اردو میں ادبی تھیوری پر ایک اچھی کتاب کی آمد ــــ عزیز ابن الحسن

0
  • 34
    Shares

ممکن ہے کہ میری رائے آگے چل کر تبدیل ہوجائے مگر تھیوری کے معاملات کے بارے میں میرا ابتک کا خیال یہی ہے کہ یہ ادب و فن کی جمالیات سے زیادہ ادب کے پس منظر میں کارفرما محرکات و مسائل سے بحث زیادہ کرتی ہے. ذوق ادب جو پہلے ہیں زوال کا شکار ہے اب تھیوری داروں کے شکنجے میں پھنس کر صرف متلذذ بالمسائل ہوگیا ہے، اس کی اصطلاحوں کی ابتلا کے آگے کراہتا ہے…

لیکن اس سب کے باوجود اب چونکہ ادب کو تھیوری کے آگے بطور بیل کے جوت دیا گیا ہے اس لیے ہمیں ان مسائل سے نبرد آزما ضرور ہونا چاہیے ان سے آنکھیں ہرگز نہیں چُرانی چاہییں. کسی شے تصور یا نظریے کو رد بھی کرنا ہو تب بھی اسے اسکی کی درست ترین صورت میں سمجھنا ضرور چاہیے. اگر ہم کسی شے کو بلا سمجھے رد کریں گے تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔

تھیوری کے مسائل پر انگریزی میں اتنی زیادہ کتابیں ہیں اور ان میں اتنی یکسانیت ہے کہ دوچار کے بعد ان کے عنوان یاد رکھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے اور یہ تک پتا نہیں چلتا کہ کس نے کس کا مال اڑایا ہے. تاہم کہیں نہ کہیں سے آغاز تو کرنا ہوتا ہی ہے۔

ہمارے نوجوان فاضل دوست جناب الیاس بابر نے اس کام کیلیے آغاز کے طور پر ایک بہت ہی عمدہ کتاب سے اردو میں تھیوری کی تفہیم کا باب کھولا ہے. انہوں نے ایک اہم مسئلے پر ایک اہم کتاب اردو میں منتقل کر کے بڑا کام کیا ہے. اردو کی تدریسی دنیا میں انکی متَرجَمہ کتاب ایک مستقل حوالہ بننے کے لائق ہوگی۔

ایک زمانہ تھا کہ اردو میں شاعری سے لیکر افسانے تک اور تحقیق سے لیکر تنقید تک ہر بڑا شاعر، افسانہ و ناول نگار اور نقاد و محقق انگریزی زبان و ادب کے مسائل اور رجحانات سے بھی اتنا ہی واقف ہوتا تھا جتنا اردو سے. بلکہ یوں کہیے کہ بیسویں صدی کے آغاز سے جدید اردو ادبی شعور کو سروتمند ہی انہی تخلیقی فنکاروں اور نقادوں نے کیا تھا جنکا انگریزی پس منظر بھی بہت مضبوط تھا اور اردو شعر و ادب سے بھی جنہیں ویسی ہی تخلیقی دلبستگی تھی. لیکن جب سے ہماری یونیورسٹیوں میں نیے دکاترین کا جھمگھٹ ہوا ہے ہمارے ادبیات کے شعبوں میں بھی ایک کسریت کا راج ہے ایک محلہ بندی کا سماں ہے. اردوں والوں کو انگریزی رجحانات کا کچھ پتہ نہیں اور انگریزی والے اردو کے بارے میں “ایک بےچاری زبان کے طور پر” اگر تحقیر نہیں تو کچھ مربیانہ شفقت فرمائی قسم کا رویہ ضرور رکھنے لگے ہیں. ایسے میں الیاس بابر جیسے لوگ بہت غنیمت ہیں جو انگریزی ادبیات کے ایک سنجیدہ طالبعلم اور استاد ہونے کے ساتھ ساتھ اردو شعر و ادب سے بھی ایک فعال تعلق رکھتے ہیں. چونکہ بابر خود اردو کے شاعر اور نقاد بھی ہیں اسلیے اردو کی طرف انکا رویہ مربیانہ نہیں بلکہ محبت کا ہے. اس لیے ہم امید کرتے ہیں کہ ان جیسے آدمی کی مترجمہ کتاب اردو میں تنقیدی مباحثہ و مکالمہ کی فضا کو ضرور جنم دے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: