ڈاکٹرمبارک علی: مطالعاتی اور علمی زندگی — حصہ دوم

0
  • 211
    Shares

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

تاریخ کا مضمون ہمارے ہاں اسکول کے نصاب سے لے کر کالج تک کے نصاب میں شامل ہے لیکن یہ تاریخ انتہائی سپاٹ اور خشک مضمون ہے، اس وجہ سے طالب علموں میں یہ مقبول نہیں، اور سب کو ایک ہی شکایت ہے کہ اس میں سنہ اور تاریخوں کو یاد کرایا جاتا ہے۔ ایک تو یہ صرف سیاست تک محدود ہے، دوسرے خاندانی حکمرانوں کے تذکرے ہیں۔ لہٰذا تاریخ میں جنگوں کے حالات، انتظامی امور کی تفصیلات، اور دربار کی سرگرمیوں کا ذکر ہے۔ امتحان میں آج تک ایک ہی قسم کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ سلاطین کے حکمرانوں میں کس کو اصل بانی قرار دیا جائے۔ اکبر مغل خاندان کا اصل بانی تھا، وغیرہ۔ ظاہر ہے اس قسم کی تاریخ سے نہ تو کچھ سیکھا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس میں کسی کو دل چسپی ہو سکتی ہے۔

جب میں نے تاریخ کے مضمون کا امتحان میں پاس ہونے کے بعد مطالعہ کیا اور تاریخ نویسی اور فلسفہ کے بارے میں پڑھا تو اس مضمون کی اصل حقیقت سامنے آئی۔ برصغیر ہندوستان کی تاریخ کے بارے میں متضاد خیالات اور نظریات اس لیے پیدا ہوئے کہ اس کے لکھنے والوں کا تعلق خاص حالات سے تھا۔ مثلاً جب ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا تو انھوں نے ہندوستان کی تاریخ کو یا تو ہندوستانیوں سے لکھوایا، اوریا خود خود انگریز مورخوں نے کولونیل نقطہ نظر سے تاریخ لکھی۔ غلام حسین طباطبائی کی ’’سیر المتاخرین‘‘ انگریزوں کے ایما پر لکھی گئی، اسی طرح ٹاڈ (Tod)، ڈف (Duff)، اور کننگھم (Canningham) نے راجپوتوں، مرہٹوں اور سکھوں کی تاریخ لکھی۔ جیمس مل (James Mill) نے انگریزی ہندوستان کی تاریخ لکھی جس میں اس نے تاریخ کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کر دیا۔ قدیم ہندوستان کو ہندوعہد سے تعبیر کیا، عہد وسطیٰ کو مسلمانوں کا دور حکومت اور جدید ہندوستان کو برطانوی عہد کہا۔ رومیلا تھاپر نے ہندوعہد پر تنقید کرتے ہوئے وضاحت کی کہ اس پورے دور کو ہندو کہنا غلط ہے، کیوں کہ اس میں بدھ حکمرانوں کا خاصا طویل عرصہ حکومت میں رہا ہے۔ یہی صورت حال مسلمانوں کے عہد میں تھی، کہ اس میں ہندو راجائوں کی ریاستیں تھیں۔

برطانوی مورخین نے اپنی حکومت کے جواز میں اس نظریہ کو بھی دہرایا کہ ہندوستان ہمیشہ سے غیر ملکی حکمرانوں کے ماتحت رہا ہے، اس لیے ان کی حکومت بھی اس کا ایک تسلسل ہے۔ لہٰذا وہ ہندوستانیوں کو اس کا اہل نہیں سمجھتے تھے کہ وہ حکومت کرنے کے قابل ہیں۔ ان موضوعات پر میں نے اپنی کتاب ’’تاریخ شناسی‘‘ میں تفصیل سے بحث کی ہے۔
کولونیل نقطہ نظر کے جواب میں ہندوستانی مورخوں نے قوم پرستی کے نقطہ نظر سے تاریخ لکھی۔ اس کا مرکز الہ آباد یونی ورسٹی کا شعبہ تاریخ تھا۔ اس میں انھوں نے خاص طور پر مغل عہد کا انتخاب کیا کہ جس میں ہندو اور مسلمانوں نے مشترکہ تہذیب کو پیدا کیا تھا۔ 1917 کی دہائی میں سیاست میں تبدیلی کی وجہ سے تاریخی نویسی میں فرقہ وارانہ نقطہ نظر آیا۔ جس میں ہندو مسلم اتحاد اور اشتراک کے بجائے ان دونوں کے درمیان کش مکش اور تضادات کو ابھارا گیا۔
برصغیر ہندوستان کی تقسیم کے بعد، پاکستان اور ہندوستان کی تاریخ نویسی میں تبدیلی آگئی۔ پاکستان کے مورخین کی جانب سے دو کوششیں ہوئیں، اول تو یہ کہ موجودہ پاکستان کا ہندوستان سے تعلق نہیں، دوسرا دو قومی نظریہ کی تبلیغ کی گئی۔ اس نے پاکستان کی تاریخ نویسی کو محدود کر دیا۔ میں نے جب آئی ایچ قریشی کی کتابوں کو پڑھا تو ایسا محسوس ہوا کہ انھوں نے اپنے نظریہ کو درست ثابت کرنے کی غرض سے واقعات کو مسخ کیا ہے۔ یہی صورت حال ایس ایم اکرام اور معین الحق کے ہاں ہے۔ چونکہ انھیں حکومت کی سرپرستی تھی، یونی ورسٹیوں میں ان کا تسلط تھا، اس لیے کوئی مخالف نقطہ نظر پیدا نہیں ہو سکا۔ بعد میں احمد حسن دانی نے تو بالکل حکومت کا کاسہ لیسی کی، اور تاریخ کے مضمون کو ختم کر کے رکھ دیا۔

برطانوی مورخین نے اپنی حکومت کے جواز میں اس نظریہ کو بھی دہرایا کہ ہندوستان ہمیشہ سے غیر ملکی حکمرانوں کے ماتحت رہا ہے، اس لیے ان کی حکومت بھی اس کا ایک تسلسل ہے۔ لہٰذا وہ ہندوستانیوں کو اس کا اہل نہیں سمجھتے تھے کہ وہ حکومت کرنے کے قابل ہیں۔

اس کے برعکس ہندوستان میں مورخین جلد ہی تقسیم کے دائرے سے نکل گئے اور تاریخ کو کئی نقطہ ہائے نظر سے لکھا جن میں قوم پرستی، مارکس ازم اور سبالٹرن قابل ذکر ہیں۔ ان مختلف نظریات کی وجہ سے ہندوستان میں تاریخ کا مضمون بے انتہا مقبول ہے۔ ہندوستانی مورخین نے کولونیل دور پر زبردست تنقید کی ہے، جب کہ پاکستان میں اس عہد کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

اسلامی تاریخ کا مطالعہ میں نے جرمنی میں رہ کر کیا۔ جرمنوں کو نہ صرف اسلام بلکہ ہندوستان اور چین کے کلاسیکل دور سے دل چسپی ہے۔ اس لیے ان کی تقریباً ہر یونی ورسٹی میں ان کے شعبہ ہیں۔ اسلامی تاریخ اور مذہب پر جرمن اسکالرز نے بڑی ریسرچ کی ہے، عربی کے مسودات کو تصیح کے بعد شائع کیا ہے، اور کلاسیکل عہد پر تحقیق کی ہے چونکہ بنیادی ماخذوں کو پڑھنے کے لیے عربی، فارسی، عبرانی اور آرامی زبانوں کا جاننا ضروری ہے۔ وہ اسلام پر تحقیق کرنے سے پہلے ان زبانوں کو سیکھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عربی کے بعد اسلام پر سب سے زیادہ کتابیں جرمن زبان میں شائع ہو چکی ہیں۔ ایک جرمن اسکالر بروکل مان کا یہ کارنامہ ہے کہ اس نے دنیا بھر کی لائبریوں میں موجود عربی مخطوطات کی فہرست معہ ان کے مضامین کی تفصیل کے ساتھ شائع کی ہے۔ میرے پروفیسر ہیربرٹ بوسے عربی کے عالم تھے اور انھوں نے ’’آل بویہ اور محکمہ دیوان‘‘ پر تحقیق کی ہے۔

جب میں نے ایڈورڈ سعید کی کتاب اورینٹل ازم پڑھی تو اس سے متاثر ہوا۔ مگر اس سے انکار نہیں کہ مستشرقین کی تحقیق سیاست، مذہب اور تجارت کے مفادات کے تحت ہوئی ہو، مگر انھوں نے اپنی تحقیق سے تاریخ کے نئے موضوعات کو چنا اور اس کا دائرہ وسیع کیا۔ اس کے علاوہ ان کی تحقیق انتہائی معیاری ہے۔ جس کی وجہ سے اس علم پر ان کا تسلط ہے۔ اب ہم اپنے بارے میں سیکھنے کے لیے یورپ اور امریکہ جاتے ہیں اور اپنا چہرہ ان کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ جب تک ہم خود اپنا علم پیدا نہیں کریں گے ہم ذہنی طور پر مفلوج ہی رہیں گے۔

تاریخ کے مضمون میں میری دل چسپی اس وقت اور زیادہ ہوئی جب میں نے فلسفہ تاریخ پر پڑھنا شروع کیا۔ اس کی وجہ سے تاریخ میں ہونے والے واقعات اور ان کی اہمیت کا احساس ہوا اور یہ کہ ان واقعات کا سماج پر کیا اثر ہوتا ہے۔ تاریخ میں ایک اہم موضوع قوموں کا عروج و زوال ہے یہ کیوں ہوتا ہے؟ اس کے پس منظر میں کیا محرکات ہوتے ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں کہ جو تاریخ میں واقعات کے مطالعہ کے بعد پیدا ہوتے ہیں۔ خاص طور پر اس وقت کہ جب ہمارا معاشرہ زوال کی حالت میں ہو تو یہ سوالات اور زیادہ اہم ہو جاتے ہیں۔ زوال کے اس پس منظر میں عام لوگوں کی رائے کی بھی اہمیت ہے۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے زوال کی اصل وجہ ہماری نااتفاقی اور فرقہ واریت ہے۔ اگر ہم متحد ہو جائیں تو تمام مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے، یا لوگ معاشرے کی بدحالی خود غرضی، نفسانفسی، بدعنوانی اور بے ایمانی میں دیکھتے ہیں، اور اس خواہش کا اظہار کرتے ہیں کہ اگر ان خرابیوں کو دور کر دیا جائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ خرابیاں کیوں پیدا ہوتی ہیں؟ ان کی وجوہات کیا ہیں؟

مستشرقین کی تحقیق سیاست، مذہب اور تجارت کے مفادات کے تحت ہوئی ہو، مگر انھوں نے اپنی تحقیق سے تاریخ کے نئے موضوعات کو چنا اور اس کا دائرہ وسیع کیا۔ ان کی تحقیق انتہائی معیاری ہے۔ جس کی وجہ سے اس علم پر ان کا تسلط ہے۔ اب ہم اپنے بارے میں سیکھنے کے لیے یورپ اور امریکہ جاتے ہیں اور اپنا چہرہ ان کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔ 

یہ وہ سوالات ہیں کہ جن کا جواب تاریخ کے مفکرین نے دینے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلہ میں میرا پہلا اتفاق آرنلڈ ٹوائن بی کو پڑھنے کا ہوا۔ 1960 کی دہائی میں انگریزی کی کتابیں مسلسل آتی تھیں۔ پینگوئن اور دوسرے اداروں کی کتابیں باآسانی مل جاتی تھیں۔ ٹوائن بی کی A Study of History کی گیارہ جلدیں ادبیات حد جو تلک چاڑی کی دکان پر تھیں میں ہر مہینے ایک جلد خریدتا تھا، اس طرح اس کی تحریروں سے واقف ہوا۔ اس کے بعد اشپنگلر کی کتاب ’’زوال مغرب‘‘ پڑھی اور پھر اس سلسلہ میں ابن خلدون کو پڑھا۔

ابن خلدون کے مقدمہ تاریخ کے مطالعہ طالب علموں کے لیے ضروری ہے مگر یہ ہمارے نصاب کا حصہ نہیں تھا اور نہ شاید اب ہے۔ ابن خلدون ایک عرصہ تک گمنامی میں رہا اور اس کے مقدمہ کی اہمیت سے لوگ ناواقف رہے۔ یہ 19ویں صدی کی بات ہے کہ جب عثمانی سلطنت روبہ زوال تھی تو ترکی کے دانش وروں نے ابن خلدون کو دریافت کیا تاکہ اس کے مطالعے کے بعد وہ اپنے معاشرے کے زوال کے اسباب کو سمجھ سکیں۔ ترکی کی اس دریافت کے بعد اہل یورپ اس سے واقف ہوئے اور اس کا یورپی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ انگریزی میں اس کا سب سے عمدہ ترجمہ روزن تھال کا ہے۔ اس نے ان تمام علما اور اہم لوگوں کی زندگی کے حالات فٹ نوٹس میں دئیے ہیں کہ جن کا ذکر مقدمہ میں آیا ہے۔

اس کے بعد میں نے دوسرے مفکرین کو پڑھا اور تاریخ، فلسفہ تاریخ میں ان پر میرے مضامین شامل ہیں۔ یورپ میں تاریخ نویسی میں اس وقت اور تبدیلی آئی، جب عوامی تاریخ کا سلسلہ شروع ہوا۔ انالز اسکول نے تاریخ کو اور زیادہ وسعت دی جب کہ انھوں نے روزمرہ کی زندگی اور انسانی جذبات کی تاریخ لکھی۔ تحریک نسواں نے تاریخ میں عورتوں کے کردار کو ابھارا۔ میں نے جب مارکس کا مطالعہ کیا تو اس نے میرے تاریخی نظریات میں مزید اضافہ کیا۔ ہیگل نے 1920 کی دہائی میں تاریخ پر جو لیکچرز دئیے تھے، انھوں نے فلسفہ تاریخ میں اور اضافہ کیا۔ اس کے بعد ہرڈر، اور نتیشے نے بھی تاریخ کے فلسفہ پر لکھا۔ میں نے ان سب کے نظریات پر جو مضامین لکھے ہیں، وہ اردو داں طبقے کے لیے شاید نئے ہوں۔ اس کے علاوہ تاریخ کے بدلتے نظریات اور دوسری کتابوں میں میں نے تاریخ اور فلسفہ تاریخ کے مختلف پہلوئوں پر لکھا ہے۔ اس کے علاوہ میری یہ کوشش بھی رہی ہے کہ تاریخ کے موضوعات پر جو نئی کتابیں آرہی ہیں ان پر تبصرے کر کے ان کے نظریات کو ابھارا جائے۔ میں نے تاریخ اور تحقیق اور تحقیق کے نئے رجحانات میں ان مضامین کو شامل کیا ہے۔

جرمنی میں تاریخ کے مضمون کو بڑی اہمیت ملی، اس کی وجہ یہ تھی کہ 1870 سے پہلے جرمنی ایک نہ تھا اس لیے جرمنی کے دانش وروں نے تاریخ اور زبان کے ذریعے جرمن قوم پرستی کی تخلیق کی۔ ان کے لیے ریاست کا عہدہ بڑا مقدس تھا اس لیے جب لیوپولڈرانکے نے تاریخ کی تحقیق کے نئے اصول اور ضوابط تخلیق کیے تو ان میں سے اہم سوال یہ تھا کہ مورخ کو اسی طرح سے واقعہ کی رپورٹ کرنی چاہیے جیسا کہ وہ ہوا ہے۔ دوسرے اس نے ریاست کی دستاویزات کی بنیاد پر لکھی تاریخ کو صحیح اور درست تاریخ کہا۔ لیکن آگے چل کر جرمن اور یورپ کے مورخوں نے اس کو چیلنج کیا۔ جب عوامی تاریخ کو لکھنے کا سوال آیا تو اس میں ریاست کی دستاویزات خاموش تھیں، اس لیے مورخوں نے دوسری دستاویزات پر بھروسہ کیا جن میں عدالت کی کارروائیاں، ریونیو کے کاغذات، سی آئی دی کی رپورٹس وغیرہ۔ اس نے تاریخ کے موضوع کو اور زیادہ وسعت دے دی۔

تاریخ کے موضوع کو سمجھنے کے لیے میرے لیے یہ بھی ضروری تھا کہ میں یورپ کے دانش ورانہ تحریکوں کا مطالعہ کروں مثلاً جب انگلستان میں ہونے والے صنعتی انقلاب کا مطالعہ کیا تو اس کے پس منظر میں ہونے والی دانش ورانہ تحریکوں کو بھی پڑھا، آدم اسمتھ، ڈیوڈ ریکارڈو، اور مالتھوس کے نظریات کہ جنھوں نے سرمایہ دارانہ نظام کو استحکام دیا۔ اس انقلاب نے معاشرہ میں اونچ اور نیچ کو پیدا کیا۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق کو ابھارا۔ اس کے مقابلے میں فرانس کے انقلاب نے مساوات کو پیدا کیا، اس کو تقویت ملی روسو کے نظریات سے۔

یورپ میں روشن خیالی کی تحریک نے معاشرہ میں ذہنی اور سیاسی تبدیلیاں کیں۔ سولہویں صدی میں فرانس بیکن نے Inductive Logic کا نظریہ پیش کیا جن میں ایک خاص موضوع سے عمومی موضوع تک جاکر نظریہ کو سمجھا جائے۔

رینے ڈیکارٹ نے Detuctive Logic کی بات کی، جس میں عمومی سے خاص تک تحقیق کی جاتی یہ۔ اس کے بعد نیوٹن کا سائنسی انقلاب ہے، اور پھر روشن خیالی کی تحریک کہ جس میں حقیقت یا سچائی کو جاننے کا ذریعہ سائنس اور عقلیت پرستی ہو گئی، مذہب نہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ کہ دنیا برابر ترقی کر رہی ہے اور آگے کی جانب جا رہی ہے۔ اس نے یورپ کے معاشرے کا ذہن بدلا۔ آگے چل کر سائنس اور عقلیت کو چیلنج کرتے ہوئے رومانوی نقطہ نظر نے جذبات کے کردار کو ابھارا۔ اسی تحریک نے یورپ میں مختلف نظریات کو پیدا کیا جن میں قوم پرستی، تحریک نسواں، ثبوتیت پسندی، سوشل ازم اور مارکس ازم۔

ڈارون نے نظریہ ارتقا پیش کر کے مذہبی عقائد پر زبردست حملہ کیا لیکن ڈارون کے نظریہ سے سوشل ڈارون ازم نکلا۔ جس نے نسل پرستی اور امپریل ازم کو پیدا کیا۔ اس کے ذریعہ یہ ثابت کیا گیا کہ طاقت ور اور توانا قوموں کو زندہ رہنے اور کمزوروں پر حکومت کرنے کا حق ہے۔

یہ نظریات ہمارے ہاں بھی آئے اور تاریخ نویسی ان سے متاثر ہوئی، ہندوستان میں کوسمبی نے مارکسی نقطہ نظر سے قدیم ہندوستان کی تاریخ کی تفسیر کی، ان کے کام کو رومیلا تھاپر اور ایس آرشرما نے آگے بڑھایا۔ عرفان حبیب اور علی گڑھ اسکول نے عہد وسطیٰ کی تاریخ کو مارکسی انداز میں پیش کیا۔ سبالٹرن مورخوں نے جن میں سمت سرکار گیان پانڈے اور شاہد امین وغیرہ ہیں انھوں نے جدید تاریخ کو ترقی پسند نقطہ نظر سے پیش کیا۔

ہربنس مکھیا نے مغل تاریخ کو ایک نئے اور تازہ انداز میں ترقی پسندی کے رجحانات کے ساتھ لکھا۔ اس لیے ان نظریات نے ہندوستان کی تاریخ کو بھی نئی تازگی دی۔ تاریخ کے سمجھنے میں آثار قدیمہ کی دریافتوں اور پھر ان کی بنیاد پر ماضی کی تشکیل نے اس کو نہ صرف وسعت دی بلکہ ماضی کی اس انجان دنیا سے روشناس کرایا کہ جو صدیوں سے زمین میں مدفون نظروں سے اوجھل تھی۔ یہ انسان کا کھویا ہوا ماضی تھا جسے دریافت کیا گیا۔ اس دریافت نے حیرت انگیز انکشافات کیے کہ ماضی کے بارے میں جو ہمارے مفروضے تھے کہ وہ پس ماندہ اور ذہنی طور پر ہم سے بہت پیچھے ہیں، غلط ثابت ہوئے۔ آثار قدیمہ کی دریافتوں نے انکشافات کیے، ایسے انکشافات کہ آج کا جدید انسان ان کی دریافت سے ششدر رہ جاتا ہے۔ مثلاً مصر میں ممی کرنے کا فن، یہ ایسا علم تھا کہ جو ان کے ساتھ ہی روپوش ہو گیا۔ اب ماہرین اس کوشش میں ہیں کہ تجربات کے بعد دوبارہ سے اسے حاصل کیا جائے۔ اس لیے آثار قدیمہ کا یہ کارنامہ ہے کہ وہ انسان کی کھوئی ہوئی تاریخ یا علم کو دوبارہ سے واپس لا رہا ہے اور اس ماضی کی تشکیل کر رہا ہے کہ جو کھو دیا تھا اور جسے ہم بھول چکے تھے۔ جیسے جیسے نئے آثار دریافت ہو رہے ہیں، علم آثار قدیمہ کا دائرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اب اس کو کئی قسموں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ مثلاً پانی کے اندر دریافت کرنے والا علم (Under Water Archaeology)، کوڑا کرکٹ سے ماضی کے بارے میں معلومات کرنے والے، باغوں کے بارے میں علم، جن کے ذریعہ قدیم عہد کے درخت، پودے اور بیجوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا، میدان جنگ کے آثاروں کو دریافت کر کے فوجیوں کے ہتھیار اور ان کے لباس و غذا کے بارے میں دریافت، ٹیکنالوجی کے ماہرین، جو ماضی کی ٹیکنالوجی اور ایجادات پر روشنی ڈالتے ہیں۔ انسانوں اور جانوروں کی ہڈیوں سے ان کی حرکت اور کاموں کے بارے میں علم اکٹھا کرنا۔

وقت کے ساتھ یہ علم انتہائی حساس ہو گیا ہے۔ اب کھدائی کے لیے نئے اوزار اور آلات ہیں، ملنے والی چیزوں کو ماہرانہ انداز میں محفوظ کرنے کا فن ہے۔ جب مصر اور میسوپوٹامیہ کے رسم الخط پڑھے جانے لگے تو تہذیبوں کی کہانی بیان کی جانے لگی۔ اب ان کی مدد سے قدیم عہد کے معاشروں کی سیاسی، سماجی اور مذہبی زندگی کے بارے میں پوری تصویر سامنے آگئی۔ آثار قدیمہ کے علم میں اس وقت اور تبدیلی آئی کہ جب اس پر زور دیا گیا کہ محض اوزار، ہتھیار اور استعمال شدہ اشیا کی دریافت کافی نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ ان کو استعمال کیسے کیا جاتا تھا، اور لوگوں کی روزمرہ زندگی کیا تھی؟ ابتدا میں جو آثار دریافت ہوئے اور وہاں سے جو اشیا ملیں انھیں بادشاہوں یا امراء نے لے لیا اور ماضی کی قیمتی اشیا کا جمع کرنے کا شوق ہوا، کہ جن میں مجسمے، ہتھیار، اوزار، زیورات، اور دوسری اشیا شامل تھیں۔ بعد میں میوزیم کا قیام عمل میں آیا اور ان اشیا کی وہاں نمائش ہونے لگی۔ تاکہ عام لوگ بھی ان سے فائدہ اٹھائیں۔ موجودہ دور میں اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ جو اشیا جہاں سے ملتی ہیں، انھیں وہیں رہنے دیا جائے اس لیے ان مقامات پر اپنے میوزیم ہیں، جہاں دریافت ہونے والی اشیا کو رکھا جاتا ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اکثر آثاروں کی دریافت حادثاتی طور پر ہوتی ہے۔ کبھی کنواں کھودتے وقت، کبھی کھیت میں ہل چلاتے ہوئے، اور کبھی کسی عمارت کی بنیاد کھودتے ہوئے اور کبھی سڑک کی تعمیر کے وقت۔ مثلاً اس فن کی باقاعدہ ابتدا اور پیشہ ورانہ طور پر آثار کی دریافت کو 1730 کی تاریخ دی جاسکتی ہے۔ جب نیپلز کے ایک گائوں میں کنواں کھودتے ہوئے ایک رومی شہر کی دریافت ہوئی، یہ شہر ہرکی لے نیم تھا جب کھدائی ہوئی تو شہر کے آثار دریافت ہوئے۔ یہ شہر آتش فشاں پہاڑ کے لاوے میں آکر تباہ ہو گیا تھا۔ اس کی کھدائی کرنے والا ایک انجینئر تھا، جس نے انتہائی احتیاط سے کھدائی کی، اور جو اشیا یہاں سے ملیں ان کی مکمل فہرست تیار کی۔

اس کے بعد، دوسرا شہر جوہر کی لے نیم کے ساتھ دریافت ہوا وہ پومپے تھا۔ یہ بھی آتش فشاں پہاڑ کے لاوے میں دب گیا تھا۔ شہر کی دریافت نے نئی معلومات فراہم کیں، کیوں کہ لاوے کی تیز رفتاری کی وجہ سے شہر تباہ ہوا، اس لیے جو جہاں تھا وہیں اس میں مدفون ہو گیا۔ شہر کے بازار، دکانیں، گھر، گھروں میں کام کرتے ہوئے لوگ۔ ایسا محسوس ہوا کہ شہر کی زندگی تھم گئی اور وہ بے حس اور بے جان ہو کر ایک جگہ ٹھہر کر رہ گئی۔ اس شہر نے ماہر آثار قدیمہ کے فن میں بھی اضافہ کیا۔ انھوں نے برتنوں، اوزاروں، گھریلو استعمال کی اشیا، امرا اور عام لوگوں کے گھروں، اور دوسرے مختلف طبقوں کی طرف رہائش ان سب کی تشکیل کی۔ شہر کی شاہرائیں اور سڑکیں، پبلک عمارتیں جن میں مندر خاص طور پر قابل ذکر ہیں، ان سے لوگوں کے عقائد رسم ورواج کے بارے میں اندازہ لگایا۔ ایک امیر کے گھر میں پاپائے رس کے بنڈل تھے، یہ شاید اس کی لائبریری تھی۔ شہر کی دریافت اہل یورپ کے لیے ایک تہلکہ مچانے والی خبر تھی۔ دانش وروں، آرٹسٹوں، مورخوں اور سیاحوں کا تانتا بندھ گیا وہ اس شہر کو دیکھنے آئے۔ کسی دانش ور نے آثاروں کی دریافت کے بارے میں بڑا اچھا جملہ کہا کہ ’’کپڑوں کی تہوں میں دبی ممی ہے کہ جس کی تہوں کو ماہرین کھول کر اس کی حقیقت تک جاتے ہیں‘‘

اس دریافت نے آثار قدیمہ کے علم اور نئی دریافتوں کے لیے ایک ستون کو پیدا کیا چنانچہ اس سے متاثر ہو کر ایک جرمن سرمایہ دار شلی من نے بیڑا اٹھایا کہ وہ ہومر کے بیان کردہ شہر ٹرائے کو دریافت کرے گا کہ جہاں مشہور ٹروجن جنگ لڑی گئی تھی۔ یہ جگہ ترکی میں تھی، چنانچہ شلی من نے اس جگہ کی کھدائی کی اور دعویٰ کیا کہ اس نے ٹروئے کے بادشاہ پرائم کا خزانہ دریافت کر لیا ہے۔ جسے وہ خاموشی سے لے کر یونان چلا گیا۔

اس کے بعد یونان اور روم کے قدیم آثاروں کی دریافت شروع ہوئی اور ان کے کانسی و لوہے کے عہد کے شہر اور بستیاں معلوم ہوئیں، جنھوں نے ان کی تاریخ کو نئے سرے سے تشکیل کرنے میں مدد دی۔ میسوپوٹامیہ کے آثاروں کی کھدائی نے خط مخیی کے رسم الخط کو دریافت کیا۔ اس کو پڑھنے کے بعد گل گامیش کی داستان سامنے آئی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے قدیم داستان ہے۔ 1798 میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو وہ اپنے ساتھ ماہرین کی ایک جماعت لے کر آیا تھا، جنھوں نے مصر شناسی کی ابتدا کی۔ روزیٹا کی دریافت نے مصر کے قدیم رسم الخط کے پڑھنے میں مدد دی جس کی وجہ سے اس کی تاریخ کو مرتب کیا گیا۔

ہندوستان میں 1920 کی دہائی میں وادی سندھ کی تہذیب کے بارے میں علم ہوا مگر اس کا رسم الخط نہ پڑھنے کی وجہ سے اس کے بارے میں بہت سی معلومات ادھوری رہیں۔ لیکن ہندوستان میں آثاروں کی کھدائی نے قدیم ماضی کی دریافت میں حصہ لیا۔ قدیم کتبوں اور سارناتھ کے آثار نے اشوک کے بارے میں معلومات دیں۔ الورا اور اجنٹا کے غاروں نے تہذیب کے ایک نئے پہلو کی جانب اشارہ کیا۔ چین میں آثاروں کی کھدائی نے پہلی مرتبہ قدیم چین کی تہذیب کو جنم دیا تھا۔ اس کے بعد سے قدیم آثاروں کی کھدائی اور دریافت کا سلسلہ جاری ہے۔ اب ہر ملک اس کے ذریعے اپنے کھوئے ہوئے ماضی کو دریافت کر رہا ہے اور تاریخ میں بیش بہا اضافے ہو رہے ہیں۔

آثاروں کی کھدائی اور ماضی کی دریافت نے لوگوں میں اس جذبہ اور شوق کو پیدا کیا کہ وہ اس کو آج کے عہد میں تشکیل کر کے آزمائیں کہ اس وقت لوگ کس طرح سے رہتے تھے اور ان کی کیا سرگرمیاں تھیں۔ لہٰذا اس مقصد کے لیے انگلستان میں لوہے کے زمانے کا ایک گائوں بنایا گیا، جس کی عمارتیں، مکانات اور سڑکیں و گلیاں اسی طرح کی تھیں پھر ان گھروں میں رضا کاروں کو رکھا گیا کہ جو اس عہد کے مطابق زندگی گزارنے کا تجربہ کریں گے۔ اس قسم کی ایک کوشش جرمنی میں ہوئی۔ لیکن ماضی کو دہرانے کا عمل فلموں میں بہت اچھے طریقے سے ہوا، جب قدیم عہد کے کسی موضوع پر فلم بنائی گئی تو انھوں نے کوشش کی کہ اس عہد کی مکمل طور پر عکاسی ہو اور ماضی کو ان کے ذریعے زندہ کیا جائے۔
ماضی کی ٹیکنالوجی کو زندہ کرنے کے تجربات بھی ہوئے۔ پرانے جہازوں کی شکل کے جہاز بنائے گئے تاکہ سمندری سفر کے بارے میں آگہی ہو۔ قدیم راستوں اور شاہرائوں کی دریافت ہوئی، کئی ٹیموں نے سکندر کے راستے کی دریافت کی اور اس پر چلتے ہوئے ہندوستان تک آئے۔ چند لوگوں نے ایک ہاتھی کو لے کر ہینی بال کے راستے پر کوہ ایپس کو پار کرنے کا تجربہ کیا۔ اب وقتاً فوقتاً یورپ اور امریکہ میں مختلف جنگوں کو دوبارہ سے پیش کیا جاتا ہے تاکہ لوگ اس دور کے یونی فارم، ہتھیاروں اور لڑنے کے طریقوں کو دیکھیں۔

میں نے آثار قدیم کے علم سے بہت کچھ سیکھا، کہ تاریخ ایک تسلسل کا نام ہے۔ یہ تسلسل ٹوٹتا رہا ہے، جسے آثار قدیمہ جوڑ رہے ہیں۔ مگر اس تسلسل میں برابر تبدیلی آرہی ہے۔ روایات، رسم و رواج، ان میں تسلسل بھی ہے اور تبدیلی بھی۔ دنیا ایک جگہ ٹھہری ہوئی اور جامد نہیں رہتی ہے۔ ہر عہد اپنی جگہ پرشکوہ ہوتا ہے اگر اس میں آرٹ، ادب اور علم تخلیق کا سلسلہ رہا ہو۔ جب تخلیق رکتی ہے تو معاشرہ پس ماندہ ہو جاتا ہے۔

آثار قدیمہ سیکولر سوچ اور فکر کو پیدا کر رہے ہیں، کیوں کہ مذہب ان قدیم تہذیبوں کی بنیاد نہیں تھا بلکہ ایک حصہ تھا۔ اس لیے جب قدیم تہذیب سے رشتہ جوڑا جاتا یہ تو وہ مذہبی تعصبات سے بالاتر ہوتا ہے اور اس کی بنیاد قوم پرستی ہو جاتی ہے۔

یہ علم اس کی نشان دہی بھی کرتا ہے کہ انسان ضرورت کے تحت اپنے ماحول کو بدلتا رہتا ہے۔ وہ تہذیبیں کہ جو دریائوں کے ساحلوں پر پیدا ہوئیں، انھیں زراعت و کاشت کاری اور آب پاشی میں مشکلات پیش نہیں آئیں، مگر وہ تہذیبیں جو دریائوں سے دور تھیں وہاں زراعت کے لیے انسان کو سخت محنت کرنی پڑی، اور ضرورت نے نئی ٹیکنالوجی کو پیدا کیا۔ جس کی مثال یونان ہے کہ جس کی زمین سخت تھی، اس لیے انھیں ہل چلانے کے لیے جانوروں کے علاوہ ٹیکنالوجی کی ضرورت ہوئی۔ اس سے یہ اندازہ بھی ہوا کہ جب علم کھو جاتا ہے تو دوبارہ سے اسے دریافت کرنے اور سیکھنے کے لیے انسان کو کتنی محنت کرنی پڑتی ہے۔ ان آثاروں نے یہ بھی ثابت کیا کہ ماضی کا انسان مجسمہ تراشی، عمارت سازی اور مصوری میں کس قدر آگے تھا۔

آثار قدیمہ تہذیبوں کے عروج و زوال کی داستان بھی پیش کرتے ہیں اور مورخوں کے لیے یہ سوالات چھوڑتے ہیں کہ وہ ان کی دریافتوں کو ڈھونڈیں۔ اب آثار قدیمہ قوموں کی شناخت کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ خاص طور پر نئے آزاد ملکوں میں ان آثار کی مدد سے ملک اپنے پرانے ماضی کو واپس لا کر اپنی تاریخ کے تسلسل کو قائم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ یہ آثار سیکولر سوچ اور فکر کو پیدا کر رہے ہیں، کیوں کہ مذہب ان قدیم تہذیبوں کی بنیاد نہیں تھا بلکہ ایک حصہ تھا۔ اس لیے جب قدیم تہذیب سے رشتہ جوڑا جاتا یہ تو وہ مذہبی تعصبات سے بالاتر ہوتا ہے اور اس کی بنیاد قوم پرستی ہو جاتی ہے۔

——- جاری ہے ——–

اس مضمون کا تیسرا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: