زندہ کتابیں : عابد آفریدی

0
  • 80
    Shares

میرے کمرے میں ایک دروازہ اور لاتعداد کھڑکیاں ہے۔ یہ تمام کھڑکیاں اپنی ایک خاص رومانیت رکھتی ہیں۔ ان سے ہوا تو نہیں آتی مگر روشنی ضرور آتی جس کی کرنیں دل کے ہر گوشے، دماغ کے ہر رکونے کو روشن کردیتی ہیں۔ یہ سرور اور وارفتگی کے ایسے حیرت انگیز دریچے ہیں جن کے منظر ایک دوسرے یکسر جدا ہیں۔

ان کے پار میرا ونڈر لینڈ آباد ہے۔ فنٹسی کا ایک جہاں بستا ہے۔ رومانیت و خیال کی ایسی جیتی جاگتی دنیا آباد ہے جہاں ہر کردار زندہ کرداروں سے بھی زیادہ حقیقی ہے، میں ہر روز کبھی دن میں جب آس پاس سے اکتا جاتا ہوں اور کبھی رات میں جب نیند روٹھ جاتی ہے تو اپنے اس پراسرار کمرے کا رخ کرتا ہوں، کسی ایک کھڑکی کے راستے کسی دوسری دنیا میں نکل جاتا ہوں۔

ایک دن ایک روزن سے پار اترا تو سیدھا قلعہ احمد نگر کے قید خانے میں اتر گیا۔ دیکھا تو لازاول قلم کا تاجدار بادشاہ ابولکلام آزاد اپنے شاہکار قلم میں روشنائی بھر کر اسے پچکاری دے رہا تھا۔ اس عظیم انسان نے ہمیں بنا کسی اعتراض و خفگی کے ساتھ بٹھایا۔ ہر تھوڑی دیر کے بعد چائے کے فنجان وہ اپنے ہاتھ سے تیار کرتا اور ہم مل کر پیتے۔ عقل فہم کے کیسے کیسے راز بتائے، دماغ پہ چھائی سیاہ تہوں کو دور کرنے کے کیا کیا نسخے سمجھائے۔ جن کی دریافت وقت مودجود کے حکما کے ہاں ممکن نہیں، جتنا غبار خاطر تھا، اس ناچیز کے سامنے رکھ دیا گیا۔ یہ پوچھے بغیر کے تم عام سے انسان کسی گمنام بستی کے نامعلوم ساکن ہوتے کون ہو جسے میں یہ سب بتا رہا ہوں۔

کبھی تو جیسے ان کھڑکیوں کے پار کوئی مجھے آواز دے رہا ہو۔ اور جب میں جھانک کر دیکھتا ہوں تو ناراض ہوتے ہوئے مجھ سے کہے چلو یار دیر کردی تم نے۔ یوں ہی ایک دن ہم نے ایک آواز سنی جو جانی پہنچانی سی تھی۔ بچپن میں کہیں سنی تھی۔ جھانک کر دیکھا تو مستنصر حسین تارڑ میرے منتظر تھے۔ کہا کب سے نکلے ہے تیری تلاش میں۔ میں ان کے ساتھ ہوا، ہم مل کر دیس ہوئے پردیس ہوئے، خانہ بگوشی کے عالم میں کبھی پیار کے آخری شہر سے گزرے، تو کبھی انگلیوں سے بہتے سندھ کے کنارے پڑی سرخ ”راکھ” کو مسلا، چترال کی داستان سنائی، ایران کے دشتوں میں دشت نوردی کرتے ہوئے شیر دریا کے قصے سنے۔ یہ سیر یہ تفریح سب کچھ مفت تھا نہ کوئی ٹکٹ نہ پاسپورٹ نہ کوئی سرحدی کاروائی۔

کبھی کسی دریچے کے پار ماضی کے ڈھیر سارے مزاروں کے بیچ کسی مزار میں بیٹھے سبط حسن بابل اور ا بتدائے انسانی کے نقوش و نشان ملاتے نظر آتا ہے۔ مجھے ان لوگوں کا پتہ دیتا ہے جنہوں تاریخ میں پہلی بار آوازوں کو لفظوں کے قالب میں ڈالنا سکھایا تھا۔

کہیں مختار مسعود لوح ایام کی ہنگامہ خیزیوں کے بلکل بیچوں بیچ ایران کی بدلتی تقدیر، بادشاہوں کی زوال پزیر جڑتی تصویر ہمیں اپنے کاندھوں پر بیٹھا کر دکھانے لے جاتا ہے۔ کہیں نسیم حجازی تلوار اور گھوڑے کی لگام پکڑ کر کشور کشائی کرواتا ہے۔ تلوار سے کٹتے بدن اور ان کی تکلیف ہمارے جسم پر محسوس کرواتا ہے۔۔

کتاب ہی وہ کھڑکی ہے۔ جو کھل جائے تو ایک نئی دنیا کھلتی ہے۔ تخیل کی بنجر زمین میں علم کا ایک نیا باغ کھلتا ہے۔ سوچ و شعور کے نئے پھول کھلنے لگتے ہیں۔

وہ دل و ہ دماغ وہ گھر کتنے خالی و کورے ہیں۔ جن میں کتاب کے لیے کیوں جگہ نہیں۔

کتاب ایک بہترین دوست ہی نہیں وہ جادوئی راستہ بھی ہے جس پر چل کر ہم ایک نہیں کئی زندگیاں جیتے ہیں۔ فلموں میں دیکھا کہ لوگ ٹائم مشین کے ذریعے ماضی میں چلے جاتے تھے۔ میری بھی یہ خواہش تھی کوئی مشین ہو جو مجھے ماضی میں لے جائے۔ اور آج یہ خواہش پوری ہوچکی ہے۔ کیونکہ کتاب وہ ٹائم مشین ہے جو انسان کو صرف ماضی ہی نہیں مستقبل کی سیر بھی کرواتی ہے۔۔ انسان ماضی میں جاسکتا ہے۔ یقین نہ ائے تو ”جوش ملیح ابادی” کی یادوں کی بارات پڑھ لیں۔ مشتاق احمد یوسفی کی زرگزشت کا مطالعہ کرلیں، اگر لکھنو کے کھیتوں سے اٹھتی بھڑاس اور فائلوں پر پڑی گرد اور اس کی خوشبو کو محسوس نہ کیا تو مجرم ہوں۔

کراچی کے جس علاقے میں ہم پلے بڑے ہیں وہاں اگر آج میں ایک مشہور گینگسٹر نہ بنا، کسی پولیس مقابلے نہیں مارا گیا تو اس کی صرف ایک ہی وجہ ہے، کتاب۔

ہم نے کتاب کو نہیں کتاب نے ہمیں تھامے رکھا۔ قدم پر راہنمائی کی۔ کتاب میری محسن ہے میری نگران میری راہنما ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: