری کریں۔ یہ آپ کے بھائی ہیں۔ آپ کے بھائی کھلے آسمان تلے راتیں بسر کر رہے ہیں۔ ان کی آواز کو اپنی آواز بنائیں۔ ان کو ان کی مطلوبہ پاکستانی شناخت حاصل کرنے میں ان کی مدد کریں۔ پاکستان ہم سب کا ہے۔ دیر نہ کریں کیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے۔۔۔۔

یہ نوجوان پاکستان کا اثاثہ ہیں اس لیے ہوشیار رہیے کہ کہیں کوئی بدفطرت آپ سے آپ کا یہ اثاثہ چُرا نہ لے۔ ان کے پاس جائیے اور ان کو اپنے پنجابی، سندھی، بلوچی، سرائیکی، کشمیری اور مہاجر سینے سے لگائیے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: