مقبوضہ کشمیر میں فوج کا ناجائز استعمال: علم بشریات کی رو سے جایزہ

0
  • 47
    Shares

Destiny Effects: Militarization, State Power, and Punitive Containment in Kashmir Valley۔  Haley Duschinski –  Ohio University

ہیلی ڈوشنسکی ہارورڈ کی گریجویٹ ہیں۔ اوہیو یونیورسٹی میں اینتھروپالوجی اور سوشیالوجی پڑھاتی ہیں۔ انہوں نے  کشمیرپر 11 تحقیقاتی مضامین لکھے ہیں جو عالمی تحقیقاتی مجلوں میں شائع ہوئے ہیں۔ زیرِ مظر مضمون[i] “انتھروپالوجی کوارٹرلی” جیسے اہم مجلے میں 2009 میں شائع ہؤا ہے۔[ii] اسکے ابتدائی خلاصے اور اختتامیئے کا ترجمہ حاضرِ خدمت ہے۔ اس مضمون کے بعد کشمیریوں پر دہشت گردی کا الزام ڈھونگ معلوم ہوتا ہے۔[iii] یہ تحریر آئین، قانون، سماجی معیارات، انسانی حقوق، عالمی قانون اور تہذیبی اقدار کے حوالے سے خاصی مدلل ہے۔ علم التہذیب (اینتھروپالوجی) کے تحت کسی بھی قوم کے اجتماعی حق پر ڈاکہ ڈالنے والے کو موردِ الزام ٹھہرانا کس قدر آسان ہے۔ اس ایک تحریر کے بعد دنیا بھر میں بھارتی محققین کی مہم جس نے کشمیر میں دہشتگردی کا طومار کھڑا کیاتھا، غلط ثابت ہوتی ہے۔[iv] اس تحریر کا حوالہ دیکر اور آرمڈ فورسز سپیشل پروٹیکشن ایکٹ (اے ایف ایس ای پی) کے اصولی تجزئیے کے بعد عالمی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں کشمیری اور پاکستانی حکومتوں کو عار محسوس نہیں کرنی چاہیئے۔

خلاصہ:
ڈوشنسکی تحریرکنندہ ہیں کہ “یہ مضمون وادیء کشمیر میں علاقائی سیاست کی منطق کے استثناء زدہ (ناجائز) استعمال کا محاکمہ کرتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کشمیری باشندوں کو قومی امن کیلئے خطرہ سمجھ کر عملا ریاستی قیدی بنالیا گیا۔ انتہائی شدید (مملکتی) فوجی طاقت کو قانونی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرکے جواز فراہم کیا گیا جوکہ قانون کے خلاف بھی ہے اور اسکے دائرے سے کہیں باہر ہے۔ اس انداز میں (ناجائز فوجی طاقت) کو استعمال بھی کیا گیا۔ اس تحقیق کے ذریعے یہ دعویٰ دائر کیاگیا ہے کہ دورِ جدید میں لبرل ازم کے تحت، قومیت اور فوج کا نام استعمال کرتے ہوئے آبادی کے مخصوص حصوں کو حراست میں رکھا جاتا ہے جس سے عدمِ مساوات فروغ پاتی ہے۔ سماجی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ یہ (سب ظلم) سماجی موت کا باعث ہے۔

اختتامیہ:

ہندوستانی ریاست، وادیء کشمیرکو مستقل قیدی بنا کر رکھتی ہے۔ اس سے انکے (زندگی گزارنے[v]) کے مواقع اور پسند و ناپسند محدود ہوگئے ہیں اور انکی اچھی تقدیر ختم ہوگئی ہے۔ ملک کی “حفاظت” کے نام پر تیار کردہ مخصوص پارلیمانی قوانین  بناکر بھارت عوام کے گہرے سماجی و معاشی حالات کو سنبھالنے کی کوشش کررہاہے جو کہ ایک جنگی طریقہ کار کا رخ اختیار کررہے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ اس طرح کی جنگ جیتنا بہت مشکل ہے۔ لہذا یہ صورتحال غیر معولی مدت تک پھیلتی جائیگی۔ اسے ایک محقق اعجاز (2006) نے عوام کے خلاف جنگ سے تعبیر کیا ہے۔

جنگی حقائق نے کشمیریوں کیلئے جینے کے حقیقی مواقع چھین لئے ہیں۔ کشمیری ہونے سے مراد یہ ہے کہ مستقل قید میں زندگی گزاریں۔ سماجی طور پر کٹ جائیں۔ یہاں سانس لینابھی مزاحمت کے زمرے میں شمار کیاجاتا ہے اور اسے دہشت گردی “قرار” دیا جاتا ہے۔

“The realities of war leave Kashmiris with no real choices. Simply being Kashmiri—living under conditions of permanent captivity, existing in a state of social abandonment, struggling day after day to breathe—is itself framed as an act of resistance, presented as evidence or proof of terror”.

عوام کے خلاف اس جنگ میں کشمیری (اگر زندہ رہیں تو) دہشت گرد اور مملکت کے دشمن بن کررہیں۔ انہیں سیاسی تناظر سے کاٹ کررکھ دیا گیا ہے۔ (یعنی سیاسی آزادی ختم کردی گئی ہے)۔ کشمیریوں کو مجرم بناکر رکھ دیاگیا ہے۔ لیکن یہ حقیقی مجرم نہیں ہیں۔ یہ قانونی (طور پر) مجرم نہیں ہیں بلکہ “لاقانونی مجرم” ہیں۔ کشمیر کی آبادی ایک (مکمل) قومی شناخت کی بناء پر بنیادی حقوق سے محروم کی گئی اجنبیت زدہ آبادی ہے۔

باقی قانونی اختیارات کی مانند جنہیں ہنگامی حالات کیلئے بنایا جاتا ہے، مخصوص اختیارات کا ایکٹ ایک خاص سماجی و انسانی قسم سے تعلق رکھتا ہے جس کی وجہ سے ایسے انسان جنم لیتے ہیں جن کے اعضاء کاٹے جاسکتے ہیں، ان پر تشدد کیاجاسکتا ہے، زنابالجبر کیاجاسکتا ہے، یا قتل کیاجاسکتا ہے۔ یہ سب ایسے انداز میں کیاجاسکتا ہے کہ جسکی قانونی یا سیاسی جوابد ہی (احتساب) بھی ممکن نہیں۔  اجتماعی ذمہ داری کی (جاہلانہ انداز کی) کلی منطق اور اس پر سزائیں دینے کا واضح مقصد یہ ہے کہ ہرایک کشمیری باشندہ سیاسی دشمن ہے جسکی زندگی بغیر جوابدہی کے سلب کی جاسکتی ہے ۔ ایسے عمل کے کوئی سیاسی عواقب نہیں ہوتے۔ کوئی قانونی پابندی (بھارت پر) نہیں لگائی جات۔ نہ ہی (کشمیریوں کی) ایسی قربانی کی کوئی اہمیت ہے۔

اس سے (مملکت کی) “مقبول خودمختاری” (پاپولر ساورنٹی) کے خلاف بنیادی استثناء واضح ہوجاتا ہے کیونکہ اس طرح سے  (انہیں “دشمن شہریوں” کا روپ دیکر انکے انسانی حقوق معطل کرکے شہری ہونے کے باوجود انکے خلاف جواز حاصل کیا جاتا ہے۔ یہ ناممکن کہ ہے افواج انہی شہریوں کو قتل کرتی رہیں جن سے انہوں نے خودمختاری کا جواز حاصل کیا ہے۔ اس سے ” حقِ زندگی” کا انکار ہوجاتا ہے۔ ایک محقق “سریش” (2007) کا کہنا ہے کہ جن شہریوں کو دشمن قرار دیدیا گیا، انکے حقوق سلب کرلئے جاتے ہیں حالانکہ وہ سیاسی ڈھانچے کا حصہ ہیں۔ مقبول خودمختاری کی ایسی عجب صورتِ احوال کی وجہ سے بھارت کیساتھ ساتھ دیگر قومی تحفظاتی ریاستوں (سیکیوریٹی سٹیٹس) میں کھیلا جانے والا حکومت وطاقت کے سیاسی کھیل کا گھناؤنا نقاب اتاردینا چاہیئے۔ ایسا کرنے کیلئے وفاداری، دراندازی، علیحدگی، علاقائی سالمیت کے علاوہ “جرائم کے خلاف جنگ” اور دہشت گردی جیسی اصطلاحات کے استعمال کی قلعی  کھولنے کیلئے گہری نظریاتی بحثیں کرنا ہونگی ۔ ان جیسی اصطلاحات اور ایسے فریم ورک سے مملکت کے ریاستی تشدد کو چھپایا جاتا ہے۔ ریاستی تشدد کو جواز فراہم کیاجاتا ہے بلکہ اسے سماج کیلئے ضروری سمجھا جاتا ہے۔

عدالتی نظام کے قانون کے خلاف افواج کی جانب سے شہریوں کو حبسِ بیجا میں (طویل عرصے تک) جاری رکھنے پر بھارتی مملکت کاتجزیہ کیا جائے۔ اس تجزئیے کا تناظر یہ ہو کہ قانون سے بالاتر اور ماوراء اقدامات کرکے یہ جدید دور کی (ظالم) سیکوریٹی مملکت ہے۔ ایویرے گورڈن (2006) نے دلائل کا یہی انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مستقل جنگ اور حراست عام معمول ہے۔ اسے اپنا کر ظالم مملکتی قوتیں ممکنہ مزاحم عوام اور مطالبات کرنے والے لوگوں کو دباتی ہیں اور انہیں ایسے مقامات تک محدود کردیتی ہیں جہاں وہ “تہذیبی معذور” اور “سماجی مردے” بن کر رہ جاتے ہیں۔ روتھ ولسن گلیمور کی تعریف کردہ اصطلاح کو استعمال کرکے گرڈن دلیل طراز ہے کہ ظالم مملکتی طاقت مخصوص آبادیوں کو مستقل بند رکھتی ہے۔ جنہیں نیو لبرل نظام کا مخالف سمھاجاتا ہے۔ اسے نئے سماجی حقائق کے تناظر میں سمجھاجائے تو افواج کے استعمال، قیدوبند اور تشدد کو رواج دیکر “غیرضروری” لوگوں کو جنہیں “مکمل انسان نہیں مانا جاتا یا انہیں مردہ قرار دینا مقصود ہوتا ہے”، ختم کردینے کیلئے کنٹرول اور جاسوسی کی جاتی ہے۔ اس سے واقؤانٹ (2008) کے الفاظ میں علاقہ عملی طور پر “کنسنٹریشن کیمپ” میں تبدیل کردیاجاتا ہے۔ یہ بڑی جیل، تفتیشی مقام، جنگی جیل یا مہاجر کیمپ بن جاتا ہے۔

سماجی علیحدگی اور سماجی موت:
سماجی علیحدگی اور سماجی موت کا انداز اختیار کرلینے والے حراستی اقدامات سے آبادیوں کو مملکت کا دشمن قرار دیکر ہدف بنایا جاتا ہے۔ اس سے معاشرے کے تمام شہری متاثر ہوتے ہیں اور انسانی حقوق رکھنے کے باوجود، تمام شہریوں اور مکمل معاشرے کی سیاسی آزادی ختم ہوجاتی ہے۔ “حقِ زندگی” کی آزادانہ بحث جو، کہ “قانون کی حکمرانی” کی بنیاد فراہم کرتی ہے، بھی اسی “عدل” کا مظہر ہے جو کہ ظالم سیکیوریٹی سٹیٹ کو  تشدد کا حق خامشی سے فراہم کردیتا ہے۔

آخر ایسی ریاستیں جو اپنی سرحدات کے تحفظ کیلئے عوامی مزاحمتوں، سیاسی بغاوتوں اور علیحدگی چاہنے والے طبقات پر افواج کے جبر کا سہارا لیتی ہیں، وہ بھی انہی “انسانی حقوق” کے تصورات کا استعمال کرتے ہوئے دو گروہوں میں تفریق کرتی ہیں۔ ایک گروہ “غیرضروری اور قابلِ اختتام لوگ ہیں جبکہ دوسرا اہم ترین گروہ جن کی حفاظت ضروری قرار پاتی ہے۔

معاشرتی حقائق چھپانے والے جبر اور رائے کے یہ پردے اتار دینے چاہئیں۔ مملکت کے جبرو تشدد کا نقاب نوچ دینا چاہئیے۔ اس نے انسانوں سے انسان بن کر زندہ رہنے کے مواقع چھین لئے ہیں۔ حالانکہ یہ انسانیت انکے ناموں کا جزوِ لاینفک ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اتنا موقع مل پائے جس سے اجتماعی تصورات پنپ سکیں۔ آزادی کا خواب پورا کرکے ایسی قید و بند سے چھٹکارا مل سکتا ہے جو اسلحے کے زور پر مطلق (انسانی) طاقت کو جکڑ لیتا ہے۔

Armed Forces (Jammu and Kashmir) Special Powers Act (AFSPA) of 1990

اس مضمون میں Armed Forces (Jammu and Kashmir) Special Powers Act (AFSPA) of 1990 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ ڈوشنسکی رقمطراز ہیں کہ “حقیقت میں جب اس قانون (اے ایف پی ایس اے) کو متاثرہ علاقے میں نافذ کیاجاتا ہے تو فوجی و نیم فوجی دستوں کو آئین کے تحت ذمہ دار بنایا جاتا ہے کہ سول (شہری) انتظامیہ کی مدد کرکے عوامی نظم و نسق قائم کریں۔ اس کے تحت تمام فوجی طاقت حکومتی خومختاروں کو فراہم کی جاتی ہے۔ اس سے افواج کو تلاشی، گرفتاری، جائیداد کی ضبطی، اور قتل کے خصوصی اختیارات ملتے ہیں۔ لیکن دوسری جانب شہری انتظامیہ آئین، کرمنل پروسیجر کوڈ (ضابطہ برائے جرائم) اور دیگر اطلاقی قوانین کے ذریعے بنیادی طور پر متاثرہ علاقے کا انتظام سنبھالتی ہے۔ لیکن حقیقتا اے ایف ایس پی اے کا قانون باقی قوانین پر غالب آجاتا ہے جس سے ملٹرائزیشن کو مکمل جواز ملتا ہے۔ اعجاز نامی انانی حقوق کے کشمیری وکیل نے اسکی توضیح کی ہے کہ کیسے بھارتی افواج شہری انتظامیہ کے افعال پر قبضہ کرکے مارشل لاء جیسا نظام چلاتی ہے۔ وکیل کہتا ہے کہ “سپیشل پاورز ایکٹ ڈریکولائی قوانین ہیں۔ سیکیوریٹی فورسز آپکے گھر کی تلاشی، قتل یا جائیداد تک تباہ کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے انہیں کسی سے اجازت طلب نہیں کرنا ہوتی۔ وہ شہری زندگی کو کنٹرول کررہے ہیں۔ یہ فوجی حکومت ہے۔ کچھ بھی عوام اور عوامی نمائندوں کے کنٹرول میں نہیں۔ لاء انفورسمنٹ ایجنسیاں مل جل کر (یہ سب کام) کرتی ہیں۔ یہ آزاد نہیں ہیں۔ یہ (انڈین) ملٹری مشین ہے” (اعجاز 2006)۔

AFSPA کی حقیقت:
اس قانون پر میری تحقیق یہ ہے کہ انڈیا ایسے قوانین کو 1958 سے نافذ کرتا چلا آرہا ہے۔ 1990 میں جب اس قانون کو کشمیر میں نافذ کیا گیا تو اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے یو این ایچ آر سی نے اس کے آئینی جواز پر سوال اٹھایا تھا۔ خاص طور پر انہوں نے اسے عالمی اعلامئیے برائے شہری و سیاسی آزادی (انٹرنیشنل کانوینٹ فار سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس) کی شق نمبر 4 کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ نیون پلے 2008 تا 2014 تک اقوامِ متحدہ کی کمشنر برائے انسانی حقوق مقرر رہیں۔ انہوں نے 2009 میں اس قانون کی معطلی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے کہاتھا کہ یہ قانون قبل از تاریخ اور کالونیئل (غیرملکی قابض افواج جیسا) قانون ہے۔ یہ قانون عالمی انسانی حقوق کے معیارات کی واضح خلاف ورزی ہے۔ 2012 میں اقوامِ متحدہ نے اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس قانون کو انڈین سپریم کورٹ میں ناگا پیپلز موومنٹ آف ہیومن رائٹس نے یونین آف انڈیا کو چلینج کیا تو 27 نومبر 1997 کو عدالت نے (افسوس ناک حد تک) اسے درست قرار دیکر جاری رکھنے کا حکم دیا[vi]۔ کورٹ نے اسے اپنی ہی ہندو آبادی کے خلاف بھی جائز قرار دیا۔ وجاھت حبیب اللہ نے اسے انڈین آئین کی شق 21 کی خلاف ورزی کہا ہے جس میں حقِ زندگی دیا گیاہے۔ پردیب پھنجوبام کے مطابق تمام لبرل بھارتی اس قانون کے خاتمے پر متفق ہیں۔

جسٹس جیون ریڈی کمیشن رپورٹ

2005 میں جسٹس جیون ریڈی[vii] کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس پر تبصرے میں لکھا

The Act is too sketchy, too bald and inadequate in several particulars…. We must also mention the impression gathered by [the Committee]during the court of its work viz, the Act, for whatever reason, has become a symbol of oppression, an object of hate and an instrument of discrimination and high handedness. It is highly desirable and advisable to repeal this Act altogether, without, of course, losing sight of the overwhelming desire of an overwhelming majority of the region that the Army should remain (though the Act should go).

یہ رپورٹ باقاعدہ منظرِعام پر نہیں آئی۔ وہ لوگ جنہیں حمودالرحمان کمیشن کی رپورٹ پر اعتراض ہے، انہوں نے عالمی اطلاعاتی حق کے قانون کے باوجود اس رپورٹ کی اشاعت کیلئے احتجاج نہیں کیا۔ پھر اہم یہ کہ ایسا تبصرہ خود حکومت کے نامزدکردہ جج نے سپریم کورٹ کے فیصلے میں موجود مشہورِ عام “اوامر و نواہی” ((Dos and Don’t’s کے باوجود جاری کیاہے۔ یہ وہ اوامر و نواہی ہیں جن پر تمام انڈیا میں فخر کیاجاتا ہے کہ ان سے انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کا دفاع کیاجاسکتا ہے (حالانکہ نہیں کیاجاسکا)[viii] ۔ اسکا واضح مطلب ہے کہ انڈین سپریم کورٹ 1998 سے کم ازکم 2005 تک اپنے احکامات پر عمل نہیں کرواسکی اور نہ ہی اس پر خود سے کوئی کمیشن تشکیل دیا۔ اسکی وضاحت عالمی عدالتیں بھی نہیں مانگتیں۔ کسی عالمی وکیل، وکلاء کی تنظیم یا کسی جرنلسٹ یا انکے ادارے نے آج تک عالمی عدالت کا دروازہ بھی نہیں کھٹکایا حالانکہ تمام عالمی عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں۔ 2016 میں انڈین سپریم کورٹ نے خود اس قانون کے خلاف آواز بلند کرکے اسے ظالمانہ قراردیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت کسی فوجی کو ظلم کرنے پر عدالت سے تحفظ فراہم نہیں کیاجاسکتا۔[ix] اسکا واضح مطلب ہے کہ عدالت کم از کم 1997 سے اس قانون کو غیرضروری جواز فراہم کررہی تھی حالانکہ 1966 سے انسانی آزادیوں کا عالمی قانون (International Covenant on Civil and Political Rights-ICCPR)[x] دنیا بھر کو معلوم تھا۔

آسٹریلیا سے ایک طالبعلم ایشوینا کرشنن نے اے ایف ایس پی کو زنا بالجبر کا اداراتی جواز (انسٹی ٹیوشنلائزیشن) قرار دیا ہے۔[xi] لیکن دوسری جانب 2012 میں انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اینڈ انیلسس (انڈیا) نے اس میں ترامیم کے باوجود برقرار رکھنے پر اصرار کیاہے۔[xii] ایسے ہی لیفٹیننٹ جنرل وی کے کپور کا آرٹیکل جسے پریس ریڈر نے 2017 میں شائع کیا، ظالمانہ قانون کی غیر ضروری حمایت ہونے کے علاوہ عالمی قانون اور بھارتی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اس مضمون میں فوجی مصنف نے اے ایف ایس پی اے کو جوں کا توں قائم رکھنے پر اصرار کیاہے۔ اس کی وجہ قبائلیوں کا ممکنہ حملہ قرار دیا ہے[xiii]۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان میں موجود امریکی افواج کی واپسی کو انڈیا کیلئے خطرناک بھی قرار دیا ہے۔ یہ عجیب ہے کہ شہریوں پر تشدد اس لئے جائز ہے کہ بیرونی حملہ ممکن ہے۔ انڈیا غیرملکیوں کیلئے جیسا چاہے قانون بنائے لیکن اپنے شہریوں پر تشدد کرنے کا جرم نہیں کرسکتا۔[xiv] اگر اسکی اجازت ہوتی تو خود سپریم کورٹ اسے غلط نہ کہتی۔ ہٹ دھرمی یہ ہے کہ 2016 میں انڈین کورٹ کے غلطی تسلیم کرلینے کے باوجود انڈین جنرل اسے درست قرار دینے پر مصر ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے 2013 کی عالمی رپورٹ میں اس قانون کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اسے ظالمانہ قرار دیا۔ 2018 کی ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ اس پر افسوس کا اظہار کرتی ہے کہ بھارتی حکومت اسے ابھی تک اس قانون کو ختم نہیں کرسکی۔[xv] میرا یہ سوال ہی نہیں کہ یہ قانون کیوں غلط ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ عالمی عدالت کے ہوتے ہوئے بھی آج تک بھارتی حکومت کو مجرم قرار دیکر کشمیر کو ویسے ہی آزاد کیوں نہیں کروا لیا گیا جیسے عراق، افغانستان اور لیبیا پر اقوامِ متحدہ کی اجازت اور مدد سے افواج چڑھادی گئی تھیں۔ کیا انڈیا کا سابقہ ریکارڈ دیکھتے ہوئے کشمیر کی آزادی کیلئے اقوامِ متحدہ خود سے کاروائی نہیں کرسکتا؟ یہاں حافظ سعید صاحب کو بندوق اٹھانے کا مجرم قرار دیا جاتا ہے۔ حافظ سعید تو کشمیر کے شہری نہیں لیکن سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینا کیسے انصاف ہے جو کہ خود کشمیر کے شہری ہیں۔ کیا اے ایف ایس پی جیسے ظالمانہ قانون کے باوجود عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقے میں بھی کسی کو مزاحمت کا حق نہیں؟ اگر ایسا ہے تو دنیا بھر سے مزاحمت، آزادی اور ظلم کے خلاف جدوجہد کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔ لیکن اس کیلئے پہلے جنرل واشنگٹن کے اقدامات کو غلط قرار دیا جائے جس نے امریکہ میں برطانوی ٹیکس نظام کیخلاف سیاسی و جنگی جدوجہد منظم کی۔ [xvi]۔ یا یہ ثابت کیا جائے کہ بھارتی آئین و قانون اور حکومتی اقدامات کیسے اس دور سے مختلف ہیں جس میں برٹش امپیریلزم کے خلاف جدوجہد کی گئی۔ ٹیکس کے نظم کے خلاف کشمیریوں نے بھی 1832 تا 1846 منظم جدوجہد کی۔ حقیقت یہ ہے کہ سب کچھ جاننے کے باوجود تمام دنیا ظالم کا گریبان پکڑنے میں ناکام ہے۔ یہ گورننس کی ناکامی نہیں؟ کیا گورننس جمہوریت کا حصہ نہیں؟ کیا گورننس میں ناکامی کے باوجود کسی کو جمہوریت کا سرٹیفکیٹ جاری کیاجاسکتا ہے؟

ہیلی ڈوشنسکی کچھ غلط نہیں کہتیں۔ یہی سب کچھ تو انڈین عدالتیں، عالمی ادارے اور طلبہ و اساتذہ کے علاوہ “تمام میڈیا بھی” کہتے ہیں۔ ڈوشنسکی نے تو اسے آئین و قانون اور تہذیبی علوم کے تجزئیے میں غلط ثابت کیا۔ اس تحریر کے بعد کسی بھی کشمیری پر غداری کا مقدمہ چلانا ناممکن ہے۔ کشمیری مزاحمت کاروں اور انکے کشمیری، اسلامی یا پاکستانی پشت پناہوں کو آگے بڑھکر امریکی قانون اور عالمی عدالتوں کا کھل کر سامنا کرنے سے گھبرانا نہیں چاہیئے۔ یہ تو ضمیر کی جدوجہد ہے۔ اگر ایسی کسی جدوجہد میں ناکامی ہوئی تو وہ عالمی ضمیر، عالمی قانون، انسانی حقوق، تہذیب، تمدن، انسانیت اور مذاہب و اخلاق اور انسانی جدوجہد کو ہوگی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کشمیری ایک قوم ہیں۔ انکی ایک مکمل زبان ہے۔ ایک تہذیب ہے۔ ایک مذہب اور ایک مکمل شناخت ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہ صدیوں سے آزادی کی جدوجہد کررہے ہیں۔

حوالہ جات

[i]  اس مضمون کو مندرجہ ذیل لنک سے حاصل کیاجاسکتا ہے۔ https://www.jstor.org/stable/20638657

[ii] تحقیقاتی مجلے/جرنل اپنے امپیکٹ فیکٹر کیی بناء پر اہم شمار کئے جاتے ہیں۔ اینتھروپالوجی کؤارٹرلی اس لحاظ سے اہم ہے کہ اسے 2016 کی رینکنگ میں 315 مجلوں میں سے 27 واں درجہ دیا گیا تھا۔ http://www.scimagojr.com

[iii] پاکستان پر دہشت گردی کا الزام تواتر کیساتھ لگایا جاتا ہے۔  اس کیلئے کانفلکٹ کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے ٹیررازم کا لفظ استعمال کرنا طاقتور کا حربہ شمار ہوگا۔ طاقتور ہی الفاظ اور زبان کا بہتر استعمال کرتا ہے۔ اس لئے کشمیر جیسے حقیقی مسئلے کو جھگڑا ماننے کی بجائے دہشت گردی قرار دینے سے جھگڑا بڑھانا مقصود ہے۔ یہی سب سے بڑی مشکل ہے کہ کوئی اس مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن اس دوران میں کشمیری عوام کی تقدیر بگاڑ کر رکھ دی جاتی ہے۔

[iv] حقیقت یہ ہے کہ یہ مہم اس قدر زوردار ہے کہ کسی بھی فرد یا ادارے کو اس سے شدید خائف ہوجانا چاہیئے۔ یہ قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور سچ کو جھوٹ بنانے کی مذموم کوشش ہے۔ اسی پر تو ڈوشنسکی کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیئے۔

[v]  میں خود بھی چونکہ زندگی گزارنے کے طریقوں (Sustainable Livelihoods) پر کام کرتا رہا ہوں، اس لئے یہ لفظ میرے لئے خاصا اہم ہے۔ زندگی گزارنے کے مواقع ویسے بھی دنیا میں اس لئے اہم شمار کئے جاتے ہیں کہ انہیں ترقی کے تمام منصوبوں اور کاموں کا بنیادی مقصد بتایا جاتا ہے۔ مصنف نے اس کا حوالہ دیکر بڑا ضروری اہم قانونی فریضہ نبھایا ہے۔ اس حوالے سے مضمون مزید مؤقر ہوگیا ہے۔

[vi] In the result, Civil Appeals Nos. 721-24 of 1985 filed against the judgment of Delhi High Court are dismissed, Civil Appeals Nos. 2173-75 of 1991 filed against the judgment of the Gauhati High Court are allowed to the extent indicated above and Civil Appeal No. 2551 of 1991 filed against the said judgment is dismissed. Writ petitions Nos. 550 of 1982, 5328 of 1980, 9229-30 of 1982 and 13644-45 of 1984 will stand disposed of in terms of this judgment. No order as to costs.   Naga People’S Movement, Of Human … vs Union Of India on 27 November, 1997. Author: S Agrawal. Bench: Cji, M.M. Punchhi, S.C. Agarwal, A.S. Anand, S.P. Bharucha. Accessed from https://indiankanoon.org/doc/1072165/ on 27/1/2018

[vii] Justice B.P. Jeevan Reddy, (b1932) graduated from Arts College, Osmania University, Hyderabad. Started independent practice in the Andhra Pradesh High Court in the year 1956 remained Chief Justice of the Allahabad and served as Judge of Supreme Court from 1991 till 1997.

[viii]  اس لئے کہ 2013 میں ہیومن رائٹس واچ نے اپنی عالمی رپورٹ میں لکھا کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حکومت نے 2730 لاشوں کی ڈی این اے ٹیسٹنگ کی اجازت ہی نہیں دی جنہیں پولیس تفتیشی کمیٹی نے 2011 میں شمالی کشمیر میں 38 مقامات پر غیرنشان زدہ قبروں میں ڈھونڈا تھا۔ ان قبروں میں دفن لوگوں کو سیکورٹی فورسز نے 1990 کی دہائی میں مارا تھا۔ https://www.hrw.org/world-report/2013  Page 315

[ix] https://www.hrw.org/sites/default/files/world_report_download/wr2017-web.pdf Page 313. In July, (2016) the Supreme Court of India took a strong stand against impunity for security forces, ruling that the Armed Forces (Special Powers) Act (AFSPA) does not protect soldiers from prosecution for abuses committed while deployed in internal armed conflicts.

[x] http://www.ohchr.org/Documents/ProfessionalInterest/ccpr.pdf

[xi] Ashwina Krishnan. 2017. Macqarie Matrix. Volume 6.1. https://students.mq.edu.au/study/my-study-program/undergraduate-research-journal/acur2017

[xii] Vivek Chadha. 2012 AFSP, The Debate. Institute for Defence Studies and Analyses, New Delhi.

 [xiii] بھارتی فوج پر یہی الزام ہیومن رائیٹس واچ نے بھی عائد کیا ہے کہ وہ اس قانون میں تبدیلی کی مزاحمت کررہے ہیں۔ حالانکہ خود انڈین سپریم کورٹ اور ذمہ دار عادلین (ججز) نے اس قانون کو ناجائز قرار دیکر ختم کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے باوجود اس قانون کے مکمل خاتمے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔

[xiv] https://www.pressreader.com/india/sps-landforces/20170510/281711204575597

[xv] The government failed to review and repeal the abusive Armed Forces Special Powers Act (AFSPA), in force in Jammu and Kashmir and in parts of India’s northeastern region, which gives soldiers who commit violations effective immunity from prosecution. At time of writing, the government had yet to comply with a Supreme Court ruling civilian authorities should investigate all allegations of violations by troops. https://www.hrw.org/sites/default/files/world_report_download/201801world_report_web.pdf  Page 262

[xvi] دلچسپ یہ ہے کہ اینتھروپالوجی کؤارٹرلی جنرل واشنگٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ہی سے چھاپا جاتا ہے۔ http://aq.gwu.edu/  واشنگٹن شہر میں مقتدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سید صلاح الدین نامی کشمیری شہری کو دہشتگرد قرار دیا ہے لیکن کشمیر کی آزادی یا انسانی حقوق کی خاطر تاحال کوئی عملی اقدام نہیں کیا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: