جنس ، اشتہارات، تانیثیت، مغرب اور ہم : الیاس بابر اعوان

0
  • 29
    Shares

خود بینی بھلے انفرادی سطح پر ہو یا بطور کلی سماجی عمل، بہت سی باتیں ایسی سامنے آتی ہیں جن پر اعتراض کیا جاسکتا ہے۔ خود ترحمی نو آبادیاتی اثرپذیری سے ہوتا ہوا ایک عمل جو مابعد نو آبادیاتی سماج میں سرائیت کرچکا ہے اور اس کے زیر ِ اثرعمومی طور پر ہم مغرب کے ساتھ سماجی معاشرتی تضاد یا بائنری اختراع کرکے اپنے سماجیات کو حقیر ثابت کرنے کی سعی میں صرف ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ علمی اور خاص کر ڈائے ایس پرا (Diaspora) کی تخلیقات میں عمومی Stereotyping بہت وسیع پیمانے پر دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ کہ ڈائے ایس پرا بارے مذکورہ تصور بھی Stereotyping کے زمرے میں آتا ہے تاہم مقامی علمی مباحث اور تخلیقی و بصری بیانیوں میں اس کی شبیہہ نسبتا مدھم بنتی ہے۔

ہمارے ہاں سوشل میڈیا سمیت بصری میڈیا یعنی ٹی وی چینلز اور سینیما وغیرہ کوئی بہت پرانا قصہ نہیں اور ظاہر ہے کہ ہمارا ان اظہاری آزادیوں کے ساتھ تعلق ابھی اتنا پیشہ ورانہ نہیں۔ اشتہارات سمیت پیشتر بصری بیانی ہمارے یہاں خواتین کو جس طرح سے Objectify کرتے ہیں یہ کھیل مغرب سے ہی شروع ہوا یعنی ترقی یافتہ اور مراعات یافتہ Privileged سماج میں اس کی ابتداء خواتین بارے ان کے تصور واضح کرتا دکھائی دیتا ہے۔ Van Heusen ایک معروف امریکی لباس ساز کمپنی ہے جو آج سے ۱۳۶ برس قبل قائم کی گئی تھی۔ اپنی معروف نیک ٹائی کے لیے اس کمپنی نے ایک اشتہار بنایا جس میں ایک مرد بستر پر لیٹا ہوا ہے اور اس نے نیک ٹائی گلے میں پہنی ہوئی ہے، جب کہ ایک خاتون گٹھنوں کے بل بیٹھی ہوئی ہے اور بستر پر اس نے چائے اور دیگر لوازمات رکھے ہوئے ہیں۔ مرد ایک فاتحانہ مسکراہٹ سے خاتون کی طرف دیکھ رہا ہے جب کہ اشتہار پر جلی حروف میں تحریر ہے۔ ” Show her, it is Man’s world”، بظاہر یوں لگتا ہے کہ اس میں نکٹائی کی اہمیت کو دکھایا جارہا ہے جب کہ اس میں عورت کو حقیر دکھایا جارہا ہے۔ لفظوں کے دروں معنوی لچک کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہے اور عورت کو بطورِ سماجی اکائی کو کم تر دکھایا گیا ہے۔

ایسے ہی ایک اور اشتہار ایک معروف کمپنی Kellog کا ہے، جو وٹامن کی گولیاں بناتی تھی۔ اس اشتہار میں ایک خوبصورت عورت کو دکھایا جاتا ہے جس کے ہاتھ صفائی کرنے والا پونچھنا ہے اور اور اس اشتہار کی سرخی ہے ـ’’”So the harder a wife works, the cuter she looks‘‘ یعنی ایک خاتون جتنا گھر کی صفائی ستھرائی کرے گی وہ خوبصورت دکھائی دے گی اور ان کی جسمانی کمزوری کو دور کرنے کے لیے آپ مذکورہ کمپنی کی وٹامن کی گولیاں استعمال کروائیں۔ گویا خواتین ایک مشین سے زیادہ ارفع نہیں۔ ان کا بنیادی کام گھریلو صفائی ستھرائی یعنی گھریلو مزدور ی ہے۔ ایسے ہی ۱۹۷۴ میں معروف جوتے بنانے والی کمپنی Weyenberg Massagic shoes نے جرائد میں ایک اشتہار شائع کیا جس میں ایک خاتون فرش پر لیٹی ہے اور ایک جوتا اس کے منہ کے قریب پڑا ہوا ہے، خاتون مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی ہے۔ اشتہار کی پیشانی پر یہ تحریر ہے ـ ’’Keep her where she belongs۔۔‘‘ اسے وہیں پہ رکھو جہاں اس کی جگہ ہے۔

اسی طرح برطانیہ میں چلنے والے ایک اشتہار میں ایک خاتون کہتی ہے کہ اس نے ۵۶ انچ کی پلازمہ سکرین خریدی ہے تو مرد کہتا ہے کہ اس نے ۹۰ انچ کی اسکرین خریدی ہے چونکہ وہ ایک مرد ہے۔ حالیہ دنوں ایک معروف امریکی بچوں کے لباس کے برینڈ Gap کے ایک اشتہار میں دو بچے دکھائے گئے ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ لڑکے کی تصویر کے ساتھ انگریزی میں تحریر ہے The Little Scholar یعنی چھوٹا اسکالر اور اس کی مزید وضاحت کے لیے شرٹ پر آئن سٹائین کی تصویر چھاپی گئی ہے تفصیلات میں لکھا گیا ہے کہ آپ کا مستقبل شرٹ، اس پر چھپی تصویر اور دانش سے شروع ہوتا ہے جب کہ لڑکی کی تصویر کے ساتھ تحریر تھا The Social Butterfly اور شرٹ پر گلابی رنگ سے G تحریر تھا مزید وضاحت کچھ یوں کی گئی تھی لڑکیاں یعنی شرٹ، لوگو اور کھیل کود کی باتیں۔ مزید ایک معروف سگریٹ برینڈ TIPALET کے اشتہار میں ایک مرد کو سگریٹ کا دھواں خاتون کے منہ پر چھوڑتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور اشتہار کی پیشانی پر یہ الفاظ تحریر ہیں Blow in her face and she will follow you anywhere ۔ خواتین کو ان مذکورہ اشتہارات میں جس حقیر سماجی اکائی کی طور پر دکھایا گیا، یہ کوئی بہت پرانی بات نہیں، اور ۱۹۷۰ کے ایک اشتہار میں تو انتہا ہی ہوگئی ایک معروف لباس ساز برینڈ Mr۔ Leggs کے ایک اشتہار میں فرش پر شیر کی کھال کو پڑا دکھایا جاتا ہے جس کا سر ایک مسکراتی عورت کا ہے اور ایک مرد نے عورت کے سر پر پاؤں رکھا ہوا ہے یہاں مرد کی شکل نہیں دکھائی جاتی محض ٹانگیں دکھائی جاتی ہیں جو Mr۔ Leggs کے خوبصورت ٹراؤزرز سے مزین ہیں۔ اشتہار کا بنیادی متن کچھ یوں ہے ’’Impress your tiger-rug wife with Mr۔

 ایک معروف سگریٹ برینڈ TIPALET کے اشتہار میں ایک مرد کو سگریٹ کا دھواں خاتون کے منہ پر چھوڑتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور اشتہار کی پیشانی پر یہ الفاظ تحریر ہیں Blow in her face and she will follow you anywhere ۔ خواتین کو ان مذکورہ اشتہارات میں جس حقیر سماجی اکائی کی طور پر دکھایا گیا، یہ کوئی بہت پرانی بات نہیںLeggs‘‘

عورت مغربی سماج میں اس وقت بھی بیگانہ تھی جب تانیثی مباحث نے علمیاتی دھارے کو اپنی گرفت میں لیا ہوا تھا۔ ان تمام امثال سے ہمارے سامنے ایک سماج تخلیق ہوتا ہے، جس کی جمالیات کو سبسکرائب کرنے والی اکائیاں بھی دستیاب ہوتی ہیں اور دوسری طرف ۱۷۹۲ میں میری وول سٹون کرافٹ کی کتاب ’خواتین کے حقوق کی حمایت’ شائع ہوتی ہے جس میں مرد لکھاریوں جیسے کہ ملٹن، پوپ اور رُوسو کو زیربحث لایا جاتا ہے کہ انہوں نے کیسے خواتین کی غلط نمائندگی کی۔ اسی دوران ورجینیا وولف نے ۱۹۲۹ میں خواتین کو حصولِ تعلیم اور شادی کے معاملات میں مشکلات پر اپنی پوزیشن کو متن کر رہی تھیں، تو ایک طرف سمن دی بوار کی معروف زمانہ ’ دوسری جنس‘ ۱۹۴۹ میں شائع ہوتی ہے۔ سمن دی بوار بھی ایک بہت دل چسپ کردار ہے، سارتر کے ساتھ سمن کا تعلق کسی سے ڈھکاچھپا نہیں۔ ایک طرف سمن دی بوار خواتین کی محکومیت کا رونا روتی تھیں تو دوسری طرف سارتر کے جال میں خواتین کو پھنسانے میں بھی اپنا کردار ادا کرتی تھیں۔

۶۰ کی دہائی میں تانیثیت کا بنیادی زور ادبی متون میں خواتین کو مغلوب اور کمزور دکھانے کو چیلنج کرنے پر تھا۔ ۷۰ کی دہائی میں پدر سری سماج کی سماجی تشکیلیت پر عمومی ذہن سازی اور اثر پذیری تھا۔ ۸۰ کی دہائی میں جا کر تانیثی مباحث حجتی لہجے سے نکل کر دیگر عملی رویوں یعنی مارکسیت، ساختیات، اور لسانیات میں بھی ربط تلاش کرنا شروع ہوگئے۔ اس تفصیل کو بتانے کا مقصد یہ تھا کہ جہاں علمی اور فلسفیانہ مباحث میں تانیثیت کا دھارا شد و مد سے دکھائی دیتا ہے وہاں بصری بیانیوں کے خلاف مزاحمت اس شدت سے دکھائی نہیں دیتی۔ اگرچہ کہ مذکورہ بالا اکثر اشتہارات بین ہوگئے تھے لیکن ایسی کوئی قانون سازی آج تک ہر دو سماجوں میں ظہور پذیر نہیں ہو سکی جو خواتین بارے ایسے رویوں کو زنجیر کرسکے۔

تانیثیت کی دوسری رو کے ساتھ مغرب میں جنس مرکز صنعت میں بہت ترفع ہوا، آج کے اس مابعد جدید اور سرمایہ دارانہ عہد میں بھی آپ کسی سابقہ جنسی اداکارہ کا انٹرویو سن لیں تو وہ جنس مرکز صنعت سے ناخوش نظر آتی ہے اور جنسی عمل کے دوران مردوں کی طرف سے غیر انسانی رویے کی شکایت کرتی نظر آتی ہیں۔ کچھ ایسا رویہ ہالی ووڈ، بالی ووڈ اور لالی ووڈ کی فلموں میں بھی دکھائی دیتا ہے، جہاں خواتین پدر سر ی ترتیب میں بطور ِجنسی حظ بہم کرنے کا آلہ ہیں یا محض گلیمر کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ بالی ووڈ کی تازہ فلموں میں ایک اصطلاح ’آئٹم سونگ‘ خالصتاََ معاصر معاشی نظام کی اصطلاح ہے یعنی ان گانوں میں پیش کی جانے والی خاتون ایک قابلِ فروخت جنس ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ خواتین بخوشی اور برضا و رغبت ان تمام سرگرمیوں کا حصہ بن کر استعمال ہوتی ہیں۔ فی زمانہ اشتہارات، ادبی متون، مشاعروں، کانفرنسز، سیاسی پارٹیوں اور دفاتر میں خواتین کو کم و بیش ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔ اس سے ایک بات تو طے ہوجاتی ہے کہ تانیثیت کی تیسری لہر بھی اپنے ظہور سے قبل ہی فوت ہوچکی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: