ملکہ ———– شکور پٹھان

0
  • 198
    Shares

اسکول کا گیٹ بند تھا اور لڑکے واپس آرہے تھے۔ گیٹ پر نوٹس لگا یوا تھا۔

“اسپیکر قومی اسمبلی مولوی تمیز الدین کے انتقال کے سوگ میں آج اسکول بند رہے گا”۔

عارف اور میرے حلق سے خوشی میں عجیب وغریب آوازیں نکلیں۔ اس نے بھی آج حساب کا کام نہیں کیا تھا۔ حساب کے ماسٹر کی گھروالی شاید اچھی نہیں تھی۔ روز مرچیں چبائے نظر آتا۔ وہ ہمیں روز مرغا بناتا لیکن حساب کے سوال نہ تب سمجھ آتے تھے نہ اب سمجھ آتے ہیں۔

یہ مولوی تمیزالدین کون تھے۔ کونسی مسجد میں نماز پڑھاتے تھے ہمیں کچھ پتہ نہیں تھا۔ لیکن ایک بات سمجھ آئی کہ جب کوئی بڑا آدمی مرتا ہے تو چھٹی ہوجاتی ہے۔ مجھے یاد آیا بابائے اردو کے انتقال پر بھی چھٹی ہوئی تھی۔
اب جس دن بھی حساب کے پیریڈ میں پٹائی کا ڈر ہوتا دھیان فورا” مشہور لوگوں کی طرف جاتا کہ شاید ان میں سے آج کوئیُ؟؟؟
اور میرے لئے یہ بڑے لوگ چند ایک ہی تھے۔ ایک تو اپنے قائد اعظم اور لیاقت علی اور علامہ اقبال تھے، جو اب دنیا میں نہیں تھے۔ دوسرے صدر صاحب جنہیں ان دنوں ہم ‘جنرل ایوب’ کہتے تھے، ان کے بعد میرے پسندیدہ کرکٹر حنیف محمد جنہیں میں نے نہیں دیکھا تھا لیکن ہم جب گلی میں گیند بلا کھیلتے اور کوئی لڑکا زوردار شاٹ لگاتا تو یار لوگ ‘ واہ حنیف محمد’ کہہ کر داد دیتے۔
اور تیسرے تھے بھولو پہلوان جن کی کسی کشتی کا تو کبھی نہیں سنا لیکن اپنے بڑوں سے یہی سنتے کہ بھولو کو کوئی ہر انہیں سکتا۔

اور ایک نام جو بچپن سے سنتے آئے تھے جس کے بارے میں خیال تھا کہ یہ بھی ایوب خان جیسی قومی سطح کی ہستی ہے وہ تھی ‘ نورجہاں’۔۔
میرا خیال تھا کہ ایوب خیال کے انتقال پر اسکول دو تین دن تو بند رہے گا اور جب بھی کوئی مشکل ہوتی خیال فوراً ایوب خان کی طرف جاتا۔
لیکن حنیف، بھولو اور نورجہاں کے بارے میں ایسا کبھی نہیں سوچا۔ حنیف چونکہ ہمارا ہیرو تھا۔ بھولو کو ہم فخر پاکستان سمجھتے تھے۔ رہی نورجہاں تو اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے لیکن نام بہت سنتے تھے۔
جب بھی کسی عورت کا گانا سنتے تو یہی سمجھتے کہ نورجہاں نے گایا ہے۔ میں ایک زمانے تک “اک میرا چاند ایک میرا تارہ۔۔۔ امی کی لاڈلی ابّا کا پیارا” نورجہاں کا ہی سمجھتا تھا۔

ایسے ہی ایک دن کسی دکان میں ٹرانزسٹر پر گیت بج رہا تھا “نگاہیں ملاکر بدل جانے والے مجھے تجھ سے کوئی شکایت نہیں ہے” تو کسی نے کہا “کیا بات ہے نورجہاں کی”۔ جب کہ میرا خیال تھا کہ یہ شمیم آرا نے گایا ہے کیونکہ پان والے کی دکان کے پاس کھمبے پر شیرین سنیما کورنگی میں لگی فلم “محبوب” کے پوسٹر، پر شمیم آرا کی تصویر تھی۔ یہ گیت محبوب فلم کا تھا۔
گھر میں ریڈیو نہیں تھا لیکن پاس پڑوس سے گانوں کی آوازیں آتیں لیکن ہم آٹھ نو سال کے لونڈوں کو بھلا ان باتوں کا کیا ہوش۔ ہمیں تو گلی ڈنڈا، پتنگ بازی، لٹو بازی اور کنچوں جیسے اہم معاملات سے ہی فرصت نہ تھی۔

اور پھر ہوئی پینسٹھ کی جنگ۔ اب جہاں ایوب خان کے ساتھ، نور خان، جنرل موسٰی، بھٹو، شکیل احمد کے ناموں سے بھی شناسائی ہوئی وہیں دو ناموں کا بڑا چرچا تھا اور وہ تھے ‘ مہدی حسن ‘ اور ملکہ ترنّم نورجہاں، جن کےگائے نغمے ایک طرف ہم عوام کا حوصلہ بڑھاتے تو دوسری جانب سرحدوں پر لڑنے والے سپاہیوں کا لہو گرماتے۔

“میرا ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیں نی جرنیل نی”
” میر یا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں”
” یہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے”
” اے وطن کے سجیلے جوانوں، میرے نغمے تمہارے لئے ہیں ”

اور یہی نغمے تھے کہ ہم بھی گیت سننے کی طرف راغب ہوئے، کچھ عمر بھی بڑھتی جارہی تھی۔ دنیا کی اور باتیں بھی سمجھ آتی جارہی تھیں۔ اب یہ بھی سمجھ آنے لگا کہ نورجہاں کون ہے اور نسیم بیگم یا مالا کی آواز کون سی ہے۔
لیکن لگتا یوں تھا کہ جو بھی اچھا گانا ہوتا ہے وہ نورجہاں کا ہی ہوسکتا ہے۔ ہر دوسرا تیسرا مشہور گانا نورجہاں کا ہوتا۔ نورجہاں کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ پھر سڑسٹھ کے آخر میں کراچی میں ٹی وی آیا۔۔۔ اور کبھی کبھار ٹیلیویژن پر ” مادام ملکہ ترنم نورجہاں ” کے درشن ہوتے۔
اور مجھے نہیں یاد کہ ٹی وی پر اس سے زیادہ حسین چہرہ کوئی اور بھی تھا۔ بعد میں یہ بھی جانا کہ نورجہاں اداکارہ بھی تھیں اور پھران کی فلمیں بھی دیکھیں۔

یہ ترنّم ورنّم بھلا کیا ہوتا ہے، اس کی کوئی خبر نہ تھی۔ لیکن “ملکہ” کا لفظ اگر کسی پر سجتا تھا تو وہ صرف اورصرف نورجہاں تھیں اپنی ساتھی گلوکاروں میں تو وہ تھیں ہی سرفہرست لیکن جب کبھی انہی ٹی وی پر دیکھا یا اخبار میں تصویر دیکھی، ان کا آس پاس صرف انہی کے جلوے سے منوّر نظر آتا۔

دل کو چھوتا ترنم، آواز کی دل لبھاتی مٹھاس، جس طرح گیت فلمایا جائے گا اس کا مکمل تاثر اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ موسیقی کے مروجہ پیمانوں سے بڑھ کر گا سکتی تھیں۔

اور یہ ملکہ دلوں پر حکومت تو کرتی ہی تھی۔ آپ چاہیں نہ چاہیں، آپ کے کانوں میں رس تو خود بخود گھل جاتا تھا۔
میں نے ان کی پہلی فلم دیکھی جس میں ایک مشہور رقاصہ اور اداکارہ ان کی معاون اداکارہ تھیں۔ ایک منظر میں اس اداکارہ کا ہاتھ نورجہاں کی کلائی پر ہوتا ہے۔ نورجہاں کی مرمریں کلائی پر اس اداکارہ کا ہاتھ بڑا ہی غیر متاثر کن نظر آرہا تھا۔

پھر فلم انارکلی دیکھی جس میں نورجہاں کے ساتھ میری پسندیدہ اداکارہ شمیم آرا تھیں۔ شمیم آرا جنہیں میں اب بھی سب سے زیادہ پسند کرتا ہوں، لیکن نورجہاں کے سامنے ان کی شخصیت بڑی ہی ماند نظر آرہی تھی۔

نورجہاں کی گائیکی اور ان کے فن کے بارے میں آپ کو کچھ بتانا ایسا ہی کہ میں آپ کو اطلاع دوں کہ سورج مشرق سے نکل کر مغرب میں غروب ہوتا ہے۔ سر اور سنگیت کی ایسی کون سی خوبی ہے جو ان میں موجود نہیں۔ دل کو چھوتا ترنم، آواز کی دل لبھاتی مٹھاس، جس طرح گیت فلمایا جائے گا اس کا مکمل تاثر اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ موسیقی کے مروجہ پیمانوں سے بڑھ کر گا سکتی تھیں۔ اس بارے میں کئی استادوں سے سنا کہ خاتون گلوکاراؤں میں یہ خوبی صرف نورجہاں میں تھی۔

پاک وہند میں بے شمار بڑے فنکار پیدا ہوئے لیکن سب سے اونچی چوٹی پر صرف تین نام نظر آئیں گے۔ نورجہاں، محمد رفیع اور لتا منگیشکر۔ اور نورجہاں ان سب میں سینئر تھیں۔ رفیع نے اپنا پہلا مشہور گیت نورجہاں کے ساتھ گایا جب کہ نورجہاں کا ڈنکا سارے ہندوستان میں گونج رہا تھا۔ لتا منگیشکر بھی شروع میں نورجہاں سے متاثر نظر آتی تھیں۔

یہ ملکہ لیکن سب سے ممتاز نظر آتی تھی کہ خالق نے گویا اسے اپنے ہاتھوں سے بنایا تھا۔ دوسری گلوکار آؤں میں صرف ثریا تھی جو کہ خوش شکل بھی تھی۔
اور میں فیصلہ نہیں کرپاتا کہ ان کی آواز زیادہ خوبصورت ہے، چہرہ زیادہ حسین ہے یا انداز گفتگو زیادہ دلربا ہے۔ انہیں جب بھی ٹیلیویژن پر سنا لگا کہ کوئی جھرنا بہہ رہا ہے، انکی کھنکتی ہوئی آواز، بہترین الفاظ کا چناؤ اور مسکراتے ہوئے بات کرنا۔ مجھے سب ہے یاد ذرا زرا

گانا گاتے ہوئے گلوکاروں کی توجہ سر اور تال پر رہتی ہے اور وہ اس میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ کہ چہرہ عجیب سے رنگوں میں ڈھلتا ہے، نرت بھاؤ دکھاتے ہوئے، کبھی آنکھیں بند ہوتی ہیں کبھی۔ ہونٹ اور منہ ٹیڑھے میڑھے ہونے لگتے ہیں۔ لیکن نورجہاں کو گاتے دیکھنا بھی ایک خوش کن منظر ہوتا ہے۔ گانے کو مکمل اتار چڑھاؤ کے ساتھ گانے کے باوجود وہ چہرہ نہیں بگاڑ تیں۔ جس قسم کا گیت ہو اس کے جذبات ان کے انگ انگ سے نظر آتے ہیں۔
اگر ‘ یہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے، گا رہی ہوں تو اپنے سپاہیوں سے عقیدت اور محبت انکی آنکھوں اور چہرے کی ایک ایک جنبش سے نظر آتا ہے اور جب یہی نورجہاں ” سیونی میرا ماہی میرے بھاگ جگاون آگیا” گا رہی ہوتی ہیں تو ایک ایک آنگ لہراتا، تھرکتا نظر آتا ہے۔ اور یہ سب شاید اس لئے کہ وہ اعلی پائے کی اداکارہ بھی رہ چکی ہیں۔

نورجہاں کے بارے میں بھلا میں کیا لکھوں جن کے بارے میں بڑے بڑے لوگ اتنا کچھ لکھ گئے ہیں کہ شاید ہی کوئی میری اس تحریر پر نظر ڈالے۔ کچھ دن پہلے میں نے لتا منگیشکر پر لکھا تھا اور مجھے لتاڑا گیا کہ تم نے لتا کی فلاں فلاں برائی کا ذکر نہیں کیا۔ ان سب سے عرض ہے کہ لتا یا کسی بھی مشہور شخصیت سے میری نسبت صرف اس کے فن اور کام کے حوالے سے ہوتی ہے۔ میں کوئی علمی یا تحقیقی مضمون نہیں لکھتا، میں صرف اپنی عقیدت یا پسندیدگی کی بناء پر ان کا ‘ ذکر’ کرتا ہوں۔ میں ان کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دیتا جن کے بارے میں آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں۔

بہت سے دوستوں کو کھلبلی ہو رہی ہوگی کہ اب میں نورجہاں کے معاشقے، ان کی شادیوں، یحٰیی خان کی محفلوں میں ان کے کردار یا دوسرے لفظوں میں ان کی گناہوں سے پُر زندگی کی باتیں بھی پیش کروں گا۔ اب آپ مجھے بتائیں کہ وہ بالکل بی بی نیک پروین ہوتیں، مکمل پردے میں ہوتیں اور آپ کے گھر کی خواتین سے زیادہ باحیاء ہوتیں لیکن گانا بالکل نہ گاتیں، یا اداکارہ نہ ہوتیں، توکیا مجھے اور آپ کو ان کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت پڑتی۔ کم از کم مجھے نورجہاں کے خاندان میں کوئی رشتہ بھی نہیں کرنا تو مجھے ان کے کردار کے بارے میں کرید کیونکر ہو۔ میرے بہت سے خدائی فوجدار دوست جو نیکی کے اتنے اعلی درجے پر فائز ہیں کہ دامن نچوڑیں تو فرشتے وضو کریں۔ جو مجھے بھی بہت شریف اور نیک سمجھتے ہیں، لیکن یقین جانئیے وہ میرے بارے میں سخت جھوٹ بولتے ہیں۔

کون گناھگار ہے اور کون پاکباز، یہ میرا رب جانتا ہے یا وہ انسان خود۔۔ بل الاِنسانُ علٰی نفسہِ بَصیرا۔۔

نورجہاں کے بارے میں ایک قصہ سن لیجئیے جو لتا منگیشکر نے بیان کیا۔ یاد رہے کہ لتا نورجہاں سے کم درجے کی فنکارہ نہیں ہیں اور یہ بات بتا کر نہ وہ کچھ ثابت نہیں کرنا چاہتیں۔ یہ صرف ایک واقعہ تھا جو انہوں نے دیکھا اور بلا کم وکاست بیان کیا۔

لتا کہتی ہیں کہ انہوں نے فلم انڈسٹری میں کام کا آغاز بطور اداکارہ کیا۔ ایک دن اسٹوڈیو میں وہ نورجہاں کو دیکھنے ان کے کمرے میں گئیں۔ نورجہاں اس وقت مشہور اداکارہ اور گلوکارہ تھیں۔ لتا انہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔ نورجہاں کے لئے ایک کمرہ مختص تھا۔ لتا وہاں پہنچیں تو نورجہاں نماز میں مصروف تھیں۔ لتا ایک جانب بیٹھی انہیں دیکھتی رہیں۔ نماز ختم ہوئی تو دعا مانگتے ہوئے نورجہاں رو رہی تھیں۔ نورجہاں نے نماز ختم کی تو لتا نے پوچھا کہ آپ کیوں رو رہی تھیں تو وہ کہنے لگیں بس یونہی، اپنے گناہوں کا خیال آجاتا ہے۔

میرا مالک ہی جانتا ہے کہ کس سیاہ کار ترین انسان کے ایک اشک ندامت کے عوض وہ اس کے سارے گناہ معاف کردیتا ہے اور کس زاہد وعابد کے ساری زندگی کے زہد وتقویٰ کو اس کے ذرا سے احساس تکبر یا عُجُب کے باعث نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔

میں کیسے اس سیاہ کار عور ت کو پتھر ماروں، میرا تو اپنا دامن اوپر سے نیچے تک داغدار ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: