اردو زبان کا المیہ: وحید الزماں طارق

0
  • 215
    Shares

اردو ہماری قومی زبان ہے۔ ہمیں اس سے محبت ہے۔ ہمارا جذباتی لگاو قدرتی طور ہر اردو کے ساتھ ہے۔ کسی حد تک بے دلی کے ساتھ اس کے فروغ کے لئے بھی ہم کوشاں ہیں۔ ہم نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ اردو کی اس وقت حالت کیا ہے۔ بولنے میں آسان، سمجھنے میں عام فہم اور لکھنے میں انتہائی دلکش۔ زبان کی شیرینی اور حسن بے مثال ہے۔ لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ یہ زبان ابھی اپنے ارتقائی مراحل طے کر رہی ہے۔ اس کے ہجوں اور الفاظ کی تذکیر و تانیث پہ ابھی تک بحث جاری ہے۔ اس کے رسم الخط پہ اتفاق ضروری ہے اور مناسب لغات اور کمپیوٹر پروگرام چاہئیں۔ مقتدرہ اردو زبان نے بلند بانگ دعوے تو کئے ہیں مگر کارکردگی پہ سوالیہ نشان ہیں۔
علامہ محمد اقبال رح نے مرزا غالب کے عنوان سے اپنی بانگ درا میں شامل نظم میں کہا تھا۔

گیسوئے اُردو ابھی منّت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائیِ دل‌سوزیِ پروانہ ہے

۱۸۶۱ ء سے اس کے رسم الخط کے تنازعہ نے دیوناگری اور فارسی نستعلیق کی بحث نے اردو اور ہندی کو الگ الگ کردی اور پھر یہ دوریاں بڑھتی چلی گئیں۔ اردو اور ہندی بولنے والے ایک دوسرے کی بات سمجھ تو لیتے ہیں لیکن پڑھ نہیں سکتے۔ سمجھنے کی صلاحیت بتدریج کم ہو رہی ہے کیونکہ ہندی سے فارسی کا اخراج جاری و ساری ہے۔ اردو کا سمجھنے کے لئے فارسی، عربی اور کسی حد تک ترکی اور مقامی ہندوستانی زبانوں پہ دسترس لازم ہے۔ یہ کافی مشکل زبان ہے اور اس کو دیکھنا محنت طلب ہے۔ بقول داغ

نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے​

جب بھی اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دلانے کی بات ہوئی تو کئی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں اور پھر بحث شروع ہو گئی۔ عربی میں جو جامعیت اور فارسی میں بے تکلفانہ فصاحت موجود وہ صدیوں بلکہ ہزاروں برسوں کے فروغ اور سرپرستی کے باعث ممکن ہوئی۔ فارسی کو انگریز نے ہندوستان سے زبردستی ختم کیا مگر وہ اردو میں در آئی اور آج اس زبان میں وہ سسکیاں لے رہی ہے۔ زبان کی ترقی اور قبولیت کے پس منظر میں ضرورت کی اہمیت ہے۔ آج ہر شخص بیرون ملک تعلیم یا نوکری کا متلاشی ہے اور اسے انگریزی سیکھنا پڑتی ہے۔ اندرون ملک وہ ادارے مثلا بینک اور فضائی کمپنیاں جن کا تعلق بیرون ملک سے ہے ان کی اپنی مجبوری ہے۔ میڈیسن اور انجنیرنگ کی جملہ اصطلاحات لاطینی زبان سے اخذ شدہ ہیں۔ زبان کی ترقی کے پس منظر میں اس کے بولنے والی قوم کی سائنسی اور مالیاتی ترقی کا دخل ہوتا ہے۔ ہم اپنے تنزلی کے دور میں زندہ ہیں۔ اردو بھی رو بہ تنزل ہے۔ ہندوستان میں اس کاجو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کسی حد تک اردو کی حیثیت برقرار ہے مگر اس کے اپنے وطن یعنی بنارس و لکھنئو ا سے لے کر پٹنہ تک ناگفتہ بہ ہے۔ بقول کاظم بنارسی

تھا عرش پہ اک روز دماغِ اردو
پامالِ خزاں آج ہے باغِ اردو
غفلت تو ذرا قوم کی دیکھو کاظم
وہ سوتی ہے بجھتا ہے چراغِ اردو

پھر بھی ہمیں اردو سے محبت یے اور رہے گی۔ اس کی ترقی ہماری علمی وسعت اور عمومی ترقی سے منسلک ہے۔ پھر یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ یہ صرف آٹھ فیصد پاکستانیوں کی مادری زبان ہے۔ اس کہ لسانی ترکیب مشرقی ہندوستانی بھاشاوں سے وابستہ ہے۔ ہم اردو اور فارسی کے مابین کھڑے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ اردو کے عروج کا دور کبھی بھی نہیں آیا۔ نہ اس کے لسانی استحکام پہ زور دیا گیا ہے اور نہ ہی اس کی مناسب ترویج ہوئی ہے۔ اتنا ضرور ہوا پے کہ شمالی بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے وہ دور دراز گاؤں جہاں کبھی اردو کا ایک لفظ بھی کسی کے پلے نہیں پڑتا تھا۔ اب وہان کسی حد تک لوگ اردو سمجھ لیتے ہیں۔

بنگال نے اسے قبول نہ کیا۔ سندھ نے سندھی زبان کو سرکاری قرار دیا اور لسانی فسادات پھوٹ پڑے جن کی کوکھ سے لسا نی سیاست نے جنم لیا۔ حالات اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں جس انداز سے پیش کئے جاتے ہیں۔ رومی نے کہا ہے۔

ای بسا ہندو و ترک ہم زبان
وی بسا دو ترک چون بیگانگان
پس زبان محرمی خود دیگر است
ہم دلی آواز ہمزبانی بہتر است

“کبھی کبھی ایک ترک اور ہندو ہم زبان ہوتے ہیں اور کبھی کبھی دو ترک آپس میں بیگانگی سے دوچار ہوتے ہیں۔ اس طرح رازداری کی زبانی تو کوئی اور ہوتی ہے اور ہمزبانی سے ہم دلی بہتر ہوتی ہے”

ہمارے ہاں نہ ہم دلی ہے اور نہ ہی ہمزبانی۔ نه راز داری اور نہ ہی اخوت۔ درحقیقت ہم اس وقت ایک لسانی خلا میں کھڑے ہیں اور کسی سمجھ نہیں آرہی۔ اس کے لئے قومی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ کسی زبان کو اپنانے کے کئے دوستی زبانوں کہ قربانی دینا پڑتی ہے۔ میری مادری زبان پنجابی تھی۔ بچوں کو پنجابی سے محروم کر کے اردو سکھائی۔ وہ پھر بھی لسانی خلا میں معلق ہیں۔اردو بول تو سکتے ہیں مگر اس طرح لکھ نہیں پارہے جس کی توقع کی گئی تھی۔ سے کاش اردو ہمارے مطالبات یا مظاہروں سے کرسی پہ بیٹھ سکتی۔ اس کے لئے صدیوں کی محنت درکار ہوگی۔ یہ کام نہ تو درخواست گذاری دے ہو گا اور نہ ہی تقریروں سے۔ بقول منور رانا

مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری
تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی

مجھے اس کے باوجود بھی مایوسی نہیں ہے صرف اردو زبان کو درپیش مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ یہ سب اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے ہے کہ کرفرمایان دکن نے خلیفہ عبدالحکیم کی کاوشوں سے اردو کو ترویج دی تھی مگر وہ سلسلہ زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔ وہ بھی سلطنت آصفیہ کی حد تک محدود مدت کے لئے۔ تجربہ بہت اچھا تھا مگر بقول سعدی

خوش درخشید ولی دولت مستعجل بود

وسیع پیمانے پر اردو کی ترویج کے لئے ہمیں مطالبات اور مظاہروں سے آگے کا سوچنا ہو گا۔
میری آرزو ہے کہ عروج اردو کا زمانہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں۔آمین

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: