اللہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مار خور: خرم سہیل کا فلم ریویو

0
  • 127
    Shares

پاکستانی سینما میں اینیمیٹیڈ فلموں کا رجحان بالکل تازہ ہے، چند برس پہلے ’’برقعہ ایوینجر‘‘ ٹیلی فلم نمائش کے لیے پیش کی گئی، پھر نمائش کے لیے پیش کی جانے والی فیچر فلموں میں اب تک ’’تین بہادر‘‘ کے دوحصے اور’’ٹک ٹوک‘‘ شامل ہیں، جبکہ دو مزید فلمیں، جن کو مستقبل میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا، ان میں’’نیشن اویکس‘‘ اور’’شیشہ گر‘‘ شامل ہیں۔ تازہ ترین فیچر فلم کا نام ہے ’’اللہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مار خور‘‘ جسے دو فروری سے پورے پاکستان میں نمائش کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔

مرکزی خیال:
پاکستان میں کئی ایسے علاقے ہیں، جہاں غیر قانونی طور سے جانوروں کا شکار کیا جاتا ہے، اس فلم کے ذریعے پیغام دیا گیا ہے، اس طرح شکار کر کے جانوروں کا جانی ومالی نقصان نہ کیا جائے، خاص طور پر فلم میں ’’مار خور‘‘ کے شکار کی ممانعت کومنعکس کیا گیا، جبکہ ایک چھوٹے سے بچے’’اللہ یار‘‘ کا، جانوروں کے ساتھ دلی لگائو دکھایا گیا ہے، جس میں کئی مناظر بہت فطری اور دل کو چھو لینے والے ہیں۔ بچوں کے لیے بنائی گئی اس فلم میں کہیں کہیں الفاظ اور مکالمے مشکل استعمال ہوئے ہیں، اس کا خیال رکھا جانا چاہیے تھا، مگر کہانی مجموعی حیثیت میں متاثر کرتی ہے۔ جنگلی حیات کے ماحول اور جانوروں کی بقا کے لیے تخلیق کی گئی یہ کہانی عمدہ ہے۔

تخلیقی و تکنیکی پہلو:
فلم جیسا کہ ظاہرہے، ایک اینیمیٹیڈ فلم ہے، بین الاقوامی سینما میں اس میڈیم میں بھی فلمیں بنائی جاتی ہیں اور بے حد کامیاب ہوتی ہیں، ہمارے ہاں ابھی شروعات ہے۔ زیر نظر فلم’’اللہ یار اینڈ دی لیجنڈ آف مار خور‘‘مکمل طور پر پاکستان میں بنائی گئی ہے، جدید ٹیکنالوجی اور سافٹ ویئرز سے آراستہ ہے۔ اکثریت اس بات سے واقف ہے کہ اینیمیٹیڈ فلموں کے لیے ہر منظر کا الگ فریم ڈیزائن کیا جاتا ہے، آسان زبان میں سمجھ لیں کہ ڈرائنگ کی ہوئی بہت ساری تصاویر کو جوڑ کر فلم بنائی جاتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ رنگوں کی زبانی کہانی دکھائی اور سنائی جاتی ہے۔ اس کے فلم سازعثمان اقبال، جبکہ ہدایت کار اور کہانی نویس عزیر ظہیر خان ہیں۔ اداکاروں میں، جنہوں نے اس میں اپنی آواز کا جادو جگایا ہے، ان میںانعم زیدی، نتاشہ حمیرہ اعجاز، علی نور، اظفر جعفری، اریب اظہر، حریم فاروق، نادیہ جمیل، ارشد محمود سمیت متعدد شامل ہیں۔ سب نے ہی اپنی آوازکے ذریعے کرداروں میں مہارت سے رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اللہ یار اور ہیرو کے ساتھ ساتھ مار خور مہرو کی آوازیں انتہائی منفرد تاثر چھوڑتی ہیں۔ فلم کے اینیمیٹیڈ مناظر کمال کے ہیں، جس میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات کو دکھایا گیا ہے۔ فلم کے دیگر تکنیکی پہلوئوں میں تدوین، سینما ٹوگرافی، وغیرہ بہت معیاری ہے، جس کی وجہ سے فلم پردے پر رنگوں کی کہکشاں محسوس ہوئی۔ آرٹ ورک کمال کا ہے۔ ٹوڈی میں بھی اس کو بنایا گیا ہے، جس کی وجہ سے اس فلم کی انفرادیت میں مزید اضافہ ہوا۔

بچوں کے لیے پیغامات:
اس فلم کے ذریعے کئی طرح کے پیغامات بچوں کو دیے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر چند ایک نکتے کچھ یوں درج ذیل ہیں کہ۔ ۔ ۔ ۔
۔  استاد کا احترام کرنا چاہیے
۔  جانور بھی انسانوں کی طرح جاندار ہیں، ان کا خیال رکھنا چاہیے
۔  مشکل وقت میں ہمت نہیں ہارنی چاہیے
۔  ظلم کے آگے سر نہیں جھکانا چاہیے
۔  دوسروں کی مدد کرنی چاہیے
۔  انسان ہونے کے ناطے، ماحول دوست بننا چاہیے
۔  کسی کے بارے میں غلط نہیں سوچنا چاہیے

نتیجہ:
پاکستان میں اس میڈیم میں کم مگر چند فلموں میں سے، اب تک کی یہ سب سے معیاری فلم ہے، اس شعبے میں ابھی مزید کام کرنا باقی ہے، مگر بچوں کے لیے یہ ایک صحت مند تفریح کا باعث ہے، اس فلم کو بچوں نے پسند کیا ہے، میں خود اپنے بچوں کے ساتھ یہ فلم دیکھ کر آیا ہوں، انہیں بہت پسند آئی ہے، باکس آفس پر اس فلم کے متوازن نتائج حاصل ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ پانچ سے دس تک کی عمر کے بچوں کو یہ فلم ضرور دیکھنی چاہیے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: