جماعت اسلامی اور تحریک انصاف میں مماثلت : محمد خان قلندر

0
  • 85
    Shares

پاکستان کی تاریخ میں جماعت اسلامی کا کردار اہم بھی ہے اور متنازعہ بھی ہے۔ اس کے بانی مولانا مؤدودی بلا شک موجودہ دور کے سب سے بڑے مذہبی قسکالر تھے۔ ان کی فکر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم دنیا میں مقبول ہوئی۔ فرقہ پرستی سے ماورا ان کی لکھی تفہیم القرآن، آج بھی مستند ترین تفسیر ہے۔ لیکن کیا وجہ ہے کہ ان کی قائم کردہ جماعت ملکی سیاست میں کوئی مثبت کردار نہیں ادا کر پاتی؟

جب انہوں نے جماعت تشکیل دی اس وقت مذہبی لحاظ سے تین جماعتیں، اسماعیلی جماعت، بوہرہ تنظیم اور احمدیہ جماعت موجود تھیں، چنانچہ جماعت اسلامی کو بھی ابتدائی طور پر انہی جماعتوں کی طرز پر محدود اور مخصوص پیروکاروں کے لئے منظم کیا گیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ کوئی عالم جتنا بھی بڑا اسکالر ہو لازم نہیں کہ وہ دنیا داری کے سارے معاملات بھی پر اتنی گرفت رکھتا ہو اور خاص طور حکومتی سیاسی مروجہ امور بدیہی طور سے دین سے متصادم ہوتے ہیں۔ مؤلانا کی فکر اتحاد اُمت پر مبنی تھی۔ لیکن یہ ایک مثالی سوچ زمینی حقائق، مسلمانوں میں فقہی تقسیم اور فرقہ بندی کے ساتھ جغرافیائی اور سیاسی تقسیم کے مقابل تھی۔

جماعت کے تنظیمی ڈھانچے اور اس میں شمولیت کی کڑی شرائط کی وجہ سے سیاست میں پزیرائی میں رکاوٹ پڑی، اگرچہ رفاہی اور خدمت خلق میں بہت منظم کام کرنے کے باوجود جماعت سیاست میں کامیاب نہ ہو سکی۔

نوجوانوں میں اس کی ذیلی تنظیم جمعیت طلباء نے ملک بھر کی جامعات میں بزور طاقت اثر و نفوذ حاصل کیا جو اب بھی برقرار ہے۔ لیکن اس کا بھی روعمل ہونے سے مہاجر، سندھی، بلوچ، پشتون، مسلم اور پیپلز سٹوڈنٹس تنظیمیں بھی وجود میں آ گئیں۔

وسیع پیرائے میں اگر جائزہ لیا جائے تو جماعت اسلامی کی سیاست اس کے بنیادی فلسفے، رد برائے اصلاح، کی طرح منفی اور احتجاجی نظر آتی ہے۔ اہم ترین پہلو یہ بھی ہے کہ مشرقی پاکستان سے جہاد افغانستان تک اس کے عسکری تعاون اور قادیانی فرقے کے خلاف لاہور میں ہونے والے احتجاج سے لے کر پی این اے، آئی جی آئی میں اور امریکہ مخالف مظاہروں میں ہر جگہ ہراول دستہ ہونے کے باوجود سب سے مؤثر سٹریٹ پاور کی حامل جماعت کبھی بھی ملکی سیاست میں فیصلہ ساز کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں آ سکی۔ مولانا مؤدودی کی عہد ساز شخصیت اور فکر و دانش کا اثر دینی علمیت تک ہی محدود رہا۔

اس کے مقابل کٹر مذہبی فقہی پارٹی جمیعت علماء اپنی تقسیم در تقسیم کے باوجود، دو مرتبہ کے پی اور بلوچستان میں حکومت بنانے میں کامیاب بھی ہوئی اور مسلسل حکومتی اتحادوں میں شامل چلی آ رہی ہے۔

اس تناظر میں تحریک انصاف کا جائزہ لیں تو سوائے کے پی میں حکومت بنانے کے اس کا سیاسی رویہ بھی منفی سیاست اور مسلسل احتجاج کا ہے، اس کے پاس بھی نوجوانوں کی بہت بڑی فالونگ ہے، عمران خان بلاشبہ دنیائے کرکٹ کے بہت بڑے سٹار ہیں، پوری دنیا میں کرکٹ کے حوالے سے وہ بہت جیّد نام ہیں، دوسرا انفرادی اعزاز رفاہ عامہ کے لئے خدمت خلق ہے۔ شوکت خانم دنیا کا بہترین کینسر ہسپتال پہلے بنانا اور پھر اسے کامیابی سے چلانا اپنی مثال آپ ہے، پھر میانوالی جیسے پسماندہ علاقے میں سٹیٹ آف آرٹ یونیورسٹی کا قیام، اس کا دنیا کی سرفہرست یونیورسٹی سے الحاق بھی گراں قدر کارنامہ ہے۔ نوجوانوں کو بالعموم اور متمول طبقے کو سیاست میں متحرک کرنا اور سٹریٹ پاور مجتمع کرنا بھی بےمثال کار کردگی ہے۔

لیکن یہ سب کامیابیاں تو کم و بیش، جماعت کے کھاتے میں بھی موجوود ہیں۔ خدمت خلق کے لئے اکٹھی کی جانے والی قربانی کی کھالوں کی تعداد میں فرق ہو سکتا ہے لیکن ‘رد برائے اصلاح’ کا نظریہ یکساں ہے۔

جماعت اسلامی اتنے برس سے، اپنی تمام تر انتظامی اور نظریاتی خوبیوں کے ساتھ اگر منفی اور احتجاجی سیاست سے کچھ حاصل نہی کر سکی تو تحریک انصاف اس سے کون سی تبدیلی لے آئے گی؟ جس کی ساری سوچ کا محور یہ ہے کہ ریسلنگ کے ورلڈ چمپیئن کو پاکستان کی افواج کا سپہ سالار بنا دینا چاہیئے۔

عمران خان اپنے آپ کو عقل کُل اور کردار کا ولی سمجھتے ہیں، وہ نہ صرف تمام سیاسی اکابرین کو بلکہ دیگر سب پارٹیوں کے ورکرز کو لائق تضحیک، کُرپٹ اور نااہل سمجھتے ہیں سوائے اُن کے جو ان کے پہلو نشین ہوں۔ ملک کے سماجی ڈھانچے، روایات اور ذات برادری کی اہمیت سمجھنےسے وہ یکسر نابلد ہیں۔ یہ اندازہ کرنے سے بھی قاصر ہیں کہ جماعت اپنے جوانوں کے ساتھ جو پر تشدد کاروائیوں میں یکتا اور تجربہ کار ہیں اگر کوئی الیکشن نہیں جیت پاتی تو ان کے ٹائیگرز اور ٹائیگرس کیا کر لیں گے؟ جب اس گرم ماحول میں الیکشن پر امن ہر گز نہیں ہوں گے۔

اب اگر جماعت اور تحریک کے مثبت پہلوؤں کا بھی تقابلی جائزہ لیا جائے تو منظر اور واضح ہو جائے گا۔ جماعت اسلامی کے پاس مولانا مؤدودی کی اتحاد اُمت کی فکر ہے جو پان اسلامک دنیا میں مقبول ہے۔ برصغیر اور دیگر مسلم ممالک میں اس مکتبہء فکر کے سیکڑوں جیّد علماء گزرے اور موجود ہیں، جماعت کا شورائیت کا مربوط نظم ہے، ایک منضبط نصاب ہے، ہر شہر میں اس کے ذمہ داران وہاں کی معتبر شخصیات ہیں، لیکن جماعت میں کوئی شخصیت پرستی کی وبا نہیں ہے۔

جماعت سے تعاون کرنے والے، اسکی مالی معاونت کسی شخصیت کے سحر و اثر کی وجہ سے نہیں بلکہ جماعت کی رفاعی سرگرمیوں کی وجہ سے کرتے ہیں۔ لیکن تحریک انصاف میں نہ صرف تنظیم کا فقدان ہے بلکہ اس کا مشتہر منشور بھی یک نکاتی ہے، عمران خان اب سرٹیفائیڈ صادق اور امین ہیں اس لئے ان کو ملک کا وزیراعظم ہونا چاہیئے تاہم رموز مملکت چلانے کے لئے اس کے نازک اور حساس معاملات کی سمجھ، اور ایک منظم ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے، دفاعی، خارجہ، خزانہ، انتظامیہ، عدلیہ اور دیگر اداروں کے اپنے اور اجتماعی، نظم و انتظام کو چلانے کے لئے کابینہ اور مقننہ کی قانون سازی کے لئے متعین ہدف، اور متعلقہ فیلڈ کے ماہرین درکار ہوتے ہیں۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں حکومت کی تبدیلی سے ہزاروں سینئیر اہلکار تبدیل ہوتے ہیں لیکن وہ اقتدار میں آنے والی پارٹی نے پہلے سے چن رکھے ہوتے ہیں، وہاں بھی ٹرمپ صاحب زور بازو و زر پر بغیر اس انضباطی تیاری کے الیکشن جیت کے صدر تو بن گئے لیکن آئے روز کوئی نہ کوئی مسئلہ کاروبار سلطنت کو منجمد کر دیتا ہے۔ سو لازم ٹھہرا کہ صرف الیکشن جیتنے پر ہی نہیں بلکہ تنظیم کی اپنی مضبوط افرادی قوت کی تیاری پر بھی توجہ ہونا چاہئے جو الیکشن کے بعد کام آنے ہیں۔

جماعت اسلامی اتنے برس سے، اپنی تمام تر انتظامی اور نظریاتی خوبیوں کے ساتھ اگر منفی اور احتجاجی سیاست سے کچھ حاصل نہی کر سکی تو تحریک انصاف اس سے کون سی تبدیلی لے آئے گی؟ جس کی ساری سوچ کا محور یہ ہے کہ ریسلنگ کے ورلڈ چمپیئن کو پاکستان کی افواج کا سپہ سالار بنا دینا چاہیئے۔

“جلسے اور جنازے، جیت اور جنت کی ضمانت نہیں ہوتے۔”

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: