گیلی شلوار: مدرسہ کے ایک طالب علم کا احوال — عابد آفریدی

0
  • 145
    Shares

والد صاحب کو کسی نے بتایا کہ اگر تمھارا بیٹا حافظ بن گیا تو آپ بنا کسی حساب کتاب کے جنت بھیج دئے جائے گے۔ کیوں نا آپ کے گناہ سمندر کی جھاگ برابر ہو۔

گھرانہ تو ہمارا دیوبندی تھا۔ مگر جس مدرسے میں میرا داخلہ ہوا وہ بریلوی مسلک کا تھا۔ ۔ پہلا دن مولانا صاحب نے ہمیں صرف گھورنے میں گزار دیا۔ لال لال دہکتی آنکھیں چہرے پر بال ہی بال غالب۔

اگلے دن ہمیں پاس بلا کر کہا پڑھو “الف” ہم نے بھی پڑھا ال۔ ۔ ۔ ابھی الف کی ف ہمارے منہ سے اپنی کامل حالت میں برآمد نہ ہوئی تھی کہ ایک لاہوتی قسم کا مکا میری گردن کے پچھلے حصے پہ جڑ دیا گیا۔ یوں محسوس ہوا جیسے بنا ہیلمٹ کے بیٹسمین چہرا بچاتے ہوئے گردن گھمائے اور بال گردن میں لگ جائے۔

اس اچانک باونسر پر ہم نے مولانا کو سوالیہ مگر قدریں غصیلی نظروں سے دیکھا۔
بس اب کیا تھا، ہماری اس حرکت نے ہمیں ان کی نظر میں وہ ابلیس بنادیا جو میلاد کے موقع پر تمام جہاں کے خوش ہونے کے باوجود بھی خوشیاں نہیں مناتا۔

کچھ دنوں تک ہم روز گیلی شلوار گھر لیجاتے رہے، مولانا نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی اس وقت تک مارتے جب تک یہ کنفرم نہ ہوجاتا کہ ہماری شلوار اور آنکھیں دونوں بھرپور نم ہوگئی ہیں۔ ہماری امی روز کی اس گیلی شلوار سے اکتا گئی۔

ابو سے کہا ’’خدارا اپنے بل بوتے پر جنت جانے کی سعی کریں، اس بیچارے کے اندر تو مولانا نے سفید خون ختم کردیا ہے”۔
شکر ہے اس وقت یہ ڈائپر ایجاد یا ہمارے محلے میں دستیاب نہیں تھے۔ ورنہ ابو نے اپنی جنت کے شوق میں وہ بھی پہنا دینے تھے۔
بہرحال ابو بھی تائب نہ ہوئے وہاں سے نکال کر ہمیں ایک افغانی فارسی اسپیکنگ دیوبندی مولانا صاحب کو بطور امانت پیش کردیا۔
یہاں ہم الحمداللہ الف سے ب تک گئے ب سے ث ج ح تک پہنچ گئے مگر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ” خ”۔ ۔ ۔ ۔ آہ۔ ۔ ۔
یہ خ ابا جان کی مفت جنت کے راستے میں حائل ہو گئی۔

مولانا کے منہ سے ایک عجیب و پراسرار قسم کا “خ” برآمد ہوتا، جیسے کوئی دور سے میزائل مار دے اور اس کی سیٹی قریب آتی جائے آتی جائے “شششو” کرکے آپ کے اوپر سے گزر جائے۔ ہم سے بھی وہ بعینہ “خ” نکالنے کو کہتے۔ ہم اپنے چھوٹے سے منہ کو تکونا، چھکونہ، ہاتھ سے گلا دباتے ہوئے، نچلا ہونٹ انگلیوں میں سکیڑ کر اس جنگی “خ” کو نکالنے کی بھرپور مگر ناکام کوشش کرتے رہتے۔

بلآخر ایک دن جب ہم نے خوب محنت و ریاضت کے بعد اپنی تیار کردہ “خ” کو مولانا صاحب کے حضور پیش کیا تو انہوں نے ہم سے کہا جاو وہاں بچوں کے پنڈال سے ذرا پرے خالی جگہ میں کھڑے ہوجاو۔

جب آپ سب کو پڑھا سہلا کر فارغ ہوئے تو ہماری جانب اگئے۔ میں ابھی ان کے اقدام کو سمجھنے کی کوشش میں ہی تھا کہ محترم نے پہلوانی ٹرک یعنی لنگڑی ڈال کر ہمیں زمین پر پٹخ دیا۔ شکر اس بات کا بھی ہے کے اس زمانے میں مشہور ریسلر جون سینا نہیں تھے۔ ورنہ مولانا صاحب نے ان کا وہ انگلیاں دکھانے والا اسٹائل اپنا کر ہمیں بھی اول انگلیاں دکھانی تھیں۔

کوئی پندرہ منٹ تک مولانا صاحب خود کو اس میدان کا اکلوتا شہسوار اور ہمیں مخالف فرقہ کا گستاخ سمجھ کر اس احاطے میں گھسیٹتے رہے۔ کیونکہ دھیمی آواز میں ان کے منہ سے نکلتے تکبیر کے نعرے ہم نے اپنوں لال سرخ کانوں سے سن لئے تھے۔

اس دن ہم انتہائی نڈھال گھر آئے۔ فقط گیلی شلوار کی حالت اس روز کچھ زیادہ ناگفتہ بہ اور ناقابل بیان تھی کہ معاملہ مائع تک محدود نہ رہا تھا۔

یہ روداد رات کو ابا جان کو سنائی گئی تو پریشان ہوئے۔ جیسے ان کی جنت بھی ضروری ہو اور ہماری صحت بھی۔ مایوسی کے عالم میں ہماری طرف دیکھا ہم جو پہلے سے ہی خود پر نزع جیسی کیفیت طاری کئے ہوئے تھے۔ ابا کو رحم کی بھیک مانگتی آنکھوں سے جوابا دیکھا۔ کیونکہ ہم جانتے تھے کہ محلے میں ابھی ایک مدرسہ اور باقی ہے جس میں انتہائی قسم کے ایک ایسے استاد پڑھاتے تھے جو بدعت کے الزام میں متعدد بچوں کا سر توڑ چکے تھے۔ خیر ابا کو ہمارے حال پر رحم آیا۔ امی سے کہا ’’کپڑے تیار کرو کل سے میں خود سہ روزے پہ جارہا ہوں‘‘۔

یوں وہ اپنی جنت آپ پیدا کرنے کے سفر پہ روانہ ہوئے اور ہم نے سکھ کا سانس لیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: