اصول فقہ اور استشراقی بد طینتی: مراد علوی

0
  • 27
    Shares

امام شافعی کو اصول فقہ کا مؤجد مان لینے سے بہت مسائل جنم لیتے ہیں. مغربی مصنفین نہایت چابک دستی سے امام شافعی کو اصول فقہ کا بانی قرار دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں اہل علم اس کو مغربی اہل قلم کی کشادہ ظرفی سمجھ کر ان کے اقوال بھی نقل کرتے ہیںن تاہم یہ اہل مغرب کی وسعت قلبی یا دیانت داری ہرگز نہیں بلکہ یہی ان کی اصل بد دیانتی ہے.

ہمارے یہاں جن اہل علم نے اس بات کوآگے بڑھانے کی کوشش کی ہے، ان میں مولانا مناظر احسن گیلانی، ڈاکٹر حمید اللہ اور ڈاکٹر محمود احمد غازی سرِ فہرست ہیں. ایک لحاظ سے تینوں کے مزاج میں بھی کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ لیکن دیکھا جانا چاہئے کہ مغربی اہل قلم کی یہ بددیانتی ہمارے ہاں قابل قدر اور قابل اعتماد اہل علم کے ذریعے پھیل گئی ہے۔ اس طور سے مغربی بدطینتی کو مزید تقویت ملتی ہے مگر ہم سادہ لوح اس کو سمجھ نہیں پاتے. اگر امام شافعی کو اصول فقہ کا مؤجد مان لیا جائے تو اسلامی قانون پر بہت سارے سوالات اٹھتے ہیں، جو اب بھی اٹھائے جا رہے ہیں.

اس کے علاوہ اس نوعیت کے اعتراضات تو جہل ناقص کا نتیجہ ہیں، لیکن تاریخ سے قطعی عدم واقفیت اس کی بنیادی وجہ ہے. چنانچہ اس بنیاد پر فقہ اور اصول فقہ پر مشترقین اور ان کے خوشہ چینوں کے اعتراضات نہایت سطحی ہوتے ہیں. مثال کے طور پر اکثر لوگ بغیر سوچے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اصول فقہ پر فلسفہء یونان کا اثر ہے. امام شافعی کو اصول فقہ کا مؤسِس اول مان لینے سے استشراقی مقاصد کا حصول کسی حد تک ممکن ہوسکتے ہیں؟ اس وجہ سے تو مغربی مصنفین امام شافعی کو اصول فقہ کا بانی باور کرواتے ہیں۔ لیکن ایسا ہے نہیں کیوں کہ فقہا ئے احناف نے اصول فقہ کو بہت پہلے ڈولپ کیا تھا، اور یونانی فلسفہ مسلمانوں میں اس کے بہت بعد آیا. فقہ اسلامی پر اکثر اعتراضات اس قسم کے لطیفوں پر مبنی ہوتے ہیں۔ اس کو اس مثال سے سمجھیے:

” ایک دفعہ غلام احمد پرویز نے لکھا تھا: ارباب علم سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ یہ نظریہ کہ کسی ایک دور کے قوانین ہمیشہ کے لئے غیر متبدل ہوتے ہیں، سب سے پہلے امام شافعی نے اس کو پیش کیا تھا، اور یہ جان کر شاید آپ کو حیرت ہو کہ اس کی مخالفت امام اعظم نے کی تھی۔” طلوع اسلام، اپریل 1989

نیاز فتح پوری کا یہ واقعہ میں اکثر نقل کرتا ہوں، جو مولانا عتیق الرحمان سنبھلی کے ایک مضمون سے مآخوذ ہےکہ “میں (نیاز) اپنے وطن فتح پور کے عربی مدرسے میں پڑھتا تھا۔ شرع عقائد نسفی کا سبق پڑھتا تھا۔ اس میں مسئلہ یہ آیا کہ یزید پر لعنت ناروا ہے. اس پر نیاز موصوف نے کچھ سوال اٹھایا اور استاد کو بحث و تکرار سے ناراض کردیا تو پھر موصوف کے والد ماجد ان کو مدرسے لے کر گئے اور بحث کی۔ جو چیز سننے کی ہے وہ یہ ہے کہ اس بحث میں موصوف کے والد ماجد نے حضرت استاد سے کہا کہ “آپ کو خبر نہیں کہ شرع عقائد نسفی، امویین کے عہد کی کتاب ہے جو علویین کے شدید دشمن تھے۔ اس لئے لعن یزید کے مسئلہ کو اس قدر اہتمام سے بیان کیا گیا ہے”۔ نیاز صاحب نے اپنے والد کا یہ ارشاد ان کے علم و فضل کی توثیق کے ساتھ شائع کیا ہے۔ اس لئے انھیں خود خبر نہیں تھی کہ شرع عقائد نسفی کی تصنیف اور امویین کے عہد میں چھ سو برس کا فاصلہ ہے”.

About Author

مراد علوی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم ہیں۔ دلچسپی کے موضوعات مذہب اور سوشل سائسز وغیرہ شامل ہیں اور اپنی تحاریر میں جرات کے ساتھ اظہار کرتے ہیں، بغیر کسی معذرت خواہانہ رویے کے۔ خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والے مراد علوی متواضع، خوش رو، خوش خلق اور کسی نظریاتی یا حزبی تعصب سے ماورا ہو کے سوچتے اور تعلق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: