پدماوت اور سنسر بورڈ کا ثقافتی کعبہ: ظفراللہ خان

0
  • 97
    Shares

کافی عرصہ پہلے اردو ادب کے بڑے نقاد اور ادیب حسن عسکری نے کہا تھا “مغرب، مشرق کے آنگن میں میں پہنچ چکا ہے مگر مشرق کو اس کا احساس تک نہیں” اس قول کو آج اپنے اس دور پر منطبق کریں تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ انڈین ثقافت مشرق کے آنگن کو نہ صرف پھلانگ چکا ہے بلکہ اس کا قبضہ اب ہمارے گھر اور ہمارے زرخیز اذہان پر بھی ہوچکاہے۔

ہمارے یہاں میڈیا کے طوائفوں (اداکار و اداکارہ) کے کوئی بھی انٹرویو اٹھا کر دیکھ لیں تو ان کے ہاں ایک قدر مشترک آپ کو نظر آئے گی کہ وہ اپنے اس مؤقف کا بار بار اعادہ کرتے نہیں تھکتے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ اس سے بھی مزے کی بات یہ ہے کہ یہ خود ساختہ حد بندی یہاں کے ان طفیلیوں کی اپنی ہوتی ہے، سرحد کے دوسرے پار تو یہ سوچنا بھی پاپ (گناہ) سمجھا جاتاہے کجا کہ وہ یہاں آئیں اور کام کریں۔ بس پھلانگنے کا شوق ہماری طرف والوں کا ہی محبوب مشغلہ ہے۔

ہم اس پہ نہیں جاتے کہ فلم پدومات میں پیش کئے گئے مظاہر تاریخی حقائق سے میل کھاتے ہیں یا اختراعی ہیں، یا یہ کہ اس میں فکری اور تاریخی بددیانتی سے کام لیا گیا ہے۔ فی الحال اس کو بھی چھوڑ دیتے ہیں کہ اس فلم نے بھارتی قلمکاروں اور بھارتی عوام کو شعور کے کس خانے میں لا کھڑا کیا ہے اور باشعور حلقوں میں ان کے بارے میں کیا تاثر جا رہا ہے۔ ہمارے احباب اس پہ شکوہ کناں ہیں کہ ملائشیا کی طرح ہمارے فلمی سنسر بورڈ کو بھی اس کی نمائش پر پابندی لگانی چاہئیے تھی۔ جب کہ ہمارے سنسر بورڈ سے اس کی توقع رکھنا اس لئے عبث ہے کیونکہ اس کا ثقافتی کعبہ ہی انڈیا ہے۔ اور رہے ہمارے عوام تو وہ ایسے کسی موقع پر مقاطعہ کے جھمیلے میں پڑنا پسند ہی نہیں کرتے۔ بلی کو کبھی چھیچھڑوں کی رکھوالی کرتے کسی نے دیکھا ہے؟ یقیناً نہیں!! بس یہی ہمارے سنسر بورڈ کی اصلیت ہے۔

ہمارے سنسر بورڈ کی اس لاپرواہی کا نتیجہ ہے کہ آج تمام مقامی چینلز پر بھارتی فلموں کی بھرمار ہے۔ معیاری یا غیر معیاری کا کوئی اصول طے ہی نہیں۔ کوئی قواعد و ضوابط لاگو ہی نہیں بس جو ہاتھ لگتا ہے چینل پہ ڈال دیتے ہیں اور ہمارے مہان سنسر بورڈ کے کان میں جون تک نہیں رینگتی۔ ایک ایسا سنسر بورڈ جس کی کارگردگی ہمیشہ سوال کی زد میں رہی ہے، اس کو ہی سنسر کرنے کی ضرورت ہے چہ جائیکہ اس کو قومی خزانے پر بوجھ بنے رہنے دیا جائے۔ یہ مبالغہ ہی سہی پر اندرا گاندھی سے منسوب قول صداقت کا روپ دھار چکا ہے۔ یہ تو سامنے کی بات ہے کہ ان فلموں کے ذریعے ان کا مقصد ہمارے زرخیز اذہان کو بانجھ کرنا ہے اور اس میں وہ کامیاب جارہے ہیں۔ اس طرح کے مناظر دیکھ کر ہمارے ہاں کے کچے ذھن کس طرح اثر لیتے ہیں اس کو ایک واقعہ کے تناظر میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔

کھانے کی دعوت پہ ایک دوست کے ہاں مدعو تھا، اسی لمحے اس کا سات سال کا بھتیجا کمرے میں آدھمکا۔ باتوں باتوں میں کچھ سوالات کے ذریعے میں اس کے ذہن کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ میرے اس سوال پر کہ دہشت گرد کا حلیہ کس طرح کا ہوتا ہے؟ اس کے جواب نے مجھے سو والٹ کا جھٹکا دیا۔ وہ کہنے لگا کہ اس کی بڑی سی داڑھی ہوگی، پائنچے ٹخنوں سے اوپر چڑھائے ہونگے، تسبیح ہاتھ میں ہوگی۔۔۔۔۔۔ ذرا سوچئے کیا ہمارا میڈیا ہماری فلم انڈسٹری یہی کچھ نہیں سیکھا رہی؟ کیا ہمارے میڈیا اور فلم انڈسٹری پر ان کی ثقافت کا رنگ غالب نہیں۔۔۔؟ اگر ہمارے ملک پر خدانخواستہ 71 ء جیسے حالات ٹوٹ پڑیں، تو سوچئے کیا اس رنگ میں رنگی نسل نو سے یہ توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ اس کردار میں پیش نہیں ہونگے جس کی کچھ جھلکیاں صدیق سالک نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا“ میں پیش کی ہیں۔۔۔۔۔

وہ فلمی سنسر بورڈ ڈھاکہ کے ایک اجلاس کی روداد لکھتے ہوئے بتاتے ہیں۔ کہ یہ اجلاس خاص الخاص اس لئے بلایا گیا تھا تاکہ فلم انڈسٹری کو ”چربہ“ اور ”سرقہ“ کی لعنت سے پاک کیا جاسکے۔ مگر وہاں پر ڈھاکہ کے ایک مشہور پروڈیوسر اور بڑے قلمکار نے ببانگ دہل وہ سب کچھ کہا جو آج کل دیسی لبرلز اور میڈیا کے ان نوٹنکیوں کا مؤقف ہے۔کہ حکومت کو چاہئے کہ فلم انڈسٹری کے عظیم تر مفاد اور اس کے پھلنے پھولنے کے لئے روایتی سرچشموں میں مداخلت سے باز رہے۔ اور انڈیا کی طرف والا یہ مخصوص دروازہ کھلا چھوڑے۔ آخری جملہ میں وہ خود کی اور اس طبقے کی تاریخی حیثیت اور اصلیت بیان کرگئے کہ “سوچئے تو سہی، آخر ہم اپنے ثقافتی کعبے سے کیسے پیٹھ موڑ سکتے ہیں”ـ

ذرا نہیں پورا سوچئے کہ یہ بیان ہمارے آج کے حالات زار پر دلالت نہیں کررہا؟ کیا آج بھی ہمارا سنسر بورڈ اس سطح سے اوپر اٹھ کر سوچتا ہے؟ کیا اس کے پیش نظر اس قوم کی تہذیب اور ثقافت کا تحفظ اولین مقصد رہاہے۔۔۔؟

میں نے جیتنا بھی سوچا اس کا جواب نفی میں ملا، ایسے میں اس طرح کے ادارے کو لیکر اپنی تہذیبی اور ثقافتی بقا کی جدوجہد کرنا کلہاڑی پہ پاؤں مارنے کے مترادف نہیں تو پھر اور کیا ہے۔۔۔۔۔؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: