کتابوں کا آسیب : احمد العباد

0
  • 144
    Shares

مجھے کتاب نے کچھ نہیں دیا, تمھیں کیا دیا؟ کچھ بھی نہیں دیا سوائے ذہنی اذیت کے,  نہیں اس کو جون ایلیا کی جگالی نہ سمجھیں, یہ میں ہی ہوں، ہاں میں کہہ رہا ہوں. شعری رو میں بہہ کر نہیں، نزع میں سچ بول رہا ہوں کتاب ذہنی اذیت ہے،  کتاب ایک عفریت ہے. کتاب ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ بھلا میں ایسے کیوں کہنے لگا. کہ یہ آشوب آگہی نہیں ہے. یہ کرب شعور نہیں کہ غم درماں کی فکر کی جائے۔ یہ کچھ بھی نہیں ہے. بس یہ پگھلتے ہوئے موم کی صورت حالات ہے، جس کو سورج کی تپش جلا رہی ہے. نہیں سوچنے دو! یہ مثال ٹھیک نہیں، سورج تو حیات افزاء ہے. دید کی رونقوں کی وجہ ہے.  چلو یہ کہہ دیتا ہوں کہ یہ تڑخا ہوا شیشہ ہے،  بال بردار آئینہ ہے۔ جو اپنی مرضی سے پتھر پر گرا ہے اور اب اپنی کرچیوں میں اپنا وجود ڈھونڈ رہا ہے. کیا یہ آئینہ اب کسی کام ہے؟ تم اس کے کسی ریزے سے کوئی کام لے سکتے ہو؟ اسے آئینہ کہہ سکتے ہو؟ یہ ریزہ اپنے دید کا ہی نہیں ہے.  یہ اب شرمساری کی کہانی ہے اور پتھروں کا رزق ہے۔

مثال چھوڑو، سیدھی بات سنو! ویسے یہ اگر سیدھی بات ہے تو پھر تم سیدھی کی دوسری تعریف ڈھونڈو۔ میری بات بے ربط سی ہے. بے ربط بات سیدھی کیسے ہو سکتی ہے؟  یہ کوئی اچھی بات نہیں، لیکن مجھے اس کی اچھائی پر اصرار بھی نہیں۔ تاہم یہ ہے اور اس کے ہونے سے تم کان نہیں پھیر سکتے۔ ہاں! آنکھیں نہیں کان..!!  پڑھ رہے ہو تو آنکھیں بھی نہ پھیرو…!!!

کتاب نے آدمی کو تقسیم کر دیا ہے. تقسیم ہی نہیں کیا بلکہ تحلیل کر دیا ہے. یہ میں، جو ہوں اس کتاب کا ایک پرتو ہوں، جو  میں ابھی بیچ میں بند کر کے اٹھ کر آیا ہوں. وہ جو آدمی سوچ رہا ہے اور یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ سوچ رہا ہے وہ سوچ نہیں رہا. بلکہ کتاب اس کے ذہن میں گونج رہی ہے. اور اس کا اپنا ذہن ماؤف ہے. وہ کتاب کے آگے سپر انداز ہو چکا ہے اور اب ایک آسیب بن رہا ہے. وہ جو ایک اور آدمی ہے وہ فلسفے کی کتاب کا پرتو ہے، یہ دوسرا سایہ دیکھو! یہ اکنامکس کا ہے، یہ ہیولی مذہب کا ہے اور یہ طبیعات کا آسیب ہے. یہ مابعد الطبیعات کے آسیب کی صورت آدمی ہے. یہ سوچ نہیں سکتے بلکہ یہ پڑھے ہوئے الفاظ کی جگالی کریں گے. یہ سب آدمی مغز چھان لیتے ہیں اور بھوسہ رکھ لیتے ہیں. ان کی چھلنیوں کا طریقہ الگ ہے. یہ تم پر کتاب کا بھوسہ لادنے کی کوشش کریں گے. یہ آدمی نہیں ہیں. یہ کتابوں کے سایے ہیں. یہ آسیب تم پر چھانے کی خواہش میں مرے جا رہے ہیں۔

ہر سایہ اپنے ہونے اور برتر ہونے اور بہتر ہونے میں مگن ہے. ہر آسیب اپنی تاریکی میں اضافہ کئے جانے پر مصر ہے اور اس افزونیء تیرگی کو منوانے پر بضد ہے. ہر کوئی مصر ہے کہ اس کا پڑھا ہوا،  اس کا سمجھا ہوا ہے اور اس کا سمجھا ہوا، اس کا کہا ہوا ہے اور یہ سب حق ہے.  نہیں!  حق نہیں!! یہ حق کی واحد ممکن صورت ہے.  اس میں ایک اور سایے ایک اور کتاب کے اضافے کے سوا کچھ ممکن نہیں۔

آدمی کا تخیل مر رہا ہے۔ آدمی کی حسیات دم توڑ رہی ہیں، وہ کتاب کا اسیر ہو رہا ہے۔ وہ اچھے برے سے بے نیاز کتاب پڑھ رہا ہے۔ وہ علم اور عمل سے دور، بس کتاب میں مگن ہے۔ وہ جاننے والوں اور نہ جاننے والوں کے فرق کو پاٹ رہا ہے۔ وہ پڑھ رہا ہے اور اسے نہیں معلوم وہ کیا پڑھ رہا ہے؟  کیوں پڑھ رہا ہے؟

یہ کتابی آسیب، آدمی ہونے کو اچھا نہیں مانتا.  یہ کلی آدمی کو تو بالکل نہیں مانتا کسری آدمی اس کو کسی حد تک گوارا ہے۔ یہ ایک ہی آدمی کا بڑا ہونا، چھوٹا ہونا، اچھا ہونا، برا ہونا، لازمی ہونا اور غیر لازمی ہونا نہیں مانتا. یہ مانتا ہے تو حق پر ہونے کو،  حق!  جو ابھی وہ کتاب سے پڑھ کر آیا ہے. یہ نہیں مانتا کہ سایہ حقیقت نہیں ہو سکتا. یہ نہیں مانتا کہ آدمی حقیقت ہو سکتا ہے اور یہ کتاب کا آسیب ہونا بھی نہیں مانتا۔

یہ کتابی سایے تمھارے کس کام کے ہیں؟ کیا آسیب سے کوئی کام لیا جا سکتا ہے؟ سوائے ذہنی بربادی اور پراگندگی کے کیا کوئی آسیب کو گلے لگا سکتا ہے؟ کیا کوئی مجھے گلے لگا سکتا ہے؟ میں کہ ایک سایہ ہوں. کتابوں کا سایہ، آدمی ہونے سے مفرورکتابوں کے پرت ہا پرت کا سایہ، لہر در لہر کاغذوں کا آسیب. میں کتابیں پڑھ کر پلا ہوں. پڑھنا اور سمجھنا ہم معنی تو نہیں ہوتے. پھر کیا آدمی کو آسیب بنانا گھاٹے کا سودا نہیں؟ تمھیں اب بھی اصرار ہے کہ کتاب آدمیت پیدا کرتی ہے، کتاب ذہنی افق کو وسعت عطا کرتی ہے، کتاب تنہائی کی دوست ہے، کتاب—— ٹھہرو!!  میں یہ سب نہیں سننا چاہتا.  میں آسیب کی توصیف میں آسیب سے کیا سنوں. میں عالم نزع کا ایک آسیب ہوں اور سچ بولنا چاہتا ہوں۔

سو میری سنو!
کتابیں کاغذوں کا پلندہ ہوتی ہیں اور ان پر آڑھی ترچھی زنجیروں کی کڑیاں پڑی ہوتی ہیں. ہاں جنھیں تم الفاظ کہنے پر مصر ہو. یہ کڑیاں زنجیریں بنتی ہیں. نور کے لبادے میں ناری زنجیریں،.یہ بڑی دلربا ہوتی ہیں. یہ کڑیاں آدمی کے ہاتھ میں ہوں تو واقعی ناری زنجیریں ہیں، جن سے آسیب باندھے جاتے ہیں، لیکن تم دیکھ رہے ہو کہ یہ کتابوں کے آسیبوں کے قبضے میں ہیں اور آدمی کو قیدی کرتی جا رہی ہیں۔ یہ زنجیریں ہر کتاب کے ساتھ لمبی ہوتی جا رہیں ہیں اور آدمی آسیب بنتا جا رہا ہے۔ آدمی کا تخیل مر رہا ہے۔ آدمی کی حسیات دم توڑ رہی ہیں، وہ کتاب کا اسیر ہو رہا ہے۔ وہ اچھے برے سے بے نیاز کتاب پڑھ رہا ہے۔ وہ علم اور عمل سے دور، بس کتاب میں مگن ہے۔ وہ جاننے والوں اور نہ جاننے والوں کے فرق کو پاٹ رہا ہے۔ وہ پڑھ رہا ہے اور اسے نہیں معلوم وہ کیا پڑھ رہا ہے؟  کیوں پڑھ رہا ہے؟ کس طرح پڑھ رہا ہے؟ یہ آسیب مجھے کھا رہا ہے اور تمھیں کھا رہا ہے۔ یہ کتابوں کے غول در غول آسیب اب مجھے بہکا رہے ہیں، تمھیں بھی ورغلا رہے ہیں۔ کسی آدمی کو آواز دو!  کسی آدھے آدمی کو آواز دو! چپ رہو! سایے کی آواز سایہ ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: