مس مصرو: مارگلہ کے پرستان کی پری —- آصف محمود

0
  • 44
    Shares

برادر محترم فرنود عالم نے خبر دی کہ مارگلہ کے جنگل کا وہ دیومالائی کردار ’’مس مصرو‘‘ اب اس دنیا میں نہیں رہیں اور دل لہو سے بھر گیا۔ دنیابھر کے لیے وہ ’’مس مصرو‘‘ ہوں گی، اس آوارہ گرد کے لیے تو وہ ’’ماں جی‘‘ تھیں۔ ابھی چند ہی روز ہوئے دامن کوہ سے اترتے ہوئے میں نے گاڑی روک کر بچوں کو بتایا کہ وہ دور وادی کے آخری کونے پر ایک برگد کا درخت ہے جس کے نیچے ان کی ایک اور دادی ماں بھی رہتی ہیں، آپ ذرا بڑے ہو جائیں تا کہ پہاڑی راستوں پر چل سکیں پھر کسی دن وہاں جائیں گے۔

پریشانی کے عالم میں فرنود کو فون کر نا چاہا کہ چنگی بھلی تو تھیں، یہ اچانک حادثہ کیسے ہو گیا پھر خیال آیا کہ مس مصرو سے میری پہلی ملاقات آج سے بیس سال قبل ہوئی تھی اور اس وقت بھی ان کے چہرے پر جھریاں آ چکی تھیں۔ تب میں ایک نوجوان تھا جو مارگلہ میں میلوں بھٹکتا آوارہ گردی کرتا تھا۔ آج تو اپنے بالوں میں بھی سفیدی اتر آئی ہے اور عائشہ مجھے تنگ کرنے کے لیے قہقہہ لگا کر کہتی ہے ’’بابا آپ بڈھے ہو گئے‘‘۔ تو اس عرصے میں ظاہر ہے ’مس مصرو‘ کو بھی وقت نے مزید ضعیف کر دیا ہو گا اور وہ کسی روز اس وادی کے تنہا برگد کے درخت کے نیچے آخری ہچکی لے کر اللہ کے دربار میں پہنچ گئی ہوں گی۔ اپنی نادانی پر ہنسی آئی اور میں ٹھنڈی آہ بھر کر چپ سا ہو گیا۔

آپ دامن کوہ پر کھڑے ہوں اور فیصل مسجد کی جانب نگاہ دوڑائیں تو جنگل کے بیچ ایک خوبصورت سی عمارت آپ کو نظر آئے گی۔ یہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا کویت ہاسٹل ہے۔ بائیس سال پہلے جب میں گاؤں سے اسلام آباد آیا تو اس ہاسٹل نے مبہوت کر دیا۔ خوبصورت جنگل، صبح دم کوئل کی مدھ بھری آوازیں، سارا دن بندروں کی شرارتیں، تیز ہواؤں کا شور، تاحد نگاہ پھیلا جنگل اور جنگل پر برستا ساون، ٹپ ٹپ گرتی بوندیں، گاؤں سے آیا طالب علم تو گویا شانت ہو گیا۔ انگریزی ادب کی میں نے کتنی ہی کلاسیں صرف اس لیے بنک کیں کہ بارشوں میں بھیگا مجھے جنگل مجھے بلا رہا ہوتا تھا اور مٹی کی خوشبو سونگھنے میں اس کی طرف دوڑا چلا جاتا۔

’مس مصرو‘ کا پہلی بار میں نے قانون دان دوست وسیم سجاد سے ذکر سنا۔ داستان گو نے نہایت پر اسرار لہجے میں بتایا کہ ہاسٹل کے دائیں جانب سے جو پگڈنڈی اوپر تلہاڑ کی طرف جاتی ہے اس وادی کے آخری کونے پر، بہت آگے جا کر ایک برگد کا درخت آتا ہے۔ اس درخت کے نیچے ایک پراسرار لڑکی اکیلی رہتی ہے، اس کا نام ’مس مصرو‘ ہے۔ جنگل، وادی، برگد کا درخت، پر اسرار سی لڑکی، جی کا جانا تو گویا اسی وقت ٹھہر گیا کہ برگد کے درخت کے نیچے اس پراسرار سی لڑکی کو دیکھنے ضرور جانا ہے۔

ایک صبح ہم دوست چل پڑے۔ سفر کچھ زیادہ ہی طویل تھا۔ ’ مس مصرو‘ سے ملاقات کا تجسس نہ ہوتا تو درجن بھر مقامات ایسے آئے تھے کہ ہم لوگ راستے ہی سے لوٹ جاتے۔ جنگل کی اوپر نیچے جاتی پگڈنڈیوں پر خاصا طویل سفر کر کے ہم وہاں پہنچے جہاں سے برگد کا درخت ہمیں نظر آ رہا تھا اور ساتھ ہی ایک دو کمرے بھی تھے۔ لیکن ادھر سے کتوں کی آوازیں بھی آ رہی تھیں اس لیے آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہو سکی۔ ’مس مصرو‘ کو آواز دینا بھی مناسب نہ تھا کہ بھلا ایک نوجوان لڑکی کو یوں پکارا جا سکتا ہے۔

کافی دیر انتظار کیا کہ شاید کوئی بندہ نظر آ جائے مگر کوئی آدی دکھائی نہ دیا۔
وسیم سجاد نے بتایا کہ واپسی کا سفر اب مشکل ہو جائے گا آگے بڑھیں
تو تھوڑا آگے جا کر ایک سڑک آتی ہے۔ چنانچہ ہم آگے کو چلدیے۔ چند منٹ چلے ہوں گے کہ ایک بوڑھی خاتون آتی دکھائی دی۔ کمر قدرے جھکی ہوئی، ہاتھ میں ایک ڈنڈا، اور دوسرے میں مالٹا۔ ہم نے پاس سے گزرتے ہوئے سلام کیا۔ اس نے جواب دے کر پوچھا بچو ادھر جنگل میں کیا کر رہے ہو۔ ہم نے بیک زبان کہا کہ بس ماں جی ذرا سیر کرنے آئے ہیں۔ لیکن افتخار سید نے جو اب کنگ خالد یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر ہیں مسکرا کر کہا ’’ماں جی یہ جھوٹ بول رہے ہیں یہ ایک لڑکی سے ملنے آئے ہیں۔ ادھر ایک ’مس مصرو‘ رہتی ہے یہ اس کے چاہنے والے ہیں‘‘۔ عورت نے معصوم سا قہقہہ لگایا اور کہا ’’بچو ! میں ہی مس مصرو ہوں‘‘ْ۔ ہم سب کے منہ سے حیرت سے نکلا ’ آپ‘….. اور وادی ہمارے قہقہوں سے گونج اٹھی۔

چند سال بعد میں راجہ عمر اور کامران عباسی کے ساتھ مائی مصرو کے گھر برگد کے درخت کے نیچے چائے پی رہا تھا۔ معلوم ہوا مس مصرو ہفتے میں ایک آدھ دفعہ اسلام آباد کا چکر لگاتی ہیں اور ضروری سامان لے آتی ہیں۔ لیکن مستقل رہائش اسی جنگل میں اسی کٹیا میں ہے۔ وہ وہاں اکیلے رہتی تھیں۔ کچھ جانور بھی رکھے ہوئے تھے۔ میں نے سوال کیا جانور کیوں رکھے ہوں جب کہ اس جنگل سے آپ ان کا دودھ بھی کسی کو نہیں بیچ سکتیں۔ کہنے لگیں یہ میرے ساتھی ہیں۔

خوفناک کتوں کے بارے انہوں نے بتایا کہ پچھلے سال ’باگھ‘ اور چیتے نے اس کے کئی جانور مار دیے اس لیے اب کتے رکھ لیے۔ میں نے کہا کتوں سے شیر اور چیتے بھاگ جائیں گے کیا؟ کہا نہیں بس ان کے بھونکنے سے مجھے پتا چل جائے گا اور پھر میں بندو ق ساتھ رکھتی ہوں۔ میں نے کہا آپ بندوق چلا لیتی ہیں؟ کہنے لگیں بڑا سُچا نشانہ ہے میرا۔ وہ ایک پہر پہلے بتا سکتی تھیں کہ بارش ہونے والی ہے۔ ساری عمر جنگل میں گزار دی، کئی جڑی بوٹیاں ان کے پاس ہوتی تھیں اور انہیں معلوم تھا کس جڑی بوٹی میں کس بیماری کا علاج ہے۔ ہر سوال کا وہ جواب دیتی تھیں لیکن اس سوال کے جواب میں خاموش ہو جاتی تھیں کہ بھریا میلا چھوڑ کر اس جنگل میں کیوں کٹیا آن بسائی اور شادی کیوں نہیں کی۔ وہ کٹیا نہیں تھی یہ جنت کا ٹکڑا تھا۔ دود دور تک کوئی ذی روح نہ تھا، ہوا چلتی تو اس کا شور موسیقی بن کر روح کو شانت کر دیتا۔ یہ مس مصرو کا گھر تھا۔شہر سے میلوں دور خاموش جنگل میں ایک پراسرار عورت کا پر اسرار گھر۔

میں نے چلتے ہوئے کہا آپ کا نام تو ’اماں مصرو‘ ہونا چاہیے تھا آپ ’ مس مصرو‘ کیوں ہیں؟ وہ خاموش رہیں لیکن عمر نے کہا بھئی انہوں نے تو ابھی شادی بھی نہیں کی تو کنواری لڑکی کا نام ’’ مس مصرو‘ ہی ہو گا نا۔ وہ مسکرا دیں۔ کافی دور تک وہ ہمیں الوداع کہنے آئیں۔ دو دو چھوارے بھی ہم سب کو دیے۔ رخصت کرتے وقت کہنے لگیں: محمود پتر آتے جاتے رہنا، مس مصرو سے ملنے۔ میں نے کہا ماں جی یہاں مس شس تو ہے کوئی نہیں آپ نے ویسے ہی اتنا رومانوی سا نام رکھا ہوا ہے۔ ہاں اب ہماری یہاں ایک اماں مصرو موجود ہے اس سے ملنے آتے جاتے رہیں گے۔’ مس مصرو ‘ پھر مسکرائی اور کہا ’’ مس شس سے ملنے کا بڑا شوق ہے تجھے۔ کوئی اسلام آباد سے ڈھونڈ لینا۔اور جب مل جائے تو اسے بھی لے آنا اماں مصرو سے ملوانے‘‘۔

میں اپنی اہلیہ اور بچوں کو ’’اماں مصرو‘‘ کے قصے ہی سناتا رہا اور ان کے پاس جا کر برگد کے درخت کے نیچے بیٹھ کر چائے پینے کا پروگرام ہی بناتا رہ گیا اور آج معلوم ہوا کہ مارگلہ کے جنگل کا یہ طلسماتی کردار اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ وائلڈ لائف والوں نے اس کی کٹیا کو گرا کر آگ لگا دی۔ یہ کٹیا نہ تھی مارگلہ کے جنگل کا حسن تھا جس کے درودیوار پر ایک تاریخ لکھی تھی۔ یہ ایک جھونپڑا نہیں جلا، ہم مارگلہ کے چاہنے والوں کا پرستان تھا جو وائلڈ لائف نے جلا کر راکھ کر دیا۔

میں نے فرنود سے پوچھا وہ کہاں دفن ہیں؟ انہوں نے کہا معلوم نہیں، شاید تلہاڑ کے اس پار۔
خدا اماں مصرو کی قبر منور فرمائے. مارگلہ کا حسن ان کے بغیر ادھورا رہے گا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: