ڈاکٹرمبارک علی: مطالعاتی اور علمی زندگی — حصہ اول

2
  • 247
    Shares

معروف تاریخ نویس اور دانشور ڈاکٹر مبارک علی اس تحریر میں اپنی علمی، فکری اور مطالعاتی زندگی کی داستان سنارہے ہیں۔ اردو ادب اور تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے علاوہ ایک عام قاری کے لئے بھی اس تحریر میں دلچسپی کا بہت سامان موجود ہے۔ دانش کے قارئین کے لئے توشہ۔


علمی سفر کی ابتدا تو ہوتی ہے، اس کی انتہا کوئی نہیں۔ جب یہ سفر شروع ہوتا ہے تو جستجو اور اشتیاق کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، تخیلات کی دنیا آباد ہوتی ہے۔ وقت اور عمر کے ساتھ جاننے، اور حاصل کرنے کے شوق میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ بچپن میں جو پڑھا تھا، جوانی میں اس کی اہمیت نہیں رہتی ہے، پھر جب علم کا حصول بڑھتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ خیالات میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ نظریات بدلتے ہیں، اور سچائی یا حقیقت تک پہنچنے کے بارے میں برابر تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ اس لیے جب کوئی یہ سوال پوچھتا ہے کہ آپ کا پسندیدہ مصنف کون ہے؟ یا کون سی کتاب نے سب سے زیادہ آپ کو متاثر کیا؟ تو اس کا جواب نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ وقت کے ساتھ مصنف بدلتے رہتے ہیں، ایک کتاب کے بعد دوسرے کتاب آپ کے لیے علم کے دروازے کھولتی رہتی ہے، اور یوں یہ سفر جاری رہتا ہے۔

میرا خیال یہ ہے کہ بچپن میں جو پڑھا جاتا ہے، اس میں رومان ہوتا ہے، جنوں، پریوں کی باتیں ہوتی ہیں کہ جو ایک دوسری دنیا میں رہتے ہیں۔ لہٰذا یہ آپ کو خوشی و مسرت کے جذبات سے معمور کر دیتا ہے۔ مگر جب آپ ان کہانیوں سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آتے ہیں، تو پھر زندگی کی تلخیاں بھی ہیں تو مسرت کے لمحات بھی، اصل زندگی کے بارے میں علم انسان کو افسردہ کر دیتا ہے۔ جب سچائی کی تلاش کی جائے اور یہ آپ کو نہ ملے تو آپ اور زیادہ مایوس ہو جاتے ہیں اور اگر آپ اپنی سچائی کو پالیں، مگر اس پر عمل کرنے والے نہ ہوں تو پھر آپ تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ علم آپ کے سکون اور اطمینان کو چھین لیتا ہے۔ یہ آپ کے ذہن کو زیادہ پریشانیوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی عالم سچائی کو پالیتا ہے اور اسے سکون مل جاتا ہے۔ ورنہ یہ ایک نہ ختم ہونے والا جستجو کا سلسلہ ہے۔ یہ بھول بھلیاں ہیں کہ جس میں آدمی گم ہو جاتا ہے۔

میں نے بچپن میں جن کتابوں سے اس سفر کا آغاز کیا ان میں داستان امیر حمزہ، طلسم ہوشربا، قصہ چہاردرویش اور قصہ حاتم طائی وغیرہ تھے۔ ان کتابوں کو پڑھ کر تخیل ایک دوسری دنیا میں لے جاتا تھا کہ جہاں طلسمات تھے، عمر و عیار کی زنبیل تھی اور بھول بھلیاں تھیں کہ جن تک پہنچنا مشکل تھا۔ یہ کتابیں مجھے اس دنیا سے دور ایسی دنیائوں میں لے جاتی تھیں کہ جہاں کی ہر چیز نئی تھی، حیران کرنے والی، اور حقیقت کی دنیا سے بہت دور۔ ان کتابوں سے تخیل میں وسعت آئی، یہ احساس ہوا کہ ہمارے علاوہ بھی اور دنیائیں ہیں، زندگی میں اچھے اور برے انسان ہیں۔ اس دنیا میں انسان ہر وقت امتحان کے عالم میں رہتا ہے۔ اس سے برابر سوال پوچھے جاتے ہیں اور وہ جواب کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔

اس مرحلے سے گزر کر، تاریخی اور جاسوسی ناول پڑھنے کا شوق ہوا۔ تاریخی ناولوں میں عبدالحلیم شرر اور صادق حسین صدیقی کے ناول تھے۔ اس وقت ان ناولوں کے پڑھنے کے بعد جذبہ ایمان ابھرتا تھا اور شدید خواہش ہوتی تھی کہ تلوار لے کر نکل جائیں اور کافروں کو قتل کر کے ان کے کشتوں کے پشتے لگا دیں۔ اگرچہ ان ناولوں کا ماڈل ایک ہی جیسا ہوتا تھا، مگر ہر ناول میں اپنا لطف تھا۔ ان سے زیادہ موثر اور اسلامی تاریخی ناول نسیم حجازی کے تھے کہ جس میں مسلمانوں کی فتوحات اور ان کی بہادری اور شجاعت کے بڑے دل نشیں پیرائے میں بیان کیا گیا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ میں ان کے ایک ناول سے اس قدر متاثر ہوا کہ ان کے پیرائے میں، میں نے بھی ایک افسانہ لکھ ڈالا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تاریخی ناولوں نے مسلمان معاشرے کو ایک خاص قسم کا تاریخی شعور دیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری تاریخ صرف فاتحین اور جنگ جوئوں کے کارناموں میں محدود ہو کر رہ گئی اور جہاد اور کافروں کا قتال تاریخ کا اہم باب بن گیا۔

اس کے بعد جاسوسی ناولوں کا نمبر آیا۔ اس وقت تیرتھ رام فیروز پوری کے ترجمہ کیے ہوئے ناول بڑے مقبول تھے۔ انھوں نے آرتھر کونن ڈائل کے ناولوں کا ترجمہ کیا جس میں شرلاک ہومز اور ڈاکٹر واٹسن اہم کردار ہیں۔ جاسوسی ناول ذہن کو سسپنس میں مبتلا رکھتے ہیں۔ اس میں راز پر پردے پڑے ہوئے ہیں جو آہستہ آہستہ اٹھتے ہیں۔ جب تک یہ راز کھل نہ جائے، قاری کا ذہن اس کی قید میں رہتا ہے۔ اس وقت جاسوسی ناول بہت پڑھے جاتے تھے چونکہ اردو میں اس قسم کے ناول کا رواج نہیں تھا اس لیے یہ انگریزی سے ترجمہ ہوتے تھے اور محلہ کی لائبریریوں میں آجاتے تھے۔

ان ناولوں نے پڑھنے کی عادت ڈالی۔ کتابیں لوگوں کا ذہن بناتی ہیں، اگر کوئی صرف کتابوں کو پڑھ کر آگے نہیں بڑھے تو اس کا ذہن بھی ایک جگہ ٹھہر جاتا ہے۔ جیسا کہ اکثر ہوتا ہے۔ ان کی سوچ ان کی ہی تاریخی اور جاسوسی ناولوں کی سوچ ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر علم کا سفر جاری رہے تو سلسلہ اس سے آگے بڑھتا ہے اور سوچ میں بے قراری پیدا ہوتی ہے۔ جاسوسی ناول پڑھنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس میں تجسس پیدا ہوتا ہے اور قاری یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے کہ آخر اصل راز کیا ہے؟ اگر اس میں مجرم کا سلسلہ ہوتا ہے تو وہ وجوہات تلاش کرتا ہے کہ جو اسے مجرم تک لے جائیں۔ اگر ناول میں جرم کے مقدمات ہوتے ہیں تو وہ وکیلوں کے دلائل سے متاثر ہوتا ہے۔ یہ ناول قاری میں تحقیق اور تلاش کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔

اس زمانہ میں رائیڈر ہیگریڈ کے ناولوں کا اردو ترجمہ ہوا، ان میں ’’خزانہ کی تلاش‘ مانٹی زیوما کی دختر‘ چکہ‘‘ جو کہ زولو قبیلہ کا حکمراں تھا اس کی داستاں، اور شی (She) جس کا ترجمہ ’’روح کی داستاں‘‘ اور ’’روح کی واپسی‘‘ کے طور سے ہوا۔ بعد میں میں نے ان کے انگریزی ورژن بھی پڑھے۔ رائیڈر ہیگریڈ کا بیٹا جنگ عظیم اول میں مارا گیا تھا، جو اس کے لیے بڑا صدمہ تھا۔ اس لیے وہ روح اور روح سے ملاقات کرنے کا یقین کرنے لگا تھا۔ شاید روح کی واپسی اسی پس منظر میں لکھا گیا ہو۔

اس کے بعد اردو کے افسانے اور ناول پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ڈپٹی نزیر احمد کے کچھ ناول تو ہمارے نصاب میں تھے۔ اس لیے پڑھنا پڑے، ان میں زبان کی روانی شستگی تو ہے مگر یہ اصلاحی ناول ہیں، ان میں کوئی جان نہیں ہے۔ مرزا ہادی رسوا کا امرائو جان ادا، ان کے دوسرے ناولوں کے مقابلے میں سب سے عمدہ ہے۔ منشی پریم چند کے ناول اور افسانے ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا افسانہ کفن تو آج بھی یاد کر کے دل کو ہلا دیتا ہے۔ عظیم بیگ چغتائی، عصمت چغتائی، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، قرۃ العین حیدر کے بعد میرا اردو ناول اور افسانوں کا سلسلہ تقریباً ختم ہو گیا۔ حال ہی میں ایک طویل عرصہ بعد میں نے شمس الرحمن فاروقی کا ناول ’’کئی چاند تھے سرآسماں‘‘ پڑھا۔ اگرچہ اردو میں اب نئے لکھنے والے آگئے ہیں، لیکن میرا رابطہ اب فکشن سے بہت گہرا نہیں رہا۔ کبھی کبھار کوئی ایک آدھ افسانہ پڑھنے کو مل جاتا ہے، کہ جس میں نئی تازگی ہوتی ہے ورنہ مجھے اردو کے لکھنے والوں میں وہ تخلیقی صلاحیت نہیں نظر آئی کہ جو دوسرے زبانوں کے لکھنے والوں میں ہے۔

جب میں نے انگریزی میں ترجمہ کیے ہوئے روسی، فرانسیسی اور جرمن زبانوں کے ناول اور افسانے پڑھے تو یہ ایک دوسری ہی دنیا تھی جو دریافت ہوئی۔ انگریزی کا پہلا ناول جو میں نے پڑھا وہ پرل ایس بک (Perl As. Buck) کا گڈارتھ (Good Earth) تھا۔ لیکن ناولوں کو پڑھتے ہوئے جب میں دوستو فسکی کا ناول (Crime and Punishment) یعنی ’’جرم وسزا‘‘ پڑھا تو اس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ اس کے بعد میں نے اس کے دوسرے ناول اور افسانے پڑھے اور اس کی تحریروں کے پس منظر میں اس کے فلسفہ کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس کی زندگی کی کہانی بھی اس کے ناولوں کی طرح افسردگی اور رنج و غم سے بھری ہوئی تھی۔ اس کا باپ ایک زمیندار تھا جو اپنے مزارعوں کے لیے سخت ظالم و جابر تھا۔ اس لیے ایک دن انھوں نے اس کو قتل کر دیا۔ اس وقت دوستو فسکی 17یا18 سال کا تھا۔ اس کے بعد یہ تعلیم کے لیے سینٹ پیٹرز برگ چلا آیا۔ یہاں طلبا کی سیاست میں شریک ہوا، جو زار روس کے خلاف تھے۔ یہ طلبا گرفتار ہوئے اور عدالت نے انھیں سزائے موت دی۔ کہتے ہیں کہ جس دن ان کو قتل کیا جانا تھا۔ عین وقت پر زار روس نے ان کی سزائے موت ختم کر کے انھیں 8سال کے لیے سائبیریا بھیج دیا۔ اس قید میں اس کے کئی ساتھی سردی اور جیل کی سختیوں کی وجہ سے مر گئے۔ یہ زندہ تو رہا مگر اس نے زندہ رہنے کے لیے روحانی قوتوں کا سہارا لیا۔ جیل سے رہائی کے بعد اس کی زندگی پریشانیوں میں ہی گزری، جوا، شراب اور بے چینی کی زندگی۔ اس لیے اس کے ناولوں اور افسانوں میں اس کی جھلک ملتی ہے۔ اگرچہ اس کے عہد میں سائنس اور عقلیت کا زور تھا، مگر یہ انسان کے اندر جو جذبات و خیالات ہوتے ہیں،ا ن کو عقلیت پرستی پر ترجیح دیتا ہے۔ روح کی تشویش، احساسات اور دکھ و درد کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ جرم و سزا کا ہیرو جو اس صورت حال سے دوچار ہے، اس سے اس کی محبوبہ کہتی ہے کہ وہ اپنے جرم کو تسلیم کر لے، تب ہی اسے راحت وسکون ملے گا۔ آخر میں وہ ایسا ہی کرتا ہے۔ اپنے جرم یا جرائم کو تسلیم کرنا اور اس کے نتیجے میں سکون پانا، صرف فرد کا ہی مسئلہ نہیں ہے، یہ تو قوموں کا مسئلہ بھی ہے۔ جو جرائم کا جواز تلاش کرتی ہیں، اور اسے تسلیم کرنے سے گریز کرتی ہیں، اس وقت سامراجی قوتوں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے جرائم کو مان کر، اپنے گناہوں کی تلافی کریں۔ ہمارا بھی کام ہے کہ ہم نے بنگلہ دیش کے ساتھ جو کچھ کیا، اس پر اس سے معافی مانگیں۔ اس سے جرم کا احساس ہوتا ہے اور سوچا یہ جاتا ہے کہ آئندہ ایسے جرائم کا ارتکاب نہیں کیا جائے گا۔ مگر جب جرائم کو جرائم نہیں سمجھا جائے تو پھر ایک کے بعد دوسرا جرم سرزد ہوتا رہتا ہے، اور فرد اور قومیں انسانیت سے دور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اس کا مشہور ناول ’’Notes from underground‘‘ مجھے پاکستان میں نہیں ملا تھا۔ یہ لندن کی ایک کتابوں کی دکان پر ملا، اور میں نے اسی دن اسے پڑھ ڈالا۔ یہ اس کے بہترین ناولوں میں سے ایک ہے۔

میں نے فکشن کو پڑھ کر تاریخ کو سمجھا، تاریخ جو محض واقعات کی اسیر ہوتی ہے، وہ فکشن کا مقابلہ نہیں کر سکتی کہ جو انسان کی گہرائیوں میں جا کر ان کا مطالعہ کرتا ہے لیکن اگر دونوں کا ملاپ ہو جائے تو انسان اور معاشرہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔

اس کے بعد روسی فکشن سے دل چسپی ہوئی تو گوگول، چیخوف ور ترگنیف کو پڑھا۔ ٹالسٹائی کے ناولوں نے ایک طرح سے گھیر لیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں اس کا ناول وارر اینڈ پیس پڑھ رہا تھا تو یہ سردیوں کے دن تھے، صحن میں چاندی بکھری ہوئی تھی، اداس اور خاموش رات کے دو اور کبھی کبھی تین بج جاتے تھے۔ صبح اٹھنے کے خیال سے ناول رکھ کر سو جاتا تھا، جب ناول ختم کیا تو اس کا اثر دل و دماغ پر تھا۔ اس ناول میں ٹالسٹائی نے تاریخ کا فلسفہ بھی بیان کیا ہے۔ وہ تاریخ میں فرد کے کردار کا حامی نہیں کہ وہ انقلابی تبدیلی لے کر آتا ہے۔ ایک لیڈر یا راہ نما اس جانور کی طرح ہے کہ جس کے گلے میں گھنٹی بندھی ہوتی ہے اور پورا گلہ اس کے پیچھے پیچھے ہے۔ اس میں نپولین کا کردار ابھر کر آتا ہے کہ جب اسے روس کے خلاف جنگ میں ناکامی ہوتی ہے تو وہ خود تو راہ فرار اختیار کر لیتا ہے اور اس کی فوج برف باری میں بھوکی پیاسی جگہ جگہ مردے چھوڑتے ہوئے واپس ہو رہی ہے۔ اس وقت جب کہ فوج کے پاس کھانے کو نہیں تھا۔ نپولین کو خوراک اور شراب مل رہی تھی وہ خود تو حفاظت سے پیرس پہنچ گیا، مگر اس کی فوج تباہ ہو گئی۔ لیڈر اور راہ نما یہ سلوک کرتے ہیں اپنی رعایا کے ساتھ یا اپنے پیروکاروں کے ساتھ۔

گورکی قدیم اور جدید کے دور کا لکھنے والا تھا۔ اس کی کتاب ماں نے بڑی تعداد میں نوجوانوں کو انقلابی بنایا۔ اس کے ناولوں اور افسانوں کے ساتھ ساتھ اس کی آپ بیتی لاجواب ہے۔ انقلاب کے بعد لینن نے اسے پیش کش کی کہ وہ حکومت میں شامل ہو جائے، مگر اس نے انکار کیا اور ایک دانش ور کی طرح ریاست سے دور رہ کر اس پر تنقید کی۔ انقلاب کے بعد ایسا محسوس ہوا کہ روسی لکھنے والوں کی تخلیقی صلاحیت شاید دم توڑ گئی۔ شولوخوف میں وہ بات کہاں۔ بعد کے ادیبوں میں بورس پیسٹرنک، ڈاکٹر ژواگو اور سولزے نت زن کے ناولوں میں پھر بھی جان ہے۔ انقلاب سے پہلے روسی فکشن میں انقلاب سے پہلے کے معاشرے کی بہترین عکاسی کی گئی ہے، یہ روس کی سماجی اور ثقافتی تاریخ ہے۔ ان ناولز کو پڑھنے کے بعد روسی نام اور ماحول سے اس قدر رومانیت ہوئی کہ معلوم ہوتا تھا کہ ہم خود اس کا ایک حصہ ہیں۔

روسی فکشن کے بعد فرانس کے ادیبوں کی تحریریں پڑھیں، وکٹرہیوگو کالے مژرا ابل کا بھی یہی حال ہے کہ پڑھنا شروع کرو تو چھوڑنے کو دل نہیں چاہتا۔ قانون کی اس جنگ میں بالآخر قانون ہار جاتا ہے۔ اس کا دوسرا ناول Hunch back of Notredame محبت کے جذبات کی تصویر ہے۔ وکٹر ہیوگو فرانس کے ایک ایسے دور میں پیدا ہوا تھا جو انقلابات اور عوامی جدوجہد کا دور تھا۔ پیرس کے عوام فوج کا مقابلہ کرنے کے عادی ہو گئے تھے۔ اس کے ناولوں میں اس کے عوام کے نظریات اور تبدیلیاں نظر آتی ہیں۔

بالزاک ان ناول نگاروں میں سے تھا جو سولہ سولہ گھنٹے متواتر لکھا کرتا تھا، اور رات کو جاگنے کی خاطر تیس کے قریب کافی کے کپ پی جاتا تھا۔ اس لیے اس کی تحریریں تو بہت ہیں مگر اس کا ناول ’’بڈھا گوریو‘‘ جس کا اردو میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے، اس کا شاہکار ہے۔ اس ناول میں اس نے فرانس کے بورژوا طبقے کی حالت پر لکھا ہے کہ جہاں عزت و وقار کا معیار دولت ہو گئی تھی۔ چاہے اسے کسی بھی طرح سے حاصل کیا جائے۔ گوریو کی بیٹیاں اپنے باپ سے پیسہ لے کر اسے کپڑوں اور نفیس گاڑیوں کے استعمال پر خرچ کرتی ہیں تاکہ سماج میں ان کی عزت ہو۔ بورژوا طبقہ کے دیوالیہ پن پر اس کا بھرپور طنز ہے۔ گستائو فلوربیر کی مادام بواری میں بھی سماج میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ ہے کہ جس کا شکار مادام بواری ہو جاتی ہے۔ الکزنڈر ڈیوما کے ناول دل چسپ ہیں۔ میں نے Three Musketers سے لے کر اس کی تمام سیریز پڑھیں۔

امیلازولا Emilazola اور وان گوگ دونوں نے کان کنوں کی زندگی کا مشاہدہ کیا تھا۔ امیلازولا نے ناول ’’ناناں‘‘ اور جرمینیل Germinale لکھے جو فرانسیسی اور یورپ کے سماجی حالات کی عکاسی کرتے ہیں جو مفلسی اور محرومیوں کی ایک داستان ہے۔ فان گوگ نے اپنی پینٹنگز میں ان کی حالت زار کو پینٹ کیا ہے۔ ان کی مشہور پینٹنگ (Patato Featers) ان میں سے ایک ہے۔ انیسویں صدی کے فرانسیسی ادیب اور آرٹسٹ مل کر سماج میں روشن خیالی کی تحریک میں شریک تھے۔ اس کے علاوہ ’’اسٹنٹ ہال‘‘ کا ناول ’’Black and Red‘‘ مذہبی راہ نمائوں اور فوج کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ سارتر، کامیو کے ناول اور افسانے وجودیت کے فلسفے کا اظہار ہیں۔ جو دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے ذہنی انتشار کو بیان کرتا ہے۔

انگریزی ناولوں میں چارلس ڈکنز، برونٹے سسٹرز، آسکروائلڈ، جیمس جوائس، ہنری لارنس اور دوسرے ناول نگاروں کو پڑھا، مگر مجھے ان سب میں ٹامس ہارڈی پسند ہے۔ گوئٹے کا فائوسٹ پہلے انگریزی میں اور بعد میں جرمن میں پڑھا۔ جرمن ناول نگار، ناول بھی فلسفہ کی مانند لکھتے ہیں، ان میں ٹامس من، ہرمن ہیسے، ہائزش بول، گنترگراس کو پڑھا۔

امریکی ناول نگاروں میں ہیمنگ وے اور فاکز کو پڑھا۔ ڈراموں میں شیکسپیئر تو کورس میں تھا، اس لیے اسے پڑھنا پڑا، برنارڈشا غضب کا ڈرامہ نگار ہے۔ برتولڈ بریخت کے ڈرامے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لیے ہی لکھے گئے ہیں۔ میں نے اس کے چند افسانے اور ایک ڈرامہ ترجمہ کیا ہے۔ بریخت اس لیے اہم ہے کیوں کہ وہ فاشزم کے لیے لڑا ہے، اور اس کی تحریروں کا مقصد عام لوگوں میں شعور پیدا کرنا ہے۔ اس نے شاعری بھی کی، مضامین بھی لکھے، اور افسانے و ڈرامے بھی تحریر کیے۔ نازی حکومت کے دوران اس نے جرمنی کو چھوڑ دیا تھا۔ جنگ کے خاتمہ پر اسے اتحادیوں نے مغربی جرمنی نہیں آنے دیا، اس لیے وہ مشرقی جرمنی میں مقیم رہا۔

کچھ ناول سیاسی اتار چڑھائو کی عکاسی کرتے ہیں، کپلگ کا ناول کم (Kim) اس کے امپریل ازم کے خیالات کی عکاسی ہے، یہ وائٹ مینز برڈن کی تھیوری دیتا ہے کہ جس کا مشن ہے کہ وہ غیر مہذب ایشیا و افریقہ کی اقوام کو مہذب بنائے لیکن اس کے برعکس جوزف کون را ڈ کے ناول Heart of Darkness اور Lord Jim امپریل ازم کے تباہ کن اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔ اچے وے کا ناول Fhing fall apart جس کا اردو ترجمہ ’’بکھرتی دنیا‘‘ کے نام سے ہوا ہے، بڑے فن کارانہ انداز میں سماجی تبدیلیوں کا اشارہ کرتا ہے جو امپریل ازم کے نتیجہ میں ہوئیں۔

فکشن نہ صرف انسانی ذہن کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ اس سے سماج کے اندر جو تبدیلیاں ہوتی ہیں ان کی بھی نشان دہی کرتا ہے۔ میں نے فکشن کو پڑھ کر تاریخ کو سمجھا، تاریخ جو محض واقعات کی اسیر ہوتی ہے، وہ فکشن کا مقابلہ نہیں کر سکتی کہ جو انسان کی گہرائیوں میں جا کر ان کا مطالعہ کرتا ہے لیکن اگر دونوں کا ملاپ ہو جائے تو انسان اور معاشرہ کو سمجھا جاسکتا ہے۔

—— جاری ہے، دوسرا حصہ کل ملاحظہ کیجئے ——–

Leave a Reply

2 تبصرے

Leave A Reply

%d bloggers like this: