میرا پہلا ہوائی سفر : عابد آفریدی

0
  • 19
    Shares

چند سال قبل پہلی بار جہاز کے ذریعے سفر کا موقع ملا “بھرم بازی جیب خالی” والے طبقے سے تعلق ہے ہمارا۔ لہذا پکا ارادہ کیا کہ جتنا ہوسکے لوگوں کو اپنے متعلق یقین دلانا ہوگا کہ ہم بس جہاز کے ذریعے ہی سفر کرتے ہیں۔ ساتھ ایک انگریزی ناول بھی اٹھالیا جو ہم نے اردو بازار ریڑھی سے دس روپے کا خریدا تھا۔

چہرے پر ایک جداگانہ طمطراق سجائے ائرپورٹ میں داخل ہوے۔ ٹکٹ دکھایا اور لاؤنج میں بیٹھ گئے۔ ہم سے چائے کا پوچھا گیا۔ جس پر ہم نے ساتھ بسکٹ لانے کا بھی کہہ دیا۔ جب قیمت معلوم ہوئی تو دل بیٹھ گیا۔ چائے سو روپے بسکٹ ساٹھ روپے، ایک لمحے کے لئے چہرے سے وہ رعب و دبدبہ رفو ہوگیا اس کی جگہ اورنگی کی بے چارگی نے لے لی۔ مگر خود کو سنبھالا اور بل ادا کردیا۔

اعلان ہوا کہ پیسنجر جہاز میں سوار ہوجائے۔ میں بہت زیادہ خوش تھا۔ مگر خوشی کے اظہار سے قاصر تھا۔ کیوں کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ معلوم پڑے یہ ہمارا پہلا ہوائی سفر ہے۔

یہ جان کر خوشی دوگنی ہوگئی کہ مجھے ونڈو سیٹ “الاٹ” ہوئی ہے۔ اکثر بسوں میں ہم کھڑکی والی سیٹ کے لئے لڑے ہے۔ مگر یہاں بنا کسی مزاحمت کے اس نعمت سے دوچار ہوئے۔

میں کھڑکی سے باہر ائرپورٹ دیکھنے میں مصروف تھا۔کہ اس اثنا میں ایک شخص آکر ساتھ والی سیٹ پر بیٹھ گیا۔ اپنا تعارف یوں کروایا۔ میں فلاں پاک ارمی میں کیپٹن ہوں۔ کچھ دیر سستاے جمائی لی اور آنکھیں بند کردیں۔ اس حرکت کو دیکھ کر میں نے خود کو نادیدہ محسوس کیا۔ اور مجھے یقین تھا کہ اس فوجی نے بھی مجھے نادیدہ ہی پایا ہوگا۔
مجھے بھی آنکھیں موند لینی چاہیے تھی۔ یا پھر کتاب پڑھنے میں مصروف رہنا چاہیے تھا۔

اب سوال یہ تھا کہ کیسے فوجی کے دماغ میں بٹھایا جائے کہ یہ ہمارا پہلا نہیں بلکہ ایک سو چھتیسواں سفر ہے۔ “میں نے ذرا جھنجھلاتے ہوئے کہا یہ کیا کباڑہ جہاز ہے اس میں تو پردے بھی نہیں کہ بندہ ایک لمحہ آرام کرسکے”
میری اس بات پر فوجی نے اپنی ایک آنکھ کھولی مجھے دیکھا۔ “کہا اخبار چہرے پر رکھ لو”
“میں نے مزید بات کو آگے بڑھایا”
کہا بھائی جان جہاز تباہ حال ہے، میں پچھلے دنوں کوئٹہ سے کراچی امارات ائیرلائن میں آیا تھا اس کی بات ہی کچھ اور تھی، پھر سوات اسی جہاز میں گیا۔

“نجانے کیوں میرے منہ سے سوات اور امارات ائرلائن کا ہی نام نکلا، اس نے بتایا سوات میں ان دنوں آپریشن جاری ہے۔ جہاز تو کیا پرندہ بھی نہیں جاسکتا، دوئم یہ کہ امارات ائرلائن اندرون پاکستان کب سے اڑنے لگے؟
میرا یہ جھوٹ پکڑے جانے پر شرمندگی کے باعث مجھ پر غنودگی چھانے لگی۔ ایسا چھپ ہوا کہ ہونٹ خشک ہوگئے۔ اللہ بھلا کرے فوجی کا اس نے بھی آنکھیں بند کرلی اور چہرے پھیر لیا۔

جہاز کو رن وے پر لایا گیا جس کے بعد اڑان بھرنے کے لئے کم رفتار میں روانہ ہوا کہ اچانک ایک زور کا جھٹکا لگا جیسے پشت سے کسی دوسرے جہاز نے ٹکر ماری ہو۔ جھٹکا لگتے ساتھ ہی مڑ کر پیچھے دیکھا۔ ایسا کچھ نہ تھا سب مسافر پرسکون تھیں۔ کوئی دعا مانگنے میں مصروف تھا تو کوئی سیٹ بیلٹ باندھنے میں۔ میں واپس مڑا تو شرمندگی کا ایک اور طمانچہ میرا منتظر تھا۔ وہ فوجی آنکھیں بند کئے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ من ہی من میں نے خود گالیاں دی مایوسی کی ہنسی بھی آئی مگر دبا دی۔

اب کے بار میں نے تہیہ کرلیا کہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ فوجی کی نظروں میں دوبارہ حاصل کرنی ہے۔ مگر مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایک کڑا امتحان اور آنے کو ہے۔

جب جہاز خاصی بلندی پر پہنچ گیا تو میں نے ایک نظر کھڑکی سے باہر دوڑائی بلندی دیکھ کر میری طبیعت ذرا ڈگمگائی، جلدی سے نظریں پھیر لی اور آنکھیں بند کرلیں۔

ٹیک لگا کر ذہن کو منتشر کرنے میں جت گیا، مگر کوئی ترکیب کام نہ آئی، بار بار بلندی کی وحشت دماغ میں گھس رہی تھی وہ کھڑکی جیسے میں نے نعمت تصور کیا تھا اب ایسا لگ رہا تھا جیسے جہنم کا اژدھا میرے پہلوں میں منہ کھولے بیٹھا ہو۔ ہر کچھ دیر بعد مجھ سے کہتا ہو۔ “اے ادھر دیکھ نا”۔ “آ مجھ میں سما جا”۔ طبیعت مزید خراب ہوگئ۔ گھٹنوں سے باریک پسینے کی بوندیں بہنا شروع ہوئیں۔ یہاں تک کہ پیشانی بھی تر ہونے لگی۔ جب دیکھا کہ حالات قابو میں نہیں آرہے تو ان تمام آیات و کلمات کا ورد شروع کردیا جو علاقہ مسجد کے مولانا صاحب نے سکھائی تھیں۔ یہاں تک کہ بیت الخلا آنے اور جانے کی دعائیں بھی پڑھ کر خود پر دم کردیں۔

خیر سے طبیعت میں کچھ بہتری محسوس ہوئی پسینہ کچھ خشک ہوا۔ دھڑکنیں بھی اپنی اصلی حالت پر بحال ہوگئیں۔ جب سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔

فوجی کو متاثر کرنے کے پینترے سوچنے لگا۔ جب کافی سفر کاٹ گیا۔ میں نے جھوٹ موٹ کی ایکٹنگ کرلی۔ فوجی کے سامنے کچھ انگریزی جھاڑی، فوجی کو بھی کچھ یقین ہوگیا۔

فوجی دوبارہ سوگیا میں نے فاتحانہ انداز میں ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر اخبار پڑھنا شروع کیا۔ سرخیاں ابھی پڑھ ہی رہا تھا کہ اچانک جہاز نے جھٹکے کھانا شروع کردئے۔ جس کے ساتھ گڑگڑاہٹ بھی سنائی دی۔ میرے منہ سے بےساختہ اور با آواز بلند “اللہ خیر” کے جملے نکلے۔ دھڑکن ایک بار پھر اتنی تیز ہوگئی کہ دل پسلیوں سے ٹکراتا محسوس ہو رہا تھا۔ اوپر سے پائلٹ نے یہ اعلان کیا کہ اپنی اپنی سیٹ بیلٹ باندھ لیں موسم خراب ہے۔

اللہ اکبر !!!!
یہ اعلان میرے لئے موت کا اعلان تھا۔ منہ کا ذائقہ اچانک یوں بدل گیا جیسے کسی نے کالی مرچیں پیس کر مٹھی بھر میرے منہ اور ناک میں ٹھونس دی ہوں۔ حلق ایسا خشک ہوا کہ دو کلو گھی نگلنے کے بعد بھی تھوک نگلنے پر آمادہ نہ ہو۔ اب مجھ پر خوف طاری ہوگیا۔ دل کی دھڑکن کپکپی میں بدل گئی۔ چہرے کا رنگ زرد پڑھ گیا انکھیں بند ہوگئی۔ سیٹ کو یوں کس کے پکڑا جیسے اوپر سے گر چکا بس زمین پہ لگنے کا انتظار ہو۔ میں کسی بھی قیمت پر آنکھیں کھولنے پر تیار نہ تھا۔

من میں گڑگڑا کر اللہ سے دعائیں مانگ رہا تھا کہ اے اللہ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ ایک بار خیریت سے اتار دیں۔ اس کے بعد میری نسلی توبہ کے ہوا میں اڑتے ہوے جہاز کو بھی دیکھوں۔ بس ایک موقع آج دے دو میرے رب۔ اور اس دوران میں نے چالیس دن چار مہینے بلکہ پوری زندگی اللہ کی راہ میں وقف کرنے کا پکا ارادہ بھی کرلیا۔

میں اس ذہنی ہیجان و کوفت کے سامنے گھٹنے ٹیکے معافیاں مانگ رہا تھا۔ کہ فوجی نے میرے کندھے کو ہلایا اور پوچھا جوان خیریت تو ہے۔ مشکل سے میں نے آنکھیں کھولی اپنی سہمی ہوئی شکل کو اس کی جانب موڑا۔ جیسے دیکھتے ہی فوجی کے چہرے پر مسکراہٹ اگئی۔

مجھے اس کی مسکراہٹ کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ میں چیخ چیخ کر بتانے کے لئے تیار تھا کہ میں اورنگی ٹاون کا کنگلہ ہوں۔ امیر دکھنے کی ایکٹنگ کررہا تھا۔ میں نے فوجی سے صرف اتنا عرض کیا “بھائی جان اور کتنی دیر لگے گی”

یہ سنتے ہی فوجی کھلکھلا کر ہنسا اور میں اس کی ہنسی تھمنے کا انتظار کرتا رہا۔ فوجی کی اس ہرکت پر میں نے دل میں ایک اور دعا مانگی “کہ اللہ اس فوجی کا ٹرانسفر وزیرستان کے کسی خطرناک علاقے میں کروادیں”

بہرحال اس دوران پائلٹ نے برے وقت کے گزرجانے خوشخبری سنائی لہذا دم میں دم آیا۔ سکھ کا سانس لیا۔ اور اللہ سے کیا ہوا وعدہ یاد کیا کندھوں پر موجود فرشتوں کو یقین دلایا کہ میرا ارداہ پکا ہے اپ وہ ارادے والی نیکیاں لکھ لیں۔
یوں یہ سفر اس نشیب و فراز کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔ ہر بار کے موسمی زحمت نے ہماری حقیقت پر سے پردہ اٹھایا۔ تھوڑی جنبش محسوس ہوتی تو پسینوں کا دور شروع ہوتا۔ اور فوجی ہماری اس کفیت سے خوب لطف اندوز ہوتا۔ تسلی دیتا مذاق اڑاتا۔

ایک بار تو معاملہ یوں ہوا کہ جہاز نے عین اس وقت جھٹکے کھائے جب ایک خاتون فوڈ ٹرالی کو دھکا دیتے ہوئے مسافروں کے بیچ آگئ۔ ہم یہ سمجھے شاید اس بار پرواز میں کوتاہی اس ٹرالی کی وجہ سے ہو رہی ویسا بھی اقبال نےتو کہا تھا کے اس رزق سے موت اچھی، ہم نے آو دیکھا نا تاو، سیٹ سے چھلانگ لگائی اور ٹرالی واپس دھکیلنا شروع کردی، وہ بیچاری ائرہوسٹس مجھے منع کرتی رہی اور میں کچھ سننے کو تیار ہی نہ تھا۔ پسینجرز نے مجھے پکڑا سمجھایا کہ سب ٹھیک ہے اپ اپنی جگہ بیٹھ جائے۔ اس حرکت سے ہماری حقیقت تمام مسافروں پر کھل گئی۔ ہماری وہ نقلی وضعداری تار تار ہوگئی۔ جو ہم ادھار کی لائے تھے۔

جب جہاز خیریت سے لینڈ ہوگیا اور مجھے یقین آگیا کہ اب ہم زمین پر ہیں۔ تو فوجی نے مجھ سے پوچھا جی جناب اب خوش؟ اس سوال سے میرے چہرے پر بلکل وہی مسکراہٹ آئی جو شعلے فلم میں کالیا کے چہرے پر اس وقت آئی تھی جب وہ گولی کھانے سے بچتا ہے۔

جہاز سے باہر نکلا تو میری پہلی خواہش یہ تھی کہ فوجی کا چہرہ مزید نہ دیکھوں۔ میں اس بس میں سوار ہوا جو پسینجرز کو رن وے سے لاؤنج تک لاتا ہے۔ وین میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ناول جو بھرم کے لئے اٹھایا تھا۔ اسے وہ فوجی کھولے پڑھ رہا تھا۔ ایک نظر صفحات کو دیکھتا اور ایک انتہائی شیطانی ہنسی سے بھرپور نظر مجھ پر ڈالتا۔
اور میں ڈنڈا پکڑے کھڑا خود کو عبداللہ کالج کی وہ لڑکی محسوس کررہا تھا جو بارش میں بیھگا بدن لیے بس اسٹاپ پر کھڑی ہوکر ظالم نظروں کو سہہ رہی ہو۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: