پنشن اور رسہ کشی —– مدثر سلیم میاں

0
  • 36
    Shares

تایا ستار، پاء سلیم شیخ، انکل دلدار، عبدالغفار نعیم اور میاں سلیم شاکر صاحبان ہیں ریٹائرڈ سرکاری ملازمان۔ روائیتی تیزی طراری سے انجان۔ ہر کسی کے لئے مہربان۔ پنشن کے مسائل سے پریشان ناں کھاندے نیں نان۔ ایس کر کے نئیں ہوندے پریشان۔ تے جیہڑے بیٹھے نیں دفتراں دے وچ بن کے شیطان۔ دل کردا مار کے مکا کڈھ دیواں اوہنا ں دی جان۔

قارئین کرام! اوپر بیان کردہ گردان سے ہر گز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، اور نہ ہی میری ذہنی حالت پہ شک کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ کو اطلاع دیتا چلوں کہ اوپر بیان کردہ ‘نسخہ’ مجھے کسی ‘حکیم’ کی زیارت کے طفیل بھی نصیب نہیں ہوا، بلکہ یہ وہ رونا پیٹنا ہے جو ہر اس سرکاری ملازم کی زبان پر موجود ہے، جس نے سکیل 1 تا 15 تک کسی بھی وفاقی یا صوبائی ادارے میں رزق حلال کماتے ہوئے گزار دی۔ دورانِ ملازمت دو وقت پیٹ بھر کے کھانا بھی نصیب نہ ہو سکا۔ بعد از ریٹائرمنٹ پنشن اتنی ‘منی’ سی طے ہوئی کہ بے چاری ‘ بدنام’ ہوتے ہوتے رہ گئی۔ جس میں حتیٰ المقدورحصہ صرف موجودہ وزیر جرمانہ، جسے مشکل الفاظ میں وزیر خزانہ بھی کہتے ہیں، ہی نہیں بلکہ ہر دور میں ٹھوکا کچھ اس طرح سے کہ منجی ہی ٹھک گئی۔ کی تصویر پیش کرتے چلے آرہے ہیں۔

آپ تصور کریں کہ آپ کسی گھر میں بیٹی، بیٹے،بہن، بھائی، والد یا والدہ، بہو، داماد، ساس، سسر، چچا، چچی،پھوپھا، پھو پھی کی” آسامی” پر ‘تعینات’ ہیں۔ آپ اس گھر میں بیس، پچیس یا تیس سال تک گزار تے ہیں۔ اس کے بعد آپ کی سروس کا دورانیہ مکمل ہو جاتا ہے۔ آپ ریٹائرڈ ہوجاتے ہیں، جیسے ہی آپ ریٹائر ہوتے ہیں۔ آ پ کو کھڈے لائن لگا دیا جاتا ہے۔ وہی دفتر یا گھر، جہاں آپ کے اشارے کے بنا ہوا کو بھی داخل ہونے کی مجال نہ تھی اب وہاں آپ کو ‘نکرے’ لگا کر بٹھا دیں گے۔ آپ کے سگے بیٹے بیٹیاں، آپ کے ساتھ سلوک میں فرق رکھنا شروع کر دیں گے۔ وہی بہو جو ایک ہفتہ قبل آپ کے لئے دو روٹیوں کو دیسی گھی لگا کر دیا کرتی تھی۔ اب سادی ڈیڑھ روٹی آپ کو کھانے کیلئے دے گی۔

آپ اپنی پنشن بنوانے کے لیے اپنے ہی دفتر کے چکر لگا لگا کر مزید ضعیف ہو جائیں گے، لیکن متعلقہ ‘ کلر ک اور صاب’ کی با لترتیب ‘وائف’ اور “Mrs” کو ہی آرام نہیں آئے گا کہ کہیں یہ حضرات دفتر میں بیٹھ کر آپ کی پنشن بنانے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔ رہی سہی کسر اس وقت نکل جائے گی، اگر ریٹائر ہونے والا گھر کا واحد کفیل بھی ہو اوربد قسمتی سے ریٹائر ہونے سے چند دن پہلے ہی اللہ کو پیارا ہو جائے۔ جاتے ہوئے اپنے لواحقین میں سے ایک بھی فرد ایسا نہ چھو ڑ سکے جو بعد میں پنشن کے کاغذات ہی تیار کر سکے۔ بیوہ بے چاری کبھی کسی کی منت کریگی، کبھی کسی کے پاؤں پکڑے گیکہ اس ناہنجار زندگی کی روانی کیلئے دنیا چھوڑ کے جانے والے کی پنشن ہی اپنے نام منتقل ہو جائے۔ کسی بھی ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن کا ملازم ہونے کی حیثیت میں فوت ہونے والوں کو خبردار کیا جا تا ہے کہ و ہ فوت ہونے سے قبل اپنے پسماندگان کو “اکاونٹ برانچ” آڈٹ برانچ” ٹی او آر آفس کے کلرک اور نائب قاصدان سمیت تما م عملہ کی خدمت کرنے کے لئے پیسے دیے بغیر’ ہرگز نہ مریں’۔ اس صورت میں ان کا پنشن کیس “فنڈز” ناں ہونے کی وجہ سے تا خیر کا شکار ہو سکتا ہے۔ مرنے والا مر گیا اور اپنے ورثاء اور دفتر کے ساتھیوں کے درمیان رسہ کشی کا آغاز کر گیا کہ اس کے بعد اس کی باقیات کا وارث کون ہو گا؟ ورثاء کا خیال ہوتا ہے کہ کیونکہ ان کے گھر کا فرد ان کو چھو ڑ کر ہمیشہ کے لئے چلا گیا ہے اس لئے اس کی باقیات پر ان کا حق ہے۔ جبکہ ادارے والے یہ سمجھتے ہیں کہ کیونکہ یہ صا حب جاتے ہو ئے ہمارے ساتھ کام کرتے تھے اس لئے ان کی باقیات کے بھی ہم ہی ‘لاوارث’ ہیں۔

ادارے کا عملہ ورثاء کو کانوں میں سرگوشیاں کر کے بتائے گا “میں کام کر دوں گا، آپ اپنی خوشی سے مجھے جو مر ضی دے دیجئے گا”۔ ان نا عاقبت اندیشوں کو خدا کی لاٹھی کب بے آوازی سے آکر سبق سکھائے گی؟ کب اس ملک میں ایسا زمانہ آئے گا جب ریٹائر ہونے والے ملازمین خواہ سرکاری ہیں یا نجی، ان کے ادا رے انھیں فوری طور پر واجبات ادا کریں۔ کب ایسا قانون بنے گا کہ ریٹائر ہونے والے ملازمین کو در در کے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے؟ ہر سال ہونے والے اضافے، خود بخود ان کی پنشن میں لگا دیے جا ئیں گے؟ کب ایسا نظام نافذ ہو گا کہ پسے ہوئے سفید پوش طبقے کوخواری سے بچانے کے اقدامات کیے جا ئیں گے؟ کب یہ دستور بدلے گا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس؟ کہاں سے وہ آہنی ڈنڈا نازل ہوگا، جو ارضِ پاک میں پلنے والے اس ناسور کے سر وغیرہ پر برسے گا اور مثال عبرت قائم کرے گا۔ آج حالات یہ ہیں کہ بزرگانِ پنشن کسی محمد بن قاسم کی راہ دیکھ رہے ہیں جوان مظلوموں کے منہ سے نوالے چھیننے والے افسران کی سرکوبی کر سکے۔ جو ان لوگوں کو کم از کم اتنی پنشن دلا سکے جس سے یہ لوگ دو وقت کی روٹی تو پیٹ بھر کر کھا سکیں۔

حضرتِ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ “اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر جائے تو بروزِ قیامت مجھ سے پو چھ گچھ ہو گی”۔ جبکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سربراہان کا خیال ہے کہ اگر انھوں نے کسی کو زندہ چھوڑ دیا توان سے سوال جواب ہو گا۔ پاکستان کے حکمرانوں کی حرکات اس شعر کے شاعر سے مرغا بن کے معافی مانگ کر کچھ اس طر ح سے گزارش کر رہی ہیں کہ

دنیا اتے رکھ فقیرا
ایسا بہن کھلون
ٹر جا ویں تے سارے ہسن
کول بہویں تے رون

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: