امن از ٹائپنگ …… لالہء صحرائی کا افسانہ

0
  • 239
    Shares

مجھے نہیں پتا کوئی نشہ کیسا ہوتا ہے لیکن رگ و پے میں سرائیت کرتی ہوئی نیند کی خماری ان دنوں میرے محبوب ترین احساسات میں سے ایک تھی۔

سُنبل کے نرم تکیے پر خواب آگیں لمحات کا لطف کشید کرکے نیند کی وادی میں کھو جانا ہی میرا واحد سُرور تھا، ایسے عالم میں پےدرپے آنے والی رین ڈراپ کی نوٹیفکیشنز سے نہ چاہتے ہوئے بھی میرا ہاتھ سیل فون کی طرف بڑھ گیا۔
انبوکس میں کسی انجان کے چند پیغامات میرے منتظر تھے، وہ کچھ اور بھی لکھ رہا تھا، اس کی یہ ایکٹیویٹی میری سکرین پر نمایاں تھی۔

امن از ٹائپنگ……

پیغامات پڑھ کر میری نیند کا غلبہ ایک تجسس کی نذر ہو گیا، اس کی ٹائپنگ نظر انداز کرکے ایکٹیویٹی لاگ چیک کی تو پتا چلا کہ اس نے چند دن پہلے ہی مجھے جوائن کیا ہے، میری چند ایک پوسٹوں پر اس کے لائیک اور کچھ کمنٹس بھی موجود تھے۔

امن جہانزیب۔
اس کی کور پک بھی کسی حد تک آئی کیچنگ تھی۔
“کسی پھول کا انسان بن جانا بہت آسان ہے لیکن پھر اپنا پھول جیسا خوشگوار تاثر برقرار رکھنا انسان کیلئے ایک مشکل ترین مرحلہ بن جاتا ہے”۔

اس کی وال کسی بھی طرح کی روایتی پوسٹنگ سے یکسر خالی تھی البتہ اس نے پھولوں کی بیش بہا تصویریں اپلوڈ کر رکھی تھیں، بیشتر تصاویر کسی اچھے کیمرے سے بنائی گئی تھیں جن کے ساتھ کچھ عجیب و غریب سے کیپشنز بھی لگے ہوئے تھے۔

یہ وادیٔ کونین کا مرغزار ہے، میں یہاں بھی ایکبار پیدا ہو چکا ہوں، یہ وادیٔ جانفزا ہے جہاں ایکبار میں سرخ گلاب کی صورت میں ہویدا ہوا تھا، یہ فیئری میڈوز ہے جہاں وہ پیکرِ گل پہلی بار اگائی گئی تھی، یہ فلک نما کہسار کا عقبی تختہ ہے جہاں دور دور سے ہم دونوں ایکدوسرے کو دیکھ کر لہلہاتے تھے، یہ کچھ اگلی رُتوں کے مرغزار ہیں جہاں ہم ساتھ ساتھ رہے ہیں، یہ میں ہوں ایک کالا گلاب اور یہ وہ ہے میری سرخ و سفید للینئیم۔

یہ فلورنس گارڈن ہے، پھولوں کی دیوی کا ذاتی باغیچہ، جہاں ایک بار اس نے مجھے زرد گلاب اور اسے ٹائیگر لِلی کی صورت میں اگایا تھا، دیوی ہم دونوں پر بہت مہربان تھی، وہ ہمارے اوپر خاص التفات رکھتی تھی، ایکدن دیوی نے کہا تم دونوں کی جوڑی بہت ہی بھلی لگتی ہے، یہ سن کر ایکدم بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹنے جیسی کیفیت پیدا ہوگئی، یوں لگا جیسے یہ موقع مجھے کچھ کہنے کیلئے ہی دیا گیا ہے، تب میں نے ہمت کرکے دیوی سے گلِ سوسن کا ساتھ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مانگ لیا تھا۔

فلورنس گارڈن میں یہ میرا اور گل نرگس کا کلوزاپ بطور خاص آپ کی خوش نظر بصارتوں کیلئے اور عالم رنگ و بو سے میری اور گلِ جیسمین کی یہ آخری تصویر … وغیرہ وغیرہ۔

میں اس کی وال پر بکھری تصویروں میں الجھی ہوئی تھی جب رین ڈراپ نے اگلے میسیج کا عندیہ دیا، پتا نہیں وہ اتنی دیر تک کیا ٹائپ کرتا رہا یا ٹائپ کر کے مٹاتا رہا کہ اس کا آخری میسیج بس اتنا سا ہی تھا، اوکے باقی پھر سہی…

اس کا پہلا میسیج بھی کچھ عجیب سا تھا، دیکھو جی یہ سیاسی تجزیئے یہ ڈائجسٹی کہانیوں کے چربے تمھارے لائق کار نہیں، تمھاری دلجوئی کیلئے، واہ واہ، خوب کہا جی، سچی بات ہے، بہت عمدہ تجزیہ، کیا خوبصورت افسانہ ہے وغیرہ وغیرہ کئی جگہ لکھ تو دیا ہے، مگر میرا ضمیر مطمئن نہیں ہو رہا، تمھیں کچھ ایسا کرنا چاہئے جس سے خوشبو آئے، ایک پھول کو صرف مہکنا چاہئے، دنیا کے ہرکام میں تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہر کام پہ کچھ نہ کچھ اچھا برا سننے کا بار گراں آتا ہے لیکن گلِ تر کو دیوی کی یہ آشیرواد حاصل ہے کہ اس کی مہک ہر الزام سے ماوراء رہتی ہے، مہک آفرینی کے سوا دوسرا کوئی بھی سودا یہاں غیر مُتہّم ہے نہ غیر متنازع… اسلئے بس اپنی خودی سے آگاہ رہو تاکہ تمہاری مہک قابل ستائش رہے۔

اقدار کے بدلنے سے انسانی احساسات بھی بدل جاتے ہیں جو نئے اطوار، نئی اقدار اور نئے رویے پیدا کرتے ہیں، جس کسی کو یہ نیا ماحول قبول نہ ہو اسے کسمپرسی کی چکی میں پسنے کیلئے تیار رہنا چاہئے یا پھر اپنی بقا اور آسودگی کیلئے خود کو نئے ماحول کے مطابق بدل لینا چاہئے

میرا پہلا تاثر یہی تھا کہ مردوں کی طرح یہ بھی شناسائی چاہتا ہوگا، پہلے تصویر پھر میرا فون نمبر مانگے گا، انکار کی صورت میں مجھے مشٹنڈی اور اوباش کہے گا جو مردوں سے دادوتحسین بٹورنے کیلئے الٹے سیدھے ادبی اور سیاسی زائچے گھڑتی ہے لیکن ایسا کچھ نہ ہوا، الٹا وہ شخص رفتہ رفتہ میرے رگ و پے میں اترتا چلا گیا۔

امن از ٹائپنگ…
سکرین پر اس کی ایکٹیویٹی دیکھنا میری کمزوری بن چکا تھا، پروین کا وہ شعر بھی صحیح معنوں میں میرے سامنے اسی کی بدولت آیا تھا۔

‌؎ اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی…

کیسا عجیب لگتا ہے نا جب کوئی گرہ کھولتے ہوئے الجھ جائے مگر زندگی میں ایسا بھی ہوتا ہے، امن بھی ان گرہوں میں سے ایک تھا، ایک ڈسٹنٹ لوو، ایک ان دیکھا پیار، ایک چھپا ہوا راز جو میرے علاوہ کسی کو نہیں پتا، وہ میری خودسری کی نذر ہونے والے رشتوں میں سے ایک تھا۔

گھر میں اگلا نمبر میرا ہی تھا اسلئے ایک دن رشتے کی تلاش شروع ہو گئی، یہ اطلاع پا کر اس نے حسب معمول کچھ لکھنا شروع کیا اور میں انبوکس کی سکرین پر نظریں جمائے بیٹھی رہی۔

امن از ٹائپنگ…
تو…؟
تو کیا ہوا…؟
ایک تو تم گھبراتی بہت ہو…!
اسی لمحے کا تو مجھے انتظار تھا…!
مکینیکل انجینئر ہوں، سرخ وسپید رنگت، سروقد، سمارٹ باڈی، جینز اور کالے چشمے میں تو سپر ہیرو دِکھتا ہوں۔

امن از ٹائپنگ…
اس دنیا میں آکے مجھ پر پہلا راز یہ کھلا تھا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہاں روزی روٹی کا ہے، تمھیں ڈھونڈنا تو کچھ بھی دشوار نہیں تھا، تمہیں پانا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، دیکھو میں نے پہلی فرصت میں تمھیں ڈھونڈ بھی لیا ہے، تم تک پہنچنے میں جو وقت لگا وہ تو بس نان نفقے کے انتظام میں خرچ ہوا، بخدا اس کے علاوہ ایک لمحہ بھی میں نے ضائع نہیں کیا، اگر ایسا کیا ہو تو پھولوں کی دیوی بیشک مجھے کبھی معاف نہ کرے، میں اگر جھوٹ بولوں تو اگلے جنم میں… نہ نہ… اسی جنم میں چاہے تو سزا کے طور پر وہ مجھے کیکٹس بنا ڈالے، کیا تم تصور کر سکتی ہو، کسی گلاب کو اپنی فطرت کے برعکس تھور کا پودا بننا پڑے تو اس پر کیا گزرے گی…؟

دیکھو امن…
تم جیسے امیچؤر لوگوں کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ یہ ادیب بھی کیسی کیسی عجیب باتیں لکھ کے لوگوں کو حقیقت سے گمراہ کر دیتے ہیں، ان کے پیچھے چلو گے تو زندگی میں پرکاری اور طمانیت صرف ایک ورچؤل احساس کے سوا کچھ نہیں رہتی، کتابی اخلاقیات کے حصار میں مقید انسان کو آئے دن ایک تازہ خوراک درکار ہوتی ہے جو ادبی تصورات کے پیدا کردہ اخلاقی برتری کے احساس کو تروتازہ اور قائم و دائم رکھ سکے ورنہ ادب کا پیروکار انسان ایک اصلی خلاء کے بیچوں بیچ الٹا لٹک جاتا ہے اور یہ خلاء بیخودی کی زندگی، کوتاہ نظری اور مادی کمزوریوں سے جنم لیتا ہے۔

امن از ٹائپنگ…
ایسا نہیں ہے، جس بندے سے سرِمُو بھی خار جیسی چبھن ہو اسے پھول کہلانے کا کوئی حق حاصل نہیں، اس کا کردار اس پر واضع ہونا چاہئے، اس کے کانٹے اس کے جسم پر نمایاں طور پر اگ آنے چاہئیں، پھول اور تھور میں بہت فرق ہوتا ہے، یہی فرق ادبی دنیا کے اقدار پرست اور حقیقی دنیا کے مادہ پرستوں کے درمیان واقع ہے، پہلے والے پھول ہیں اور دوسرے تھور کے ٹنڈل… مگر اصلیت کسی کی فوراً عیاں نہیں ہوتی اسلئے تمہیں الٹا دکھائی دیتا ہے۔
مجھے اس کی اگلی انشاء پردازی دیکھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، میں ایک عملی ذہن کی لڑکی تھی اور وہ ایک خوابی دنیا کا مسافر…

سنو امن…
تمھاری تنخواہ صرف پینتالیس ہزار روپے ہے اور تمھارے باقی کے زعم کافور کرنے کیلئے میرے خاندان میں ایسے دو چار سمارٹ انجینئر پہلے سے موجود ہیں جو میرے دعویدار بھی ہیں، زندگی کی سب سے بڑی حقیقت مادی سٹیٹس ہے جو تم ابھی تک حاصل نہیں کر پائے اس لئے مجھے نہیں لگتا تمھاری کوئی امید برآئے گی، پھر ہمارے خیالات کا بُعد بھی ہمیں حقیقی قربت سے ہمکنار نہیں ہونے دے گا۔

امن از ٹائپنگ…
اچھا…! جو ہوگا دیکھا جائے گا گلِ جیسمین، بس تم ان دونوں دائروں کی حقیقت کا صحیح ادراک کرکے ہی کوئی فیصلہ کرنا۔

میں جانتی ہوں امن…
اخلاقی اقدار بے وقعت اور خودساختہ تو ہرگز نہیں ہوتیں، ان کی صورت گری کے پیچھے نظریاتی اساس اور تہذیبی رویوں کی صدیوں پر محیط تپسیا کا ہاتھ ہوتا ہے البتہ مادیت پرست اور انحطاط پذیر معاشروں میں یہ اقدار اجنبیت کا شکار ضرور ہونے لگتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ معدوم بھی ہو جاتی ہیں، اقدار کے بدلنے سے انسانی احساسات بھی بدل جاتے ہیں جو نئے اطوار، نئی اقدار اور نئے رویے پیدا کرتے ہیں، جس کسی کو یہ نیا ماحول قبول نہ ہو اسے کسمپرسی کی چکی میں پسنے کیلئے تیار رہنا چاہئے یا پھر اپنی بقا اور آسودگی کیلئے خود کو نئے ماحول کے مطابق بدل لینا چاہئے، اب فیصلہ تیرا خود تیرے ہاتھ میں ہے، اس خوابوں کی بستی سے باہر نکلو، تازہ ہوا میں لمبی لمبی سانسیں لو اور حقیقی زندگی کے تاروپو سے انسیت پیدا کرو، پھر میں تمہارے لئے کنویسنگ کر سکتی ہوں۔

امن کے بدلنے کی کوئی توقع تو نہیں تھی پھر بھی میں اس کے حق میں کوئی ایسی وجہ تلاش کرنا چاہتی تھی جو باقی دعویداروں پر اسے کوئی برتری دلوا دے، اسلئے میں نے پوچھا، کیا تمھارے ہاں بزنس سرکل میں پارٹیز ہوتی ہیں امن…؟
کاز آئی لو پارٹیز، جیسا ٹی وی پر دکھاتے ہیں، کتنا اچھا لگتا ہے نا جب آئے دن پارٹی کیلئے تیار ہونے کی بھگدڑ مچی ہو، رئیلی آئی لو اٹ، پھر جب رات گئے پارٹی سے واپس آکے ڈریسنگ کے سامنے اورنامنٹس آف لوڈ کرتے ہوئے پارٹی کے ایوینٹس ریکال کئے جائیں، دس پرٹیکیولر نائچز انسٹنکٹ از مائی فینٹسی یار، اٹس سچ این ایکسائیٹنگ نوشن یو نو؟

امن از ٹائپنگ…
ارے نہیں، ابھی کہاں، ابھی تو میں اسسٹنٹ پروڈکشن مینیجر ہوں، باسز کی پارٹیز اور سوشل کلبز میں بس سینئر لوگ ہی جاتے ہیں، کوئی دس سال لگیں گے جب میں ڈی۔ جی۔ ایم یا جی۔ ایم بن جاؤں گا تب ایسے مواقع عام میسر ہوں گے، البتہ گاڑی ایک دو سال میں ضرور مل جائے گی۔
اس مشینی دور میں انسان بھی بعینہٖ ایک مشین بن چکا ہے، جیتنے والا انسان وہ ہوتا ہے جس کی ہارس پاور مشینوں کی طرح دوسرے انسانوں سے زیادہ ہو، اس دوڑ میں میرے امیدوار انجینئرز، ایم۔ بی۔ اےز اور بینکرز کو شکست دینے والا بیوروکریسی کا ایک تازہ پرزہ تھا، اس کے چہرے کا اعتماد اس کے روشن مستقبل کا استعارہ تھا، اس کی طاقت کا خمار اس کی گردن کے تناؤ سے عیاں تھا، اس کی کم گوئی سے لگتا تھا کچھ منوانے کیلئے وہ محض اشارہ کر دینا ہی کافی سمجھتا ہے۔
بیوروکریٹ سے اس کا خاندان اور تنخواہ نہیں پوچھی جاتی، گندمی رنگت میں اس کی پرسنیلٹی اپنی جگہ اچھی تھی لیکن اس معاملے میں وہ دیگر امیدواروں کا عشرعشیر بھی نہیں تھا، اس کے باوجود وہی سب سے بہتر انتخاب لگ رہا تھا۔

امن از ٹائپنگ…
مجھے حیرت ہے تم نے ہاں کیسے کردی، شائد تمھیں پتا نہیں یہ ایک مصنوعی دنیا ہے، جذبات سے عاری، مال و زر اور ہوس کے پجاری، یہاں سب کچھ مادیت پرستی کی نظر ہو چکا ہے، اس مصنوعی دنیا میں تم اپنا قدم نہ ہی رکھو تو بہتر ہے، ایک اصلی جیتی جاگتی دنیا کو تمھاری ضرورت کہیں زیادہ ہے، یہاں تم ایک پھول ہو، زندگی کی روح ہو اور وہاں محض ایک مصنوعی مسکراہٹ یا خوشبو سے خالی ایک رنگین گلدستہ جس کی احتیاج صرف ایک پارٹی میں شو پیس جیسی ہوتی ہے۔

امن کی بات سے ایک لمحے کو کئی خدشات ابھرے تھے لیکن میرا اپنا بھی ایک ویژن تھا، ادبی احساسات میرے اندر بھی موجود تھے مگر حماقت کی حد تک نہیں۔
میں جانتی تھی مصنوعی اقدار کے پیدا کردہ رویوں میں خودغرضی اور احساسات کے مصنوعی ہونے میں کچھ کلام نہیں لیکن جہانِ نو میں قدامت پرست بھی عجیب گاؤدی قسم کی مخلوق ہی نظر آتے ہیں، تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں یہ طبقہ کچھ قابل رحم، کچھ قابل ترس سا دکھائی دیتا ہے۔
جہان تازہ میں جگہ بنانے والے طبقات قدامت کے ایسے مجاوروں کو کم وقعت اور احمق کے سوا کچھ نہیں گردانتے، یہی سوچ میری ڈیسژن میکنگ تھاٹ تھی، امن بھی ان مجاوروں میں سے ایک تھا جو ماضی کے مزاروں کی جاروب کشی کو اعلیٰ اقدار کا نام دیتے نہیں تھکتے۔

میں جانتی تھی مصنوعی اقدار کے پیدا کردہ رویوں میں خودغرضی اور احساسات کے مصنوعی ہونے میں کچھ کلام نہیں لیکن جہانِ نو میں قدامت پرست بھی عجیب گاؤدی قسم کی مخلوق ہی نظر آتے ہیں، تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں یہ طبقہ کچھ قابل رحم، کچھ قابل ترس سا دکھائی دیتا ہے۔

امن از ٹائپنگ…
دیکھو سوسن بیبز…
یہ دونوں دائرے نئے نہیں…
یہ ازل سے ایسے ہی موجود ہیں…

خدا کا قانون انصاف پر مبنی ہے، ہر دائرے کا اپنا دکھ ہے، ہر دائرے کا اپنا مقدر ہے، انسان ہر وہ دکھ ہنسی خوشی جھیل لیتا ہے جس سے عزت نفس مجروح نہ ہو، ترقی ہر دائرے میں ہوتی ہے البتہ اس دائرے کا اصول ہے، سہج پکے سو میٹھا۔

امن از ٹائپنگ…
جہاں ہتھیلی پر سرسوں جمتی ہے وہاں دیگر قسم کے کرب کے ساتھ عزت نفس بھی رگید دی جاتی ہے، پھولوں کو وہاں بے رحمی سے مسل دیا جاتا ہے، تم نازک پرتوں والی کلی اس بے رحم اور خودپرست ماحول میں خوش نہیں رہ سکتی، مجھے اس وقت سے خوف آتا ہے جب تمہاری قدروقیمت تمہاری ذات کی بجائے صرف دوسرے کی ضروت کی محتاج ہو گی، یاد رکھو جنس پرستوں کے بازار میں ہر نئی جنس کے سامنے پرانی جنس اپنی قدر کھو بیٹھتی ہے۔

امن از ٹائپنگ…
ہم احمقوں کے دائرے میں پرانے دوستوں کی قدر بڑھتی جاتی ہے، اور روشن دنیا میں قدر محض مادی ضرورت کیساتھ مشروط رہتی ہے۔

کاش امن…
تم مادیت کی اہمیت کو سمجھ سکتے، اس دور میں صرف وہی انسان ڈیپریشئیٹ ہونے سے بچ رہتا ہے جو رنگ برنگے پوائنٹ آف سیلز کی سلپس پر ایک اچٹی سی نگاہ ڈال کے بے دریغ اپنا کریڈٹ کارڈ چارج کروانے کی سکت رکھتا ہو ورنہ یاس و حسرت زندگی کا ہر رنگ کھا جاتی ہے۔

اخلاقی طفل تسلیوں کی بجائے اب ہر چیز انسان کی ضرورت ہے، ہر ضرورت کی ایک قیمت مقرر ہے اور ہر قیمت ادا کر سکنے والا ہی آسودہ حال رہ سکتا ہے، جو اس سچائی کو ماننے سے پہلو تہی کرے، وہ پھول ہو یا خار، بہت جلد حالات کے ہاتھوں روند دیا جاتا ہے۔

امن از ٹائپنگ…
انسان کی ضرورت وہ نہیں جو کارپوریٹ معاشرہ طے کرے گا بلکہ انسان کی ضرورت صرف وہ ہے جو ضمیر کیلئے آسودگی کا باعث ہو، جہاں انسان اپنے ضمیر کی حد سے تجاوز کرتا ہے وہاں غیب سے نادیدہ اولے پڑنے شروع ہو جاتے ہیں جو انسان کے ضمیر کا بھرکس نکال کے رکھ دیتے ہیں، اس کے بعد ذہنی دیوالیہ پن کا مارا ایک ایسا خودساختہ اعلیٰ طبقہ وجود میں آتا ہے جس کے اندر سب اپنے اپنے مطلب کیلئے ایک دوسرے کو پوجتے ہیں لیکن حقیقت میں یہ سب ایک ایسی فصل کی طرح ہوتے ہیں جسے اولوں کی بارش نے گلا سڑا دیا ہو۔

امن از ٹائپنگ…
میری تھیوری بلکل درست ہے، انسان پہلے بندر نہیں بلکہ پھول تھا، یہ پھول جس کسی کے آنگن میں بھی کھلتا ہے اس میں بہار آجاتی ہے، اس پھول کو لے کر انسان کا زاویۂ نگاہ بدل جاتا ہے، زندگی کے اطوار بدل جاتے ہیں، دو متضاد خیال ابدان کی روحیں بھی اس ایک پھول میں سما جاتی ہیں، جو کبھی اپنے لئے نہیں جاگ سکتے وہ اس پھول کو مضطرب دیکھ کر رات بھر اس کیلئے جاگتے ہیں، اس موقع پر ہی انسان پھول نظر آتا ہے اور اس کا آنگن کسی گلشن جیسا لگتا ہے۔

نہیں امن…
ایسا نہیں ہے، ان خودساختہ ویلیوز کے حصار میں انسان خود کو صرف اسوقت تک محفوظ سمجھتا ہے جب تک نشہ آور اخلاقی کہانیاں مسلسل اس کو ٹرانس میں لئے رکھیں، دوسری صورت میں زندگی کے حقائق ایک ہی پٹخنی میں ساری تہذیب کا کچومر نکال کے عزت نفس سمیت انسان کو سڑک کے کنارے پھینک دیتے ہیں اور جسے تم مصنوعی دنیا کہتے ہو اس کا پرزہ بننے سے بچتے بچتے انسان اصلی دنیا کا تماشا بن جاتا ہے۔

امن از ٹائپنگ…
یہ تمھارا مقسوم ہرگز نہیں، پھولوں کی دیوی نے تمہارا ورود صرف میری خاطر اس دنیا میں کیا تھا، تمہاری دیکھ رکھ صرف ایک کالا گلاب ہی کر سکتا ہے، بھٹکنا چاہو تو ضرور جاؤ مگر یاد رکھو یہ مادی دنیا پھولوں کی ایک حد تک اچھی قیمت لگاتی ہے پھر انہیں مسل کے پھینک دیتی ہے۔

خودساختہ ویلیوز کے حصار میں انسان خود کو صرف اسوقت تک محفوظ سمجھتا ہے جب تک نشہ آور اخلاقی کہانیاں مسلسل اس کو ٹرانس میں لئے رکھیں، دوسری صورت میں زندگی کے حقائق ایک ہی پٹخنی میں ساری تہذیب کا کچومر نکال کے عزت نفس سمیت انسان کو سڑک کے کنارے پھینک دیتے ہیں اور جسے تم مصنوعی دنیا کہتے ہو اس کا پرزہ بننے سے بچتے بچتے انسان اصلی دنیا کا تماشا بن جاتا ہے۔

ناٹ ایگریڈ امن…
کچھ گارینٹی نہیں ہوتی کہ کس دائرے میں سچی خوشیاں ملیں گی البتہ ظاہری حالات میں ایک بہتر آپشن ہی قابل انتخاب ہونا چاہئے، سو آئی ایم سوری، ہم اچھے دوست ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

امن کے ساتھ مباحثہ کبھی الفت کی سرشاری دے جاتا اور کبھی جیتنے کی خوشی، اس کے جوابی پیغام کا ایسا انتظار رہنے لگا تھا کہ ٹائپنگ کا عرصہ جب طویل ہو جاتا تو جان پہ بن جاتی تھی، پھر اس کا بھرا پرا میسیج دیکھ کر خود بخود جسٹیفائی ہو جاتا کہ اتنا لمبا پیغام ٹائپ کرنے میں کچھ وقت تو لگتا ہی ہے لیکن کبھی کبھار ٹائپنگ نظر آنے کے بعد جب خاموشی چھا جاتی تو پھر اک نئی ادھیڑبُن شروع ہو جاتی کہ نہ جانے اس نے کیا لکھا تھا، نہ جانے اس نے کسی اور کو بھیج دیا ہو، پھر اس کا میسیج آتا کہ امی آگئی تھیں، بیٹری ڈیڈ ہو گئی تھی، دوست آگیا، بجلی چلی گئی، یا انٹرنیٹ بند ہوگیا تھا۔

محبت کی ہر دنیا میں بدگمانی کی یہ چھوٹی چھوٹی گرہیں سب کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں جو اپنی طرف واپس آتے ہوئے قدموں کی چاپ سن کر بدحواسی کے عالم میں تحلیل ہو جایا کرتی ہیں اور کبھی ایک مسکراہٹ کی خفیف سی ضرب سے پاش پاش ہو جاتی ہیں، کسی ٹھوس وجہ کے ظاہر ہونے تک شک کی ہر گرہ اصلی گرہ نہیں ہوتی، بس پانی پر بلبلے جیسی کوئی چیز ہوتی ہے۔

مرد خواہ جتنے بھی لمبے راستے سے عورت کی طرف آئے اسے جسم کے سوا کچھ نہیں چاہئے ہوتا لیکن یہ مرد بھی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جنہیں صرف جسم نوچنا ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو جسم کو پھول سمجھتے ہیں، انہیں صرف جسم درکار نہیں ہوتا بلکہ اس پھول میں انہیں ایک جیتی جاگتی خوشبو جیسی روح بھی چاہئے ہوتی ہے جو ان سے میٹھا میٹھا کلام کرے اور سنے، عہد و پیمان کرے اور سنے یا کسی لمحے والہانہ پن کے ساتھ اس کے گردا گرد لپٹ جائے، انہیں عورت اس پھول کی طرح چاہئے جو قریب آ کے مہکنے لگے، اس کی خوشبو ان کے محسوسات کو اپنی گرفت میں لے لے۔

امن جہانزیب دوسری طرز کے مردوں میں سے تھا لیکن ظاہری اصولوں کے تحت فیصلہ اس کے حق میں نہ ہو سکا بلکہ کئی اور دیوانوں پر بھی اس دن یاس کی اوس پڑ گئی جب میری منگنی اور رخصتی کے دن کا نقارہ بج گیا۔
مہندی مایوں، شادی، ہنی مون پھر دعوتیں، پارٹیز، دل کھول کر شاپنگ اور صاحب کا سوشل سرکل، یقین نہیں آتا تھا کہ ایک ہی سال میں اتنا کچھ دیکھ لیا ہے جس کا کبھی تصور بھی محال تھا۔

محبت کی ہر دنیا میں بدگمانی کی یہ چھوٹی چھوٹی گرہیں سب کے ساتھ ساتھ چلتی ہیں جو اپنی طرف واپس آتے ہوئے قدموں کی چاپ سن کر بدحواسی کے عالم میں تحلیل ہو جایا کرتی ہیں اور کبھی ایک مسکراہٹ کی خفیف سی ضرب سے پاش پاش ہو جاتی ہیں، کسی ٹھوس وجہ کے ظاہر ہونے تک شک کی ہر گرہ اصلی گرہ نہیں ہوتی، بس پانی پر بلبلے جیسی کوئی چیز ہوتی ہے۔

ایک بڑے صاحب گریڈ انیس میں ترقی پا کر کسی دوسرے شہر میں جا رہے تھے، اس دن پہلی بار مجھے کچھ حیرت سے پالا پڑا جب الوداعی پارٹی میں ان کو وش کرنے پر انہوں نے میرا ہاتھ چومنا چاہا، بیشک میں اس پارٹی میں ایک نوخیز کلی کی طرح اٹریکٹیو تھی مگر مجھے چھونا ان کا حق نہیں تھا، ان کی اس حرکت سے زہریلے سانپ کے کاٹنے جیسا احساس ہوا تھا۔

اس دن کا میرا ردعمل دیکھ کر ایک بیگم صاحبہ نے ایک دن سمجھانے کی کوشش کی کہ سوشل لائف کے بھی کچھ ایٹیکیٹس ہوتے ہیں، ماتحتوں کی بیگمات سے شوخیاں کرنا ایک عام سی بات ہے اس کا برا نہیں مناتے، بلکہ شوہروں کے مفاد کیلئے بیویوں کا کسی کو بھائی بنا لینا، کسی کو انکل اور درپردہ دوستیاں رکھنا بھی ایک نارمل سوشل انسٹنکٹ ہے۔

بیوی کی آنکھیں جب تک بند رہیں تب تک اسے اپنے ارد گرد کا سب ماحول پاکیزہ ہی نظر آتا ہے لیکن جب کوئی شک کی چبھن اس کی آنکھیں کھول دے تو پھر بہت سے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں، ایسے مطلب پرست ماحول میں بعض اوقات تو اپنا وجود بھی مچھلی کے چارے سے زیادہ نہیں لگتا، یہ بہت گھناؤنی ذہنیت اور بہت تلخ فیلنگ آشکار ہوئی تھی، یہ سب کچھ میرے اردگرد عام تھا مگر مجھے اس کا احساس تک نہ تھا، بلکہ پہلے پہل شوہر کا جنسی جنون جسے میں جوش جوانی سمجھتی رہی، تب رہ رہ کے خیال آتا کہ وہ بھی حیوانیت سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔

اپنے سوشل سرکل اور ازدواجی حیوانیت سے میری عدم رغبت دیکھ کر صاحب کو اب مجھ میں کوئی خاص دلچسپی باقی نہیں رہی تھی، تین بچوں کے ہونے تک وہ کافی حد تک مجھ سے عاری ہو چکا تھا لیکن ایسے عقلمند افسروں میں ایک خوبی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنا گھر کبھی خراب نہیں کرتے البتہ اپنی توجہ کا مرکز کال گرلز میں منتقل کر لیتے ہیں، لاکھوں روپے کی کرپشن ہضم کرنے کیلئے انہیں اپنے سینئیرز کی روحانی خوشی کا ساتھ بھی چاہئے ہوتا ہے خاص طور پہ جب ان بڑوں کی بیویاں بھی ازدواجی معاملات میں ان کے حسب منشاء مفعول اور سوشل سرکل میں شمع محفل بننے سے کتراتی ہوں۔

بیگم صاحبہ نے ایکدن سمجھانے کی کوشش کی کہ سوشل لائف کے بھی کچھ ایٹیکیٹس ہوتے ہیں، ماتحتوں کی بیگمات سے شوخیاں کرنا ایک عام سی بات ہے اس کا برا نہیں مناتے، بلکہ شوہروں کے مفاد کیلئے بیویوں کا کسی کو بھائی بنا لینا، کسی کو انکل اور درپردہ دوستیاں رکھنا بھی ایک نارمل سوشل انسٹنکٹ ہے۔

خوشحال مردوں کی ازدواجی خوشی صرف جنسی حیوانیت کے گرد ہی گھومتی ہے جبکہ گھریلو بیویاں جنس سے زیادہ شوہر سے اپنائیت کی تمنا رکھتی ہیں، جو لذت مرد کو ایک حیوانی شور شرابے سے بھرپور جنسی عمل میں حاصل ہوتی ہے ہمیں اس سے کہیں زیادہ طمانیت محض اپنائیت کیساتھ شوہر کے گلے لگ کے حاصل ہو جاتی ہے، ایک پیار بھرا بوسہ ہزار قسموں وعدوں کا نعم البدل بن جاتا ہے جو ایک بیوی کے دل کو بہت دنوں تک مسحور رکھ سکتا ہے مگر یہ شوہر نام کی بلا اس معصومیت کو بیوی کی سرد مہری سمجھ کر اپنی رجولیت کا زور اور کرپشن کا انہضام بگ باس کے ساتھ مل کر وحشاؤں کے جھرمٹ میں کسی ریسٹ ہاؤس میں جا کے پورا کرنے لگتے ہیں اور تنہا لیٹی بیوی اپنے معصوم سے ازدواجی تصورات کو لٹتا ہوا دیکھنے پر مجبور رہتی ہے بلکہ کبھی کبھی خود کو احمق بھی سمجھنے لگتی ہے جو زندگی کے اس رخ سے واقف تھی نہ کبھی اس کیلئے تیار ہی تھی۔

امن جہانزیب کے ساتھ ہونے والے مباحث اب بھی تنہائی کے لمحات میں میرے ذہن کے پردے پر آجاتے ہیں۔

نہیں امن…
تصویر دینے پر مجھے کوئی اعتراض نہیں مگر ایک وہم آڑے آجاتا ہے، مجھے اپنی تصویر کا اپمان بھی برداشت نہیں، پہلے وعدہ کرو تم میری تصویر سے کوئی حظ نہیں اٹھاؤ گے۔

امن از ٹائپنگ…
اجی نہیں نہیں، بلکل بھی نہیں، قصہ دراصل یوں ہے کہ سوسن کو گلاب کی قلم نہیں لگ سکتی، پیوندکاری نباتات میں ہو تو سکتی ہے مگر یہ ایک جبر ہے اور محبت قائل کرنے کا نام ہے جبر کا نہیں، قربت کسی کو پالینے کا نام ہے ہتھیانے کا نہیں۔

تمھیں یاد نہیں، جب پچیس ہزار سال قبل اس دنیا کے نئے ماحول میں آکے تم اداس ہوتی تو میں باد صبا کو حکم دیا کرتا تھا کہ خراماں خراماں گل سوسن کی طرف چلو، پھر اس کے دوش پر سوار میری خوشبوئیں تم تک پہنچ جاتیں اور تم اس لق و دق ویرانے میں کسی ہمدم کے ہونے پر خوش ہو جایا کرتی تھی۔

محبت بس ایسی ہی ہوتی ہے، مرد کی خواہش کو ہوس کہنا اور عورت کی خواہش کو پیاس کہنا بدتمیزی کے سوا کچھ بھی نہیں، محبت ایکدوسرے کے وجود سے اپنے حصے کی تمازت اور سانسوں کا لمس چننے، سرگوشیاں گننے اور جسمانی حرارت کشید کرکے اپنے اپنے من میں سمونے کا نام ہے، اتنی محبت تو تمہاری تصویر سے بھی ہوگی کہ اسے سینے سے لگایا جا سکے اور اس پر تمہیں کوئی اعتراض بھی نہیں ہونا چاہئے۔

سوری امن…
پھر میں تصویر نہیں دے رہی، بس پروفائل پک پر ہی گزارہ کرو، مجھے پہلے ہی اندازہ تھا کہ مردوں کی عورت کے ساتھ محبت صرف جنسی کشش کے سوا کچھ نہیں ہوتی، یہ صرف ہوس کا سفر ہے، میں نے ایسی بہت سی کہانیاں پڑھ رکھی ہیں جن میں عورتوں کے ساتھ عموماً ایسا ہی ہوتا ہے، اسلئے سوری، ویری سوری۔

امن از ٹائپنگ…
شائد تم نے کوئی حیوانیت کے قصے پڑھ رکھے ہیں، میرا اور تمھارا جوہر خوشبو ہے، میرا جنسی تلذذ دو معطر وجودوں کے ایک ہو جانے کا نام ہے، کہیں دو خوشبؤوں کے ملنے سے اگر ماحول بدبودار ہو رہا ہو تو پھر یقیناً یہ ملاپ ان خوشبؤوں کے درمیان نہیں جو انسانی محبت کا جوہر ہیں، اے مرغزاروں کی ملکہ، حسن اور عشق کے بے بدل تعلقات پر اپنے لایعنی تصورات تھوپنے سے، توبہ کرلو، توبہ کا دروازہ ہنوز کھلا ہے، جنسی کشش دو اجسام کی خوشبؤوں کے باہم اتصال سے زیادہ کچھ نہیں اور اس سے کم اگر کچھ ہے تو یقیناً وہ اسفل ہے۔

امن از ٹائپنگ… دیکھ کر مجھے احساس ہو جاتا کہ وہ اب اس پھول کو مہکائے گا، ایسا کئی بار ہو چکا تھا، امن از ٹائپنگ… ان لمحات کا نقارہ تھا جو بارہا سرشاری کی کیفیت سے دو چار کرچکے تھے، امن از ٹائپنگ… اس بادِصبا کا نام تھا جو پھول کی ڈالی سے اٹھکیلیاں کرنے کیلئے وارد ہوتی تھی، امن از ٹائپنگ… اس چاندنی رات کا استعارہ تھا جو کلیوں کو مہکنے پر مجبور کر دیتی ہے، دھیرے دھیرے مجھے یقین آگیا تھا کہ عورت واقعی ایک پھول ہے جس میں پنہاں خوشبؤوں کو ایک خوش ظرف مرد ہی جگا سکتا ہے اور وہی عورت کے وجود کا صحیح حقدار بھی ہے۔

امن کی باتوں سے لگتا تھا واقعی وہ کسی اور دنیا میں رہتا ہے، کبھی لگتا کہ وہ نیم غفیل ہے جو بچگانہ عمر کے کسی حصے میں ٹھہر گیا ہے یا پھر کسی ادبی نشے کا شکار ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی میں اس کی باتوں میں آگئی تھی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ انسان کی آفرینش قدرت کا ایک مجسم معجزہ ہے پھر بھی امن کی ان تمام تر معصومانہ سی توجیحات پر یقین کر بیٹھی تھی کہ ہم انسان نہیں پھول ہیں، لیکن پھر ازدواجی زندگی کی ترشی نے یہ سب حسین سے تصورات تتر بتر کر کے رکھ دیئے۔

یہ امن کا آخری میسیج تھا،
مجھے یقین ہے کہ تم ایک انسان پر ایک بھیڑیئے کو ترجیح دے رہی ہو، تمھاری اس ہٹ دھرمی سے مجھ جیسا شیردل دوبارہ ایک نباتاتی بُوٹی بن کر رہ جائے گا اور تم بھی مادیت کے کیچڑ میں کھلے ہوئے کنول سے زیادہ کچھ نہ بن پاؤ گی اسلئے کہ ہوس پرستوں کا ساتھ صرف ہوس پرست ہی دے سکتے ہیں، گل نرگس کا خود پرست ہونا تو اچنبے کی بات نہیں مگر تم چاہو بھی تو کبھی ہوس پرست نہیں بن سکتی اسلئے اس نگری میں جانے سے باز رہو۔

امن سچ کہتا تھا، ان مباحث میں اس نے جو کچھ بھی کہا، وقت کے ساتھ ساتھ وہ حقیقت بن کے میرے سامنے آتا رہا۔

پچھلے باس کی الوداعی دعوت کے موقع پر میں ڈائننگ ٹیبل کا جائزہ لینے گئی تو پردے کے اس پار وہ صاحب ان کے دوستوں کو سمجھا رہے تھے، تم نے اس عمر میں بھی میری مردانگی دیکھی ہے نا، بس ایسا مینٹین کرو اپنے آپ کو، اب نینا کو ہی دیکھ لو وہ کیسی دیوانی ہے میری، بغیر پیسوں کے بھی آجاتی ہے، عورت پر سواری ایسے کرو کہ تمہاری ہر چوٹ اس کے دل پہ جا کے لگے، پھر مردانگی کا ایسا سکہ بیٹھتا ہے کہ نینا جیسی چھٹی ہوئی رن بھی دیوانی ہو جاتی ہے۔

قبل اس کے کہ ملازم طعام لگانے آجاتا میں جھٹ سے لاؤنج میں واپس آگئی جہاں پچیس لاکھ کے ڈائمنڈ سیٹ سے مزین ان کی بیگم دیگر خواتین کے درمیان اپنی ٹرن۔ آؤٹ پہ ایسی نازاں و فرحاں بیٹھی تھی جیسے وہ اس بیسویں گریڈ میں ترقی پانے والے شوہر کی بلاشرکت غیرے مالک ہے اور اسے سواری کی بجائے کوئی معزز عورت ہونے کا مقام حاصل ہے۔

امن سچ ہی کہتا تھا، ایک ہوس پرست مرد کیساتھ ایک ہوس پرست عورت ہی سکھی رہ سکتی ہے، یہ ادبی لوگ بھی بہت عجیب ہوتے ہیں، زندگی کے ہر معاملے کا نچوڑ نکال کے ادبی شاستروں میں بھر جاتے ہیں اور امن جیسے لوگ انہی کی بدولت اپنی عمر سے کہیں آگے کی سوچتے اور کہتے ہیں لیکن یہ باتیں ہم مادیت پرستوں کی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہیں۔

بیگم ریاض کو اپنے میاں کی ہر حرکت کا بخوبی علم تھا لیکن وہ سب کچھ نظر انداز کرنے کا اسے اچھا خاصا بھاری بجٹ ملتا تھا، اتمام حجت کیلئے وہ بھی اپنے میاں کو جھوٹے منہ سے کہہ دیتی کہ دیکھو جی آپ کو بس ایک حد تک چھوٹ دے رکھی ہے، زیادہ پر پرزے مت نکالنا، ایسے ہی مشورے وہ مجھے بھی کئی بار دے چکی تھی کہ شوہر کو کتنی ڈھیل دینی ہے اور بدلے میں کتنا مال اینٹھنا ہے۔

مسز ریاض اپنی حقیقت پسندی کے تحت کہتی تھی کہ بیوی گھر کی مرغی ہوتی ہے اس کا وقت بے وقت کڑکڑ کرتے رہنا مرد کو باغی بنا دیتا ہے، بیوی کبھی بھی ٹینشن فری پارٹنر نہیں بن سکتی، مرد کو حسب منشاء عیاشی تو صرف باہر کی عورت ہی کراسکتی ہے، جو مرد ہماری عیش و عشرت کیلئے دن رات ایک کئے رکھتا ہے وہ اپنی مرضی کی کچھ عیش کر بھی لے گا تو اس میں حرج ہی کیا ہے، میاں کو کچھ اسپیس تو دینی ہی پڑتی ہے، آفٹر آل آئیں گے تو ہمارے ہی پاس، ہمیں چھوڑ کے اور کہاں چلے جائیں گے، جسٹ چِل اینڈ اینجوائے دا فائیو اسٹار لائف یو ہیو جسٹ بیکاز آف یور ہسبینڈ، بس تم ٹینشن نہیں لیا کرو بے بی، ٹینشن ایکسپیڈائیٹ دی ایجنگ پراسس یو نو…؟ دیکھو میرے چہرے پر کوئی ایجنگ کے آثار نہیں، ماشاءاللہ ابھی تک ایک بھی رنکل نہیں آنے دی، جسٹ کیپ دا بجٹ ہائیر ٹو مینٹین یوورسیلف فار یور پریسٹیج …!

رات کا پچھلا پہر ہے، صاحب اپنے نئے باس کے ساتھ کچھ نوخیز کلیاں لیکر ویک اینڈ منانے کینال ریسٹ ہاؤس میں گئے ہیں، ابھی ان کے سونے کا وقت نہیں ہوا، یہ تقریباً اذان فجر سے کچھ دیر پہلے سوئیں گے، ویاگرہ کا جنسی جنون اور شراب کی چسکیوں کا خمار ان کے رگ و پے میں آخری پہر تک مچلتا رہے گا، تب تک شراب اور ہیجان میں مبتلا یہ لوگ بیہودہ جملے بازیوں اور بے حیائی میں مگن رہیں گے۔

عورت کی دنیا بہت مختصر سی ہوتی ہے، یہ شوہر سے شروع ہو کر شوہر پر ہی ختم ہو جاتی ہے، مگر شوہر اسے مجازی خدا کی شکل میں کسی مچان پر کھڑا ملتا ہے یا پھر جنسی بھیڑیئے کی صورت میں اسے نوچتا ہوا ملتا ہے، امن کی طرح مونس جاں بن کر بہت کم ملتا ہے، اس پر ستم یہ کہ شوہر جب ہاتھ سے نکل جائے تو گویا زندگی بے رنگ سی ہو جاتی ہے، ایسی عورت کو اپنی نیم جاں ہستی تن تنہا خود ہی گھسیٹنا پڑتی ہے۔

کم ظرف کے علاوہ کوئی کسی کا سہارا تلاش نہیں کرتی، بیہودہ عورت کے علاوہ کوئی بیوفائی نہیں کرتی اور لچر کے سوا کوئی لچرپن کا ساتھ بھی نہیں دے سکتی، ان اداس رتوں میں بیوفائی کیلئے کوئی سہارا لینا اور ازدواجی لچر پن کا ساتھ دینا، دونوں ہی میرے لئے ناممکن ہیں، مصنوعی مسکراہٹ کی جگہ نفرت کی چنگاری پھونکنا بھی میرے لئے کارِعبث ہے کہ اپنی تپش سے یہ تین معصوم سے پھولوں کا سائباں کملا کے رکھ دے گی۔

مجھے کچھ کچھ یاد ہے میں نے ایک ڈیبیٹ میں امن سے کہا تھا، اخلاقی اقدار بے وقعت تو نہیں ہوتیں البتہ انحطاط پذیر معاشروں میں یہ اجنبیت کا شکار ضرور ہونے لگتی ہیں، اقدار کے بدلنے سے احساسات بھی بدل جاتے ہیں جو نئے اطوار اور نئے رویے پیدا کرتے ہیں، جس کسی کو یہ نیا ماحول قبول نہ ہو اسے کسمپرسی کی چکی میں پسنے کیلئے تیار رہنا چاہئے یا پھر اپنی بقا کیلئے خود کو نئے ماحول کے مطابق بدل لینا چاہئے۔

مسز ریاض کی طرح میں نے بھی خود کو بروقت تبدیل کر لیا تھا، ابھی تک میرا چہرہ رنکل فری ہے، ڈائمنڈ کا سیٹ مجھ پر بہت سوٹ کرتا ہے، پارٹیز میں چھوٹی موٹی بیگمات میرا میجسٹک ٹرن آؤٹ حسرت سے دیکھتی ہیں، پروبیشنرز کی نئی نویلی بیگمات کے سامنے جب میرے دو کروڑ مالیت کے ڈائمنڈ سیٹس کا تذکرہ ہوتا ہے تو حیرت سے ان کا منہ کھلے کا کھلا رہ جاتا ہے، میرے ساتھ گارڈز چلتے ہیں، باوردی شوفر پچیس سو سی۔ سی گاڑی کا دروازہ کھول کے سلام کرتا ہے، سماجی تقریبات میں چئیرپرسن ہونے کا اعزاز ملتا ہے، بیگمات اور افسران بھی کمالِ ادب کیساتھ کسی وینیو کی آخری حد تک سی۔ آف کرکے جاتے ہیں، اپنی ظاہری حیثیت کی بدولت میں ساری دنیا سے جیت جاتی ہوں یہاں تک کہ صاحب بھی میری اعلیٰ ظرفی کے سامنے ہار جاتے ہیں۔

میں جو اب تک کسی سے نہیں ہاری، امن جہانزیب کو سوچ کر اس ایک کمبخت کے سامنے ہار جاتی ہوں، نہ جانے کیسے مگر اس دنیا کے باطن کو وہ مجھ سے بہتر جانتا تھا، وہ ظاہری طمطراق سے مرعوب ہونے والا نہیں، وہ مجھے ایک بیوفا کلی گردان سکتا ہے یا کیچڑ میں پڑا کنول، وہ مجھے ہر حال میں قابل ترس سمجھتا ہوگا، یہ سوچ کر جی چاہتا ہے کاش ایکبار اس کی مردہ آئیڈی میں جان پیدا ہو جائے تاکہ میں اس کے ساتھ ایک آخری مباحثہ کر سکوں اور حتمی طور پر اس سے جیت جاؤں۔

امن کی آئیڈی آج بھی ایک خاموش تماشائی کی طرح نظر آتی ہے، معلوم نہیں وہ خود کہاں ہے، وہ اپنا کیمرہ لئے فیئری میڈوز سے گلِ نرگس، سوسن، للینئیم، ڈیزی، ڈیفوڈلز، کلیوں اور گلابوں کے کلکس لیتا ہے یا نہیں، پتا نہیں نظریات کی بے رحمی سے وہ خود ایک نباتاتی بُوٹی بن کے رہ گیا ہے یا وہی ہشاش بشاش انسان اس میں ابھی تک باقی ہے، کسی لوئر درجے پہ اٹک کے تنگدستی کی زندگی جی رہا ہے یا کسی بزنس سنڈیکیٹ کا گروپ ایگزیکٹیو بن کے لگژری لائف سے ہمکنار ہو چکا ہے۔

امن جہانزیب میری سوچ سے بھی زیادہ جہاندیدہ تھا، وہ دریافت کرنا اور کروانا دونوں ہی رخ جانتا تھا، دریافت کرنیوالا ہی اپنی دریافت کا صحیح پہریدار اور حقیقی پاسبان ہوتا ہے، لیکن یہ طبقہ حاصل کرنے یا چھوڑ دینے میں صرف عزت نفس کی حفاظت پر یقین رکھتا ہے اور میں اس طبقے میں ہوں جو ہر قیمت پر اچک لینے اور قابو رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔

تم پانسہ پھینکنا خوب جانتے تھے مگر بازی پلٹنے کی کوشش تم نے کبھی نہ کی حالانکہ تم بازی پلٹنے سے بھی عاری نہ تھے مگر حاصل کرنے اور اچک لینے کے درمیان تم عزت نفس کے چکر میں کنفیوژڈ کھڑے رہ گئے

امن سے جیتنا کوئی آسان کام نہیں، وہ صرف اپنے آدرش کی ناکامی سے ہار سکتا ہے یا میرے ایک شکوے سے ہار جائے گا، امن جہانزیب تم پانسہ پھینکنا خوب جانتے تھے مگر بازی پلٹنے کی کوشش تم نے کبھی نہ کی حالانکہ تم بازی پلٹنے سے بھی عاری نہ تھے مگر حاصل کرنے اور اچک لینے کے درمیان تم عزت نفس کے چکر میں کنفیوژڈ کھڑے رہ گئے، تمہارے کنکریٹ نظریے کے باوجود تمہاری اس کمزوری نے مجھے لاکھوں لمحوں کے اذیت ناک سمندر میں بے یارومددگار پھینک دیا تھا، زندگی کا رخ بدلتے ہی یہی ایک گلہ تم سے پیدا ہوا تھا اور آج برسوں بعد بھی یہ گلہ قائم ہے، میرے کرب کا صحیح ادراک بھی صرف تمہیں ہو سکتا ہے اور میرے غضب کے آلاؤ کو بھی صرف تم ہی سہہ سکتے ہو۔

سائیکو تھیراپی کی بجائے رگ و پے میں سرائیت کرتی ہوئی وہی نیند کی خماری مجھے واپس چاہئے جو ان دنوں میرے محبوب ترین احساسات میں سے ایک تھی، اس کیلئے مجھے امن جہانزیب سے بہر صورت جیتنا ہے، کاش ایک آخری معرکے کیلئے کوئی رین ڈراپ نوٹیفکیشن اچانک مجھے یہ اطلاع پہنچا دے کہ امن از ٹائپنگ………

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: