لبرلزم: ایک تنقید: آلان دی بونوا (حصہ اول) — ترجمہ: کبیر علی

1
  • 175
    Shares

آلان دی بونوا ایک فرانسیسی فلسفی اور نیورائٹ تحریک کے بانی ہیں۔ زیرِ نظر تحریر میں لبرلزم پر تنقید کے ضمن میں انہوں نے کچھ اہم اور دلچسپ نکات اٹھائے ہیں۔ موضوع سے دلچسپی رکھنے والوں کیلئے انکی اس تحریر کو کبیر علی نے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔


لبرل ازم چونکہ کسی فردِ واحد کا وضع کیا ہوا نظریہ نہیں اس لیے یہ کبھی ایک متحد نظریے کی شکل میں پیش نہ کیا گیا۔ کئی لبرل مفکرین نے مختلف زمانوں میں (اگر متضاد نہ بھی کہیں تو) طرح طرح سے اس کی تشریح کی۔ پھر بھی اس حد تک مشترک نکات موجود ہیں کہ ان سب (مفکرین) کو لبرلز کے زمرے میں رکھا جا سکے۔ یہی مشترک نکات اس بات کو ممکن بناتے ہیں کہ لبرل ازم کو ایک مخصوص مکتبِ فکر کے طور پہ بیان کیا جا سکے۔ ایک طرف لبرلزم ایک ایسا معاشی نظریہ ہے کہ جو خود کار مارکیٹ کے ماڈل کو کل سماجی حقیقت کا بیان بنانا چاہتا ہے اور جسے ہم سیاسی لبرل ازم کہتے ہیں وہ فقط ان معاشی نظریات سے اخذ کردہ اصولوں کو سیاسی زندگی پر منطبق کرنے کا نام ہے۔ اس عمل سے سیاست کا کردار کم سے کم ہو جاتا ہے۔ (اس حساب سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ “لبرل سیاست” اپنے آپ میں ایک متضاد اصطلاح ہے)۔ دوسری طرف لبرلزم ایک ایسا منہج ہے جو انفرادی بشریات پہ اپنی بنیاد رکھتا ہے یعنی یہ ایسے تصور انسان پہ کھڑا ہے کہ جو انسان کو اپنی نہاد میں سماجی نہیں سمجھتا۔

مترجم: کبیر علی

یہ دونوں بنیادی عناصر کہ جن میں سے ہر ایک بیانی اور مبنی بر معیار پہلو رکھتا ہے (فرد اور مارکیٹ دونوں حقائق کے طور پہ بھی بیان کیے جاتے ہیں اور ماڈل کے طور پہ بھی پیش کیے جاتے ہیں)، براہِ راست اجتماعی شناختوں سے متصادم ہیں۔ ایک اجتماعی شناخت کا تجزیہ ہم اس محدود طریقے سے نہیں کر سکتے کہ یہ بس کسی بھی گروہ کے افراد میں پائے جانے والے خواص کا سادہ سا مجموعہ ہے۔ ایسی شناخت تو مطالبہ کرتی ہے کہ اس گروہ کے ممبران کے شعور میں یہ بات واضح ہو کہ ان کی رکنیت ان کے انفرادی وجود کی حدود سے باہر نکل جائے گی یعنی ان کی مشترک شناخت اسی ساخت کی ایک پیداوار ہے۔ تاہم جہاں تک فرد پرستی پہ بنیاد رکھنے کی بات ہے، لبرلزم ہر وہ تعلق کاٹ ڈالنا چاہتا ہے جو فرد سے ماورا جانا چاہتا ہے۔ کیونکہ مارکیٹ کے بہترین طریقے سے چلنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اور اشیا ہر دو کی آزادانہ گردش میں کوئی بھی چیز رکاوٹ نہ بن سکے یعنی سرحدوں کو غیر حقیقی سمجھا جائے جس کا مطلب یہ ہوا کہ مشترک ڈھانچوں اور اقدار کو تحلیل کر دیا جائے۔ بے شک اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ لبرلز اجتماعی شناختوں کا کبھی دفاع نہیں کر سکتے، مگر وہ یہ کام اپنے اصولوں سے تضاد کی حالت میں کرتے ہیں۔

لوئس ڈومانٹ نے یہ دکھایا ہے کہ کس طرح یورپ کے روایتی کلیتی سماج کو ایک جدید فردیت پہ مبنی سماج بننے میں مسیحیت نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ بالکل آغاز مسیحیت نے آدمی کو ایک ایسے فرد کے طور پہ پیش کیا جو کسی بھی تعلق سے پیشتر، خدا سے ایک اندرونی تعلق رکھتا ہے اور لہذا ذاتی ماورائیت کے ذریعے نجات کا طالب ہے۔ خدا سے اس تعلق میں انسان کی بہ طور “فرد” قدر کی توثیق کی گئی جبکہ اس کے بالمقابل دنیا کو لازمی طور پہ کمتر اور گھٹیا سمجھا گیا۔ اسی کے ساتھ فرد کو دوسرا تمام افراد کے برابر سمجھا گیا کہ جو خود بھی انفرادی روحوں کے حامل تھے۔ مساوات اور آفاقیت کے عقائد کو ایک اعلیٰ درجے کی چیز کے طور پہ پیش کیا گیا۔ جبکہ ایک فرد خدا سے اپنے فرزندی تعلق کے باعث جو حتمی قدر پاتا ہے اس میں سب انسانیت ساجھے دار ہے۔

مارسل گاک ذاتی خدا کی نمود اور اندر کے آدمی کی پیدائش کو علت و معلول کے طور پہ دیکھتا ہے۔ یہ ایسا آدمی ہے کہ جس کی قسمت فقط اس کے انفرادی اعمال کا نتیجہ ہے اور جس کی آزادی خدا سے ایک گہرے تعلق میں پہلے ہی سے پوشید ہ ہے یعنی ایسا تعلق کہ جس میں فقط خدا شامل ہے۔ گاک کے بقول “جتنا خدا اپنی لامحدودیت میں دور ہوتا ہے اتنا ہی اس سے تعلق بھی خالص ذاتی ہوتا جاتا ہے، حتی کہ ایک ایسے درجے میں پہنچ جاتا ہے کہ جہاں ہر قسم کے ادارے کا واسطہ درمیان میں سے نکل جاتا ہے۔ قلبی موجودگی کے سوا خدائے مطلق کا کوئی بھی درست ارضی ٹھکانہ نہیں۔ اس طرح اصلی اندورونیت براہ راست مذہبی فردیت کی طرف لے جاتی ہے۔

پال کا صحیفہ اس دہرے تناؤ کو بیان کرتا ہے جس سے ایک مسیحی خدا سے تعلق میں ایک دوسری ہی دنیا کا شخص بن جاتا ہے، مسیحی بننے کا مطلب کسی نہ کسی طرح سے دنیا کو تج دینا ہے۔ تاہم تاریخ کے بہاؤ میں یہ دوسری دنیا کا شخص دھیرے دھیرے دنیاوی زندگی سے اس حد تک آلودہ ہو گیا کہ اس نے طاقت حاصل کی تاکہ دنیا اس کی اقدار کے آگے سر تسلیم خم کر دے۔ دوسری دنیا کا یہ شخص بتدریج اس دنیا کی طرف لوٹا تا کہ خود کو اس میں مستغرق کر کے اس کی قلب ماہیت کر دے۔

لبرلز اس تصور پہ خاص طور پہ زور دیتے ہیں کہ فرد کے مفادات کو کبھی بھی اجتماعی مفادات، عمومی خیریا عوامی تحفظ کے لیے قربان نہیں کرنا چاہیے۔ وہ ان تصورات کو متناقص خیال کرتے ہیں۔ اس تصور سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ فقط افراد کے حقوق ہوتے ہیں جبکہ کمیونٹی افراد ہی کا مجموعہ ہونے کے ناطے الگ سے کوئی حقوق نہیں رکھتی۔

یہ عمل تین مراحل میں طے ہوا۔ آغاز میں سیکولر زندگی کو رد کرنے کے بجائے اس کو متعلق بنانے کی کوشش کی گئی، یہ آگستائن کا دو شہروں کا امتزاج تھا۔ دوسرے مرحلے میں پاپائیت نے سیاسی طاقت حاصل کر تے ہوئے خود کو سیکولر بنا لیا۔ آخری مرحلے میں، اصلاح کلیسا کے ساتھ، آدمی نے خود کو مکمل طور پہ اس دنیا میں کھپا دیا جہاں وہ شانِ خداوندی کو مادی ترقی میں تلاش کرتا تھا جسے وہ ا پنے انتخاب کے ثبوت کے طور پہ تعبیر کرتا تھا۔

اس طرح مساوات اور انفرادیت کے اصول، جو ابتدائی طور پہ فقط خدا سے تعلق میں بروئے کار آئے اور اس وقت تک سماجی کل کی تعمیر کرنے والے نامیاتی اور درجہ بند اصول کے ساتھ رہ سکتے تھے، آہستہ آہستہ زمین تک لائے گئے جس کے نتیجے میں جدید فرد پرستی پیدا ہوئی جو سیکولر پھیلاؤ کی نمائندہ ہے۔ لوئس ڈومانٹ ہی کے نظریے کی صراحت کرتے ہوئے ایلن رینولکھتا ہے کہ ” جدید فرد پرستی کی پیدائش کے لیے ضروری تھا کہ مسیحیت کے عناصرِ انفرادیت و آفاقیت جدید زندگی کو اس حد تک آلود ہ کر دیں کہ بتدریج یہ دونوں منہج یکجا ہو گئے، پہلے والی دوئی مٹ گئی اور دنیوی زندگی کی تفہیم ِ نو اس طرح کی جانے لگی کہ وہ قدر اعلیٰ سے مکمل ہم آہنگ ہوجائے۔ اس سارے عمل کے آخر میں دوسری ہی دنیا کا فرد، جدید دنیاوی دنیا کا فرد بن گیا۔

کلیتی نوعیت کا نامیاتی سماج غائب ہو گیا۔ جدید اصطلاح میں کہیں تو آدمی کمیونٹی سے سوسائٹی میں ڈھل گیا یعنی ایسی عام زندگی میں جو ایک سادہ معاہداتی تعلق سمجھی جاتی ہے۔ سماجی کل پہلی ترجیح نہ رہا بلکہ انفرادی حقوق کے حامل افراد پہلی ترجیح بن گئے جو ذاتی منفعت پہ مبنی عقلی معاہدوں کے پابند تھے۔

اس ارتقا میں ایک اہم لمحہ چودھویں صدی میں ویلیم آکہم کا نامینلزم تھا، جس کا خیال تھا کہ خاص وجودوں کے سوا کچھ موجود نہیں ہے۔اسی طرح ایک اور اہم لمحہ کارتیزین ازم تھا جس نے اُس تصورِ فرد کو فلسفیانہ سطح پہ قائم کیا جو بعد میں حقو ق آدمی کے قانونی عقیدے کے لازمی فرضیے اور تحریکِ روشن خیالی کے علمی تناظر کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اٹھارویں صدی سے فرد کی قدرتی بندھنوں سے رہائی کو کائناتی ترقی کے تناظر میں اس طرح تعبیر کیا جانے لگا گویا یہ انسانیت کا “بلوغت” کی جانب سفر ہے۔ فردیت کی اسی فضا کے زیرِ اثر جدیدیت کو سب سے پہلے ایک ایسا عمل قرار دیا گیا جس کے ذریعے “فرد کی نجات” کے لیے مقامی گروہوں اور وسیع تر کمیونٹیوں کو بتدریج توڑ ڈالا جاتا ہے اور یکجہتی کے تمام نامیاتی رشتے تحلیل ہو جاتے ہیں۔

نامعلوم زمانوں سے انسان ہونے کا یہی مطلب چلا آ رہا ہے کہ بہ طور شخص اور بہ طور سماجی وجود ہر دو کے طور پہ توثیق حاصل کی جائے: انفرادی جہت اور اجتماعی جہت بعینہ ایک نہیں ہیں تاہم انھیں ایک دوسرے سے الگ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کلیتی تناظر میں آدمی خود کو اس بنیاد پہ نمو دیتا ہے کہ اس نے کیا کچھ وراثت میں پایا ہے اور کیا کچھ سماجی تاریخی تناظر سے حاصل کیا ہے۔ یہی وہ ماڈل ہے (اور تاریخ کا سب سے مشترک ماڈل ) جسے تاریخِ مغرب کا خاصہ سمجھی جانے والی فرد پرستی سے براہِ راست تصادم کا سامنا ہے۔

جدید معنوں میں فرد پرستی ایسا فلسفہ ہے جو واحد حقیقت فرد کو قراردیتا ہے اور کسی بھی چیز کی جانچ پرکھ کے لیے فرد ہی کو بطور ِاصول استعمال کرتا ہے۔ فرد کو بذاتہ تصورکیا جاتا ہے، اس کے سماجی یا ثقافتی تناظر سے آزاد حالت میں۔ کلیت کا نقطہء نظر موجود معاشرے کو ان اقدار پہ قائم سمجھتا ہے جو وراثت میں ملتی ہیں، آگے منتقل اور اشتراک کی جاتی ہیں یعنی آخری تجزیے میں یہ نقطہ نظر خود سماج سے متعلق ہے جبکہ اس کے بالمقابل فرد پرستی اپنی اقدار کو سماج سے آزادی کی حالت میں قائم کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ یہ گروہوں، لوگوں، ثقافتوں اور اقوام کے خود مختار وجود کو تسلیم نہیں کرتی کیونکہ یہ ان سب اکائیوں کو انفرادی اجزاء کے مجموعے سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی کہ جن کی اپنی الگ سے کوئی قدر ہو۔

فرد کی اجتماع پر یہ اولیت بہ یک وقت بیانی، مبنی بر معیار، مبنی بر طریقہ کار اور قدری نوعیت کی ہے۔فرد کو اجتماع پر فوقیت ہے، چاہے یہ فوقیت “ماقبلِ تاریخ” کی ایک اساطیری نمائندگی سمجھ لی جائے یا پھر ایک سادہ مبنی بر معیار فوقیت (یعنی فرد وہ ہے جو زیادہ اہمیت رکھتا ہے)۔ جارج بٹال کا کہنا ہے کہ “ہر وجود کی بنیاد میں ایک اصول ِ عدم کفایت موجود ہے۔ تاہم اس کے برعکس لبرل فرد پرستی کا یقین ہے کہ فردِ واحد مکمل کفایت کا حامل ہے۔ لبرلزم میں آدمی ابتدائی یا ثانوی درجے کی سماجیت میں کسی بھی دوسرے شخص سے تعلق کے حوالے کے بغیر خود کو ایک فرد سمجھ سکتا ہے۔ خود مختار، اپنا مالک آپ اور صرف اپنے مفادات پہ چلنے والے وجود ہونے کے ناطے “فرد” کی تعریف “شخص” کی تعریف سے متضاد ہے یعن “فرد ایک اخلاقی، آزاد، خود مختار اور لہذا غیر سماجی وجود ہے”۔

لبرل نظریے میں فرد کے حقوق اس کی “فطرت” میں پنہاں ہیں جو کسی بھی سماجی یا سیاسی ادارے سے مکمل طور پہ آزاد ہیں۔ حکومتوں کا فرض ہے کہ ان حقوق کو یقینی بنائیں تاہم وہ انھیں پیدا نہیں کر سکتیں۔ ہر قسم کی سماجی زندگی سے بالاتر ہونے کے ناطے یہ فوری طور پہ فرائض سے متعلق نہیں ہیں کیونکہ فرائض کا مطلب ہی یہ ہے کہ سماجی زندگی پہلے سے موجود ہے : اگر دوسرے نہیں ہیں تو دوسروں کے متعلق ہمارے فرائض بھی نہیں ہیں۔ پس فرد اپنے حقوق کا خود ماخذ ہے جن کا آغاز اس حق سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے نجی مفادات کے حساب سے آزادانہ حرکت کر سکے۔ لہذا وہ دوسرے افراد سے “حالتِ جنگ” میں ہے کیونکہ دوسرے بھی مسابقتی مارکیٹ سمجھے جانے والے معاشرے میں اسی طریقے سے چلیں گے۔

فرد چاہے تو ضرور دوسروں سے تعلق رکھے تاہم یہ تعلقات مشروط، امکانی اور عارضی ہوتے ہیں کیونکہ یہ باہمی رضا مندی پہ منحصر ہوتے ہیں اور ان کا طرفین کے انفرادی مفادات کو بہتر طریقے سے پورا کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں سماجی زندگی انفرادی فیصلوں اور مفادات کے انتخاب کے سوا کچھ نہیں ہے۔ آدمی ایک سماجی وجود کا رویہ اس لیے نہیں رکھتا کہ یہ اس کی فطرت میں ہے بلکہ اس لیے کہ یہ اس کے مفاد میں ہے۔ اگر وہ اس تعلق کو مزید فائدہ مند نہیں پاتا تو وہ یہ معاہدہ (کم از کم نظری طورپہ) کسی بھی وقت ختم کر سکتا ہے۔ درحقیقت یہ خاتمہ اس کی آزادی کا بہترین اظہار ہے۔قدیم تصور آزادی یعنی “عوامی زندگی میں شمولیت کا امکان” کے بالکل خلاف، جدید تصور آزادی سب سے پہلے “عوامی زندگی سے فرد کے خروج کا حق” ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لبرلز ہمیشہ آزادی اور غیر انحصاریت کو ایک دوسرے کا مترادف بتاتے ہیں۔ لہذا بنجامن کانسٹنٹ “آزادیء فرد کی پرامن مسرت” کو سراہتے ہوئے مزید اضافہ کرتا ہے کہ “آدمی کو خوش رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پیشوں، کمپنیوں، دائرہء عمل اور اس کے خوابوں کے لحاظ سے اسے کامل آزادی میں رہنے دیا جائے۔ یہ “پر امن مسرت” علیحدگی کے حق کے طور پہ سمجھی جا سکتی ہے یعنی یہ حق کہ نہ تو اسے کسی رکنیت کے فرائض ادا کرنے پہ مجبور کیا جائے گا اور نہ ہی کسی ایسی اطاعت پہ زور دیا جائے گا جو کسی بھی وقت اس کی “نجی آزادی” سے غیر مطابق ہو جائے۔

اس بات پہ کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ لبرل فردپرستی کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ موجود ہونے کے نامیاتی ڈھانچے، جو وحدتِ معاشرہ پہ بنیاد رکھتے تھے، بتدریج بکھر گئے۔ پھر سماجی وابستگیاں عمومی طور پہ انتشار کا شکار ہو گئیں اور آخری مرحلے میں ایک زہرآلود سماجی تنہائی پروان چڑھی کہ جس میں افراد ایک دوسرے سے بتدریج اجنبی ہوتی گئے حتیٰ کہ ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے

لبرلز اس تصور پہ خاص طور پہ زور دیتے ہیں کہ فرد کے مفادات کو کبھی بھی اجتماعی مفادات، عمومی خیریا عوامی تحفظ کے لیے قربان نہیں کرنا چاہیے۔ وہ ان تصورات کو متناقص خیال کرتے ہیں۔ اس تصور سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ فقط افراد کے حقوق ہوتے ہیں جبکہ کمیونٹی افراد ہی کا مجموعہ ہونے کے ناطے الگ سے کوئی حقوق نہیں رکھتی۔ لہذا این راں لکھتا ہے کہ “چونکہ حقوق ہوتے ہی صرف فرد کے ہیں پس “حقوقِ فرد” کی اصطلاح ہی غیر ضروری ہے۔ بنجامن کانسٹنٹ کا بھی یہی کہنا ہے کہ ” فرد کی آزادی جدید بنیادی ضرورت ہے نتیجتا، اسے سیاسی آزادی کے حصول کے لیے قربان کرنے کی بات ہرگز نہیں کی جانی چاہیے۔” اس سے قبل جان لاک بھی یہ اعلان کر چکا ہے کہ “ایک نیا پیدا ہونے والا بچہ کسی بھی ملک یا حکومت کی ملکیت نہیں ہوتا پس جب وہ بالغ ہوجائے تو اس حکومت سے آزاد ہے جس کے زیرِ سایہ وہ رہتا ہے اور اس سیاسی وجود سے بھی آزاد ہے جس کے تحت وہ خود کو مجتمع رکھتا ہے۔”

لہذا لبرل آزادی کا یہ مفروضہ ہے کہ فرد اپنی ہر بنیاد، اپنے ماحول، اپنے تناظر یعنی جہاں وہ رہتا اور اپنی دلچسپیوں کا انتخاب کرتا ہے، سے ماورا ہے۔ یعنی ہر اس چیز سے ماورا ہے جو اس کی شناخت بنتی ہے۔ اس کا مفروضہ ہے جیسا کہ جان رال کہتا ہے کہ فرد اپنے تمام مقاصد سے پہلے آتا ہے۔ تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ فرد خود کو ہر اطاعت اور جبریت سے منزہ وجود خیال کرسکتا ہے۔پھر اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ فرد ہرقسم کے حالات میں اپنی آزادی کو ہر قسم کے خیر پہ ترجیح دے گا۔ اس طرح کا فہم اپنی تعریف میں ان تمام پابندیوں اور وابستگیوں کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ جن کا عقلی حساب کتاب سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ یہ ایک خالصتا فارمل تصور ہے جو اصلی شخص کو سمجھنا ہی ناممکن بنا دیتا ہے۔

عمومی خیال یہ ہے کہ فرد کو اپنے ہر پسندیدہ کام کرنے کا حق اس وقت تک ہے جب تک کہ اس کی آزادی دوسروں کی آزادی میں رکاوٹ نہیں ڈالتی۔پس اس لحاظ سے آزادی کی تعریف خواہشات کا وہ خالص اظہار ہے کہ جس کی سوائے اس کے کوئی حد نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی ایسی ہی خواہشات سے ٹکرا جائے اور یہ سب خواہشات معاشی تبادلے کے واسطے سے گزرتی ہیں۔ یہ وہی بات ہے کہ جس پہ فطری حقوق کے ایک نظریہ ساز گرائٹس نے ساتویں صدی میں زور دیا تھا یعنی” یہ انسانی سماج کی فطرت کے خلاف نہیں ہے کہ کوئی شخص اپنے ذاتی مفادات کے لیے کام کرے البتہ شرط یہ ہے کہ وہ یہ عمل دوسروں کے حقوق پامال کیے بغیر سرانجام دے”۔ مگر یہ بہت صلح جو قسم کی تعریف ہے کیونکہ تمام انسانی سرگرمیاں کسی نہ کسی شکل میں دوسروں کی آزادی کی قیمت پر ہی سرانجام دی جاتی ہیں نیز یہ فیصلہ کرنا بھی قریبا ناممکن ہے کہ وہ کونسا لمحہ ہے کہ جب ہم کہہ سکیں کہ ایک فرد کی آزادی دوسروں کی آزادی کی راہ میں حائل ہو رہی ہے۔

درحقیقت لبرل آزادی سب سے بڑھ کر ملکیت کی آزادی ہے۔ یہ وجود کے بجائے ملکیت پہ بنیاد رکھتی ہے۔ آدمی اس وقت تک ہی آزاد ہے جب تک وہ ایک مالک ہے اور سب سے پہلے وہ خود کا مالک ہے۔ یہ تصور کہ آزادی کو متعین کرنے میں خود ملکیتی کا بنیادی کردار ہے، بعد میں مارکس نے اپنایا۔

آلن لوراں حصولِ ذات کی تعریف کچھ یوں کرتا ہے کہ ” ایک وجودی جزیرہ پن کہ جس کا اولین مقصد اپنے لیے مسرت کی تلاش ہے” لبرل مصنفین کے لیے “مسرت کی تلاش” کا مطلب ایسی آزادی ہے کہ جس کے باعث کوئی بھی شخص بلا رکاوٹ اپنے مفادات کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی جدوجہد کر سکتا ہے۔ تاہم فوری طور پہ “مفادات” کو سمجھنے کی مشکل سامنے آتی ہے خاص طور پہ اس وجہ سے کہ جو حضرات “مفادات” کو ایک مسلمے کے طور پہ لیتے ہیں وہ کبھی ان کی پیدائش یا اجزاء کو بیان کرنے کی زحمت گوارہ نہیں کرتے بس زیادہ سے زیادہ اس بات پہ غور کر لیتے ہیں کہ کیا تمام سماجی اداکار ملتے جلتے مفادات سے تحریک پاتے ہیں یا یہ کہ کیا ان کے مفادات باہم موافقت و مطابقت رکھتے ہیں۔ اگر انہیں مجبور ہی کیا جائے تو وہ ان کی ایک معمولی سی تعریف بیان کر دیتے ہیں یعنی ان کے حساب سے “مفاد” کسی خواہش، منصوبے یا مقصد برآوری کی سرگرمی وغیرہ کے مترادف بن جاتا ہے۔ کوئی بھی چیز”مفاد” بن سکتی ہے۔ حتیٰ کہ ایثار اور بے غرضی پہ مبنی سرگرمی بھی انا پرستی اور مفاداتی ہو جاتی ہے کیونکہ بہرحال ایسا کرنے والا شخص اپنی آزاد مرضی (خواہش) ہی کی پیروی کر رہا ہے۔ درحقیقت یہ بات بالکل صاف ہے کہ لبرلز کے لیے مفاد کی تعریف سب سے پہلے ایک مادی فائدے ہی کی ہے کہ جسے جانچنے کے لیے اس کا مقداری اور قابلِ شمار ہونا چاہئے یعنی سرمائے کے آفاقی باٹوں کے بالمقابل اسے تولا جا سکے۔

اس لیے اس بات پہ کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ لبرل فردپرستی کا پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ موجود ہونے کے نامیاتی ڈھانچے، جو وحدتِ معاشرہ پہ بنیاد رکھتے تھے، بتدریج بکھر گئے۔ پھر سماجی وابستگیاں عمومی طور پہ انتشار کا شکار ہو گئیں اور آخری مرحلے میں ایک زہرآلود سماجی تنہائی پروان چڑھی کہ جس میں افراد ایک دوسرے سے بتدریج اجنبی ہوتی گئے حتیٰ کہ ایک دوسرے کے دشمن ہو گئے اور یہ “سب کی جنگ، سب کے خلاف” کے نئے ورژن کا ضروری حصہ تھا جسے ہم عمومی طور پہ “مسابقت” کا نام دیتے ہیں۔ یہی وہ معاشرہ ہے کہ جس کا بیان ٹاک ول نے کیا ہے یعنی جس میں “ہر فرد عمومی مشاغل سے ہٹا ہوا، دوسروں کے لیے اجنبی ہو جاتا ہے”۔ لبرل فرد پرستی ہر جگہ بلاواسطہ سماجیت کو تباہ کر دینا چاہتی ہے جس نے جدید فرد اور اس سے وابستہ اجتماعی شناختوں کے معرض وجود میں آنے کو ایک طویل عرصہ روکے رکھا۔پائر روزن ویلن لکھتا ہے کہ “لبرلزم ایک لحاظ سے دنیا کے غیر شخصی ہوجانے کو ترقی اور آزادی کی شرط بنا دیتا ہے۔”

تاہم لبرلزم مجبور ہے کہ معاشرے کی موجودگی کا اعتراف کرے۔ مگر بجائے اس کے کہ وہ اس بات پہ غور کریں کہ معاشرہ کیوں وجود رکھتا ہے، لبرلز اس بات سے واسطہ رکھتے ہیں کہ معاشرہ کیسے بنتا اور قائم ہوتا ہے اور کس طور سے اپنا فعل سرانجام دیتا ہے۔ آخر کار ان کے حساب سے معاشرہ اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ یہ افراد کا ایک سادہ سا مجموعہ ہے، انفرادی ارادوں کی محض ایک امکانی پیداوار ہے، افراد کا ایک ایسا سادہ اکٹھ ہےجو اپنے ذاتی مفادات کے دفاع اور حصول میں سرگرم ہے۔ معاشرے کا لازمی فریضہ ایکسچینج ریلیشنز کو منظم کرنا ہے۔ اس معاشرے کو یا تو ابتدائی عقلی رضاکارانہ سرگرمی (سماجی معاہدے کا افسانہ) کے نتیجے کے طور پہ دیکھا جا سکتا ہے یا پھر انفرادی ایجنٹس کے پیداکردہ منصوبوں کی کلیت پہ مبنی ایک منظم کھیل کے طور پہ دیکھا جا سکتا ہے یعنی ایسا کھیل جسے مارکیٹ کا “نادیدہ ہاتھ” منظم کرتا ہے، جو انسانی رویوں کے غیر ارادی نتیجے کے طور پہ معاشرے کو “پیدا” کرتا ہے۔ پس لبرلز سماج کے تجزیے کی بنیاد یا تو لاک کے نظریہء معاہدیت یا آدم سمتھ کے “نادیدہ ہاتھ” کے تصور یا ہائیک کے تصورِ “خود کار تنظیم” پہ رکھتے ہیں جو کسی بھی ارادے سے آزاد ہے۔

لبرلز نے ریگولیشن بذریعہ مارکیٹ کی برتری کا تصور قائم کیا۔ ان کے مطابق تبادلوں کی ہم آہنگی کے لیے یہی سب سے موثر، عقلی اور منصفانہ ذریعہ ہے۔ پہلی نظر میں مارکیٹ “منظم ہونے کا ایک طریقہ” کے طور پہ پیش کی جاتی ہے۔ معاشی نقطہ نظر سےمارکیٹ بہ یک وقت ایک ایسی حقیقی جگہ ہے جہاں اشیاء کا تبادلہ کیا جاتا ہے اور ایک ایسی ورچوئل جگہ ہے جہاں تبادلے کی شرائط یعنی رسد و طلب کی ایڈجسٹمنٹ اور قیمتوں کے تعین کی تشکیل ممکنہ حدتک بہترین طریقے سے کی جاتی ہے۔

مگر لبرلز مارکیٹ کی ابتدا پر توجہ ہی نہیں دیتے۔ ان کے مطابق کمرشل تبادلہ تمام سماجی رشتوں کا ایک فطری ماڈل ہے۔ اس سے انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ بذاتِ خود مارکیٹ بھی ایک فطری وجود ہے جو کسی بھی قسم کے ارادے اور فیصلے سے قبل ایک آرڈر قائم کرتی ہے۔ فطرت انسانی سے سب سے زیادہ ہم آہنگ تبادلے کی شکل ہونے کے باعث، مارکیٹ تمام معاشروں میں طلوعِ انسانیت کے وقت موجود رہے گی۔ کوئی بھی شخص یہاں اس رجحان کو ملاحظہ کر سکتا ہے کہ ہر نظریہ اپنے مفروضوں کو” فطری بنا کر” پیش کرتا ہے یعنی خود کو اس طرح پیش نہیں کرتا جس طرح کہ وہ ہے یعنی انسانی جذبے کی تعمیر کردہ ایک چیز، بلکہ وہ خود کو فطری آرڈر کے ایک سادہ بیان کے طور پہ پیش کرتا ہے۔ اگر اس چالاکی کو ہم نظر انداز کر دیں تو سماج کی بذریعہ مارکیٹ فطری ریگولیشن کا نظریہ نافذ کیا جا سکتا ہے۔

قوم کو مارکیٹ سمجھتے ہوئے آدم سمتھ سپیس اور علاقے کے درمیان ایک بنیادی علیحدگی پیدا کرتا ہے۔ اس مرکنٹائل روایت کو توڑتے ہوئے کہ جو اب بھی سیاسی علاقے اور معاشی سپیس کو تسلیم کرتی ہے، سمتھ یہ دکھاتا ہے کہ مارکیٹ اپنی فطری نہاد میں کسی خاص جغرافیائی حدود میں قید نہیں کی جا سکتی۔ مارکیٹ ایک نیٹ ورک سے بڑھ کر کچھ نہیں اور اس نیٹ ورک کی منزل زمین کے کناروں تک پھیل جانا ہے کیونکہ آخری تجزیے میں اس کی واحد حد اس کی صلاحیتِ تبادلہ میں پنہاں ہے۔ سمتھ کے مشہور جملے ہیں کہ “ایک مرچنٹ، لازمی طور پہ کسی ایک ملک کا شہری نہیں ہے۔ اسے اس چیز سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس جگہ سے اپنی تجارت میں مصروف ہے اور بہت معمولی سی نفرت اسے اس بات پہ آمادہ کر سکتی ہے کہ وہ اپنا تمام سرمایہ اور اس کی مددگار صنعت کو ایک ملک سے دوسرے ملک میں منتقل کر لے”۔ یہ پیغمبرانہ سطور پائری روزن والن کے اس مشاہدے کی تصدیق کرتی ہیں جس میں وہ سمتھ کو “پہلے مستقل بین الاقوامی شخص” کے طور پہ دیکھتا ہے۔ وہ مزید کہتا ہے کہ ” سول سوسائٹی ایک سیال مارکیٹ ہے جو تمام لوگوں پر پھیل جاتی ہے اور انھیں ترغیب دیتی ہے کہ وہ ہر قسم کی قومی اور نسلی تقسیموں سے بالاتر ہو جائیں”۔

مارکیٹ کے اس تصور کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ لبرلز کا یہ مسئلہ حل کرتا ہے کہ سماجی معاہدے میں فرائض کے حصے کو کس طور سے تشکیل دیں۔ مارکیٹ کو درحقیقت ایک قانون کے طور پہ خیال کیا جا سکتا ہے، سوشل آرڈر کو منضبط کرنے والا ایسا اصول جو کسی بھی قانون ساز کے بغیر ہے۔ مارکیٹ کو ایک “نادیدہ ہاتھ” منضبط کرتا ہے اور یہ نیوٹرل ہے کیونکہ اس کی تجسیم ٹھوس افراد میں نہیں ہوتی۔ یہی مارکیٹ سماج کو اس مجرد طریقے سے منضبط کرتی ہے کہ جس کی بنیاد مبینہ معروضی “قوانین” پر ہے۔ انھی قوانین کے باعث مارکیٹ اس قابل ہوتی ہے کہ انفرادی رشتوں کو اس طریقے سے منضبط کرے کہ جہاں ماتحتی یا حکمرانی کی کوئی شکل اپنا وجود نہیں رکھتی۔پس سماجی نظم کو بھی معاشی نظم ہی قائم کرے گا اور دونوں نظم ادارہ جاتی عمل کے بغیر نمود کرتے نظر آتے ہیں۔ ملٹن فرائیڈمین لکھتا ہے کہ

” معاشی آرڈر محض اپنے مفادات کے لیے سرگرداں کروڑوں لوگوں کے پراجیکٹس کا ایک غیر ارادی اور ان چاہا نتیجہ ہے”۔یہ تصور کہ جسے ہائیک نے بہت زیادہ ترقی دی ہے دراصل آدم فرگوسن کے فارمولا سے متاثر ہے جس میں وہ سماجی حقائق کی توضیح کچھ یوں کرتا ہے کہ “یہ انسانی اعمال کا نتیجہ ہیں مگر انسانی ڈیزائن کا نہیں”۔

ہر شخص سمتھ کے “نادیدہ ہاتھ” کے استعارے کو جانتا ہے۔ کامرس کے اندر فرد “فقط اپنی فوائد کے لیے سرگرداں رہتا ہے اور دوسری بہت سی چیزوں کی طرح یہاں بھی اس کی رہنمائی ایک نادیدہ ہاتھ کرتا ہے جو ایک ایسے نتیجے تک پہنچتا ہے کہ جس میں فرد کے ارادوں کا کوئی دخل نہیں ہوتا”۔ اس استعارے کی مار اس فرسودہ مشاہدے سے بہت آگے تک ہے کہ جس کے مطابق کسی شخص کے اعمال کے نتائج اکثر اس کی توقع سے کافی مختلف ہوتے ہیں (اسے میکس ویبر “نتائج کا پیراڈاکس” قرار دیتا ہے)۔ درحقیقت سمتھ اس مشاہدے کو ایک بہت ہی رجائی تناظر میں رکھ کے پیش کرتا ہے وہ کہتا ہے کہ

“ہر فرد ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ دستیاب سرمائے کو ایسی جگہ استعمال کرے کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل ہو؛ یہ بات درست ہے کہ وہ اپنا مفاد ہی سوچتا ہے، معاشرے کا نہیں؛ مگر جس احتیاط سے وہ سرمائے کا استعمال کرتا ہے وہ قدرتی بلکہ لازمی طور سے اسے ایسے سمت لے جاتی ہے کہ وہ سرمائے کا ایسا استعمال کرے کہ جو معاشرے کے لیے بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔ فقط اپنے ذاتی مفادات کے لیے کام کرتے ہوئے بھی وہ سماجی مفادات کے لیے اس موثر طریقے سے کام کر تا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ اس کا اصل مقصد ہی یہ تھا۔”

اس کے استعارے کے کلامی مضمرات واضح ہیں : “نادیدہ ہاتھ” پروردگار کا ایک سیکولر اوتار ہی تو ہے۔ یہاں اس بات پہ بھی زور دینا چاہیے کہ عام عقیدے کے بالکل برعکس آدم سمتھ مارکیٹ کے میکانزم کو “نادیدہ ہاتھ” کے کھیل کے مشابہ قرار نہیں دیتا کیونکہ وہ موخر الذکر کو فقط کمرشل تبادلوں کے امتزاج کے نتیجے کو بیان کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس کے علاوہ سمتھ سرکاری مداخلت کے جواز کو بھی اس وقت درست مانتا ہے کہ جب عمومی خیر کو حاصل کرنے میں فرد کے منصوبے ناکام ہو جائیں۔

مگر یہ جواز بھی جلد ہی غائب ہو گیا۔ نیو لبرلز اب سرے سے عوامی خیر کے تصور ہی پہ جھگڑتے ہیں۔ ہائک معاشرے کی جانب دیکھنے کی کسی بھی جامع سوچ پر اصولی قدغن لگاتا ہے: کسی ادارے یا سیاسی اتھارٹی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ایسے مقاصد وضع کرے کہ جو “خود کار آرڈر” کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔ اس نقطہ نظر کو دیکھتے ہوئے لبرلز ریاست کو فقط ایک کردار دینے کے لیے رضامند ہیں کہ وہ ایسے حالات کو یقینی بنائے کہ جن میں معاشی عقلیت آزادانہ طور سے مارکیٹ میں اپنا عمل جاری رکھ سکے۔ ریاست کا اپنا کوئی مقصد نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف اس لیے وجود رکھتی ہے کہ فرد کے حقوق، تبادلے کی آزادی اور قانون کے احترام کو یقینی بنائے۔ یہ استحقاق سے زیادہ جواز کی حامل ہے اور اسے تمام دوسری حدود میں غیر جانبدار رہنا چاہیے نیز “اچھی زندگی” کا ماڈل پیش کرنے سے دستبردار ہو جانا چاہیے۔

“نادیدہ ہاتھ” کے نظریے کے نتائج بہت فیصلہ کن ہیں خصوصا اخلاقی درجے میں۔ بعض جگہوں پہ تو آدم سمتھ ان رویوں کی تائید کرتا ہے جن کی گزشتہ صدیوں میں مذمت کی جاتی تھی۔ سماجی مفاد کو فرد کے معاشی مفاد کے تابع کر دینے سے سمتھ خود غرضی کو دوسروں کی خدمت کا بہترین طریقہ بنا دیتا ہے۔ اپنے ذاتی مفاد کے زیادہ سے زیادہ حصول کو ممکن بناتے ہوئے ہم انجانے میں بلکہ نہ چاہتے ہوئے بھی سب کے مفاد کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ انا پرستی پہ مبنی مفادات کا جب مارکیٹ میں سامنا ہوتا ہے تو فطری بلکہ لازمی طور پہ “نادیدہ ہاتھ” اپنے مخصوص عمل کے ذریعے ان میں ہم آہنگی پیدا کردیتا ہے اور اس طرح اس امر کو ممکن بناتا ہے کہ وہ سماجی فلاح میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ پس کسی شخص کا سب سے پہلے اپنے ذاتی مفاد کو تلاش کرنا ہرگز غیر اخلاقی نہیں ہے کیونکہ آخری تجزیے میں انا پرستی پہ مبنی ہر عمل گویا ایک حادثاتی انداز سے سب کے مفاد پر ہی منتج ہوتا ہے۔ فریڈرک بیسٹیا اس کا خلاصہ یوں پیش کرتا ہے کہ “ہر کوئی، اپنے لیے کام کرتے ہوئے، سب کے لیے کام کر رہا ہوتا ہے”۔ پس انا پرستی کو اگر درست انداز سے سمجھا جائے تو یہ بے غرضی ہی تو ہے۔ دوسری طرف یہ پبلک اتھارٹیز ہیں کہ جب جب یہ یکجہتی کے نام پہ اپنے مفادات کے لیے فرد کے حقوق کی پامالی کریں تو انھیں “غیر اخلاقی”قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی جائے۔

لبرلزم فرد پرستی اور مارکیٹ کویہ کہتے ہوئے جوڑ دیتا ہے کہ موخر الذکر کا آزادی سے عمل کرنا فردکی آزادی کی بھی ضمانت دیتا ہے۔ جب مارکیٹ ایکسچینج پہ بہترین ریٹرن کو یقینی بناتی ہے تو دراصل وہ ہر ایجنٹ کی آزادی کی ضمانت دیتی ہے۔ ایک مثالی صورتحال میں جب مارکیٹ بلا روک ٹوک کام کرتی ہے تو یہ ایڈجسٹمنٹ ایک بہترین طریقے سے وقوع پذیر ہوتی ہےاور ایک جزوی توازن کوممکن بناتے ہوئے ایک مجموعی توازن کو یقینی بناتی ہے۔ ہائیک مارکیٹ کے اس عمل کو “کیٹالیکسی” قرار دیتا ہے جس میں وہ ایک خود کار اور مجرد آرڈر کی تشکل کی صورت میں نجی آزادی کے لیے آلاتی مدد فراہم کرتی ہے۔ پس مارکیٹ فقط بہترین مفاد کے معاشی مثالیے کی تسکین ہی نہیں کرتی بلکہ ہر اس چیز کی تسکین کرتی ہے کہ جس کی ایک آزاد فرد خواہش کرتا ہے۔ بالآخر مارکیٹ اور انصاف ایک ہو جاتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہائیک مارکیٹ کے کھیل کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ “ایسا کھیل جس میں تمام کھلاڑیوں کے امکانات بڑھتے رہتے ہیں” جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہارنے والے کھلاڑی کے پاس شکایت کرنے کا کوئی موقع نہیں ہوگا کیونکہ اگر اسے الزام دینا ہی ہے تو خود کو دے۔ آخر بات یہ ہے کہ مارکیٹ اندرونی طور پہ ایک “پُر امن” چیز ہے کیونکہ یہ”شریفانہ لین دین” پہ بنیاد رکھتے ہوئے جھگڑوں کی ثالثی کے اصول کا متبادل بنتی ہے اور دشمنی و حسد کا خاتمہ کرتی ہے۔

جاری ہے۔ دوسرا اور آخری حصہ اس لنک پہ ملاحظہ کریں

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: