“نئیں کرانچی” یہ ہے : محمد عثمان جامعی

0
  • 141
    Shares

ان دنوں کراچی کی حالت گلی کی اُس لڑکی کی طرح ہے جس کا برسوں کا رومان تازہ تازہ ختم ہوا ہو اور محلے کے سارے لڑکے آس لگائے اس کی گلی کا چکر لگاتے رہیں، کوئی نکڑ پر بیٹھا ایک نظر کا منتظر ہو، کوئی سامنے والے کھوکے سے خوامخواہ سگریٹ خرید خرید کر پیتا اور کھانستا رہے، کوئی بے کار بار بار عشق سے نئی نئی فارغ ہونے والی لڑکی کے سامنے سے گزرتا رہے اور کوئی اس کے راستے میں دل لیے کھڑا رہے۔

اسی طرح سیاسی جماعتیں اور سیاست داں کراچی کی نگاہ التفات کے منتظر ہیں۔ کراچی کی چاہت حاصل کرلینے کا یہ امکان ایم کیو ایم کے بحران سے پیدا ہوا۔ ورنہ گذشتہ کئی دہائیوں تک تو ایم کیو ایم الیکشن کا بائیکاٹ کرے تب ہی دوسری جماعتوں کے بھاگ جاگتے تھے۔ ایک زمانے تک کچھ امر طے شدہ تھے، جیسے بھارت میں کوئی بھی مصیبت یا برائی (مودی کو چھوڑ کر) آئے گی تو الزام پاکستان پر لگے گا، پیپلز پارٹی کے انتخابات جیتنے کا مطلب ہے کہ سندھ کی وزارت اعلیٰ کی نشست پر قائم علی شاہ اونگھ رہے ہوں گے، نوازشریف وزیر اعظم ہوں گے تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ شہباز شریف ہی کو ملے گی، اتوار کو اور تہوار پر اے ٹی ایم مشینیں بند ملیں گی، جب بھی نکاح کی خبر آئے گی عمران خان تردید کریں گے، آصف زرداری مقدمے سے بری ہوجائیں گے، پیٹرول کے نرخ بڑھنے پر انڈے منہگے ہو جائیں گے اور الیکشن میں کراچی کی نشستوں کی اکثریت ایم کیو ایم جیت لے گی۔

قائم علی شاہ کا معاملہ اور شہباز شریف کا مستقبل چھوڑ کر اب بھی سب جوں کا توں ہے، مگر ایم کیو ایم پر آکر عجب وقت پڑا ہے۔ ”قائد“ کی ایک تقریر نے اس جماعت کی تقدیر کو اندیشوں سے دوچار کردیا ہے، ورنہ کبھی کراچی کی ہر سڑک پر ”بھائی“ کی ان ہی کی جتنی بڑی بڑی تصویریں نصب تھیں، اگر اس سائز کی تصاویر کترینہ کیف اور نرگس فخری کی لگی ہوتیں تو شہر میں فحاشی یوں پھیلتی کے سمیٹنے میں نہ آتی، مگر بھائی اور ان کے ساتھی کراچی میں یوں پھیلے ہوئے تھے کہ کسی اور کے پھیلنے کی ذرا بھی گنجائش نہ تھی۔ اُس وقت کسی اور جماعت کو پھیلنے کی اجازت تھی نہ پھولنے پھلنے کی۔ اس لیے سب جماعتیں صبر کے پھل کے انتظار میں بیٹھی خون کے گھونٹ پیتی رہیں۔ آخرکار یہ پھل پکنے کا وقت آہی گیا۔ شادیوں میں لگنے والی صدا،”کھانا کھل گیا ہے“ کی طرح،”پھل پک گیا ہے“ کی آواز لگی اور سب اپنی اپنی ٹوکریاں لے کر باغ کی طرف بھاگے۔

پہلی ٹوکری مصطفیٰ کمال کی تھی اور بڑے کمال کی تھی، جس میں ایم کیوایم کی شاخوں سے پھل ٹوٹ ٹوٹ کر اور کچھ تو فاروق ستار کے ہاتھوں سے چھوٹ چھوٹ کر گِرے۔ بعض پھل پتھر مار مار کر بھی توڑنا پڑے۔ اب یہ پھل صبر کے ہوں یا جبر کے میٹھے ضرور ہیں اور سارے ہی میٹھے ہیں کیوں کہ مصطفیٰ کمال اور ان کی پاک سرزمین پارٹی نے میٹھا میٹھا ہپ ہپ، کڑوا کڑوا تھو تھو نہیں کیا، بل کہ سارے پھل مزے لے لے کر ہڑپ کر لیے۔

مصطفیٰ کمال جب ”یار یہ آدمی ہمیں کاں لے آیا“ کہتے اور رخصت ہوتی دلہن کی طرح روتے کراچی میں وارد ہوئے تو شہر کے نئے سیاسی حالات کی ہنڈیا دَم پر تھی۔ پھر جب ہنڈیا پک چُکی اور ڈھکن اٹھا، تو ہر باسی کڑھی میں اُبال اٹھا۔ اب تو گویا پورا کراچی ہی اپنے ایک علاقے کی طرح ”نئیں کرانچی“ ہے، جہاں ہر جماعت اپنا مستقبل ڈھونڈ اور امکانات تلاش کر رہی ہے۔ یہ تلاش اس شہر کے باسیوں کی حمایت سے ایم کیو ایم کے کارکنوں کی وفاداریوں تک محیط ہے۔

نازک کمریا والے پرویز مشرف امکان تلاش کرنے والوں میں پیش پیش ہیں۔ وہ بھی ہمارے دیگر سیاست دانوں کی طرح مکان لندن میں تلاش کرتے ہیں اور امکان پاکستان میں۔ جس طرح ”سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملی، بن گیا روئے آب پر کائی“ اسی طرح انہیں پورے ملک میں کہیں جگہ نہیں ملی تو وہ کراچی کے نئے ”بھائی“ بننے کے سپنے دیکھ رہے ہیں۔ شاید انھوں نے لندن کو بھی اسی لیے ٹھکانا بنایا ہے کہ ان کی سمجھ کے مطابق کراچی والوں کے لیے دور کے ڈھول کی طرح دور کی تقریریں سہانی ہوتی ہیں۔ مشرف کی حالیہ تقریر تو بہت ہی سہانی تھی، جس میں انھوں نے ایم کیوایم اور عوامی نیشنل پارٹی پر لوگوں کو لڑوانے اور مروانے کا الزام لگایا۔ ہماری یادداشت ذرا کم زور ہے، ہمارے خیال میں جب کراچی میں یہ ماردھاڑ ہورہی تھی تو پرویزمشرف پنڈی بھٹیاں میں ایس ایچ او لگے ہوئے تھے اور ملک کا صدر کوئی اور تھا۔

آفاق احمد بھی اس دعا کے ساتھ میدان میں آگئے ہیں کہ  ”پھر کوئی وسعت آفاق پہ سایہ ڈالے پھر کسی آنکھ کے نقطے میں اُتارا جاوں۔“ مگر مسئلہ یہ ہے کہ وہ زمانہ اور تھا، یہ زمانہ اور ہے، انھیں جس سائے کی تلاش ہے ان دنوں مصطفیٰ کمال اور ہمنوا اس کے زیرسایہ ہیں، اور وہی کسی آنکھ کا تارہ ہیں۔ ان کے ساتھ آفاق سے زمین پر نازل ہونے والے عامرخان انھیں فراق دے کر پہلے الطاف بھائی سے میلے میں بچھڑے بھائی کی طرح جا ملے اور اپنے سارے گناہ معاف کرالیے، اور ابھی ”ہاتھ سے منہدی کا رنگ“ بھی نہ چھوٹا تھا کہ الطاف بھائی کو پھر چھوڑ دیا، اب اچھے بچوں کی ایم کیوایم میں فاروق ستار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اگرچہ الطاف حسین کی طرح آفاق احمد بھی امن پسند ہیں اور تشدد پر تھوڑا سا بھی یقین نہیں رکھتے، لیکن کون نہیں جانتا کہ جس ”ایم کیوایم حقیقی“ کے ساتھ کراچی کی سیاست میں طلوع ہوئے تھے، وہ ان کے زیراثر علاقوں کے باسیوں کے لیے ”ضیاءالحقیقی“ بن گئی تھی۔ خیر جہاں ”اٹھو بیٹا آنکھیں کھولو، بستر چھوڑو اور منہہ دھولو“ کی مادرانہ آواز پر کراچی میں بہت سوں کے ضمیر جاگ اٹھے تو ان کا ضمیر کیسے سوتا رہتا، چناں چہ اب وہ بھی عوام سے ووٹ ”لینے“ کے بجائے ووٹ مانگنے کے موڈ میں ہیں۔

ایک ہوتے ہیں سلیم شہزاد۔ کبھی کراچی میں ان کا طوطی بولتا تھا، پھر وہ طوطی کی طرح الطاف بھائی کے ساتھ پُھر سے اُڑ کر لندن جا پہنچے، جس کے بعد ان کی پہچان کے کھنڈر میں اُلو بولنے لگا۔ خود وہ چُپ ہی رہے۔ طویل عرصے بعد انھوں نے دو کام کیے ہیں، پاکستان آئے ہیں اور بول پائے ہیں۔ پہلے ایم کیوایم کے دھڑوں کو ایک کرنے کی ٹھانی، یہ نیک کام نہ ہوپایا تو اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کردیا، اب جماعت بنانا مال بنانے جتنا آسان تو ہے نہیں، لہٰذا اس ارادے سے بعض آکر عمران خان سے ملاقات کی ہے، ممکن ہے وہ جلد کراچی کی تحریک انصاف پر ہاتھ صاف کرجائیں۔

پاکستان پیپلزپارٹی، جس کے لیے اب تک بلاول ہاوس، ایوان وزیر اعلیٰ اور سندھ اسمبلی کے علاوہ باقی ماندہ کراچی صرف بندر بانٹ کے لیے موجود بڑا سا پلاٹ تھا، شہر میں جیتنے کے خواب دیکھ اور دعوے کر رہی ہے۔ پی پی پی کو اچانک پتا چلا ہے کہ کراچی میں خالی پلاٹ ہی نہیں بٹتے انسان بھی بستے ہیں، جن کے ووٹ لینے کے لیے پارٹی بے تاب ہے اور اسے امید ہے کہ اس نے شہر کی جو خدمت کی ہے اسے دیکھتے ہوئے کراچی کے شہری اس کا دامن ووٹوں سے بھر دیں گے۔ ان خدمات میں نصیراﷲ بابر سے امن کمیٹی تک لاتعداد خدمتیں شامل ہیں۔ پیپلزپارٹی کی امید بے جا بھی نہیں، کراچی میں اس نے جو کار مسیحائی انجام دیے ہیں اُن پر کسے شک ہوسکتا ہے، اسی وجہ سے تو کراچی میں پی پی پی کی پہچان ”آپریشن“ اور ڈاکٹر عاصم بن چکے ہیں۔ ہمارے خیال میں پی پی پی شہر کا مینڈیٹ لے کر اپنا بوجھ بڑھائے گی، کیوں کہ پانی سے کچرے تک سے متعلق سارے اختیارات پارٹی کی صوبائی حکومت کے نازک کندھوں کو پہلے ہی بوجھل کیے ہوئے ہیں، اب مینڈیٹ کا وزن بھی کمر پر آگیا تو بے چاری پارٹی کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں پر چل بھی نہیں پائے گی اور بلاول ہاوس میں پڑی بھٹو سے آصفہ تک پوری نسل کی سال گرہ کے کیک کاٹتی رہے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: