لعنتی شاہ رخ جتوئی: نبیلہ کامرانی

2
  • 68
    Shares

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک امریکی فوجی پاکستان کے شہر لاہور میں سیر و تفریح کر رہا تھا کہ اسے دو افراد کی شکل کچھ پسند نہیں آئی تو اس امریکی نے ان دونوں اشخاص کو گولی مار کے ہلاک کر دیا۔ اسی وقت کہیں سے اس شخص کی مدد کے لیے ایک گاڑی آئی اور اس گاڑی کی زد میں آ کر ایک اور شخص ہلاک ہوگیا۔ پھر وہی ہوا جو ہمیشہ ہوتا ہے، پولیس کسٹڈی کے بعد جیل کسٹڈی۔ ٹرائل شروع ہو گیا۔ جنوری 27-2011 کو شروع ہونے والا ٹرائل مارچ 16-2011 کو اختتام پذیر ہوا۔ دیت کے قانون کے تحت مارنے والے نے مرنے والوں کے ورثاء کو لاکھوں ڈالرز دیے، اور یوں کیس اختتام پذیر ہوا۔ اس تمام کیس کی خاص بات یہ ہے کہ مختصر ترین وقت میں ختم ہوا۔ مارنے والا خوشی خوشی اپنے گھر واپس لوٹا۔ تھوڈا بہت شور مچا لیکن پاکستانی عوام کی یاداشت بہت کمزور ہے۔

دوسری دفع کا ذکر ہے، کراچی شہر میں رہنے والے کچھ نوجوان آپس میں کسی بات پر الجھے، کیونکہ ایک طرف ایک لڑکا تھا اور دوسری جانب چار، جو لڑکا اکیلا تھا وہ ان چار لڑکوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ یہاں بھی پہلے پولیس کسٹڈی، پھر جیل کسٹڈی اور اسکے بعد ٹرائل۔ سوشل میڈیا پر اس معاملے کو بہت زیادہ مقبولیت ملی۔ 7 جنوری 2013 کی رات یہ حادثہ ہوا، مرنے والے کا نام شاہ زیب تھا اور مارنے والے کا شاہ رخ جتوئی۔ یہ کیس بھی تیز رفتاری سے چلا اور جون 2013 میں شاہ رخ اور اسکے ساتھیوں کو سزائے موت سنادی گئی۔ پاکستانی عوام کو بہت خوشی ہوئی کہ چار گھٹیا لوگ جہنم واصل ہونے والے ہیں۔

لیکن پھر اچانک شاہ زیب کے والدین نے خدا کے نام پر شاہ رخ اور اسکے ساتھیوں کو معاف کر دیا۔ شاہرخ کے خاندان نے دیت کے قانون کے تحت کئی لاکھ روپے شاہ زیب کے خاندان کو ادا کیے اس طرح 23 دسمبر 2017 کو شاہ رخ جتوئی وکٹری کا نشان بناتا سینٹرل جیل کراچی سے آزاد ہوا۔ جس وقت وہ اپنی گاڑی میں سوار ہوا اس لمحے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئ۔ پاکستانی نیک شریف باکردار عوام غم و غصّے سے پاگل ہو گئ۔ شاہ رخ کی تصویر کو کئی ہزار لوگوں نے لعنتی کے ٹیگ کے ساتھ شیئر کیا۔ پوری قوم شاہ رخ کے خلاف متحد ہو گئ، اور کچھ روز قبل عوام نے اسلام آباد کورٹ میں شاہ رخ کے خلاف درخواست دائر کی گئی۔

تیسری دفع کا ذکر ہے، سال 2016 میں زیر التوا کیسز کی تعداد 1954868 تھی، صرف سندھ میں 121180 کیس زیرِ التوا ہیں۔ اگر صرف کراچی سینٹرل جیل کی بات کی جائے تو وہاں 7000 قیدی ہیں جن میں سے تقریباً 50٪ وہ ملزمان ہیں جن کے کیس زیرِ التوا ہیں۔ جیل میں چار ہزار لوگوں کی گنجائش ہے، اب آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اندر کی حالت کیا ہو گی۔ اب آتے ہیں انڈر ٹرائل قیدیوں کی طرف، ان تمام افراد کو آن کی عدالت میں پیشی والے دن جیل سے کورٹ لایا جاتا ہے جہاں انہیں اگلی تاریخ دے کے واپس جیل بھیج دیا جاتا ہے۔ اس عمل سے قیدی کو صرف ایک فایدہ ملتا ہے وہ اپنے گھر والوں سے چار سے پانچ گھنٹے کی ملاقات کر پاتا ہے، چونکہ ہر تاریخ پر عام طور پے کوئی ایک اہم اہلکار غیر حاضر ہوتا ہے،اس طرح صرف فرد؍جرم عائد ہونے میں آٹھ ماہ سے ایک سال کا عرصہ گزر جاتا ہے۔ ایک ملزم کئ سال کیس چلنے کے انتظار میں گزاردیتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ پاکستان کا قانونی نظام صبر کا امتحان ہے۔ یہاں  پرچہ کٹنے کے بعد کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اب چاہے جیل میں آنے والا کوئی بھی ہو اسکے پاس جتنی بڑی ڈگری ہو وہ کوی حیثیت نہیں رکھتا۔ سب ایک ہی صف میں کھڑے ہیں اپنی اگلی تاریخ کے انتظار میں۔۔

اب ہم آپ کو پہلی، دوسری اور تیسری کہانی کو سمجھاتے ہیں۔

اگر ایک امریکی کافر کھلے عام دن کی روشنی میں تین مسلمان پاکستانیوں کو قتل کرنے کے بعد دیت کے قانون کے تحت معاف کیا جا سکتا ہے تو شاہ رخ جتوئی کو کیوں نہیں؟؟

شاہ رخ نے جیل میں پانچ سال گزارے، جیل میں معافی اور تعطیلات کی علیحدہ گنتی سے تقریباً سات سے آٹھ سال بنتے ہیں۔ اس حساب سے اس نے سات سے آٹھ سال سزا بھی کاٹی۔ دیت کا قانون مسلمان پے لاگو ہوتا ہے لیکن عیسائی امریکی کو اس کے تحت معاف کیا جس سکتا ہے تو مسلمان پاکستانی کو کیوں نہیں؟

سب سے آخری سوال پاکستان کی باغیرت اور باضمیر عوام کو ایک شخص جو کئ سال جیل میں گزار کے آ گیا اسکے آزاد ہونے سے اتنی تکلیف ہے لیکن ہزاروں زیر التوا کیسز کے لیے شور کیوں نہیں ہو تا؟ سماجی ادارے اور نیک فیس بک فلسفی زیر؍ التوا کیسز کے لیے شور کیوں نہیں کرتے ؟ ہزاروں افراد جرم ؍ بیگناہ کاٹ رہے ہیں، لیکن کسی پے کوئی فرق نہیں پڑتا، کوئی ایک کیس سوشل، پرنٹ یا الکٹرانک میڈیا کے ہاتھ آجاے تو سب کی غیرت جاگ جاتی ہے، ہر شخص بھیڑ چال میں لگ جاتا ہے بنا سوچے کہ اس جال میں وہ خود بھی پھنس سکتا ہے۔

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. بھت ہی حق اور سچ کی بات کہی ہے آپ نے. چیزیں تو سب لوگوں کے سامنے ہیں وہ آواز بھی اٹھاتے ہیں کچھہ دن لیکن وہی بات ہے کہ کتنے دن آخر وہ احتجاج وغیرہ کرتے رہینگے. ایک توقح ہی ختم ہوگئی انصاف کی اس نظام سے. تبھی تو لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں اس جگہ سے اٹھہ کر دوسرے ملکوں کی جانب کوچ کرتے ہیں جن کو بھی موقعہ ملتا ہے. اس میں کوئی بھی بری بات نہی ہے کو لوگ یہاں سے باغی ہوکر چلے جاتے ہیں, آخر کیوں نہ ہوں, جس پاکستاں کی تصویر رکھی گئی تھی ان کے سامنے وہ تو آج دکھائی بھی نہیں دیتا کسی بھی حوالے سے, لوگاں نے قربانیان دی تھی تب بھی اس آسرے کہ چلو کچھہ بہتر ہوگا لیکن اگر ان کو یے اندیشا ہوتا کے یے جنگ 70 سال تویل ہوگی تو میرا نہیں خیال کے کوئی یے قدم بھی اٹھاتا. قصور سب کا ہے, گنہاگار بھی ہم ہیں تو متاثرین بھی ہم ہیں. اس موضوع کو اگر کھولا جاتا ہے تو ہر سمت سوال اٹھتے ہیں, اور جب سواوں کے جواب نہیں ملتے تو یقین مانیں بہت بےچینی ہوتی ہے. بولنے کے لیے بھی بہت کچھہ ہے لیکں منہ آخر کتنا بولے..

  2. Ur blog is very nicely written. The truth is our judiciary system even does’nt want to close the cases in time, because thy have to generate more and more money when a case is based on hearings only.. No decisions take place in any hearing…. !

    Keep it up. Looking forward to read the next one !!! 👍👍😊😊

Leave A Reply

%d bloggers like this: