اسلامی تصور جہان اور جدید سائنس (جز دوم) — حسین نصر/ تدوین: اطہر وقار عظیم

1
  • 14
    Shares

اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

عام طور پر اکثر مغربی متکلمین اور اہل مذہب (مسیحی)، شدت جذبات کے ساتھ، جدید سائنس کے تحت ہونے والی ایجادات (دریافتوں) کو، فوراً اپنی مذہبی تعلیمات کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آتے ہیں،حالانکہ یہ رویہ اُن کی مذہبی (مسیحی) بنیادوں کے حق میں نہایت مضر ہے۔ کیونکہ انہی رویوں کے تحت علم مطلق کی آفاقی حقائق کی صورت گری (ہیئت) تغیرپذیر،حسی و مشاہداتی سائنسی (علمی) حقائق کے ساتھ مساویانہ طور پر کی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ تغیر پذیر حقائق (Facts) اور ایجادات، ماورائی حقیقت (عالم غیب) کے کسی پہلو کی جزواً وضاحت کر بھی رہے ہوں، تب بھی اس قسم کے ربط قائم کرنے کا مقصد، کسی آفاقی نصب العین کی تکمیل کے بجائے، محض کنفیوژن اور پریشان فکری کو بڑھاوا دینا ہی ہوتا ہے,مثلاً تخلیق کائنات کے سائنسی مفروضے بگ بینگ (Big Bang) سے، ہمارے تجدد پسند مسلمان،کئی عشروں تک مسحور رہے اور اس اثر کے تحت وہ اسے، بائبل اور قرآن کے آفاقی تصور تخلیق سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس نظریے کے حوالے سے، مسلم دنیا میں کئی مجالسوں (کانفرنسوں) کا انعقاد بھی کیا جاتا رہا،لیکن پھر ’’نئے سائنسی حقائق‘‘ کی روشنی میں،خود مغربی سائنسدانوں کی طرف سے، بگ بینگ نظریے پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جانے لگے،تو ان تجدد پسند مسلمانوں نے بھی اس پر تنقید شروع کردی۔

اس لیے، جدید مغربی سائنس پر سنجیدہ تنقید اور نقدو جرح، اسلامی تصور جہاں اور مشاہدہ کائنات کے تناظر میں ہونی چاہیے، جو کہ موجودہ مرعوبانہ مغربی علوم (سائنسی علوم) کے سیکولر فکری تناظر میں مطالعے سے قطعاً مختلف بات ہے، کیونکہ اس طریق مطالعے میں جدید سائنس کے گمان کو بھی،مطلق سچائی کی حیثیت سے قبول اور فروغ دیا جاتا ہے۔ پھر سیاق و سباق سے ہٹا کر کسی قرآنی آیت یا احادیث نبویؐ سے اس کے انطباق کے ذریعے، تغیر پذیر سائنسی حقائق کے ساتھ، مطلق آفاقی صداقت ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہاں المیہ یہ بھی ہے، کہ یہاں کسی کائناتی حقیقت کا مرتبہ اور بزرگی اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ حقیقت کی ذات و صفات سے،کتنی زیادہ آگہی فراہم کرتی ہے، یاآفاقی نفوس اور آثار کی، قرآنی نشانیوں کو سامنے لاتی ہے، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ یہ مخصوص (سائنسی علم) حقائق اور فطرت کو ’’تسخیر‘‘ کر کے، سیاسی طاقت اور مادی دولت کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ یہ بالکل، علم اور سائنس کے حوالے سے وہی سوچ ہے، جسے نشاۃ ثانیہ کے مغربی بانیان میں سے، اہم شخصیت فرانسس بیکن نے فروغ دیا تھا۔

جدید مغربی سائنس پر سنجیدہ تنقید اور نقدو جرح، اسلامی تصور جہاں اور مشاہدہ کائنات کے تناظر میں ہونی چاہیے، جو کہ موجودہ مرعوبانہ مغربی علوم (سائنسی علوم) کے سیکولر فکری تناظر میں مطالعے سے قطعاً مختلف بات ہے.

اسی تناظر میں یہ ظاہر کرنا بھی ضروری ہے، کہ جدید سائنس کے تحت،خدا کی موجودگی کے عقیدے کو ایک ’’مفروضے‘‘ یا ایک ’’فکری نظام‘‘ پر ایمان (ایقان)، تک محدود کردیا گیا ہے۔ چنانچہ اس فکری رجحان کو، اپنانے کے بعد کوئی بھی بیک وقت، مغربی ماہر طبیعات ہو سکتا ہے چا ہے، وہ انفرادی عقائد میں کیتھولک ہو، یہودی ہو یا مسلمان بلکہ زیادہ معروف ماہر طبیعات متشکک، لا ارادی اور ملحد ہوتے ہیں۔ کیونکہ خدا کی حقیقت اور اس کے موجودگی کے احساس کا، اس طبعی (سائنس) علم سے، کوئی ربط اور تعلق نہیں ہے،جس کا مطالعہ، وہ برسوں کرتے رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی سائنسدانوں کے نزدیک، خدا پر ایمان ہی ’’ایک غیرضروری مفروضہ‘‘ بن کر رہ گیا ہے۔ حالانکہ جدید طبیعات، ہر لمحہ تغیرپذیر نظریات کی آماج گاہ ہے۔ کہیں خدا کے وجود اور خدائی شعور (Conscience) کو کوانٹم میکانیات کی تشریحی توضیحات کے تحت،ثابت کیا جارہا ہے اور کہیں اس امکان کو ہی غیرضروری قرار دیا جارہا ہے، کیونکہ نیوٹن میکانیات کے نزدیک، یہ ابھی بھی ناقابل قبول ہے۔ چنانچہ اس کھچائو اور کشمکش میں، جو سائنس (طبیعات) واضح اور مقبول ہے، اُس کے تحت ایسے تناظراتی فہم علم (سائنس) کو فروغ دیا جارہا ہے، جس میں خدا واضح طور پر، اجتماعی زندگیوں سے غائب ہے، اب چاہے انفرادی زندگیوں میں،کتنا ہی خدا پر ایمان رکھا جائے، اُس کی فکر کون کرتا ہے؟

مغربی سائنس کی غیرمشروط قبولیت کا نتیجہ، اس تصورجہاں اور تناظر حیات ممات کے انجذاب کی صورت میں نکلا ہے، جس سے اسلامی تصور حقیقت (چاہے مادی ہو یا ماورائی)، وہ دھندلا کر رہ گئی ہے

نتیجتاً یہ کہا جاسکتا ہے کہ آخر اسلام، علم (سائنس) کی کسی ایسی صورت یا ڈھانچے کو کیسے قبول کرسکتا ہے؟ اور اسے فروغ بھی دے سکتا ہے؟ جس کا مبدا و ماخذ، اللہ تعالیٰ کی ذات (ہستی) نہ ہو؟ جو اللہ کی طرف رہنمائی کرنے والا علم نہ ہو؟ آخر کس طرح اسلامی تصور علم کے تحت ایسے کائناتی علوم کو فروغ دیا جاسکتا ہے، جس میں سرانجام دئیے گئے، تمام کاموں کا ماورائی حقیقت (عالم غیب) کے ساتھ کوئی مثبت تعامل اور ربط نہ ہو؟ حالانکہ ان تمام معاملات، روابط، ماورائی حقیقت کی وضاحت،قرآن مجید کے ہر صفحے میں کی گئی ہے اور ایک ہزار سال پہلے مسلمان اکابرین زعما، علما، حکما اور متکلمین نے ایسے اسلامی تصور جہان کو کمال خوبصورتی کے ساتھ، اپنی تحریروں میں سمویا بھی ہے، جبکہ موجودہ اسلامی دنیا کی طرف سے، تجدد پسند اور بنیاد پرست مسلمان زعما اور علما کی طرف نہایت مدافعانہ اور یتیمانہ قسم کے جوابات دئیے جارہے ہیں۔ حالانکہ ماضی کے برعکس ان جدید مفکرین، حکماء، متکلمین اور مفکرین کے پاس جدید تصور علم کے ماخذات اور اسلامی روایتی علوم کے ذخیروں (خزینوں) تک، زیادہ رسائی موجود ہے، جس کی وجہ سے وہ زیادہ،پر اعتماد طریقے سے اور زیادہ مدلل اور قابل فہم انداز سے، اس علمی چیلنج سے عہدہ برا ہوسکتے ہیں، لیکن قابل افسوس مقام ہے کہ ہمارے ماضی کے علمی اکابرین اور فکری اسلاف کے جوابات، کم تر مادی وسائل علمی کے باوجود، ان تجدد پسندووں کے مقابلے میں، زیادہ مدلل اور جرأت آمیز ہوا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ا بھی سنجیدہ مفکرین، دانشور اور سائنسدان، جو کہ مغرب میں تصورعلم اور تصورحقیقت کے متبادل کے بارے میں جاننے کے لیے کوشاں ہیں، وہ انیسویں و بیسویں صدی کے مسلمانوں کی تحریروں کے بجائے، ۹ویں سے ۱۲ویں صدی عیسوی صدی کے مسلمان علماء،حکماء،اور مفکرین کی تحریروں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ بہرحال یہ طے ہے کہ اسلام اور جدید سائنس میں مثبت اور صحت مندانہ تعامل کا قیام، اُس وقت تک ممکن نہیں ہے، جب تک گہرائی اور سنجیدہ تناظراتی تنقید کے ساتھ، ہر اُس تناظراتی علم اور علمیاتی نظام کا ازسرنو جائزہ نہ لے لیا جائے، جو خود اپنے اندر، الحق کے مقابلے میں، خود خدا کی ذات اور صفات کا علم رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے۔جیسا کہ جدید سائنس کے معاملے میں ہے۔

جدید مغربی سائنس کے، انجذاب کا چیلنج:
ایک صدی سے بھی زائد عرصے سے، اصلاح پسند مسلمان (قومی رہنما) اور دانشور، چاہے وہ مذہبی ہوں یا پھر سیاسی، جدید مغربی سائنس اور ٹیکنالوجی کے، اسلامی تہذیب و ثقافت کے ساتھ انجذاب پر اصرار کرتے آئے ہیں اور ایسا بہت کم ہوا ہے کہ انجداب کے اس یکطرفہ عمل میں،اسلامی مشاہدہ کائنات اور تصورجہاں سے مشتق، تصور اخلاقیات کو توانا اور محفوظ بنانے کی بھی کوشش کی گئی ہو،محض جدید سائنس کی اندھا دھند نقالی اور پیروی نے،ہمیں اب،اس موڑ پر لاکھڑا کیا ہے،جہاں ہم چاہیں بھی تو،اسلامی اجتماعی زندگیوں سے اس (جدیدسائنس) کے منفی اثرات کو بے دخل نہیں کرسکتے، کیونکہ مسلم ممالک نے، اس تقلید اور اندھا دھند نقالی میں، حکمت الٰہیہ پر مبنی انتخاب و استراد کے عمل کو یکسر نظرانداز کیا ہے۔ چنانچہ نتیجتاََ اس حکمت کو اپنائے بغیر، جدید سائنس کے ایسے ایسے مظاہر کو گلے لگایا جاتا ہے، جس کا اسلامی تصورجہاں یا تناظر حیات و ممات کے ساتھ کوئی مربوط ربط اور تعلق موجود نہ ہو اور اپنی بہترین شکل میں بھی، اس نقالی کو محفوظ بنانے کی لاحاصل سرگرمی میں، مسلمان معاشروں کے بہترین دماغی صلاحیتیں اور مادی وسائل صرف (ضائع) کرنے میں مصروف ہوں، حالانکہ جدید سائنس کے اسلامی تناظر جہاں کے حوالے سے، مکمل انضمام کے حوالے سے بات کی جائے،تو خود اس کے منفی اثرات،مسلم معاشروں پر زیادہ مرتب ہوتے ہیں۔

چنانچہ مغربی سائنس کی غیرمشروط قبولیت کا نتیجہ، اس تصورجہاں اور تناظر حیات ممات کے انجذاب کی صورت میں نکلا ہے، جس سے اسلامی تصور حقیقت (چاہے مادی ہو یا ماورائی)، وہ دھندلا کر رہ گئی ہے، یہی وجہ ہے اس کے تباہ کن اثرات، معاشروں میں سامنے آرہے ہیں، ایسی صورتحال کا سامنا، اگرچہ دیگر مذاہب کو بھی کرنا پڑ رہا ہے، لیکن اسلام اس سے زیادہ متاثر ہورہا ہے۔ اس انجداب کے حوالے سے تجدد پسند، جاپان کی مثال دیتے ہیں، جس نے سائنس و ٹیکنالوجی اور (مذہبی) ثقافت میں انجداب کیا ہے، حقیقت حالانکہ اس کے برعکس ہے۔ جس کے تحت یہ دیکھنا چاہے کہ انہوں نے سائنس و ٹیکنالوجی کی قومی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنی روایتی بادشاہت کے نظام کو بھی برقرار رکھا ہے۔ اُن کے شہری، مخصوص روایتی لباس (Kinonos) اور کھانے کے لیے سلائیوں (Chop Sticks) کا استعمال ابھی تک کرتے ہیں۔ یہ صورتحال بدھ مت اور شیٹوازم (Shintoism) کے تناظر میں بھی دیکھی جاسکتی ہے، بہرحال اس سب کے باوجود، جاپانی مذہبی روایت زوال پذیر ہے، اور اس میں انتشار اور افراتفری کا ماحول برپا ہے۔ جس کے تحت وہاں کا معاشرتی بحران، اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اب جاپان نے بھی، خود اپنے ملک کو دوبارہ ’’ایشیائی لہر‘‘ سے وابستہ کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کردیا ہے۔

بیمار ذہنیت کی حامل جدیدیت، مغربی جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی اندھادھند نقالی اور تقلید نے مسلم دنیا میں، سائنسی نشاۃ ثانیہ قائم کرنے کے بجائے ایک کھوکھلی اور مریضانہ قسم کی سائنس پرستی (Scientism) کو فروغ دیا ہے۔

اسلام اور اسلامی تہذیب، کے جدید سائنس کے فکری اصولوں کے ساتھ تعامل کے باب میں، اسلامی تصور جہان اور تناظر حیات و ممات کے مخالف عوامل کو مسترد کیے بغیر، صحیح اور حقیقی معنوں میں اسلام کی خدمت سرانجام نہیں دی جاسکتی۔ اگر اس دعویٰ کا کوئی واضح ثبوت درکار ہو، تو محض پچھلی صدی پر نظر دوڑائیے، بیمار ذہنیت کی حامل جدیدیت، مغربی جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کی اندھادھند نقالی اور تقلید نے مسلم دنیا میں، سائنسی نشاۃ ثانیہ قائم کرنے کے بجائے ایک کھوکھلی اور مریضانہ قسم کی سائنس پرستی (Scientism) کو فروغ دیا ہے، جس کے تحت بڑی تعداد میں ایسے سائنسدانوں اور انجینئرز کی کھیپ پیدا کی گئی ہے، جنہوں نے اپنی سائنسی سرگرمیوں کا مرکز و محور، اسلامی تصورحیات اور مشاہدہ کائنات کو نہیں بنایا، بلکہ اُس کے بالکل برعکس، مغربی تعلیمی اداروں کی وجہ سے،(چاہے، مغربی ممالک میں ہوں یا ان کے نقش قدم پر چلنے والے مسلم ممالک میں ہوں)، خود ان کے لیے، اسلامی تناظر جہاں اور مشاہدہ کائنات (World View) کو ہی اجنبی بنا دیا ہے۔

اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ انفرادی سطح پر وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، عبادات سرانجام بھی دیتے ہیں لیکن اپنی فکری اور علمی زندگی میں, اسلامی تناظر جہاں اور تصور حیات و ممات کو شعوری ولاشعوری طور پر بے دخل کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ,نتیجتاً عام مسلمانوں کے اذہان میں، معتبر سلامی تصور جہاں اور مشاہدہ کائنات کے بارے میں، شکوک و شبہات پیدا ہونا شروع کر ہوگئے ہیں، جس کی وجہ سے،مسلم معاشروں میں آفاقی وحدت کے بجائے تشکیک پر مبنی، کثرتیت پیدا ہورہی ہے۔ یوں اسلامی، انسانی (نفسی) علوم کو بے توقیر کرکے نقصان پہنچایا گیا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے خلا کو، سیکولر تصورحیات کے ذریعے سے پرُ کیا گیا ہے، جو ہمیں ایسے، کٹرمسلم ممالک، جو ’’دارالسلام‘‘ کہلائے جاتے ہیں، وہاں بھی واضح نظر آتا ہے۔

اس لیے مسلمانوں پر لازم ہے کہ دورحاضر میں، اسلام تناظر جہاں کی تشکیل نو اور ازسرنو دریافت کرنے کے لیے جدوجہد کریں،جس کے تحت، پہلے بیرونی صورت علم (جدید سائنس) کے مطالعے کو کڑے نقد و جرح، قبول واستراد اور اس کے بعد چنیدہ اجزاء کو،انجداب کی کسوٹی سے گزارا جائے،تاکہ اسلامی تصورکائنات و مشاہدہ کائنات سے اجنبی عناصر کو الگ کیا جاسکے۔ لیکن یہ بات لازماً یاد رکھنی چاہیے کہ آفاقی اور دیگر سائنسی علوم کے تناظر میں اسلامی مشاہدہ کائنات کی تشکیل نو،محض اُن شرعی قوانین سے اخذ نہیں کی جاسکتی،جو کہ ہمارے افعال و کردار (اعمال) میں اللہ کی رضاومنشا،کے قواعد کی وضاحت کرتے ہے،اور نہ ہی محض کلامی مباحث سے،جس کا بڑا مقصد عقلیت پسندانہ و پرستانہ (Rationalism) حملوں سے، دین الحق کو محفوظ بنانے کی سعی کرنا ہے اور نہ ہی مروجہ فقہی مباحثوں سے،جو قرآن سے متعلقہ تو ہیں، لیکن براہِ راست،قرآن کا مرکزی موضوع نہیں ہیں،اس کے برعکس اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات پر مبنی تصورحقیقت قرآن کا مرکزی موضوع ہے (جس کے تحت دنیا کی عارضی زندگی میں، انسان کے افعال و کردار کو متعین کیا گیا ہے) اور جس کی وضاحت احادیث اور روایتی مفسرین کی تشریحات و توضیحات کے ذریعے کی گئی ہے، اس میں اسلامی آفاقی علم، اسلامی ماورائی (طبیعات) اور تصوف کے مختلف فکری تناظرات، اعمال اور دیگر اسلامی سائنسی علوم شامل ہیں۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ تجدد پسندوں نے، روایتی اسلامی انداز فکروتفکر کو نظرانداز بھی کیا ہے اور بے توقیر بھی اور نام نہاد مذہبی بنیادپرستوں نے فرقہ وارانہ (عصبیتی) تحریکوں کے ذریعے، اس حوالے سے بے اعتنائی برتی ہے، چاہے اسلامی تصور جہاں کی دریافت نو کا معاملہ ہو،یا پھر فطری علم کے تعامل اور ربط کے ساتھ ساتھ جڑے ’’تصورعلم‘‘ کے مختلف درجات، مراتب اور مقامات کا احوال ہو۔ ہمیں یہی داستان عبرت، ہر جگہ دکھائی دیتی ہے اور اگر ہم قرآنی بصیرت کے ساتھ اسلامی دنیا کی، پچھلی دو صدیوں (19ویں اور بیسویں 20 صدی عیسوی) کی تاریخ کا مطالعہ کریں،تو ہمیں اس حوالے سے، بہت سے اسباق سیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

—— جاری ہے ———

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. It is thought provoking. Howe ver, I must point out that it is useless to reconcile physical sciences with Quranic verses. It will only add to confusion as it is already there in such attempts. In my humble point of view, let us concentrate on Quran & & Hadith to obtain guidance on our individual and collective conduct and worship .

Leave A Reply

%d bloggers like this: