ناگفتنی ۔ گفتند: محمد خان قلندر

0
  • 62
    Shares

ملک عزیز میں روزانہ کی بنیاد پر وقوع پذیر ہوتے واقعات اور امن عامہ کی مسلسل بگڑتی صورت حال سے سیاسی افراتفری اور انتشار کی وجہ سے پیدا ہونے والی مایوسی اور ژولیت ہر سوچنے والا دماغ اور محسوس کرنے والا دل ان سے متاثر ہے۔ مستقبل کے بارے میں خوف اور اندیشے لاحق ہیں۔ اس لئے اس ماحول کو طاری کرنے اور اسے مزید گھمبیر بنانے والے عناصر اور عوامل کا جاننا ان کو سمجھنا اور ان کا تجزیہ کرنا ضروری ہے کہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی اجتماعی کاوش بارے سوچا جا سکے۔ بحیثیت مجموعی ہم بطور ریاست داخلی خارجی مالیاتی دفاعی سیکیورٹی میں ناکام ہونے کی وجہ سے شدید عدم تحفظ کا شکار کیوں اور کیسے ہو رہے ہیں۔ ہمارے تمام ریاستی ادارے کھلے عام باہم دست وگریباں کیوں ہیں۔ ہر ادارہ اپنی ناکامی کا اعتراف کئے بغیر اس کی ذمہ داری دوسروں پہ ڈال کے کیا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے؟

ان امور کا جائزہ لینے کے لئے سب سے پہلے سب سے بڑے اہم ترین اور بنیادی ستون پارلیمنٹ کو دیکھتے ہیں جس کا کام بطور مقننہ قانون سازی ہے اور اسی میں سے انتظامیہ کا سربراہ وزیراعظم منتخب ہوتا ہے اور کابینہ چُنی جاتی ہے۔ موجودہ دور میں مقننہ کا دامن قانون سازی سے بالکل خالی ہے۔ اہم ترین قانون سازی سیاسی جماعتوں کے قانون میں وہ ترمیم ہے جس کے ذریعے سپریم کورٹ کے فیصلے میں الیکشن لڑنے سے نااہل قرار دیئے گئے نواز شریف کو دوبارہ مسلم لیگ نواز گروپ کا صدر بننے کا اہل بنانا تھا۔ اس کے علاوہ حکومت کا پیش کردہ سالانہ بجٹ من و عن پاس کرنے اور تنخواہ و مراعات میں اضافے کے بل منظور کرنے کے قومی مسائل مفاد عامہ اور عوام کو درپیش مشکلات کے حل کرنے بارے کوئی قانون سازی یا ترمیم کرنے کی نہ حکومتی پیشرفت ہوئی اور نہ اپوزیشن کی کوئی کاوش سامنے آئی۔

انتظامی امور سلطنت بھی فرمان شاہی کی طرز پے چلائے جا رہے ہیں۔ کابینہ اور انتظامی کمیٹیوں کے اجلاس پہلے تو بلائے نہی جاتے اور آئینی ضرورت کو پورا کرنے کو اگر منعقد کئے جاتے ہیں تو ان میں وزیراعظم نواز شریف جب تھے تب بھی اور اب بھی ان کی منشا کے مطابق فیصلوں کی محض توثیق کی جاتی ہے۔ عین اسی طرح صوبائی سطح پر بھی حکمران پارٹی کے سربراہان کی مرضی اور منظوری سے جملہ حکومتی امور چلائے جا رہے ہیں، ہر جگہ وزرا، مشیر اور دیگر عہدے دار تنخواہ اور سرکاری مراعات لینے کے تو حقدار ہیں لیکن اپنی وزارت میں فیصلہ سازی کے نہیں۔ جس طرح مقننہ اور انتظامیہ باہم گڈ مڈ ہیں اور عملی طور پر مقننہ انتظامیہ کے مکمل زیر اثر ہے اسی طرح ریاست کے تیسرے ستون عدلیہ کا بھی انتظامیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ رہا ہے۔ ماضی میں ڈسٹرکٹ اور ڈویژن کے لیول کے انتظامی افسران کے پاس عدالتی اختیارات بھی ہوتے تھے۔ ماضی قریب میں عدلیہ اور انتظامیہ کو علیحدہ کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے لیکن عدلیہ تاحال ایگزیکٹیو کی مرہون منت ہی ہے۔ ماضی میں تو اعلیٰ عدالتوں نے ہر حاکم کی معاونت اور اطاعت کی روایت برقرار رکھی جنرل مشرف کے دور کے اواخر میں پہلی بار عدلیہ اور انتظامیہ کا براہ راست تصادم ہوا جس کے ضمنی نتیجے کے طور پے عدالتیں کافی حد تک آزاد اور خود مختار ہوئیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں عدالتی ایکٹیوزم اپنے عروج پر تھا۔ موجودہ نُون لیگی دور کے ابتدائی چار سالوں میں دوبارہ حکمران جماعت عدالتی تعاون سے بہرہ مند رہی۔ اسی وجہ سے نواز شریف پنامہ کیس پارلیمان میں حل کرنے کی بجائے عدالت میں لے جانے پر مصر ہوئے۔ یہ کیس اگر ملک کے اندر ہی محدود ہوتا تو شائد صورت حال حسب سابق ہوتی لیکن اس کی بین الاقوامی نوعیت، سعودیہ قطر عمارات اور برطانیہ میں ہونے والے معاملات کی وجہ سے اور عوامی پریشر کی موجودگی کے ساتھ مبینہ کرپشن کے الزامات کے جوابات دینے پہ شریف خاندان کا عدم تعاون کے نتیجے میں اور یوسف رضا گیلانی کی برترفی کی نظیر کے مطابق عدالت نے نواز شریف کو بھی نااہل قرار دے دیا۔

نواز شریف اور اس کی انتظامیہ کے لئے یہ فیصلہ ناقابل قبول تھا۔ بظاہر وزارت عظمی پے ایک کٹھ پتلی کو بٹھا کے اور ایوان اقتدار چھوڑنے کے باوجود حکومتی امور پر نواز شریف کی گرفت بدستور ہے۔ آئین کی کتاب میں افواج انتظامیہ کے سربراہ کے ماتحت وزارت دفاع کا ایک ادارہ ہے لیکن عملی طور پر ملک کا سب سے طاقتور آرگن ہے، اس عدم توازن کی وجہ سے ہر وزیر اعظم افواج کو دیگر اداروں کی طرح اپنے زیر دست رکھنے کا خواہشمند ہوتا ہے جس سے پیدا ہونے والی چشمک کے نتیجے میں چار بار مارشل لا لگا کر مضبوط جمہوری روایات نہ ہونے اور حکمرانی کے آمرانہ سٹائل کی وجہ سے عوام بھی تھوڑے عرصے بعد حاکموں سے جان خلاصی کے لئے فوج کی طرف دیکھنے لگتی ہے بظاہر موجودہ فوجی قیادت براہ راست ایکشن میں دلچسپی نہی رکھتی لیکن ریاستی امور میں ملک کی اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی امن و امان کی ذمہ دار ہونے اور دفاعی اداروں کے نظم و انتظام کے لئے یہ انتظامیہ کو کھل کھیلنے کی اجازت بھی نہیں دے سکتے، اس لئے باہمی تعلقات پر ہمیشہ دباؤ رہتا ہے۔

اس سارے منظر نامے میں سب سے زیادہ فعال کردار اب ایک غیر ریاستی ادارے میڈیا کا ہے، جس نے عملی طور پر ان ریاستی اداروں کو یرغمال بنا لیا ہے۔ تمام ادارے اپنی کارکردگی اپنے عملی کاموں سے دکھانے کی بجائے اسے میڈیا پہ مشتہر کر کے اسے ثابت کرنے کے محتاج ہیں اور میڈیا کوئی رفاعی ادارہ بھی نہیں یہ تو نفع کمانے کا دھندہ ہے۔ اتنے پیچیدہ مسائل میں حکومت چلانا اور ان مسائل کو حل کرنا لازمی طور پر پارلیمنٹ اور سویلین حکومت کی ذمہ داری ہے اور ہمارے سامنے اگلی حکومت کے سربراہ بننے کے لئے متوقع امیدوار نواز شریف یا شہباز شریف یا مریم صفدر!! عمران خان یا عمران خان یا عمران خان۔ کسی اور صورت میں بلاول بھٹو زرداری یا مولانا فضل الرحمان!!

اب یہ ہستیاں کس حد تک ملک کی قیادت کر سکتی ہیں اور کتنی اپنی ذات اور ذاتی مفاد کی اسیر ہو سکتی ہیں؟ یہ سوال عوام کو سمجھنا ہے۔ یہ یاد رکھتے ہوئے کہ ہمارے ملک میں وسائل کی کمی نہیں یہ سارے مسائل ان سب اداروں کی بد انتظامی، نااہلی، بد دیانتی، مفاد پرستی، اقرباپروری کی وجہ سے ہیں اور سیاست دولت کمانے کا نہیں عوام کی ان کی ضرورت کے مطابق، اپنی مرضی سے نہیں خدمت کرنے کا نام ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: