ڈاکٹرمبارک علی: مطالعاتی اور علمی زندگی — آخری اور تیسرا حصہ

0
  • 180
    Shares

اس مضمون کا پچھلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

علمی سفر کی ابتدا تو ہے، مگر اس کی کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ یہ ایک لامتناہی سلسلہ ہے نہ ختم ہونے والا۔ کہتے ہیں کہ البیرونی کے آخری لمحات میں اس کا ایک عالم دوست اس سے ملنے آیا۔ البیرونی نے اس کے سامنے ایک مسئلہ رکھا اور کہا کہ وہ اب تک اس کو سمجھ نہیں سکا ہے، اس لیے اس کا ذہن پریشان ہے۔ اس عالم دوست نے اس کی وضاحت کی جب وہ گھر سے نکلا او ابھی گلی ہی میں تھا کہ البیرونی کے گھر سے رونے کی آوازیں آئیں۔ معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اس کی وفات ہو گئی ہے۔ اس پر اس عالم نے کہا، خدا مغفرت کرے، یہ آخری وقت تک علم کی جستجو میں رہا۔

اب جب میں زندگی کے اس مقام تک پہنچنے کے بعد اپنے علمی سفر کے بارے میں سوچتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ سفر کس قدر کٹھن اور کس قدر مشکل، پرپیچ راہوں سے گزرتا ہوا یہاں تک لایا۔ حقیقت کی جستجو، بار بار ایک حقیقت سامنے آئی، اس سے انکار کیا، دوسری کی جانب جانا پڑا۔ پتہ نہیں کہ میں سچائی کو تلاش کر پایا یا نہیں۔ ٹراٹسکی نے اپنی آپ بیتی میں لکھا ہے کہ انقلاب کے بعد جب وہ اپنے باپ سے ملنے گیا اور انقلاب کے بارے میں بتایا تو اس کے باپ نے کہا چلو اب تمہاری سچائی کو بھی دیکھ لیں گے۔ انسان کسی نہ کسی سچائی کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہ لوگ جو کسی ایک سچائی کو پاکر مطمئن ہو جاتے ہیں اور تلاش بند کر دیتے ہیں، وہ سکون کی حالت میں ہوتے ہیں۔ ورنہ جستجو کا جذبہ ذہن کو پریشان کرتا رہتا ہے۔

وہ لوگ بھی ہوتے ہیں کہ جو زندگی بھر علم کے حصول میں مصروف رہتے ہیں۔ مگر وہ اس علم سے کسی کو فیض یاب نہیں کرتے اور یہ سارا علم اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اس لیے اگر علم کو حاصل کیا جائے تو اس میں دوسروں کو شریک کرنا بھی ضروری ہے۔ ورنہ علم کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔

اپنے اس علمی سفر میں اگر میں شعر و شاعری کا تذکرہ نہیں کروں تو زیادتی ہو گی، اور نوجوانوں کی طرح میں بھی شعر و شاعری سے دل چسپی رکھتا تھا۔ اردو کے کلاسیکل شعرا چونکہ کورس کا ایک حصہ ہوا کرتے تھے اس لیے میں نے میر، سودا، ناسخ، انیس، انشاء، پنڈت دیا پرشاد وغیرہ کے منتخب کلام کو پڑھا، پھر ذوق، مومن اور غالب آئے۔ نوجوانی کے اس دور میں اقبال سے بڑا متاثر تھا، ان کا شکوہ جواب شکوہ تقریباً زبانی یاد تھا۔ ان کے گھن گرج کے اشعار دل کو گرماتے تھے۔ اس وقت مشاعروں کا بڑا رواج تھا، تعلیمی اداروں کے علاوہ لوگوں کے گھروں پر مشاعرے ہوتے تھے۔ ان کے علاوہ ہر سال آل انڈیا پاکستان مشاعرہ ہوتا تھا۔

شاعری کا تعلق جذبات سے ہوتا ہے شاید اس لیے کہا جاتا ہے کہ معاشرے جب ترقی کی طرف جاتے ہیں تو شاعری سے آگے بڑھ کر نثر کی طرف جاتے ہیں۔ نثر کسی تہذیب کے بالغ ہونے کی علامت ہے۔

غالب تو ہر ایک کوہی پسند ہے اس میں کوئی شک نہیں اور ’’میر‘‘ کے کلام میں تو ایسی بات ملتی ہے کہ ذہن پر ایک عرصہ تک اس کا تاثر قائم رہتا ہے۔ میں جدید شاعری کچھ زیادہ نہیں پڑھتا کیوں کہ میراخیال ہے کہ شاعری کا تعلق جذبات سے ہوتا ہے شاید اس لیے کہا جاتا ہے کہ معاشرے جب ترقی کی طرف جاتے ہیں تو شاعری سے آگے بڑھ کر نثر کی طرف جاتے ہیں کیوں کہ نثرکے اندر نظم وضبط کے ساتھ بات کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ نثر کسی تہذیب کے بالغ ہونے کی علامت ہے۔ مذہب اور تہذیب میں شاعری اولین طور پر ہوتی ہے کیوں کہ اس کا زبانی روایات پر دارو مدار ہوتا ہے جہاں پڑھنے لکھنے کا رواج کم ہوتا ہے وہاں شاعری کے ذریعے لوگ نیا پیغام دیتے ہیں اور شاعری لفظوں کی خوب صورت موسیقیت اور اپنی صوتی دل کشی کے ذریعے ہرخاص و عام کو یاد ہو جاتی ہے۔ اس طرح اس کی اہمیت زیادہ ہو جاتی ہے اور میرے خیال میں علم انسان اور تہذیب ان سب کے لیے آپ شاعری میں اظہار نہیں کرسکتے اس کے لیے آپ کو نثر کا سہارا لینا پڑتا ہے اور یہی تہذیب کی ترقی کی علامت ہے۔

جب میں انٹر کا طالب علم تھا، یعنی 1959میں تو سٹی کالج، جہاں میں پڑھا تھا وہاں ایک ’’یادگار مشاعرہ‘‘ کا اہتمام ہوا۔ شاید یہ وہی کتاب ہے جو فرحت اللہ بیگ نے لکھی ہے، یا کوئی اور تحریر۔ اس میں میر سے لے کر غالب تک تمام شعرا تھے۔ میں نے اس مشاعرہ میں مصحفی کا کردار ادا کیا۔ غالب کا کردار فلمی دنیا کے مشہور اداکار محمد علی نے کیا تھا۔ اس مشاعرہ کی تیاری ریڈیو پاکستان کے ایک پروڈیوسر تھے جنھیں لوگ بھائی جان کہتے تھے۔ انھوں نے خوب ریہرسل کرائی تھی کہ کس طرح شاعروں کے ہر شعر میں، سبحان اللہ، واہ واہ، یا مکرر کہنا چاہیے۔ اس میں میک اپ کے لیے لاہور سے کسی کو بلایا گیا تھا۔ اس نے ہم سب کو بدل کر رکھ دیا، منہ پر داڑھی، پگڑی اور لباس چغہ یا لبادہ۔ مجھے یاد ہے کہ جب والد صاحب اس کمرے میں آئے جہاں ہم میک اپ کرا کے کھڑے تھے تو وہ مجھے نہیں پہچان سکے۔ چونکہ ابھی میں نے پگڑی نہیں باندھی تھی اس لیے وہ میرے بالوں سے پہچان سکے۔

ہوا یہ کہ جب ہم اسٹیج پر پہنچے اور مشاعرہ شروع ہوا تو ہم لوگ سارے ڈائیلاگ بھول گئے، مگر ہر شعر پر سبحان اللہ، واہ واہ، مکرر کہہ کر لوگوں پر ظاہر نہیں ہونے دیا۔ میں جرات کے قریب تھا، چونکہ وہ نابینا تھے اس لیے میں نے ان سے ہر شاعر کا تعارف کرانا شروع کر دیا۔ حضرات شمع میر صاحب کے آگے ہے، یا اب شمع سودا کے سامنے ہے، بھائی جان کا کہنا تھا کہ پہلے تو وہ پریشان ہوئے کہ ساری محنت اکارت جا رہی ہے، مگر جب مشاعرہ اپنے جوبن پر پہنچا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ اس مشاعرہ کی شہرت ہوئی تو اس وقت کے گورنر مغربی پاکستان اختر حسین نے فرمائش کی کہ اسے ان کے لیے دوبارہ کیا جائے، لہٰذا یہ دوبارہ ہوا اور کامیاب رہا۔ مجھے مصحفی کی وہ غزل تو یاد نہیں رہی کہ جو میں نے اس مشاعرے میں پڑھی تھی، مگر اس کا مقطع اب تک یاد ہے۔

مصحفی، گوشہ غزلت کو سمجھ تخت شہی
کیا کرے گا تو عبث تخت سلیماں لے کر

لیکن پھر وقت کے ساتھ شاعری سے دل چسپی کم ہوتی چلی گئی، اور مرزا غالب اور میر کے علاوہ کسی کے اشعار بھی یاد نہیں۔ اب مشاعروں کا رواج بھی نہیں رہا، لیکن اچھے شعرا گر سننے کو مل جائیں گے۔ شاعروں کی تعداد ہمارے ہاں اب بھی بہت ہے مگر شعر فہمی کی کمی ہوتی چلی جا رہی ہے۔

میں جرمن زبان میں مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ آپ یو ں سمجھ لیں کہ ایک عرصہ تک جرمن زبان ہی میری دوسری زبان تھی اسی طرح دوسری زبان فارسی ہے کیوں کہ عہد وسطیٰ کے تمام ماخذ فارسی میں ہیں، اور ہمارے زمانے ہی سکول میں پڑھائی جاتی تھی۔ عربی بھی پڑھی، لیکن بقدر ضرورت، لیکن فارسی مجھے اچھی آتی ہے، انگریزی میں لکھ بھی لیتا ہوں لیکن میری زیادہ تر کتابیں اردو میں ہیں، کیوں کہ میرا مقصد یہ تھا کہ عام لوگوں تک تاریخ پہنچے۔ فارسی کی چیزیں میں نے ترجمہ بھی کی ہیں جدید فارسی سے ایک اچھا افسانہ تھا جو شاہ کے زمانے میں لکھا گیا تھا ایک رائٹر تھا صمد بہرنگی اور اس کاایک افسانہ تھا ’’ماہی سیاہ چلو‘‘ پرچم کے نا م سے اُس کاایک رسالہ نکلتا تھا۔ اُس میں اس نے بتایا ہے کہ علامتی انداز میں کہ انقلاب اگرلانا چاہیے توکس طرح لانا چاہیے اور ہوا یہ کہ وہ ایک سکول ٹیچر تھا اُس کو اٹھا کرلے گئے اور بعد میں پتا نہیں چلا کہ کیا ہوا، اسی طرح عربی میں بھی ترجمے کیے تھے خاص طور پر افسانے بہت اچھے ہیں جن میں ان کی جدوجہد کی عکاسی کی گئی ہے۔ فلسطینیوں کے افسانوں کے بھی ترجمے کیے تھے یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں جدید عربی پڑھ رہا تھا۔

میرے نزدیک جوبہت زیادہ متاثر کرنے والاادب ہے وہ ہندوستان میں دلت لوگو ں کا ہے۔ ان کا ادب بہت متاثرکن ہے پھرمیں اس سے اتنامتاثر ہواکہ میں نے اس پر کتاب لکھی ’’اچھوت لوگوں کاادب‘‘

فارسی میں کافی لوگ جدید لکھنے والوں میں شامل ہیں مثلاً صمد بہرنگی اور صادق گنجوئی ہیں۔ ان کے علاوہ میرے نزدیک جوبہت زیادہ متاثر کرنے والا ادب ہے وہ ہندوستان میں دلت لوگو ں کا ہے۔ ہندوستان میں نیچی ذات کے لوگوں کو دلت کہتے ہیں، ان کا ادب بہت متاثرکن ہے پھرمیں اس سے اتنا متاثر ہواکہ میں نے اس پر کتاب لکھی ’’اچھوت لوگوں کاادب‘‘ اُن کی جوشاعری تھی، اس کاترجمہ ہمارے دوست رضا علی عابدی نے کیا۔ وہ کتاب چھپ چکی ہے اُس کے دوتین ایڈیشن آچکے ہیں اُن کی شاعری میں بڑا گداز اور رسیلاپن ہے کیونکہ وہ لوگ صدیوں سے ظلم کاشکار ہیں تواب جاکے اُن کوجب اظہار کاذریعہ ملا ہے تو بڑے ہی موثرانداز میں اپنے جذبات کااظہار کرتے ہیں۔

میں نے کسی زمانے میں فلسفہ تاریخ پڑھنا شروع کیا، جیسا کہ ابن خلدون کی مقدمہ ابن خلدون وغیرہ، چنانچہ میں نے ان کی تحریروں سے بہت کچھ سیکھا ہے، آج کل جو تاریخ میں جو بہت اچھے ہیں اُن میں ایک نام ہائوس بام ہے۔ یہ ویسے تومشرقی یورپ کے تھے لیکن اب انگلینڈ میں رہتے ہیں یا ایک اور نام ای پی ٹامسن یہ لوگ جو ہیں یہ ترقی پسند نقطہ نظر سے تاریخ کوب یان کرتے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں کافی بڑی تعداد ہے جو تاریخ کو ایک نئے ڈھنگ سے بیان کر رہی ہے۔ ایک کتاب جدید تاریخ ہے میں نے اس کتاب کا نہایت باریک بینی اور دقیہ رسی سے مطالعہ کیا ہے، اس کے اندر اتر کر اس کو ڈوب کر سمجھا ہے۔ پھر اسے اپنے عہد کے لوگوں تک ترجمے کی صورت میں منظر عام پر لانے کی کوشش کی تاکہ جو ہمارے اردو پڑھنے والے ہیں اُن کو معلوم ہو کہ تاریخ کا مضمون کیسے پڑھا جاتاہے۔ دوسرا یہ کہ فرانس میں پہلی جنگ کے بعد مورخین کا ایک گروہ تھا ان میں زیادہ تر کلچر پر لکھتے ہیں اُن کے اندر جو بہت مشہور مورخ ہے اس کانام بہ ڈول ہے اُس کی کچھ چیزیں ترجمہ کی ہیں.

اخبارات میں میری شروع سے ہی عادت ہے ڈان اخبار پڑھنے کی۔ ادبی سائل دنیا زاد آصف فرخی نکالتے ہیں وہ باقاعدگی سے دیکھتا ہوں۔ بدقسمتی سے ہمارے جو کالم نگار باقاعدہ لکھتے ہیں وہ تو سب ہی بور تھے ایک کالم نگار ’’مجید لاہوری‘‘ تھے ان کے بارے میں ایک اُن کے دوست نے کہا ہے کہ میں نے کبھی انہیں پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا ہمیشہ اُن کو لکھتے ہوئے دیکھا ہے اسی طرح انگریزی میں روبینہ سہگل بہت اچھا لکھتی ہے۔ ویسے بھی وہ بہت اچھی سکالر ہیں ان کے کالم پڑھتا ہوں۔

باقی زندگی کے لیے اگر مجھے موقع ملے تو میں ٹالسٹائی کا ناول war and peace رکھوں گا اس کے ساتھ غالب کے فارسی، اردو دیوان کیوں کہ اُن کاایک ایک شعربندہ پڑھتا رہتا ہے اورغور کرتا رہتا۔

مزاج میں مشتاق یوسفی کی تحریریں بہت اچھی ہوتی ہیں میں نے جوانی میں شفیق الرحمان کوبھی پڑھا۔ بہت پسند تھے اُس وقت تووہ سب لوگ ہی بہت اچھے لگے لیکن اب مشتاق یوسفی ہی زیادہ پسند ہیں۔

تاریخ ہند میں ایک سے ایک بڑھ کر مورخ ہے۔ بہت ہی پڑھے لکھے ہیں انھوں نے پوری تاریخ کو بدل کر رکھ دیا ہے اُس کے نقطہ نظر نے تاریخ کے بارے میں لوگوں کی رائے کوبدل دیا ہے نئے لکھاری ہیں۔ ایک کتاب آئی تھی ’’مغل تاریخ‘‘ اس کامیں نے Review بھی کیا، اس طرح منظر عالم ہیں جو آج کل شگاگو یونی ورسٹی میں ہیں ابھی نوجوان ہیں لیکن بہت اچھا کام کررہے ہیں تاریخ پر عرفان حبیب اور علی گڑھ کے تو عبد وسطی کی تاریخ میں۔

پاکستان میں جدید ہسٹری میں کوئی قابل ذکر فرد نہیں ہے۔ میرے خیال میں جو آخری Historian تھے وہ ریاض الاسلام تھے۔ شیخ اکرام صاحب بہت ہی اچھے مورخ ہیں یعنی یہ کہ ان کا کام بنیادی ماخذ اور حوالے کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک مسلمہ امر ہے کہ وہ بہت ہی روایتی ہیں۔ شیخ صاحب چونکہ حکومت میں رہے اس لیے ان کے اندر کا حقیقی مورخ ابھر نہیں سکا۔

فلسفہ تاریخ میں ابن خلدون بہت ہی زبردست ہے، عجیب بات یہ ہے کہ ابن خلدون کو مسلمانوں نے بہت اہمیت نہیں ہے۔ ابن خلدون 15ویں صدی کا ہے لیکن جوکچھ اُس نے لکھا اُس کاکوئی اثرہمیں مسلم سوسائٹی میں نظر نہیں آتا،دل چسپ بات یہ ہے کہ ابن خلدون تقریباً بالکل تاریخ ہی میں گم ہوگیا تھا پہلی مرتبہ جب اس کے بارے میں پتہ چلا ہے تووہ عثمانی سلطنت کے آخری دور تھا اٹھارویں یا انیسویں صدی جواُن کے زوال کادور ہے تواُس وقت کسی نے یہ کہاکہ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ سلطنتیں زوال پذیر کیوں ہوتی ہیں توپھر کسی نے کہا کہ ابن خلدو ن کوپڑھاجائے۔ اُس کے بعد یہ یورپ کے اندر مقبول ہوا اوراس پر زیادہ کام کیا گیا۔

ہمارے ہاں تاریخ جب لکھنی شروع کی گئی تویہ عباسی خاندان سے شروع ہوئی، ابن اسحاق کی پہلی کتاب ہے جواُس نے سیرت النبیؐ پہ لکھی۔ اسلامی تاریخ کافی حدتک ہمارے عقیدے سے ملتی ہے میرے خیال میں جب تاریخ اورعقیدہ مل جائے توپھرتاریخ کا آپ کوئی تنقیدی جائزہ نہیں لے سکتے، مسلمان جو ہیں اپنی تاریخ کوصحیح طریقے سے لکھ ہی نہیں سکتا، کیوں کہ بہت زیادہ عقیدت مندی ہے شخصیتوں سے، نظریات سے، کہ آپ اس کے کمزور پہلو بیان ہی نہیں کر سکتے۔ لیکن پھربھی کچھ لوگوں نے کوشش کی ہے مثلاً مصرکے طہٰ حسین جوہیں اور باہرکی یونی ورسٹیز میں بہت کام ہو رہا ہے۔ کیوں کہ اُن کوآزادی ہے وہ یہ کام کرسکتے ہیں تواس طرح مصر کے ایک صاحب ہیں شعبان ان کاکام بہت اچھا ہے یونی ورسٹی میں پڑھاتے رہے ہیں۔

Era dipidus اُس کی کتاب ہے History of Muslim societies پھر اسلامک ہسٹری یہ جو بنیادی کام کیا ہے۔ عربی میں پھرجرمن زبان میں ہوا ہے۔ جرمن کو Classical islamic دور میں بہت دل چسپی ہے تو انھوں نے بہت کام کیا ہے۔ ایک تویہ ہے کہ عربی کے جتنے بھی بنیادی ماخذ ہیں، اُن سب کو Cataloge بنایا ہوا ہے۔ پھراُس کے بعد جو مختلف فرقے ہیں اسماعیلی ہیں۔ قرامطہ ہیں ’’دروز ہیں‘‘ انھوں نے یہ کام کیا کہ ہر جرمن یونی ورسٹی میں وہاں اسلامک سٹڈیز کا ڈیپارٹمنٹ ہے اور زیادہ ترکلاسیکل پیریڈ پرکام کرتے ہیں اور بہت گہرائی میں جاتے ہیں کیوں کہ اس کے ترجمے بھی ہو جاتے ہیں۔ میرے اپنے جو پروفیسر تھے اُن کا نام Bosay ہے اُن کا ایرانی شاعری کے اوپر بڑا کام ہے، آل بویہ جوتھے اور بغداد کے اُن پر انھوں نے کام کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہاں پہ بہت کام ہورہا ہے سیا سی تاریخ پر ہی نہیں بالکل ثقافتی تاریخ ہے اور معاشرتی پہلوئوں پر بھی۔

اردو کے اندر ایسا کوئی کام نہیں ہوا یہ جوترجمے ہوتے ہیں جیسے طہٰ حسین کے یا پرانے زمانے میں مولوی چراغ علی ایک تھے اُن کا کام ہے۔ لیکن ہمارے ہاں لوگ نظریاتی کام نہیں کرسکتے، شبلی تو بہت ہی روایتی قسم کے مورخ ہیں مثلاً وہ کہتے ہیں کہ میں یہ لکھ رہا ہوں ثواب کی خاطر اب تاریخ جو ہے وہ کیا ثواب کے لیے لکھی جاتی ہے؟ تاریخ توب ڑی ظالمانہ چیز ہے، ایک اچھا کام ہوا ہے لیکن روایتی ہے اچھا ہے، ابوالفضل کا جس نے اکبر نامہ لکھا ہے منشی ذکاء اﷲ کاکام بھی بہت اچھا ہے۔

ہیرالڈلیم نے ہسٹری کو افسانوی رنگ میں لکھا ہے اور اچھا لکھا ہے وہ محنت کرتا ہے تاریخ کے واقعات کوبیان کرتاہے لیکن اُس نے تاریخ کو شخصیات کے حوالے سے لکھا ہے، جیسا کہ ہمارے ہاں عبدالحلیم شرر ہیں، اردو میں شروع میں بہت اچھی کتابیں لکھی گئی تھیں، لیکن روایتی انداز میں، میں نے سوچا کہ تاریخ آسان زبان میں لکھی جائے۔ حکمرانوں کے متعلق لکھنے کی بجائے عوامی نقطہ نظر کوسامنے رکھ کر لکھا جائے اور اس بارے کسی نے مجھے ابھی اتنامتاثر نہیں کیا۔

آج کل تودن میں ہی پڑھتا ہوں۔ کرسی پربیٹھ کراطمینان کے ساتھ پڑھتا ہوں لیکن لکھنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آپ جوپڑھیں نوٹس بناکر تیاری کریں۔ نوٹس آپ کے پاس ہونے چاہئیں کہ کس ترتیب کے ساتھ لکھنا ہے تو اشارات اور نوٹس کا پاس موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ میرا حافظہ ٹھیک ہے مصنف یاد رہ جاتے ہیں البتہ حافظہ پہ بہت زیادہ اعتبار نہیں کرناچاہیے اسی لیے میں نوٹس وغیرہ لے لیتا ہوں تاکہ ان کومیں استعمال کرسکوں۔ میں شوروغل میں بھی پڑھ سکتا ہوں بالکل اس طرح نہیں ہے کہ بالکل خاموشی ہوجائے اور ہوبھی نہیں سکتی لیکن میں دوران سفر کم ہی مطالعہ کرتا ہوں۔

شروع میں کتابیں خریدنے کاشوق تھا اس وقت بھی تقریباً 5000 پانچ ہزار کتابیں ہوں گی لیکن پچھلے دنوں میں نے کافی کتابیں جو سمجھتا تھا کہ میرے استعمال کی نہیں ہیں وہ کتابیں کچھ لائبریریوں کو دے دی ہیں کیوں کہ شاعری افسانے وغیرہ میں پڑھتا نہیں تو اس لیے ایسی کتابیں لائبریری کودے دی ہیں۔ ابھی بھی کوئی نئی کتاب ہوتی ہے تومیں ضرور لے لیتا ہوں۔ ہندوستان جاتا ہوں تو وہاں سے کتابیں ضرور خریدتا ہوں۔ کتابوں کا لین دین ہوتا ہے، لیکن کم ہوا ہے۔ میں کسی کو زیادہ کتابیں دیتا نہیں۔

مطالعے کے ساتھ ذہنی تبدیلی ہوتی رہتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے خیالات بدلتے رہتے ہیں ظاہر ہے کہ نئی چیزیں آتی ہیں آپ نئے طریقے سے سوچتے ہیں اورپھر اس کااحساس بھی ہوتاہے کہ آپ نے اس سے دس سال پہلے کیا لکھا تھا۔ آج کیا لکھ رہے ہیں لیکن میراجوبنیادی مقصد ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں میں تاریخ کے عوامی نقطہ نظر کا احساس اُجاگر کرنا چاہیے۔ مثلاً تاریخ میں ہم حکمرانوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں قبائل ہیں، برادریاں ہیں ابھی تک تومیں Theoritical کام کر رہا ہوں تاکہ لوگوں تک یہ چیز پہنچائی جائے اور انہیں پتہ چلے کہ تاریخ میں ان لوگوں کا بھی کردار ہے۔ دوسری جوسماجی یا معاشرتی قوتیں کام کررہی ہیں اُن کو دیکھنا چاہیے۔

میں نے مذہبی مطالعے میں ابوالکلام آزاد کو پڑھا، سیدسلیمان ندوی شروع میں شبلی نعمانی، ابو الاعلیٰ مودودی، امین حسن اصلاحی پھر دیوبند کے شیخ محمود حسن رشیداحمد کنگو ہی کے فتاویٰ وغیرہ پڑھے کیوں کہ ان کا تاریخ کے مطالعہ سے بھی بڑا واسطہ ہوتا ہے۔

ابو الکلام آزاد ایک مذہبی سکالر تو ضرور تھے، لیکن تاریخ کو انھوں نے مسخ کیا ہے خاص طور پر تذکرہ کے اندر جیسے شیخ احمد سرہندی کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ اُس نے تن تنہا اکبر کے الحاد کامقابلہ کیا۔ حالانکہ اکبرکا کوئی الحاد نہیں تھا۔ اکبر تو ایک طرح سے مذہب کو مختلف طریقوں سے دیکھ رہا تھا وہ رسالت یا توحید کامنکر نہیں تھا۔ حالانکہ مجدد الف ثانی کا اکبر کے زمانے میں تو صرف 4سال کا دور ہے۔ مولانا مودودی بھی بہت ہی روایت پسند ہیں لیکن لکھتے اچھا ہیں تحریر اُن کی اچھی ہوتی لیکن اُن کے جو افکار ہیں انھوں نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔

علم کے اس سفر میں، میں نے جو کچھ حاصل کیا، اس میں دوستوں کو شریک کرنے کی غرض سے ایک تو میں پڑھتا رہا، اب بھی لیکچر دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ دوسرا میں نے کتابیں لکھیں تاکہ ان کے ذریعے اپنے ہم سفروں میں اضافہ کروں۔ اس لیے میرے اس سفر میں میں اکیلا نہیں ہوں، میرے ساتھ بہت سے ہم سفر ہیں، مجھے خوشی ہے کہ میں نے جو آگہی اور فہم حاصل کیا، اس میں دوسرے بھی برابر کے شریک ہیں۔

پچھلے دس سال سے میں دوستوں کی مدد سے جن ڈاکٹر سید جعفر احمد خاص طور پر شامل ہیں۔ رسالہ تاریخ نکال رہا ہوں۔ اس کے 40شمارے شائع ہو چکے ہیں۔

ختم شد

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: