کرکٹ اور ٹیم قیادت کا نفسیاتی تجزیہ: سیدرا صدف

0
  • 85
    Shares

ویرات کوہلی جب انڈین ٹیم میں شامل ہوئے تھے تو ان کے جارحانہ رویے سے بھارتی بورڈ بہت پریشان تھا۔۔۔۔ اپنے خراب رویہ کی وجہ سے کوہلی ایک مرتبہ بھارتی ٹیم سے ڈراپ بھی ہوئے تھے۔۔۔ اس کے بعد کچھ کوہلی نے اپنے رویے میں بہتری پیدا کی، کچھ بھارتی بورڈ کو روی شاستری نے مشورہ دیا کہ آپ ایک باصلاحیت کھلاڑی کو باہر نہ کریں۔۔۔ اس سے وہ مایوس ہو جائے گا۔۔آپ اس کی کونسلنگ کریں۔۔۔۔ شاستری کا بھارتی ڈریسنگ روم میں موجود ہونا اسی پلان کی کڑی تھی۔۔ شاستری کو بعد میں کوہلی کے مشورے پر ہی کوچ کے لیے زیرغور لایا گیا تھا۔۔۔

آج کوہلی بلاشبہ دنیا کا بہترین کھلاڑی ہونے کے ساتھ ایک بہترین کپتان بھی ہے۔۔۔۔۔جوش اور ولولہ ابھی تک ویسے ہی ہے۔۔۔ مگر کوہلی نے اس کی سمت بدل دی ہے۔۔۔۔ جارحانہ طریقے سے خوشی کے اظہار میں کوئی قدغن نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ مگر بالکل ہی آپے سے باہر ہونا بھی درست نہیں ہے۔۔۔ آپ نے دیکھا ہو گا جب سے کوہلی کپتان بنے ہیں ان کے رویہ میں مزید بہتری آئی ہے۔۔۔ مخالف ٹیم کی طرف ان کا رویہ اب دوستانہ ہوتا ہے۔۔۔ بلاوجہ نہیں الجھتے۔۔۔ کھلاڑیوں کو بھی اچھا ہینڈل کرتے ہیں۔۔۔۔۔

آپ دنیا کے بہترین کپتان دیکھ لیجیے، ٹیم کو عمدگی سے ہینڈل کرنا سب سے بڑی خوبی ہو گی۔۔۔۔ سٹیو وا اور پھر رکی پونٹنگ نے شین وران جیسے بدتمیز کھلاڑی کو کس خوبصورتی سے ہینڈل کیا کہ اب شین وران دنیائے کرکٹ کا عظیم لیگ اسپنر مانا جاتا ہے۔۔۔۔ سائمنڈز جیسے اکھڑ کھلاڑی سے کس طرح کام لیا گیا۔۔۔ دھونی کا کیرئیر آپکے سامنے ہے۔۔۔
پاکستان بنام نیوزی لینڈ / 20/ 20 سیریز کے، تیسرے میچ میں حسن علی کو ڈراپ کیا گیا۔۔ کہا یہ گیا کہ پریکٹس سیشن کے دوران، فٹ بال کھیلتے ان کو چوٹ آ گئی ہے۔۔۔۔ جس پر کمنٹیٹر نے دلچسپ تبصرہ کیا کہ ان کو اپنے سوکر سکلز بہتر بنا کر ہی فٹ بال کھیلنا چاہیے۔۔۔

یہ تبصرہ دلچسپ کم طنزیہ زیادہ معلوم ہوا۔۔ اس کی وجہ ایک میچ قبل یعنی دوسرے 20/20 میں سرفراز اور حسن علی کے درمیان ہونے والی خاموش مگر سرد جنگ تھی۔۔۔۔ زیادہ افواہوں پر نہیں جاتے مگر چند لمحات کی سرد جنگ سب نے ضرور دیکھی ہو گی۔۔۔۔ شاید اسی لیے حسن علی کو بطور جرمانہ ڈراپ کیا گیا۔۔۔
سرفراز احمد کو ٹیم میں ہونا ضرور چاہیے۔۔۔۔ ان کے بابت جب وہ ٹیم میں نے نہ تھے، بہت لوگوں نے حمایت میں لکھا تھا کہ ان کو ٹیم میں ہونا چاہیے۔۔۔
بیٹنگ ان کی بہتر ہو رہی ہے۔۔۔۔ ابھی 50% مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے۔۔۔ بہت عجیب و غریب شارٹس اور ٹکنیک آزماتے ہیں جس کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ٹیلنٹ ان میں ہے اس میں کوئی شک نہیں۔۔۔جیت کا جذبہ بھی موجود ہے۔۔۔ محب وطن کھلاڑی ہیں۔۔۔۔۔ حافظ قرآن ہیں ماشاءاللہ۔۔۔ چمپئنز ٹرافی ان کے کریڈٹ پر موجود ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔
مگر صرف ایک بات سرفراز کو سمجھنا ہو گی، کہ پاکستان ٹیم میں ٹیلنٹ کی کبھی کوئی کمی نہیں رہی۔۔ جب بھی اس ٹیم کو درست سمت دی گئی، ٹیم نے کارنامے سرانجام دیے۔۔۔ بھلے وہ انگلینڈ کو وائٹ واش کرنا ہو۔۔ ساؤتھ افریقہ میں ون ڈے سیریز جیتنا ہو، 20/20 ورلڈ کپ جیتنا ہو، بھارت کو اس کی سرزمین پر ہرانا ہو۔۔ ایشون کو دو چھکے مار کر بھارت کے خلاف تاریخی فتح ہو۔۔۔ یا پھر ایشیا کپ جیتنا ہو۔۔ جب بھی کھلاڑیوں کو جوش دلا کر درست سمت میں لے جایا گیا انھوں نے ملک کا نام روشن کیا۔۔۔

یعنی کل ملا کر یہ بات سرفراز جان لیں کہ چمپئنز ٹرافی نہ تو ہماری پہلی کامیابی ہے نہ ہی آخری۔۔۔۔ اس ٹیم کو ابھی بہت آگے جانا ہے۔۔۔ اور میری خواہش ہے، سرفراز کی قیادت میں پاکستان ہر فارمیٹ کی بہترین ٹیم بنے۔۔۔۔
مگر سرفراز کو تھوڑا سا اپنا رویہ بہتر کرنا ہو گا۔۔۔ان کی بیٹنگ پر ابھی سوالیہ نشان برقرار ہے۔۔۔ کھلاڑیوں پر غیر ضروری چڑھ دوڑنے سے گریز کریں۔۔۔۔ ایک بالر اوور کی ہر بال اچھی نہیں ڈال سکتا۔۔ دوسرے بلے باز بھی کھیلنے آتے ہیں۔۔۔ ایک بہترین گیند پر بھی باؤنڈی لگ سکتی ہے۔۔ جب مذکورہ میچ میں محمد عامر ٹیلر کے کیچ کی اپیل کر رہے تھے۔۔ ٹیلر کے بلے کی آواز عامر نے سنی وہ اپیل کرنے پر فوکس تھے۔۔۔ ٹیلر کریز سے باہر تھے۔۔ سرفراز کے پاس بال گئی۔۔

سرفراز اگر دستانے اتار کر تھرو کرتے تو میرا خیال تھا ٹیلر رن آؤٹ بھی ہو جاتے۔۔مگر انھوں نے دستانہ اتارے بغیر تھرو کی۔۔ جو کہ کمزور تھرو ہوتی ہے۔۔۔۔ ایک اسکول لیول کا وکٹ کیپر بھی جب تھرو کرتا ہے سب سے پہلے دستانہ اتارتا ہے تاکہ قوت سے تھرو ہو سکے۔۔۔ بہرحال عامر اپیل کر رہے تھے۔۔۔ سٹمپ مائیک پر سرفراز احمد کا محمد عامر کو کہنا، ابے بال پکڑ سب نے سنا ہو گا۔۔۔۔

بہرحال عامر کی اپیل پر ریویو لیا گیا جو کہ کامیاب ثابت ہوا۔۔۔ سوال یہ ہے جو آواز عامر کو آئی وہ سرفراز کو کیوں نہ آئی؟؟؟
سرفراز کو یہ سمجھنا ہو گا۔۔۔ غلطیاں دوران بیٹنگ اور فیلڈنگ ان سے بھی ہوتی ہیں۔۔۔ یوں ہر وقت کھلاڑیوں پر، تیور چڑھائے رکھنے سے کھلاڑی باغی ہو جائیں گے۔۔۔

سرفراز کو چاہیے تھوڑا سا ٹمپرامنٹ کنٹرول کریں۔۔ وہ بنگلہ دیشی بالرز کو لیڈ نہیں کر رہے ہوتے۔۔۔۔ پاکستانی بالرز کو چھکا یا چوکا لگے تو وہ آلریڈی بہت غصہ میں ہوتے ہیں، کیونکہ جارحانہ باولنگ کرتے ہیں۔۔۔۔۔ بلکہ پاکستانی کیا کسی بھی بالر کو باؤنڈی لگے وہ ڈاؤن فیل کرتا ہے۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے بالر لگاتار پلان کے خلاف باولنگ کرے تو جا کر اس سے بات کریں۔۔۔۔مگر ضروری نہیں ہے ہر گیند کے بعد بھاگ کر جانا ہے۔۔۔
اگر سرفراز اور حسن علی والے واقعہ کی بات کریں تو بےعزتی دراصل سرفراز کی ہوئی ہے۔۔۔۔حسن علی کو جس بال پر چوکا لگا اور جس کے بعد سرفراز ان کی طرف بھاگے گئے، لگ بھگ ویسی ہی بال پر انھوں نے بلے باز کو کلین بولڈ کر دیا۔۔ایک آدھ انچ سے لینتھ مس ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔ بلاوجہ بالر پر چڑھ دوڑنے کی تک میری سمجھ سے باہر ہے۔۔۔ وہ بھی ان بالرز پر جو دنیا کے بہترین بالرز میں شمار ہوتے ہیں۔۔
ہر کھلاڑی کی ایک عزت نفس ہوتی ہے۔۔۔۔ جونیئرز کھلاڑی، سنیئر کھلاڑی، پھر اہم کھلاڑی۔۔۔۔ان سب کو الگ انداز سے ڈیل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔ اور پھر سب سے بڑھ کر ہر کھلاڑی کو اس کی نفسیات کے مطابق ڈیل کرنا بہت ضروری ہے۔۔۔۔

ہار پر کپتان ذمہ دار ہوتا ہے بالکل درست ہے۔۔۔ اور کپتان کا یہ حق ہے وہ غفلت برتنے والے کھلاڑیوں سے بازپرس کرے۔۔۔ مگر انسانی غلطی جو کسی سے بھی ہو سکتی ہے اس پر چڑھ دوڑنا غلط ہے۔۔۔۔
سرفراز کو اپنے جذبات کو کنٹرول کرنا ہو گا۔۔۔۔ جوش ایک حد تک ہی درست رہتا ہے۔۔۔ ایک کیچ ہونے سے قبل سرفراز فیلڈر کے پاس پہنچ گئے تھے۔۔۔اگر کیچ ڈراپ ہو جاتا تو کتنا مذاق بنتا۔۔۔۔۔

کرکٹ بورڈ کو اس ایشو کو سنجیدہ لینا چاہیے۔۔۔۔ ٹیم منیجمنٹ کھلاڑیوں کو پابند کرے کہ وہ ہر صورت فیلڈ میں کپتان کی بات سنیں۔۔۔۔۔ ساتھ ہی سرفراز کو بھی ہدایت دینی چاہیے کہ اپنا ٹمپرامنٹ کسی قاعدے میں لائیں۔۔۔۔آپ اپنے بہترین کھلاڑی، کسی کے شارٹ ٹمپرامنٹ کی نذر نہیں کر سکتے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: