باغی : قندیل بلوچ کی زندگی پہ بنایا گیا ڈرامہ — اقرا بیگ

0
  • 39
    Shares

غالبا یہ گذشتہ برس کے ماہ اپریل کی بات ہے، جب مجھ تک خبر پہنچی کہ پاکستانی اداکارہ صبا قمر، قندیل بلوچ کے کردار کو ایک ڈارمے باغی میں نبھائے گی، اسی سلسلے میں صبا قمر سے بات کرکے تصریق کی، پھر چونکہ یہ ڈرامہ اردو ون کی پیشکش تھا اسی لیے وہاں سے بھی خبر کی تصدیق کے ساتھ ایک سوال بھی کیا کہ جب آپ قندیل بلوچ کی زندگی پر ڈرامہ بنا رہے ہیں اسکے نام کو استعمال کر رہے ہیں تو انکی فیملی کو کیا کوئی مالی مدد کی جائے گی؟؟؟ اس پر جواب ہاں میں دیا گیا، کیونکہ اسی دوران یہ اطلاعات بھی آ رہی تھیں کہ قندیل کے والدین انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے کیونکہ قندیل اپنی فیملی کی کفیل بھی تھی۔

اسی خبر کے ایک دو روز بعد جب میں ایک شوبز کی تقریب میں گئی تو وہاں بھی قندیل بلوچ کی زندگی پر فلمائے گئے اسی ڈرامے کے بارے میں بات چیت جارہی تھی۔ تو اسی دوران صبا کے اس کیریکٹر کو بنھانے میں انہی کی ہم عصر اداکارہ نے تمسخر کیا کہ قندیل کی زندگی پر صبا ڈرامہ کریں گی۔۔۔کچھ ایسی گوسپز ہوئیں۔۔۔۔

قندیل کی پہلی برسی کے موقع پر اس ڈرامے کا آغاز ہوا، اور لگ بھگ اٹھائیس اقساط کے دورانیے کے اس کھیل کا جس کی ایک ایک قسط کا میں نے بے صبری انتظار کیا مجھ سمیت اور کتنے ہونگے جو واقعی جاننا چاہتے تھے کہ فوزیہ سے قندیل بلوچ نے انتہائی بولڈ قدم کیوں اٹھائے؟؟؟ گوکہ باغی ایک ڈرامہ تھا جس میں سو فی صد حقائق منظر عام پر نہیں لائے جا سکتے اور یہ ممکن بھی نہیں لیکن کسی حد تک قندیل کے کردار کی ڈرامائی شکل بہت مثبت انداز میں ڈھالی گئی۔ اس ڈرامے نے ماڈل اور انٹرنیٹ پر تہلکہ مچانے والی قندیل بلوچ کی زندگی کے مختف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔۔۔۔ ڈرامے میں صبا نے خود کو ثابت کر دیا کہ وہ ایک باصلاحیت اور منجھی ہوئیں فنکار ہیں۔۔۔ اٹھائیس اقساط کے اس ڈرامے میں کہیں بھی بیزاری یا اکتاہٹ محسوس نہ ہوئی کہ سین میں تبدیلی کی جائے یا کوئی سین جلد گزر جائے۔۔۔ ان پورے ڈرامے میں کنول بلوچ کی اداکاری سے لے کر تمام ہی اداکاروں کی اداکاری نے سحر میں جکڑے رکھا

ڈرامے کے آخر میں مجھے میرے ایک ڈیرھ سال قبل پوچھے گئے سوال کا جواب ایک ثبوت کے ساتھ ملا کہ ڈرامے سے قبل قندیل کے خاندان سے باقاعدہ اجازت لی گئی، اور انکی مالی مدد بھی کی گئی۔۔۔۔۔

خیر، باتیں کرنے والے باتیں کرتے رہ گئے اور صبا قمر نے اپنی جاندار اداکار سے خود کو میچور فنکار کے روپ میں منوا لیا۔۔۔ اور پھر وہی قندیل جس نے بہتر ڈھنگ کے ساتھ اس میڈیا میں جگہ بنانے کی کوشش کی جس میں وہ اس وقت تو ناکام نظر آئی لیکن۔۔۔۔ اسکی جدوجہد کی قدر اسکے مرنے کے بعد ہوئی کہ شاید اسے کسی بڑے ایوارڈ شو میں ڈانس پرفارمنس کے لیے بھی جگہ نہ مل پاتی، اور آج اسکی زندگی پر فلمائے گئے ڈرامے کو ایوارڈ شو میں نامزد کیا گیا ہے۔۔۔ آج قندیل پرنازیبا کمنٹس کرنے والوں سے زیادہ اس کی محنت کو سراہنے والے بھی سامنے آ رہے ہیں اور ہاں۔۔ قندیل جاتے جاتے بھی اپنے گھر والوں کو کسی سایہ دار درخت کی طرح سایہ فراہم کر رہی ہے۔۔۔ اور مالی مدد کر رہی ہے کہ اب اسکا نام بھی بکنے لگا ہے۔۔۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: