کرپٹو کرنسی اور بٹ کوائن: کچھ مزید —– مزمل شیخ بسمل

0
  • 8
    Shares

گذشتہ روز بٹ کوائن کے حوالے سے دانش میں شایع ہونے والے لالہ صحرائی کے مبسوط مقالے پر نوجوان لکھاری اور اس شعبہ سے عملی و علمی طور پہ وابستہ جناب مزمل خان بسمل نے اپنے کچھ تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ہم اپنے قارئین کے لیے یہ شذرہ یہاں پیش کررہے ہیں۔ اس موضوع پہ اگر کوئی صاحب مزید لکھنا چاہیں تو یہ پلیٹ فارم حاضر ہے۔ ایڈیٹر


محترم لالہ صحرائی نے کرپٹو کرنسی کے موضوع پہ بہت مفصل اور عمدہ آرٹیکل لکھا۔ میں اس ضمن میں مختصراََ چند گذارشات پیش کرتا ہوں اور چند باتیں جو کھٹکتی رہیں، پیش کرتا ہوں:

پہلی: کرپٹو میں ہر کرنسی سسٹم ڈی سینٹرلائزڈ نہیں ہے۔ کرپٹو کا نام لیا جائے تو دماغ بٹ کوائن پر ہی جاتا ہے عموماً۔ حالانکہ مارکیٹ میں اس وقت آفیشل اور نان آفیشل تین ہزار کرنسیاں موجود ہیں۔ جس میں بہت سے سینٹرلائزڈ ہیں اور بہت سی ڈی سینٹرلائزڈ بھی ہیں۔ ڈی سنٹرلائزڈ کرنسیز میں پروٹو ٹائپ بٹ کوائن اور سینٹرلائزڈ میں پروٹو ٹائپ رئیپل ہیں۔

دوسری: ہر کرنسی اپنی میکانیت میں مختلف ہوتی ہے۔ آپ نے چونکہ صرف بٹ کوائن کو معیار بنایا اس لیے مائننگ کی مثال دے کر اس پر اعتراضی پہلو اجاگر کیا۔ جبکہ ان کرنسیوں کا کیا جو پری مائنڈ ہیں یا پھر پروف آف ورک کی بجائے پروف آف سٹیک پر کام کرتی ہیں؟

تیسری: آپ نے فرمایا کہ کرپٹو کرنسی اگر رائج ہوتی ہے تو بھی نیشنل لیول پر ہوگی۔ ورنہ نہیں ہوسکتی۔ اس بات سے اختلاف یوں ہے کہ نیشنل لیول پر آپ ایک نمونہ تو بنا سکتے ہیں جو پے منٹ سسٹم کے طور پر بہت واجبی سا کام دے، البتہ موجودہ کرپٹو کرنسیز میں ہر کرنسی کی ایک مختلف افادیت ہے۔ رئیپل جو کام کرتا ہے وہ بٹ کوائن نہیں کر سکتا۔ ایتھیریم کی جو خصوصیات ہیں رئیپل میں نہیں ہیں۔ اسی طرح ڈیش کوائن اپنی بناوٹ میں بالکل مختلف ہے۔ کچھ کرنسیاں مرچنٹ بیزڈ کام کرنے کے لیے بنی ہیں۔ کچھ بینکنگ کے لیے مؤثر ہیں اور کچھ صرف اس لیے بنائی گئی ہیں کہ وہ سٹیبل رہیں جیسے ٹیتھر۔ ایسے میں لین دین کا یہ ایک ایسا نظام پیدا ہونے کے امکانات ہیں جنہیں آج تک کبھی نہیں دیکھا گیا ہوگا۔

چوتھی: ایک بہت ہی اہم نقطہ آپ نے ذکر نہیں کیا۔ اور وہ ہے موجودہ کرنسی سسٹم میں ہائپر انفلیشن کا مسئلہ۔

میں اس حوالے سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ فیئیٹ کرنسی اپنی ساخت میں ہی ایک ایسا برتھ ڈفیکٹ لے کر پیدا ہوئی ہے جسے جھٹلانا سورج کی موجودگی کا انکار کرنے کے برابر ہے۔ دنیا کی ہر کرنسی ری پروڈیوسیبل ہے جس کی وجہ سے کرنسی اپنی مالیت ہمیشہ کم ہی ہوتی جاتی ہے۔ چاہے کسی ملک کی اقتصادی حیثیت کسی بھی درجے پر کیوں نہ پہنچ جائے۔ فیئیٹ کرنسی میں قوت خرید وقت کے ساتھ گھٹتی ہی ہے کیونکہ یہ اس کی بناوٹ کا واحد منطقی نتیجہ ہے۔ فئیٹ کرنسی وقت کے ساتھ سستی ہوتی جاتی ہے۔

جبکہ کرپٹو کرنسی سسٹم ڈی فلیشن یعنی الٹی میکانیت رکھتا ہے جس میں کرنسی ہمیشہ مہنگی ہوتی ہے اور اشیاء اس کے مقابلے میں سستی ہوتی جاتی ہیں۔ یوں قوتِ خرید بڑھتی جاتی ہے۔ اس مسئلے کا حل ہماری روایتی کرنسی میں پچھلے ڈیڑھ سو سال میں کبھی نہیں نکل سکا۔ اور نتیجتاً کتنے ہی ایسے ممالک ہیں جن میں کرنسی سستی ہوتے ہوتے ردی بن گئی۔ وینزویلا حالیہ مثالوں میں ایک بہت بڑی مثال ہے۔

آخری بات: دنیا کی اقتصادی غیر یقینیت (economic uncertainty) کے لیے کسی ایسے کرنسی سسٹم کی ضرورت ہے جس میں دو خصوصیات پائی جاتی ہوں: (1) سکارسٹی (محدودیت)، (2) افادیت (utility)۔

سونے کو کرنسی بنانے میں اصل میں پریشانی ہی یہ پیش آئی کہ اس میں محدودیت تو تھی لیکن یوٹیلیٹی موجود نہیں تھی۔ اس کی اکائیوں کو قابل استعمال بنیادوں پر مارکیٹ میں رکھنا مشکل تھا۔ مزید بر آں سونے پر منحصر کرنسی نوٹ کا جو ابتدائی تصور دنیا میں آیا اس میں بھی پریشانی یہ آئی کہ نیشنل بولین مارکیٹ اور انٹرنیشنل سونے کی کنورژن مسئلہ پیدا کر رہی تھی چنانچہ اسے انیس سو اسی کی دھائی میں مکمل طور پر سونے سے آزاد کردیا گیا۔

اس بات کا مقصد یہ ہوا کہ دنیا کو اپنی اقتصادی یقینیت اور معاشی قرار کے لیے نیشنل کرنسیز سے زیادہ کسی ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جو نیشنل کرنسی کے بد ترین فراڈ سے زیادہ قابل اعتماد ہو۔

بٹ کوائن اس سسٹم میں بالکل ابتدائی شکل ہے۔ اس میں ابھی مزید نکھار اور ترقی ہونی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ عین یہی بٹ کوائن دنیا کا مستقبل ہے۔ لیکن مستقبل اسی جیسا ہوگا یہ بات تقریباً یقینی ہے۔ اور اس کے سامنے دنیا کی کوئی حکومت کسی سطح پر بھی ٹھہرنہیں پائے گی۔

دنیا کے امیر ترین انسانوں اور طاقتور ترین اکانومی رکھنے والے ممالک نے اس کی ذخیرہ اندوزی اور سرکولیشن کو پروان چڑھایا ہے۔ یہ ہاتھی اب سوا لاکھ سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: