کوہ پیمائی، ٹور آپریٹر، ریسکیو اور الپائن کلب پاکستان ۔ محمد عبدہ

0
  • 33
    Shares

پاکستان میں جب کوئی ٹیم پہاڑ سر کرنے آتی ہے تو وہ پہلے پاکستان کی کسی رجسٹرڈ ٹور کمپنی سے رابطہ کرتی ہے۔ وہ ٹور کمپنی پہاڑ کا نام روٹ پروگرام کی تاریخ کوہ پیماؤں کی تفصیل کے ساتھ جی بی کونسل میں جمع کروا دیتی ہے۔ جی بی کونسل مختلف اداروں سے منظوری کے بعد ٹیم کو اجازت نامہ جاری کردیتی ہے۔ اس کے بعد ٹیم راولپنڈی میں عسکری ایوی ایشن میں 15000 ڈالر ریسکیو فیس جمع کرواتی ہے جو قابل واپسی ہوتی ہے۔ پاکستان آنے پر وہ ٹیم جی بی کونسل یا الپائن کلب پاکستان میں بریفنگ کے بعد پہاڑ سر کرنے روانہ ہوجاتی ہے۔ اور واپسی پر ڈی بریفنگ ہوتی ہے۔

پہلے اجازت نامہ اور بریفنگ ڈی بریفنگ پاکستان ٹورازم میں ہوتی تھی۔ پھر الپائن کلب میں ہوتی رہی ہے۔ اٹھاریوں ترمیم میں صوبوں کو خودمختاری ملنے کے بعد سے اجازت نامہ جی بی کونسل جاری کرتی ہے جبکہ بریفنگ ڈی بریفنگ جی بی کونسل میں ہوتی ہے۔لازم نہیں مگر الپائن کلب میں بھی ہوتی ہے۔ یعنی کوئی بھی ٹیم الپائن کلب کو بتائے بغیر پہاڑ سر کرنے جاسکتی ہے۔ لیکن پہاڑ سر کرنے کے بعد الپائن کلب کو بتانا لازمی ہوتا ہے تاکہ سرکاری طور پر کامیابی کا اعلان کیا جاسکے۔

اسی طرح کسی ایمرجنسی یا حادثے کی صورت میں ٹیم ڈائریکٹ عسکری ایوی ایشن کے ایمرجنسی نمبر پر رابطہ کرتی ہے اور ریسکیو شروع ہوجاتا ہے۔ ٹیم اور عسکری ایوی ایشن کے درمیان ٹورکمپنی رابطہ کا کردار ادا کرتی ہے اور کسی ٹیکنیکل مسئلہ کی صورت میں متعلقہ ملک کی ایمبیسی بھی متحرک ہوجاتی ہے۔ اگر ٹورکمپنی یا ایمبیسی الپائن کلب سے مدد کی درخواست کرے تو الپائن کلب اپنے تجربہ کی بنیاد پر مدد کرتی ہے۔

الپائن کلب پاکستان بنیادی طور پر پاکستان میں کوہ پیمائی کے فروغ اور ٹریننگ کا نان کمرشل نان پرافٹ ادارہ ہے۔ جو پاکستان کے کمرشل ٹورازم میں مداخلت نہیں کرتا بلکہ مسئلہ کے وقت خاموشی رازداری سے مدد کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔

اسی طرح پاکستان کے پہاڑ بہت حساس علاقے میں واقع ہونے کی وجہ سے ریسکیو پرائیویٹ ادارے کی بجائے صرف عسکری ایوی ایشن آرمی کی مدد سے کرتی ہے۔ جو بہت مہارت اور کامیابی سے کررہی ہے۔ عسکری ایوی ایشن ریسکیو کی کال ملتے ہی ریسکیو شروع کردیتی ہے۔ پہاڑ پر ریسکیو کہاں سے کرنا ہے یا کس نے مدد فراہم کرنی ہے۔ ریسکیو کیلے کونسا بندہ کوہ پیما کہاں سے کہاں تک ساتھ جائے گا۔ ہیلی اڑنے سے پہلے عسکری ایوی ایشن متعلقہ ٹوراپریٹر اور پہاڑ پر موجود کوہ پیما سے تمام پلاننگ کرلیتی ہے۔ بعض دفعہ ریسکیو آپریشن شروع ہونے میں دیر ہوجاتی ہے اور یہ دیر عسکری ایوی ایشن نہیں بلکہ ٹوراپریٹر اور کوہ پیما کے آپسی رابطے یا موسم کی خرابی یا حادثے کے مقام کا تعین کرنے سے بھی ہوجاتی ہے۔

تاخیر کی ایک دو وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ حادثہ انتہائی بلندی یا بہت خطرناک مقام پر ہوا جہاں ہیلی آسانی سے نہیں پہنچ سکتا ہے۔ ریسکیو دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک گراؤنڈ ریسکیو دوسرا ہیلی ریسکیو۔ گراؤنڈ ریسکیو میں متاثرہ شخص کو بہت زیادہ بلندی سے نیچے یا کسی مشکل مقام سے ایسی جگہ لانا ہوتا ہے جہاں سے ہیلی اسے اٹھا سکے۔ یہ گراؤنڈ ریسکیو پہاڑ پر پہلے سے موجود دوسرے کوہ پیماؤں نے کرنا ہوتا ہے یا ہیلی نے کسی دوسری جگہ سے بندوں کو لا کر اوپر پہنچانا ہوتا ہے جہاں ہیلی خود نہیں پہنچ سکتا۔ یہ ہر کوئی نہیں کرسکتا بلکہ صرف وہی کرسکتے ہین جن کا جسم اس وقت بلندی کا عادی ہوچکا ہو۔ ہیلی ریسکیو میں بھی ہیلی کے اڑنے کی اور پہاڑ کے قریب جانے کی ایک لمٹ ہے۔ جہاں تو صرف ہیلی ریسکیو کی ضرورت ہو وہاں فوراً عملدرآمد ہوجاتا ہے اور جہاں گراؤنڈ اور ہیلی ریسکیو ایک ساتھ ہو وہاں پلاننگ اور تیاری کرنے میں دیر ہوجاتی ہے۔

عسکری ایوی ایشن نے ماضی میں ایسے ریسکیو بھی کئے ہیں جنہیں ناقابل یقین ریسکیو کا درجہ دیا جاتا ہے۔ بہت سارے مواقع پر تو آرمی کے ہیلی کاپٹر اپنے روٹین کے مشن کے دوران بھی مقامی پورٹر اور غیرملکی کوہ پیماؤں کو بلامعاوضہ ریسکیو کرتے رہے ہیں۔ اور بعض دفعہ تو سرکاری کاروائی کے بغیر زاتی درخواست پر بھی ریسکیو کرلیا جاتا ہے۔ اگر کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنے کے حوالے سے دیکھا جائے تو پاکستان میں ریسکیو کرنے کی کارکردگی نیپال سمیت دنیا بھر سے بہت بہتر اور پروفیشنل ہے۔

حالیہ نانگاپربت حادثے پر بہت ساری آرا سننے میں آرہی ہیں۔ اس مضمون کی روشنی میں ریسکیو اور الپائن کلب پاکستان کا کردار سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: