مجید کا کھوکھا اور قائد اعظم یونیورسٹی: شبیر حسین لدھڑ

0
  • 468
    Shares

Shabbir Hussain Ludharh

1973 میں جہاں پاکستان کو نیا آئین ملا، جہاں جمہوریت نے پروان چڑھنے کی کوشش کی وہیں مجید نامی ایک شخص نے بابائے قوم کے نام سے بنی جامعہ میں بھی پکوان بنانے کی بھی ابتداء کی۔ 1973 میں ایک ڈھابے نے چند کیتلیوں اور جھونپڑی کے لباس میں اس وقت کی پہلی ریسرچ یونیورسٹی میں سڑک کے دائیں جانب آنکھ کھولی، تو دور دراز سے آئے ریسرچ کےمتوالوں کے لئے اس وقت کے جنگل میں یہ جھونپڑی PC ہوٹل سے بھی زیادہ اہم بن گئی تھی۔

وقت نے دھیرے دھیرے رفتار پکڑی تو QAU میں پی ایچ ڈی اور ایم فل کے بعد ماسٹرز کے پروگرام کا بھی اجراء ہوا تب مجید صاحب نے بھی دیکھا کہ اب تو پتلون میں آئے طلبہ طلبہ پیالی کی بجائے کپ کی مانگ کررہے ہیں تو کیوں نہ تھوڑا تھوڑا کام کو بڑھا دیا جائے بس پھر کیا تھا۔

مجید مجید مجید ہوتی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے QAU کے ساتھ ساتھ مجید ہٹس بھی ایک خاص پہچان اختیار کرتا گیا۔

جامعہ قائداعظم کے طلبہ کے لیے یہ واحد جگہ تھی جہاں وہ بیٹھ کر کھانا بھی کھاتے اور پڑھتے بھی۔ یوں دھیرے دھیرے افسانے بنتے گئے۔ دنیا ترقی کرتی گئی اور وقت کی گھڑی بھی رواں رہی۔

بس پھر کیا تھا_ 1980 سے لے کر اب 2018 تک 45 سال کے اس ہٹس نے عروج و زوال کی کئی داستانیں دیکھیں۔ اس ہٹ نے قائداعظم یونیورسٹی کا ہر دور دیکھا، اس نے ہر رنگ ہر نسل اور ہر علاقے کے طالب علم کو ایک ہی پلیٹ میں کھانا کھلایا۔ اس نے ہٹس پر ڈنڈوں اور سوٹوں کے ساتھ دوست کو دوست بھی مارتےہوئے دیکھے، اس نے یہاں وہ لوگ بھی دیکھے جو آج پوری دنیا میں ملک اور قوم کے نمائندے بن چکے ہیں۔ اس نے یہاں وہ وہ محبت کے جوڑے بھی دیکھے جو محبت کے پاک رشتے میں آنے کے ازدواجی زندگی میں جڑ کر اب پانچ پانچ بچوں کے والدین ہیں اور اسی جامعہ میں درس و تدریس میں مگن ہیں، جبکہ کچھ پاکستان کے سرکاری عہدوں پر فائز ہیں اور کچھ باہر کے ممالک میں بسیرا کرچکے ہیں۔

آج کے بہت سے نامور سائسندانوں، سفیروں، استادوں، وزیروں اور نہ جانے کس کس نے یہاں اپنا زمانہ طالب علمی دیکھا سنا ہے کہ چوہدری نثار بھی یہاں پر ایک ٹوکن پر ہی اکتفا کرتے جبکہ گلوکار ابرارالحق نے اپنے گانے کی ابتداء بھی ادھر سے بیٹھے بیھٹے کی۔

آج کے بہت سے نامور سائسندانوں، سفیروں، استادوں، وزیروں اور نہ جانے کس کس نے یہاں اپنا زمانہ طالب علمی دیکھا سنا ہے کہ چوہدری نثار بھی یہاں پر ایک ٹوکن پر ہی اکتفا کرتے جبکہ گلوکار ابرارالحق نے اپنے گانے کی ابتداء بھی ادھر سے بیٹھے بیھٹے کی۔ بات یہاں نہ رکھی اب مجید ہٹس 2018 کی جاری کردہ “رینکنگ آف ہٹس انٹرنیشنل” کے مطابق QAU میں پہلے نمبر پر بدستور موجود ہے۔

یہاں نہ جانے کتنے ہٹس آئے، گئے کون آیا کون گیا کون اس دنیا سے چلا گیا مگر مجید کی (تانگ) آج بھی ویسے ہی ہے۔

1973 سے 2018 تک 45 بہاریں دیکھنے والے بابائے ہٹس جناب مجید ہٹس نے اپنے ذائقے اور معیار میں لوگوں کو گرویدہ بنانے کی بجائے، ان لوگوں کو زیادہ گروویدہ بنایا ہوا ہے جو اتنے شور والی دنیا میں چند پل یہاں اس لیے گزارنے چلے آتے ہیں کہ یہاں ان کا ماضی گزرا ہے، یہاں انہوں نے اپنوں کے ساتھ بہت فن کیا ہے۔

اس لیے آج بھی سبز رنگ کی نمبر پلیٹ والی گاڑیوں سے نکلنے والے بڑے بڑے افسر ادھر آکر اپنے آپ کو طالب علم کہلوانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ ادھر آج بھی وہی رش ہے ادھر آج بھی وہی کہشاں ہے مگر ماضی میں گزرے وقت کی مثال تو نہیں بن سکتے۔

سفید داڑھی میں بیٹھے یہ آدمی مجید صاحب ہیں۔ مجید صاحب نے اپنے ہاتھوں سے نہ جانے کتنے ہزار طلبہ کو کھانا کھلایا اور آج وہی طلبہ بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود مجید صاحب سے جھک کر ملتے ہیں۔
مجید صاحب کی جگہ اب ان کے بیٹوں نے لے لی ہے اور وہ بھی اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس روش کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر کچھ طلبہ ان سے کبھی ہٹس پر صفائی نہ ہونے کا گلا بھی کرتے ہیں۔

قدرتی طریقے سے وجود میں آئے اس ہٹس پر آج بھی قائدین اور ایکس قائدین بیٹھے نظر آتے ہیں جو گزرے پل بھی یاد کرتے ہیں اور کھانا بھی کھاتے ہیں۔

ہمارے ہاں جب کرائسز کا ذکر ہوتا ہے تو ہم دو طرح کے کرائیسز ڈسکس کرتے ہیں۔ پہلے وہ کرائیسز جو دنیا کو درپیش ہیں اور دوسرے وہ کرائیسز جو صرف مجید ہٹس سے ملتے ہیں۔ ان کی ملائی بوٹی بھی اپنی پہچان آپ رکھتی ہے جبکہ چکن لذیزہ بھی کرارہ سا ہے۔

مجید ہٹس پر بیٹھنا لوگ اپنے لیے سعادت سمجھتے ہیں کیونکہ یہاں محبت اور پاکستان کا ہر رنگ ملتا ہے۔ مجید ہٹس کا نام اب دنیا کے مختلف ممالک میں بھی پہنچ چکا کیونکہ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ اب دنیا کی بڑی یونیورسٹیز میں پڑھا بھی رہے ہیں اور اس دہائی کے بہت سے طلبہ پاکستان کے سفارت خانوں میں بطور سفیر بھی تعینات ہیں لہذا جب کبھی بھی کوئی گپ شپ ہو تو مجید کا نام کہیں نہ کہیں ضرور آہی جاتا ہے۔

مجید ہٹس نے اب مجید_ہٹس سے بہت سے مجید_ہرٹس بھی بنادیے ہیں جو کبھی کبھی سکون میں بیٹھے مجید ہٹس پر گزرے ایام یاد کرتے ہیں۔۔

مجید ہٹس اب پی ایچ ڈی ایم فل کے بعد ماسٹرز اور چوتھی نسل مطلب بی ایس پروگرام کے بچوں کو بھی ویلکم کررہا ہے یہی اس کی خوبصورتی ہے کہ اس نے 45 سال کے سفر میں چار نسلوں کو خوش آمدید کہا ہے۔

“چلو آج پھر سے محبت کرلیں ہم دونوں” کے الفاظ سے اتفاق کرتے ہوئے بیسوں سال پہلے پڑھ کے فارغ ہونے والے سیئنیر قائدین کو یہ پوسٹ پڑھ کے جوان ہوجانا چاہیے کیونکہ قائدین کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: