لبرلزم: ایک تنقید: آلان دی بونوا (آخری حصہ) — کبیر علی

1
  • 40
    Shares

آلان دی بونوا ایک فرانسیسی فلسفی اور نیورائٹ تحریک کے بانی ہیں۔ زیرِ نظر تحریر میں لبرلزم پر تنقید کے ضمن میں انہوں نے کچھ اہم اور دلچسپ نکات اٹھائے ہیں۔ موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے انکی اس تحریر کو کبیر علی نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ یہ اس تحریر کا دوسرا حصہ ہے، پہلا حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔


نوٹ کیجئے کہ ہائیک “نادیدہ ہاتھ” کے نظریے کو “ارتقا” کی اصطلاحوں میں تشکیل دیتا ہے۔ ہائیک دراصل ہر قسم کے کارتیسی استدلال کو رد کر دیتا ہے، مثال کے طور پہ سماجی معاہدے کے افسانے کو،جو فطرت اور سیاسی سماج میں مخالفت پہ دلالت کرتا ہے۔ اس کے برعکس، ڈیوڈ ہیوم کی روایت میں، وہ رواج اور عادت کی تعریف کرتا ہے جسے وہ ہر قسم کی “تعمیریت” کی مخالف سمجھتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی وہ اس بات کی توثیق کرتا ہے کہ رواج سب سے موثر اور عقلی ضابطہ ء حیات کو منتخب کرتا ہے یعنی کمرشل اقدار پہ مبنی ضابطہءحیات جسے اختیار کرنے کا مطلب “قدیم معاشرے” کے “قبائلی نظام” کو رد کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی وہ “روایت” کا ذکر کرتا ہے روایتی اقدار پہ تنقید کرتا ہے اور معاشرے کے کسی بھی نامیاتی وژن کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔ دراصل ہائیک کے لیے روایت کی قدر کا ماخذ سب سے پہلے یہ امر ہے کہ وہ کس حد بے ساختہ، مجرد، غیر شخصی اور لہذا ناقابلِ تصرف ہے۔ یہ رواج کا وہی عنصر ہے کہ جس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کیوں مارکیٹ بتدریج نافذ ہوئی۔ پس ہائیک یہ نتیجہ نکالتا ہے کہ ہر بے ساختہ و خودکار نظام اپنی نہاد میں اسی طرح “درست” ہوتا ہے جس طرح کہ ڈارون کا نظریہ کہتا ہے کہ جدو جہدِ حیات میں باقی رہ جانے والے لازمی طور پہ “بہترین” ہوتے ہیں۔ پس مارکیٹ کا نظام ایک سماجی نظام بھی تشکیل دیتا ہے اور گویا اس کی تعریف میں شامل ہے کہ اس کی اصلاح کی کوشش ممنوع ہے (کیونکہ یہ تو فطری ہے)۔

پس آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لبرلز کے لیے مارکیٹ کا تصور محض معاشی دائرے سے بہت آگے کی چیز ہے۔ مارکیٹ اس میکانزم سے بہت بڑھ کر ہے کہ جو محدود ذرائع پیداور کو بہترین طریقے سے استعمال کرتا ہے یا پیداور اور صرف کے طریقوں کو منضبط کرتا ہے۔ مارکیٹ سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر تو ایک سماجیاتی اور سیاسی تصور ہے۔ آدم سمتھ بھی جب مارکیٹ کو سماجی نظام چلانے والا اصول عاملہ قرار دیتا ہے تو وہ انسانی تعلقات کو معاشی ماڈل ہی کے تحت سمجھتا ہے یعنی انسانوں کے درمیان تعلقات دراصل تاجروں کے درمیان تعلقات ہیں۔ پس مارکیٹ کی معیشت عین فطری طور پہ ” مارکیٹ کا سماج ” بھی پیدا کرتی ہے۔ پائر روزن والن لکھتا ہے کہ “مارکیٹ بنیادی طور پہ سماجی سپیس کی نمائندگی اور تشکیل کرتی ہے؛ قیمتوں کے نظام کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو منضبط کرنے کا کام تو اس کی ثانوی حیثیت ہے۔”

جدید دور میں لبرل معاشی تجزیہ آہستہ آہستہ تمام سماجی حقائق تک پھیل گیا۔ خاندان ایک چھوٹے کاروبار میں ڈھل گیا، سماجی تعلقات ذاتی مفادات کی حکمت عملیوں کا جال بن گئے اور سیاسی زندگی ایک ایسی مارکیٹ میں تبدیل ہو گئی کہ جہاں ووٹرز سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو ووٹ فروخت کر سکیں

آدم سمتھ کے خیال میں محنت کی تقسیم کا براہ راست نتیجہ عمومی ایکسچینج ہے۔ “پس اس طرح ہر شخص ایکسچینج میں زندگی گزارتا ہے، یا کسی حد تک خود بھی ایک تاجر بن جاتا ہے اور اس طرح سماج کی نشوونما بھی کمرشل سماج کے طور پہ ہوتی ہے۔ اس طرح لبرل زاویہ نگاہ سے مارکیٹ سماج پہ چھا جاتی ہے اور اسے مکمل طور پہ مارکیٹ کا سماج بنا دیتی ہے۔ لبرل سماج افادی مبادلوں پہ قائم محض ایک ایسی دنیا ہے کہ جہاں افراد اور گروہ فقط اپنے مفادات کے زیادہ سے زیادہ حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ اس سماج کا فرد کہ جہاں ہر چیز خریدی اور بیچی جا سکتی ہے، یا تو ایک تاجر ہے، یا مالک، یا پروڈیوسر اور ہر شکل میں وہ صارف تو رہتا ہی ہے۔ پائر لکھتا ہے کہ ” سمتھ کے لیے صارف کے حقوق کی وہی حیثیت ہے جو روسو کے لیے “عمومی ارادہ” کی ہے۔

جدید دور میں لبرل معاشی تجزیہ آہستہ آہستہ تمام سماجی حقائق تک پھیل گیا۔ خاندان ایک چھوٹے کاروبار میں ڈھل گیا، سماجی تعلقات ذاتی مفادات کی حکمت عملیوں کا جال بن گئے اور سیاسی زندگی ایک ایسی مارکیٹ میں تبدیل ہو گئی کہ جہاں ووٹرز سب سے زیادہ بولی لگانے والے کو ووٹ فروخت کر سکیں۔ آدمی سرمایہ بن گیا اور بچے اشیائے صرف سمجھے جانے لگے۔ معاشی منطق جو کبھی سماجی کلیت میں پیوست ہوتی تھی آہستہ آہستہ اس پہ چھا گئی حتیٰ کہ اس نے اسے مکمل طور پہ گھیر لیا۔ جیسا کہ گارلڈ بارتھڈ لکھتا ہے کہ ” ہم کہہ سکتے ہیں اس سماج کا آغاز ایک بامعنی عمل کے باقاعدہ نظریے سے ہوا ہے۔ لاگت-فائدہ کا تجزیہ دنیا کو چلانے والا اصول بن گیا۔” ہر چیز پیداوار اور صرف کا ایک عامل بن جاتی ہے؛ ہر چیز رسد و طلب کے بے ساختہ بندوبست کا نتیجہ سمجھی جاتی ہے۔ کسی بھی شے کی اہمیت اس کی ایکسچینج ویلیو جتنی ہی ہے جسے قیمت سے ناپا جاتا ہے۔ لہذا ہر وہ چیز جسے ناپنا اور شمار کرنا ممکن نہیں ہے وہ غیر حقیقی یا غیر دلچسپ قرار پاتی ہے۔ پس معاشی بیان تمام سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کی تجسیم چاہتا ہے اور ہر وہ قدر کہ جسے قیمت کی اصطلاحات میں بیان نہ کیا جا سکے اس کے لیے اجنبی ہے۔ تمام سماجی حقائق کو قابلِ شمار چیزوں کی دنیا میں بدلتے بدلتے یہ بالآخر انسانوں کو بھی “اشیا” میں ڈھال دیتا ہے، ایسی اشیاء کہ معاشی زاویہ نگاہ سے جن کا متبادل موجود ہے اور انھیں باہم بدلا جا سکتا ہے۔

سماج کی ٹھیٹھ معاشی نمائندگی بہت گھمبیر نتائج کی حامل ہے۔ سیکولر ہو جانے اور پرانے طلسمات سے رہائی ملنے کے عمل سے بننے والی یہ جدید دنیا لوگوں کی تحلیل کردیتی ہے اور ان کے منفرد خواص کو ایک منظم عمل کے ذریعے مٹا ڈالتی ہے۔ سماجیاتی میدان میں معاشی ایکسچینج سماج کو پروڈیوسر، مالک، اور (سابقہ اشرافیہ کی طرز کے) اعلیٰ طبقات میں ایک ایسے انقلاب کے ذریعے تقسیم کر دیتا ہے کہ جس کی داد دینے والا کارل مارکس آخری آدمی نہیں تھا۔ اجتماعی متخیلہ کے میدان میں اس نے اقدار کو منقلب کر کے رکھ دیا اور ان کمرشل اقدار کی جانب بڑھنا شروع کیا کہ جنھیں نامعلوم وقتوں سے کمتر درجے کی چیز سمجھا جاتا رہا ہے کیونکہ یہ محض ایک ضرورت ہوا کرتی تھیں۔ اخلاقی میدان میں اس نے ذاتی مفاد اور انا پرستی کی اس روح کو پھر سے بحال کرنا شروع کر دیا جس کی روایتی معاشرے نے ہمیشہ مذمت کی تھی۔

سماج کی ٹھیٹھ معاشی نمائندگی بہت گھمبیر نتائج کی حامل ہے۔ سیکولر ہو جانے اور پرانے طلسمات سے رہائی ملنے کے عمل سے بننے والی یہ جدید دنیا لوگوں کی تحلیل کردیتی ہے اور ان کے منفرد خواص کو ایک منظم عمل کے ذریعے مٹا ڈالتی ہے۔

جہاں تک طاقت استعمال کرنے کی بات ہے تو سیاست کو اپنی نہاد میں خطرناک سمجھا جاتا ہے کیوں کہ یہ “غیر عقلی” ہے۔ لہذا لبرلزم سیاست کو تکنیکی مہارت کے ذریعے حقوق یقینی بنانے اور سماج کی تنظیم کرنے تک محدود رکھتی ہے۔ یہ “شفاف سماج” کا خواب ہے کہ جس کی مثال وہ خود ہی ہو سکتا ہے، اس سے باہر اس کا کوئی علامتی حوالہ یا ٹھوس واسطہ موجود نہیں ہے۔ ایسے سماج میں کہ جسے مارکیٹ چلاتی ہو اور جو سول سوسائٹی کے خودکفایتی مفروضے پہ قائم ہو ریاست اور اس سے متعلق ادارے آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہوتے جائیں گے جیسا کہ مارکس کے غیر طبقاتی سماج میں تصور کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ جیسے آلان کایےکہتا ہے کہ مارکیٹ کی منطق دراصل ایک بڑے عمل کا حصہ ہے جو چیزوں کو ایک جیسا کردینے کی جانب گامزن ہے۔ حتی کہ یہ انسانوں کو بھی ایک ایسے تبدیلیے کے ذریعے باہم بدل دیتی ہے کہ جسے ہم پہلے ہی کرنسی کے جدید استعمال کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ کایےکے مطابق لبرل نظریے کی بازی گری یہ ہے کہ یہ قانونی ریاست کو کمرشل ریاست کا مماثل بناتے ہوئے اسے مارکیٹ کے ظہور تک محدود کر دیتا ہے۔ نتیجتا افراد کا اپنی منزلیں خود چننے کا معاملہ حقیقت میں اس فریضے میں بدل جاتا ہے کہ وہ فقط کمرشل منازل ہی کا انتخاب کریں۔

پیراڈاکس یہ ہے کہ لبرل یہ کہنے سے بھی باز نہیں آتے کہ مارکیٹ ہر فرد کی منازل کی برآوری کے امکانات کو بڑھاتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان منازل کی پیشگی تعریف بیان کرنا ممکن نہیں اور یہ کہ خود فرد سے زیادہ بہتر طریقے سے انھیں کوئی بھی بیان نہیں کر سکتا۔ مگر وہ یہ کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ مارکیٹ “بہترین” فراہم کرے گی جبکہ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ بہترین ہے کیا؟ دراصل کوئی بھی شخص بآسانی یہ کہہ سکتا ہے کہ مارکیٹ لوگوں کی خواہشات کو ان ذرائع سے بھی بہت زیادہ بڑھا دیتی ہے جو کہ لوگ ان خواہشات کی تسکین کے لیے مارکیٹ کو فراہم کرتے ہیں لہذا اگر ہم ٹاکی ولن کے انداز میں کہیں تو مارکیٹ ان کے اطمینان کے بجائے بے اطمینانی میں اضافہ کرتی ہے۔

مزید یہ کہ اگر ہمیشہ فرد ہی اپنے مفادات کا بہترین پارکھ ہے تو پھر اس پر اس نظام کی واحد قدر یعنی تجارتی مبادلے” کے احترام کی ذمہ داری ہی کیوں ہے؟ لبرل نظریہ اخلاقی رویوں کی بنیاد کبھی بھی احساسِ ذمہ داری یا اخلاقی قانون پر نہیں رکھتا بلکہ ہمیشہ ذاتی مفاد پہ رکھتا ہے۔ جب میں دوسروں کی آزادی میں مخل نہیں ہوں گا تو میں انھیں بھی اپنی آزادی میں مداخلت سے روک سکوں گا۔ پولیس کا خوف تو دیگر معاملات کی دیکھ بھال کے لیے ہے۔ لیکن اگر مجھے یقین ہو کہ قوانین کی خلاف ورزی سے بہت تھوڑی سزا کا خدشہ ہے اور تجارتی مبادلہ میرے لیے اہم نہیں ہے تو پھر کون سی چیز مجھے قانون شکنی سے باز رکھ سکتی ہے؟ ظاہر ہے کوئی شے بھی نہیں۔ جبکہ دوسری طرف اگر میں فقط ذاتی مفاد کے حوالے سے سوچوں تو یہ صورتحال مجھے قانون شکنی پہ ابھارتی رہے گی۔

اپنے “نظریہ اخلاقی جذبات” میں آدم سمتھ بے تکلفی سے لکھتا ہے کہ “۔۔۔اگرچہ سماج کے مختلف ارکان کے درمیان کوئی باہمی محبت اور یگانگت نہیں ہوگی اور معاشرہ کم خوش اور کم موافق ہو نے کے باجود لازمی طور پہ تحلیل نہیں ہو جائے گا۔ افادی نقطہ نظر سے سماج مختلف لوگوں میں اسی طرح قائم رہے گا جیسا کہ یہ مختلف سوداگروں میں قائم ہو سکتا ہے۔ اگرچہ اس سماج میں باہمی محبت و یگانگت نہیں ہوگی مگر کسی بھی شخص پہ دوسروں کی کوئی ذمہ داری یا جذباتی بوجھ نہیں ہوگا پھر بھی طے شدہ قیمتوں پہ اشیاء کا تجارتی تبادلہ ہوتا رہے گا۔

اس اقتباس کے معنی واضح ہیں۔ کسی بھی سماج میں اس کے سماج ہونے کی حیثیت ختم کیے بغیر نامیاتی سماجیت کو معیشت زدہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ کافی ہو گا کہ یہ تاجروں کا سماج بن جائے۔ سماجی وابسگتی آہستہ آہستہ “افادہ” اور “اشیاء کے تاجرانہ مبادلے” کے ساتھ جنم لے لی گی۔پس انسان ہونے کے لے یہ کافی ہے کہ تاجرانہ مبادلوں میں حصہ لیا جائے اور اپنے مفادات کے زیادہ سے زیادہ حصول کے حق کو آزادی سے استعمال کیا جائے۔ سمتھ کہتا ہے کہ ایسے سماج میں “خوشی اور موافقت” کم ہو گی مگر یہ بڑبڑاہٹ بہت جلد فراموش کر دی گئی۔ انسان حیران ہوتا ہے کہ بعض لبرلز کے مطابق مکمل انسان ہونے کا مطلب ہے کہ وہ تاجروں کی طرح ہو جائے یعنی ان لوگوں کی طرح جنھیں ہمیشہ کم تر درجے کا سمجھا جاتا تھا (اس لیے نہیں کہ انھیں مفید یا ضروری نہیں سمجھتا جاتا تھا بلکہ اس وجہ سے کہ وہ مفید ہونے کے علاوہ کچھ نہ تھے اور دنیا کے بارے ان کی سوچ فقط افادی پہلو تک محدود تھی)۔ اور پھر اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ خواہش یا مطلوبہ ذرائع کی ناموجودگی کے سبب تاجرانہ رویہ اختیار نہیں کرتے ان کا کیا مقام ہے؟ کیا وہ پھر بھی انسان ہیں؟

موجودہ زمانے کا سارا بحران مجرد آفاقی انسان کے مثالیے اور ٹھوس آدمی کی حقیقت کے مابین موجود شدید تضاد کا نتیجہ ہے۔ اول الذکر ہر قسم کی سماجی تعلقات سے غیرشخصی حالت میں لاتعلق ہے جبکہ ثانی الذکر کے لیے سماجی تعلقات جذباتی بندھنوں اور احساسِ قربت کی بنا پہ تشکیل پاتے ہیں

مارکیٹ کی منطق نے دراصل بتدریج خود کو نافذ کیا۔ اس کا آغاز زمانہ وسطی کے آخر میں ہوا جب ابھرتی ہوئی قومی ریاستوں سے تحریک پا کر طویل فاصلوں پہ مبنی مقامی تجارت نے قومی مارکیٹ میں متحد ہونا شروع کیا اس کا مقصد اس گروہی تجارت پہ ٹیکس لگا کر پیسے کمانا تھا جو اس سے قبل ٹیکس فری سمجھی جاتی تھی۔ پس ایک آفاقی حقیقت کی حیثیت اختیار کرنے سے بہت پہلے مارکیٹ ایک ایسا مظہر ہے جو زمان ومکان میں بہت ٹھوس مقامی پن کا حامل تھا۔ اور “بے ساختہ” بننے سے بہت پہلے اس مظہر کو باقاعدہ ادارہ جاتی عمل سے گزارہ گیا۔ سپین میں بھی اور خصوصا فرانس میں مارکیٹ ہرگز قومی ریاست کی جگہ قائم نہیں کی گئی بلکہ اس کی شکر گزار ہے۔ ریاست اور مارکیٹ اکٹھے پیدا ہوئیں اور دونوں نے ایک ہی رفتار سے ترقی کی، اول الذکر نے جیسے ہی خود کو ادارہ جاتی عمل سے گزارا تو موخر الذکر کی تشکیل بھی ساتھ ہی ہوئی۔ آلان کایےلکھتا ہے کہ “کم از کم ہم یہ مشورہ تو دے سکتے ہیں کہ مارکیٹ اور ریاست کو باہم مخالف و متصادم مظاہر نہ سمجھا جائے بلکہ دونوں ایک ہی عمل کے دو چہرے ہیں۔ تاریخی طور پہ قومی مارکیٹس اور قومی ریاستیں ایک ہی رفتار سے قائم ہوئی ہیں اور ایک کو دوسری کے بغیر تلاش نہیں کیا جا سکتا۔

درحقیقت دونوں نے ایک ہی سمت میں نمو پائی۔ مارکیٹ نے قومی ریاست کی تحریک کو بڑھاوا دیا کیونکہ ریاست کو اپنے اتھارٹی قائم رکھنے کے لیے ہر قسم کی درمیانی سماجیت کو ختم کرنا ضروری ہے جو جاگیرداری دنیا میں (خاندان، دیہاتی پنچایت، سوداگروں کی انجمن وغیرہ کی شکل میں) قدرے آزاد نامیاتی ڈھانچے ہوا کرتے تھے۔ بورژوائی طبقے اور نومولود لبرلزم نے سماج کے اس انتشارِ اجزا کو برقرار رکھتے ہوئے مزید بڑھایا کیونکہ انھیں فرد کی جس آزادی کی ضرورت ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ مارکیٹ کے پھیلاؤ کی راہ میں حائل تمام غیر رضاکارانہ احساساتِ یگانگت اور دوسروں پہ انحصار کو تباہ کر دیا جائے۔ پائر روزن والن لکھتا ہے کہ “اس تناظر میں قومی ریاست اور مارکیٹ دونوں ایک ہی طرح کی سماجیت افراد میں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں انتشارِ اجزاء کے شکار معاشرے کے فریم ورک ہی میں قابلِ تفہیم ہو سکتے ہیں یعنی ایسا سماج کہ جس میں فرد خود مختار سمجھا جاتا ہے۔ پس قومی ریاست اور مارکیٹ دونوں اپنی سماجیاتی اور معاشی حیثیتوں میں ایسے سماج میں ممکن ہی نہیں ہیں کہ جہاں ایک سماجی کلیت چھائی ہوئی ہو۔
پس سماج کی یہ نئی شکل ازمنہ وسطیٰ کے بحران سے نمودار ہوئی اور بتدریج ترقی پائی۔ اس کا آغاز فرد سے ہوا، اس کے اخلاقی اور سیاسی معیارات اور اس کے مفادات سے ہوا پھر اس نے سیاسی، معاشی، قانونی حتیٰ کہ لسانی اقالیم میں موجود اس یکجائی کو ختم کرنا شروع کیا کہ جسے قدیم معاشرہ برقرار رکھنا چاہتا تھا۔ تاہم ساتویں صدی تک ریاست اور سول سوسائٹی ایک ہی چیز ہوا کرتے تھے یعنی “سول سوسائٹی” ابھی تک سیاسی طور پہ منظم سماج کے مترادف سمجھی جاتی تھی۔ ان دونوں میں تفریق ساتویں صدی کے آخر میں پیدا ہونی شروع ہوئی جب خصوصا لاک نے سوسل سوسائٹی کی نئی تعریف پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پراپرٹی اور ایکسچینج کا دائرہ ہے۔ پس ریاست یا سیاسی سماج کا کام فقط معاشی مفادات کا تحفظ رہ گیا۔ اس تفریق کا نتیجہ لاک کی نظر میں یہ نکلا کہ سماجی معاہدے کے بعد سیاسی سماج کی نئی قیمت کا تعین ہوا جبکہ مینڈاویلی اور سمتھ کے مطابق اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مفادات کی بے ساختہ ترتیبِ نو سے سول سوسائٹی کو رفعت نصیب ہوئی۔ ایک خود مختار دائرے کے طور پہ سول سوسائٹی مفادات کی معاشی منطق کے بلا رکاوٹ نفاذ کے لیے میدان پیدا کرتی ہے۔ کارل پولیانی کہتا ہے کہ “مارکیٹ کی آمد سے سماج کی حیثیت مارکیٹ کے ایک معاون کی سی رہ جاتی ہے”۔ بجائے اس کے کہ معیشت، سماجی تعلقات میں پیوست ہو، سماجی تعلقات معاشی تعلقات کے سہارے قائم ہوتے ہیں۔ بورژوائی انقلاب کا اصل مطلب یہی ہے۔

عین اسی وقت سماج نے فطری یا کائناتی نظام سے مختلف ایک معروضی نظام کی شکل اختیار کر لی جس کے پہلو بہ پہلو وہ کائناتی عقل پائی جاتی ہے کہ جس تک رسائی کا ہر شخص اہل ہے۔ اس تاریخی معروضیت کا آغاز حقوق کے سیاسی صحیفے کی صورت گری سے ہوا کہ جس کا سفر ہم جین باڈن سے لے کر تحریک تنویر تک دیکھ سکتے ہیں۔ متوازی طور پہ، سیاسی معیشت سماج کی عمومی سائنس کے طور پہ ابھری اور یہ سفر “ترقی” کا مترادف قرار پایا۔ لہذا سماج ایک مخصوص سائنسی علم کا موضوع بن گیا۔ جہاں تک بات ہے موجود ہونے کے ایک خاص عقلی ڈھنگ کی یا پھر سرگرمیوں کی تنظیم کے لیے آلاتی عقل کے استعمال کی تو سماجی دینا چند خاص “قوانین” پہ چلتی ہے۔ مگر اس معروضیت کے سبب سماج کی یکجہتی مسائل کا شکار ہو جاتی ہے اور رکنیت اور وابستگیوں کی نجکاری کا نتیجہ سماج کے اجزاء میں تقسیم ہو جانے، باہم متصادم نجی مفادات میں اضافے اور اداروں کے غائب ہوتے جانے کی شکل میں نکلتا ہے۔ بورژوا اور سابقہ ادوار کی باقیات سے بننے والے سماج ہی میں نئے تضادات جنم نہیں لیتے بلکہ خود بورژوائی سماج کے اندر بھی طبقاتی جدوجہد کی طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

عوامی و نجی اور ریاست و سول سوسائٹی کے درمیان نویں صدی تک ایسا فرق شدت سے برقرار رہا کہ جو سماجی سپیس کا بٹا ہوا اور تضاد آمیز تصور رکھتا تھا۔ اپنی طاقت میں اضافہ کرتے ہوئے لبرلزم نے سول سوسائٹی کو فقط نجی دائرے سے مماثل ٹھہرایا اور پبلک سیکٹر کی آمریت کی مذمت کرتے ہوئے اجتماعی ضروریات کی تسکین پر ریاست کی اجارہ داری کو ختم کرنے اور سماجی انضباط کے کمرشل مزاج کے پھیلاؤ کی وکالت کی۔ اس کے بعد سول سوسائٹی نے ایک طلسماتی رخ اختیار کیا۔بجائے اس کے کہ اسکی اپنی تعریف وضع کی جاتی یہ ریاست کی مخالف کے طور پہ ابھری اور جو کچھ نظری طور پہ ریاست سے منہا کیا گیا تھا وہ اس کے محیط میں شامل ہو گیا اور اس کی حیثیت ایک خوب جمی ہوئی حقیقت کے بجائے ایک نظریاتی طاقت کی سی ہو گئی۔

انیسویں صدی کے آخر تک سماج کو منضبط کرنے اور نئی شکل دینے کی خالص معاشی منطق میں کئی ردو بدل کرنے پڑے۔ یہ ردو بدل قدامت پرستوں کی مزاحمت سے زیادہ نئے سماجی نظام کے اندرونی تضادات کا نتیجہ تھے۔

سوشیالوجی بذات خود سیاسی و ادارہ جاتی تبدیلیوں کے خلاف حقیقی سماج نیز ان لوگوں کی مزاحمت سے پیدا ہوئی کہ جو نئے سماجی نظم کے مصنوعی پن کی مذمت کے لیے “فطری نظام” کی دہائی دیتے تھے۔ عمرانیات کے ابتدائی ماہرین کے لیے فردپرستی کے غلغلے سے دہرے خوف نے جنم لیا یعنی سماجی وابستگیوں کے بکھر جانے سے پیدا ہونے والی “زہر آلود تنہائی” اور اجزائی افراد کا ہجوم جو بے قابو “ماس” کی شکل اختیار کر گیا۔ (گستاو لے بان اور گابریل ٹریڈ دونوں سماجی حقایق کے تجزیے کو “نفسیات” تک محدود رکھتے ہیں) پہلے خوف نے انقلاب مخالف مفکرین میں بالخصوص بازگشت پیدا کی جبکہ دوسرا خوف زیادہ تر ان بورژوا میں پایا جاتا ہے جو خود کو “خطرناک طبقات” سے بچانا چاہتے ہیں۔

جبکہ قومی ریاست نے مارکیٹ کو مدد فراہم کی تو لبرلزم اور پبلک سیکٹر میں مخاصمت میں روز افزوں اضافہ ہوا۔ لبرلز فلاحی ریاست کے خلاف اس بات پہ غورکیے بغیر بھڑکتے رہتے ہیں کہ یہ عین مارکیٹ کا پھیلاؤ ہی تو ہے جو روز افزوں اضافہ پاتی ریاستی مداخلت کو ناگزیر بناتا ہے۔ وہ شخص کہ جس کی محنت خالصتا مارکیٹ کے کھیل پہ منحصر ہے درحقیقت شدید خدشات کا شکار رہتا ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کی محنت کو کوئی نہ خریدے یا اس کی کوئی قدر نہ ہو۔ جدید فرد پرستی نے قربت کے ان نامیاتی رشتوں کو بھی تباہ کر دیا جو سب سے بڑھ کر باہمی امداد اور دو طرفہ یگانگت پہ مشتمل تھے اس طرح گویا سماجی تحفط کی تمام پرانی صورتیں تباہ کر دی گئیں۔ رسدو طلب کی تنظیم کرتے ہوئے مارکیٹ، سماجی تعلقات کی تنظیم نہیں کرتی بلکہ الٹا ان میں بے نظمی پیدا کر دیتی ہے کیونکہ یہ کسی شخص کی اس طلب کو شمار ہی نہیں کرتی جس کی قیمت وہ ادا نہیں کرسکتا۔ لہذا فلاحی ریاست کا عروج لازمی ہو گیا کیونکہ یہ وہ واحد طاقت ہے جو اتنے نمایاں عدم توازن کو ٹھیک کرنے اور واضح بے چینیوں کا ازالہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کارل پولیانی کہتا ہے “جب جب لبرلزم کی فتح نظر آتی ہے تو اس کے ساتھ ہی سرکاری مداخلت میں اضافہ ہوا، جو مارکیٹ کی منطق کے سماجی بنت کو نقصان پہنچانے کے باعث ناگزیر ہو جاتا ہے۔ آلان کایے کہتا ہے کہ “فلاحی ریاست کے فراہم کردہ سماجی امن کے بغیر مارکیٹ کا نظام مکمل طورپہ نکال باہر کیا جاتا۔” مارکیٹ اور ریاست کے اس باہمی تعاون کو فورڈ کے نظام سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ پولیانی کہتا ہے کہ ” سماجی تحفط ایک خود کار مارکیٹ کا لازمی ساتھی ہے”۔

یہ تصور کہ مارکیٹ میں آدمی آزادانہ اور عقلی طریقے سے کام کرتا ہے فقط ایک خیالی دنیا کا مفروضہ ہے کیونکہ معاشی حقائق کبھی خودمختار نہیں ہوتے بلکہ دیے گئے سماجی و ثقافتی تناظر کی نسبت سے قائم ہوتے ہیں۔ پیدائشی معاشی عقلیت کا کوئی وجود نہیں ہے یہ محض سماجی تاریخی تعمیر کی ایک پیداوار ہے۔ کمرشل تبادلہ، سماجی تعلقات تو دور کی بات معاشی تعلقات کی بھی فطری شکل نہیں ہے۔ مارکیٹ کوئی آفاقی مظہر نہیں ہے بلکہ ایک علاقائی چیز ہے۔

جہاں تک مارکیٹ کے تباہ کن اثرات کی تلافی کے لیے مداخلت کا تعلق ہے تو فلاحی ریاست ایک خاص انداز سے سماجی زندگی میں سے مارکیٹ کے اثرات کو کم کرتی ہے۔ تاہم یہ صنعتی ترقی، فرد پرستی اور مارکیٹ کے پھیلاؤ سے تباہ ہونے والی سماجی تحفظ کی صورتوں کا مکمل طور پہ متبادل فراہم نہیں کر سکتی۔ سماجی تحفظ کی پرانی شکلوں سے موازنہ کریں تو فلاحٰ ریاست کے محدودات بھی اتنے ہی ہیں جتنے اس کے فوائد ہیں۔ قدیم یکجہتی تو دو طرفہ خدمات کے تبادلے پہ مبنی تھیں جس کا مطلب تھا کہ سبھی کی کچھ ذمہ داریاں بھی ہیں مگر فلاحی ریاست غیر ذمہ داری کو فروغ دیتی ہے اور شہریوں کو بوجھ بنا دیتی ہے۔ قدیم یکجہتی ،ٹھوس تعلقات کے نظام کے ماتحت تھی مگر فلاحی ریاست ایک مجرد، نامعلوم اور بے واسطہ مشینری کی شکل اختیار کر جاتی ہے جس سے لوگ سبھی کچھ توقع تو کرتے ہیں مگر اس ضمن میں کسی قسم کی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔ پس فوری میسر آنے والی قدیم یکجہتی کے مقابلے میں یہ غیر شخصی، بیرونی قسم کی یکجہتی ہرگز اطمینان بخش نہیں ہو سکتی۔ یہ تو دراصل فلاحی ریاست کے اس موجودہ بحران کا اصل سبب ہے، وہی فلاحی ریاست جو اپنی ناقص سماجی تنصیب کے سبب معاشی طور پہ غیر موثر یکجہتی کا نفاذ چاہتی ہے۔ جیسا کہ برنارڈ اینجولرز لکھتا ہے کہ ” فلاحی ریاست کے موجودہ بحران سے آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ان شرائط کی دریافتِ نو کریں جو قربت پہ مبنی یکجہتی کو جنم دیتے ہیں اور یہی وہ شرائط ہیں جو معاشی تعلق کی بھی نئی صورت گری کرتے ہیں تاکہ دولت کی پیداوار اور سماجی تعلقات کی پیداور کی ہم رنگی کو بحال کیا جا سکے۔

پیگی لکھتا ہے کہ “جدید دنیا کی تمام گراوٹ یعنی معیارات میں گھٹاؤ، اقدار کی پستی،جدید دنیا کے اس اصرار سے پیدا ہوئی کہ وہ ان اقدار کو تبدیل کرے گی جنھیں قدیم اور عیسائی دنیاؤں میں ہمیشہ ناقابلِ سمجھوتہ سمجھا گیا۔ اس گراوٹ کی سب سے زیادہ ذمہ داری لبرل نظریات پہ آتی ہے کیونکہ یہ ایک غیر حقیقی بشریات پہ مبنی ہے جو غلطی پہ مبنی نتائج دھڑا دھڑ پیدا کر رہی ہے۔

یہ تصور کہ مارکیٹ میں آدمی آزادانہ اور عقلی طریقے سے کام کرتا ہے فقط ایک خیالی دنیا کا مفروضہ ہے کیونکہ معاشی حقائق کبھی خودمختار نہیں ہوتے بلکہ دیے گئے سماجی و ثقافتی تناظر کی نسبت سے قائم ہوتے ہیں۔ پیدائشی معاشی عقلیت کا کوئی وجود نہیں ہے یہ محض سماجی تاریخی تعمیر کی ایک پیداوار ہے۔ کمرشل تبادلہ، سماجی تعلقات تو دور کی بات معاشی تعلقات کی بھی فطری شکل نہیں ہے۔ مارکیٹ کوئی آفاقی مظہر نہیں ہے بلکہ ایک علاقائی چیز ہے۔ یہ ہرگز طلب و رسد کی بہترین ترتیب پیدا نہیں کرتی کیونکہ یہ فقط ان لوگوں کی طلب پہ دھیان دیتی ہے جو رقم ادا کر سکتے ہیں۔ سماج ہمیشہ اپنا انفرادی اجزاء سے بڑھ کر ہوتا ہے جیسا کہ ایک کلاس ہمیشہ اپنے عناصر سے بڑھ کر ہوتی ہے کیونکہ یہ افراد ہیں جو اسے ایسا بناتے ہیں اور لہذا یہ افراد سے منطقی اور درجہ بندی کے حساب سے مختلف ہوتی ہے جیسا کہ رسل منطقی اقسام کے اپنے نظریے میں بیان کرتا ہے (کوئی بھی کلاس اپنا رکن خود ہی نہیں ہو سکتی جس طرح کہ کوئی بھی رکن اپنے طور پہ کلاس نہیں ہوتا)۔ اور آخری بات یہ ہے کہ ایسا تصورِ انسان ایک ناقابلِ حمایت وژن ہے کہ جس میں فرد اپنے ہر تناظر سے کٹا ہوا ہے اور ٹھیٹھ عقلی توقعات پہ پورا اترتا ہے اور جو آزادی سے اپنی شناخت خود منتخب کرتا ہے۔ اس کے برعکس گروہی و نیم گروہی نظریہ سازوں نے واضح کیا ہے افراد کے لیے ایسی کمیونٹی کی کس قدر اہمیت ہے جو ان کا دائرہ کار اورنظریہ علم تشکیل دے تاکہ ان کی شناخت بن سکے اور ان کے مقاصد کی تسکین ہو سکے۔ مشترکہ خیر کا نظریہ نہایت معقول ہے جو کمیونٹی کا طرزِ زندگی واضح کرتے ہوئے اجتماعی شناخت کی بات کرتا ہے۔

موجودہ زمانے کا سارا بحران مجرد آفاقی انسان کے مثالیے اور ٹھوس آدمی کی حقیقت کے مابین موجود شدید تضاد کا نتیجہ ہے۔ اول الذکر ہر قسم کی سماجی تعلقات سے غیرشخصی حالت میں لاتعلق ہے جبکہ ثانی الذکر کے لیے سماجی تعلقات جذباتی بندھنوں اور احساسِ قربت کی بنا پہ تشکیل پاتے ہیں اور فروعی طور پہ اتحاد، اتفاق اور فرائض باہمی بھی پیدا ہوتے ہیں۔ لبرل مفکرین کا یقین ہے کہ سماج فقط فرد پرستی اور مارکیٹ کی اقدار کی بنیاد پہ بن سکتا ہے۔ یہ ایک سراب ہے۔ فرد پرستی کبھی بھی سماجی رویوں کی واحد بنیاد نہیں رہی اور نہ ہی ایسا کبھی ہوگا۔ یہ سوچنے کے لیے بھی کافی معقول وجوہات موجود ہیں کہ فرد پرستی کا ظہور بھی اسی وقت تک ہو سکتا ہے جب تک کہ کلی سماج کسی نہ کسی شکل میں باقی رہتا ہے۔ لوئس ڈومانٹ لکھتا ہے کہ ” فرد پرستی ہرگز اس قابل نہیں ہے کہ کلیت کا متبادل بن جائے اور معاشرے پہ حکمران بن بیٹھے۔ مزید یہ کہ سماجی کلیت سے ناقابلِ ادراک اور پراسرار طریقوں حاصل ہونے والی مدد کے بغیر فرد پرستی اپنا کام کر ہی نہیں سکتی۔” فرد پرستی لبرل نظریے کو ایک یوٹوپیائی رخ دیتی ہے۔ پس کلیت کو محض ماضی کی ایک یادگار سمجھنا غلط ہے۔ فرد پرستی کے اس جدید دور میں بھی آدمی ایک سماجی وجود ہی رہتا ہے۔ کلیت اس لمحے ظہورِ نو کرتی ہے جب لبرل نظریہ یہ پوزیشن اختیار کرتا ہے کہ “مفادات میں قدرتی ہم آہنگی” ہونی چاہیے کیونکہ اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم کر رہا ہے کہ اجتماعی خیر کو نجی مفاد پہ فوقیت حاصل ہے۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: