کارنامہ ——- ممتاز کہانی کار احمد اقبال کا خوبصورت افسانہ

0
  • 75
    Shares

سرما کی برفانی ہوا درختوں سے سیٹیاں بجاتی گزرتی جاتی تھی خزاں دیدہ درختوں کے پتے شاخوں سے جدا ہو کے رات کے یخ بستہ سناٹے میں اڑتے پھر رہے تھے۔ اندھیرے میں سیدھی لیٹی وہ بند کھڑکی کے شیشوں پر ان کی دستک سن سکتی تھی۔ اس کا شوہر اپنی آسودگی سمیٹے چت لیٹا سو رہا تھا اور عادت کے مطابق خراٹے لے رہا تھا اس کا پھولا ہوا پیٹ ہر سانس کے ساتھ اوپر نیچے ہوتا تھا اور نائٹ لیمپ کے اجالے میں بھی وہ دیکھ سکتی تھی کہ اس کے سینے پر آدھے سے زیادہ بال سفید ہو چکے ہیں۔ انڈر ویر سے نکل کر اس کی دونوں ٹانگیں بڑی بے شرمی سے پھیل گئی تھیں۔ ملک ساجد صدیقی نہیں جانتا تھا کہ وہ جاگ رہی ہے۔ اس نے آج تک صرف اپنی تسکین کے مقصد سے الگ ہو کے نہ کچھ دیکھا تھا اورنہ اس کی ضرورت محسوس کی تھی کہ اپنی بیوی کے لیے بھی سوچے۔ نورین نے کروٹ لی اور ایک بازو موڑ کے اپنے سر کے نیچے رکھ لیا۔

شادی کے پانچ سال بعد نورین نے اس خیال سے سمجھوتا کر لیا تھا کہ شوہر کے لیے وہ اتنی ہی اہم، ناگزیر اور قابل توجہ ہے جتنی اس کی نئی خوبصورت کار چنانچہ اس کی ملکیت میں بھی ساجد کے لیے احساس تفاخر کا ویسا ہی جذبہ شامل تھا تو کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ وہ ریلوے کا اتنا بڑا افسر تھا تو اس کا بنگلہ بھی بڑا تھا۔ اس کی ذاتی کار نئے ماڈل کی تھی اور اسکی بیوی بھی یونیورسٹی کی پڑھی ہوئی تھی۔ مگر اس تعلیم نے نورین کو صرف رومانی خواب دئیے تھے اور ان خوابوں کی وہ لا محدود خلائی پرواز جس کا زمینی حقائق سے کوئی رشتہ نہیں رہتا تھا۔ ساجد کبھی کہہ بھی دیتا تھا کہ یہ کتابیں پڑھنے والی لڑکیاں اپنی ہی خیالی دنیا میں رہنے لگتی ہیں۔ اب وہ سوچتی تھی کہ اگر وہ صرف ایک میٹرک پاس لڑکی ہوتی تویہ کتنا اچھا ہوتا دو وقت دو افراد کا کھانا پکانا ہی کیا۔ ساجد اپنے بلڈ پریشر اور ہائی کولسٹرول کی وجہ سے زیادہ سبزی کھاتا تھا اور وہ بھی نمک کے بغیر۔ نورین اپنے لیے کبھی فون پر پیزا یا برگر منگوا لیتی تو ساجد کو اچھا نہیں لگتا تھا۔ یار سمجھا کرو یہ فاسٹ فوڈ اور ڈرنک زہر ہیں زہر۔ دوپہر تک اس کے پاس یہی ٹی وی کے زنانہ شو تھے یا پھر زنانہ ڈائجسٹ۔ وہ ایک سے بیزار ہوتی تو دوسرے کا سہارا لیتی۔ ٹی وی پر چینل بدلنے سے پروگرام نہیں بدلتے تھے اور کتا بیں خرید کر لانے کے لیے وہ ساجد سے نہیں کہہ سکتی تھی۔ اس نے صرف انجنیئرنگ کی کتابیں بھی برسوں پہلے پڑھی تھیں ورنہ وہ تو اخبار کو بھی غیرضروری سمجھتا تھا۔ چار سال میں ایک بار وہ نورین کو کتابوں کی دکان پر بھی لے گیا تھا۔ وہ خود گاڑی میں ہی بیٹھا رہا اوراسے تاکید کردی بس پندرہ منٹ سے زیادہ نہیں۔ ورنہ میں چھوڑ کے چلا جائوں گا۔ ’’افراتفری میں انتخاب وہ کیا کرتی، خواتین کے دو چار نئے ناول بھی پڑھے ہوئے ملے تھے جو ہر ماہ کسی ڈائجسٹ میں شائع ہوتے رہے تھے۔

تین بیڈ، ڈرائنگ لائونج اور برآمدے والی اس قدیم وضع کی کوٹھی کے باہر باغ تھا اور لائونج تھا۔ شہر کی آبادی سے الگ ویسٹرج میں گوروں کے وقت کی اس ریلوے آفیسرز کالونی پر دن میں بھی ویرانی اور سناٹے کا راج رہتا تھا۔ صاحب لوگ دفتر چلے جاتے تھے تو گھروں میں کام کرنے والی عورتوں کے بعد سڑکوں پراکا دکا بد حال مالی پرانی سائیکلوں پر نظر آ جاتے تھے ورنہ ادھر سے کسی کا گزر بھی نہ تھا۔

اس نےایک کھٹکا سا سنا۔ آواز کہیں پچھلی طرف سے آئی تھی۔ دروازے توسونے سے پہلے خود ساجد بند کرتا تھا۔ باہرطوفان کی شدت اب کم ہو گئی تھی۔ بارش خاموشی سے جاری تھی۔ وقفے وقفے سے چمکنے والی بجلی پردوں کے پیچھے کھڑکی کے شیشوں کو روشن کرتی تھی۔ پھر بادل کی گرج سے ایک دو شیشے بجتے تھے۔ ایک بار پھر لائونج کی طرف جیسے کچھ گرا۔ اس کے ساتھ ہی جیسے کسی نے دانت پیس کر کسی کو گالی دی۔ وہ اٹھ بیٹھی سنو جی کوئی ہے ’’نورین نے شوہر کو جھنجوڑا مگر اس کے اُٹھ کر بیٹھنے سے پہلے ہی وہ دونو اندر آچکے تھے، ان کے چہرے نقاب میں تھے۔ ریوالوردونو کے ہاتھوں میں تھے۔ نوری نے ایک چیخ ماری اور اس کے ہاتھ نے بے ساختہ چادر کو بدن پر کھینچا۔ ہڑبڑا کر اٹھنے والے ساجد نے دونو کو دیکھا اور ہکلا کے کہا ’’دیکھو، تم جو چاہتے ہو مل جائے گا۔ گولی مت چلانا‘‘۔

جینز اور چمڑے کی جیکٹ والے قدرے دراز قد نے گن سے اشارا کیا۔ ’’چل اتر نیچے‘‘۔ ساجد نے تعمیل کی نورین نے اپنے کپڑوں کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے اسے دیکھا سیدھی بیٹھی رہی ’’دراز قد کا ساتھی غرایا جو شلوار قمیص میں تھا، نورین نے چادر کو کچھ اوپر کھینچ لیا ساجد لجاجت سے بولا‘‘۔ سنو، میں دل کا مریض ہوں، تم کو جو چاہے مل جائے گا۔ میں سب دے دوں گا۔ ’’دراز قد نے اسے اپنے ساتھی کی طرف دھکیلا اور ہنسا‘‘ وہ ہم خود لے لیں گے۔ اسے کہیں دور لے جا کے بند کر، کسی اسٹور میں‘‘ اس نے اپنے ساتھی سے کہا شلوار قمیص والے نے ساجد کو دروازے کی طرف دھکا دیا۔ وہ گرتے گرتے سنبھل گیا۔ ’’مت کرو یہ سب۔ لے لوکیا چاہئے‘‘ ساجد نے برہمی سے کہا لیکن ایک اور دھکے نے اسے لائونج میں پھینک دیا۔ نورین پر لرزہ طاری تھااور آنسو خود بخود اس کی آنکھوں سے بہہ نکلے تھے۔ دراز قد کی نظریں اب اس پر جمی ہوئی تھیں۔ منت سماجت لا حاصل تھی۔ وہ اب اسکے رحم و کرم پر تھی اوردیکھ رہی تھی کہ اس کی آنکھوں میں پہلے جیسی سفاکی بھی نہیں رہی۔ آہستگی سے اس نے چہرے پرسے نقاب کو ہٹادیا۔ نورین کو لگا کہ سانس کی طرح اس کے دل کی دھڑکن بھی بند ہو جائے گی۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس نے دراز قد کو بیڈ کے کنارے پرٹکتا دیکھا۔ اب اس کے ریوالور کا رخ نورین کی طرف نہیں تھا اور وہ پلک جھپکائے بغیر اسے دیکھ رہا تھا۔ فاروق مجھے، مجھے یقین نہیں آتا۔ یہ تم ہو ’’اس نے تھوک نگل کے پھنسی پھنسی آواز میں کہا وہ اسی طرح نورین کے چہرے پر نظر جمائے بیٹھا رہا۔ : ’’تم، پہلے سے بہت زیادہ خوبصورت ہو گئی ہو‘‘۔ اس نے ریوالور کو بیڈ سائڈ ٹیبل پر رکھ دیا مگر یہ تم کیا بن گئے ہو فاروق ’’اس نے خود کو پر سکون کیا اپنی مرضی سے کوئی کچھ بن سکتا ہے‘‘ وہ تلخی سے مسکرایا نورین نے سر جھٹک کے بالوں کو پیچھے کرنا چاہا تھا جب فاروق نے اس کی چادر کو ایک جھٹکے سے کھینچ لیا کیا۔ کیا کرتے ہوفاروق۔ تمہارا ساتھی۔ اس نے گھبرا کے کہا ’’وہ صدیقی ساحب کی چوکیداری کر رہا ہے‘‘ فاروق نے کہا ’’فکر نہیں کرو‘‘۔

وہ ایک مدہوشی جیسی گہری نیند کی وادی میں اڑتی پھر رہی تھی۔ اس کا بوجھل وجود یکلخت بے وزن ہو کے لطافتوں کا انوکھا سرور لیے بادلوں کے بیچ اڑتا پھرتا تھا۔ پھر جیسے خنک ہوا کے ایک ریشمی لمس والے جھونکے نے گزرتے گزرتے اس کا نام لیا مگر سرشاری کا یہ نشہ ایسا تھا جس کی مدہوشی سے وہ باہر آنا نہیں چاہتی تھی۔

’’ میرے اپنے خاندان میں یونیورسٹی کا ہر لکھا پڑھا تم جیسا ہیرو تھا۔ جو سمجھتا تھا اور کہتا پھرتا تھا کہ یہ یونیورسٹی کی پڑھی لڑکیاں اچھی گھریلو بیویاں کبھی نہیں بن سکتیں اور ان کی چاند جیسی بہو تلاش کرنے والی جاہل مائیں کانوں کو ہاتھ لگاتی تھی آج کل کی بے لگام لڑکیوں کے نام پر۔

نوری، اٹھو۔ مجھے جانا ہے۔ ’’فاروق نے اس کے کان میں سرگوشی کی‘‘۔ صبح ہونے والی ہے۔ ’’وہ مزید اس کے اندر سمٹ گئی‘‘ کیوں، کیوں جانا ہے ’’وہ منمنائی میں پھر آئوں گا نا‘‘۔ اس نے پیار سے نورین کا شانہ سہلایا۔ نورین نے انکھیں کھولیں۔ اندد ابھی رات ہی تھی۔ رفتہ رفتہ اسے سب یاد آنے لگا۔ وہ بھی جو وقت کے افق سے بھی پیچھے رہ گیا تھا۔ ’’بتایا نہیں تم نے۔ یہ کام کب سے کر رہے ہو۔ اور کیوں‘‘۔ ’’چھوڑو، اپنی مرضی سے کچھ ہوتا ہے کہیں‘‘۔ فاروق نےکہا، انجینئر تو بن گئے تھے نا تم۔ میں نے سنا تھا۔ ’’ہاں ایک کاغذی سند ضرور ملی تھی مجھے‘‘ وہ تلخی سے بولا ’’نوکری نہیں ملی تھی، جب ملی تو اس کے ساتھ ایک شرط تھی۔ وہ میں پوری نہیں کر سکتا تھا۔ اس وقت، بعد میں سب کرنا ہی پڑا۔ مجھے ایک اپنے جیسے انجینئر کو ہٹا کے اپنی جگہ بنانی تھی۔ وہ غداری کر رہا تھا بھائی سے‘‘ ‘او مائی گاڈ۔ ’’وہ جھر جھری لے کر بولی۔ دن گزرتے جارہے تھے۔ اورمجھے پانچ لاکھ کی اشد ضرورت تھی ماں کے لیے۔ تو میں پھر بھائی کے پاس گیا اور کہا کہ میں سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ بھائی نے کہا۔ اچھا، خالو کے پاس جائو۔ وہ پانچ لاکھ دے سکتا ہے۔ میں دوڑتا ہوا لالو کھیت گیا‘‘ اس نے ایک رکی ہوئی سانس کو سینے سے خارج کیا۔ ’’لیکن، میں نے دیر کر دی تھی شاید۔ ماں کے سوئم پر مجھے بھائی کا پیغام ملا۔ بس یہی ہوتا ہے نوری سب کے ساتھ۔ سب دہرانے کا کیا فائدہ۔ ایک سال میں نے جیل میں بھی گزارا۔ جب باہر آیا تو میرے نام میں جھٹکا آ گیا تھا۔ میں اب فاروق جھٹکا تھا ہدایات کے مطابق میں سیدھا خالو کے پاس گیا۔ مجھے معلوم تھا کہ قرض خواہ معاف کرنے والے نہیں ہیں۔ خواہ میں دس بار پانچ لاکھ لوٹا دوں۔ چھپتا چھپاتا میں لاہور میں یہ تھا۔ شیدا چکری۔ دو سال پہلے کا بھگوڑا ’’یہ جو تمہارے ساتھ ہے؟ نورین نے خمار میں ڈوبی غنودگی کے ساتھ پوچھا اور دم سادھے سمٹی پڑی رہی۔ ابھی وہ کچھ دیر اورمکمل طمانیت کے سرور کے ساتھ انہی محبت کی بھول بھلیوں میں گم رہنا چاہتی تھی جن میں سکون اور طمانیت کی وہ ٹھندی خمار آفریں چھائوں تھی جس سے نکل کر نورین کو زندگی کے سپاٹ راستے پرنہ جانے کہاں تک چلتے جانا تھا‘‘ ہاں، ہم یہاں ہیں دو ہفتے سے، تم کو میں نے بنک روڈ پردیکھا۔ تم اس دکان سے ہینڈ بیگ خرید کے نکلی تھیں۔ کیانام ہے اس کا۔ ریڈیو سٹی۔ عیش کر رہی ہو نا بڈھے کے ساتھ۔ مجھ سے شادی کر کے کیا ملتا تمہیں۔ بچے کتنے ہیں تمہارے؟ ’’اس نےنا قبل برداشت تلخی کو حلق میں گھلتا محسوس کیا، اس عمر میں وہ باپ نہیں بن سکتا تھا۔ اسے ضرور معلوم ہوگی یہ بات لیکن وہ مجھے لے گیا درگاہوں پرنہ جانے کہاں کہاں۔ سات سال پہلے اس کی پہلی بیوی نے خلع لی تو ساتھ لے گئی دو بچوں کو۔ صدیقی صاحب کی کی ماں بھی مر گئی تین سال ہوئے‘‘۔

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بولا ’’آخر کیوں کی اس سے شادی تم نے نوری‘‘۔ اس لیے کہ تم ’’وہ تڑپ کے اُٹھ بیٹھی‘‘۔ اور تم سے پہلے وہ سب جو سچی محبت کرتے تھے مجھ سے۔ وہ سب لٹیرے اور ڈاکو تھے۔ وہ شادی کے نام پر بھاگ گئے تھے۔ فاروق نے اس کو کھینچ لیا ’’آئی ایم سوری نوری‘‘۔ وہ سسکیاں لیتی رہی ’’ میرے اپنے خاندان میں یونیورسٹی کا ہر لکھا پڑھا تم جیسا ہیرو تھا۔ جو سمجھتا تھا اور کہتا پھرتا تھا کہ یہ یونیورسٹی کی پڑھی لڑکیاں اچھی گھریلو بیویاں کبھی نہیں بن سکتیں اور ان کی چاند جیسی بہو تلاش کرنے والی جاہل مائیں کانوں کو ہاتھ لگاتی تھی آج کل کی بے لگام لڑکیوں کے نام پر۔ تم نے تو دیکھا ہے سب لڑکوں کے مقابلے میں چار گنا لڑکیاں پڑھ رہی تھیں وہاں۔ وہ سب پاگل ہیں۔ ہر جھوٹ کو سچ مان لینے والی میرے جیسی۔ جواپنے ہر خواب میں ایک تعبیر دیکھتی تھیں اور بھاگتی تھیں سراب کے پیچھے کہ شاید یہی ہے میرے خوابوں کا شہزادہ میرا گھر میری جنت اب مجھے مل جائے گی لیکن تم جیسے صرف اپنا اسکور بڑھاتے ہیں۔ سینہ تانے ہیرو بن کے پھرتے ہیں اور سب کو اپنی ڈائری میں لکھے نام دکھاتے پھرتے ہیں۔ کیا انجام ہوتا ہے ان خواب پرست لڑکیوں کا؟ آدھی تو تعلیم پوری ہونے سے پہلے کسی کو سونپ دی جاتی ہیں۔ یونیورسٹی ان کے ماں باپ کے لیے ایک ویٹنگ روم سے زیادہ کچھ نہ تھی۔ باقی جن کی بس نہیں آتی۔ وہ سب بالآخر کسی صدیقی صاحب کی قابل فخر ملکیت ہوجاتی ہیں۔

’’الفاظ اور آنسو ختم ہو گئے تووہ بے حس و حرکت لیٹی اسے نیم باز آنکھوں سے دیکھتی رہی خاموشی کے ایک طویل وقفے کے بعد اس نے کہا‘‘۔ ایسے زندگی نہیں گزرتی فاروق۔ ’’میں نے ایسا کب چاہا تھا نوری‘‘ وہ اٹھتے ہوئے بولا ’’تم کہو نا اپنے خصم سے مجھے ریلوے میں رکھوا دے، اتنا بڑا افسر ہے وہ۔ اس کی بہت چلتی ہے مجھے معلوم ہے‘‘۔ تمہیں معلوم ہے؟ ’’وہ حیران ہو کے بولی‘‘ میرا مطلب تھا۔ پاکستان میں سفارش کے بغیر کیا ہوتا ہے ’’دیکھو انجینئر تو وہ نہیں رکھوا سکتا اورچھوٹی موٹی نوکری سے کیا بنے گا تمہارا، اپنا کوئی کام کر لو‘‘۔ ’’نوری کوئی بھی کام کرنے کے لیے پیسہ تو چاہیے نا۔ کم سے کم بھی پانچ لاکھ تو ہوں۔ میں نے دیکھی تھی ایک جگہ۔ پرانی گاڑیوں کا اچھا کام چل سکتا ہے وہاں‘‘۔ اس نے اچانک کلائی کی گھڑی دیکھی ’’چلنا چاہیے اب مجھے‘‘۔ وہ کچھ دی سوچتی رہی ’’سنو، یہ الماری کھولو۔ نہیں لاک نہیں ہے۔ نیچے کے خانے میں دیکھو کپڑے ہٹا کے‘‘ نورین نے کسی فوری خیال کے تحت اٹھ کے کہا اور چادر کھینچ لی کیا ہے اس میں؟ ’’فاروق نے کہا اور اٹھ کے اپنے کپڑے پہننے لگا تم دیکھو تو سہی۔ کچھ زیور ہے میرا۔ دس لاکھ ہو گی اس کی مالیت۔ تمہیں پانچ ضرور مل جائیں گے‘‘۔ نوری یہ میں نہیں لے سکتا۔ اس لیے نہیں آیا تھا میں یہاں۔ ’’پاگل مت بنو‘‘۔ تم ڈکیتی کے لیے آئے تھے۔ پھرخالی ہاتھ کیسے جا سکتے ہو۔ ۔ کیا کہونگی میں صدیقی صاحب سے۔ ۔ اور زیور تو اس سے زیادہ لا کر میں پڑا ہے بے کار چلو اب دیر مت کرو۔ اور ہاں۔ مجھے رنگ دو اس نمبر پر اپنے موبائل سے ’’نورین نے تکیے کے نیچے سے اپنا موبائل فون نکالا کسی تذبذب کے بغیر وہ الماری کی طرف بڑھ گیا‘‘ دس لاکھ کا زیور اس نے جیسے خود سے کہا۔ ’’میرے لیے بے کار ہےیہ سب سونا چاندی اور ہیرا موتی۔ جب زندگی میں محبت ہی نہ ہو‘‘۔ مگرفاروق نے اس کی بات جیسے سنی ہی نہیں تھی۔ وہ کپڑے الٹ پلٹ کر رہا تھا۔ ایک کر کےاس نے ویلوٹ کے سرخ نیلے ڈبے نکالے اور بیڈ پر ڈھیر کرنے لگا۔ نیچے کے خانوں میں دیکھنے کےلیے وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا وہ اس کے اشتیاق اور انہماک کو دیکھتی رہی۔ وہ اب نورین کی طرف دیکھ ہی نہیں رہا تھا۔ ایک ایک کرکے اس نے سب ڈبے بیڈ پر ڈھیر کر دے اور انہیں کھول کھول کر دیکھنے لگا ’’یوں کرو، ڈبے پھیلا دو یہاں ادھر ادھر اور زیور ڈال لو جیب میں‘‘ وہ ہنسی ’’تمہیں تو سب پتا ہونا چاہیے‘‘۔ لیکن وہ دیوانہ وار ڈبے خالی کرکے زیورات کوجلدی جلدی جیبوں میں بھر رہا تھا اور نورین کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی کی ایک لالچ بھری چمک آگئی تھی۔ اچانک نورین کو لگا کہ اسکی آنکھوں پر جو پردہ پڑا ہوا تھا وہ ہٹ گیا ہے اب وہ خود کو بھی ایک نئی نظر سے دیکھ رہی تھی۔ وہ ایک سوراخ سے دوسری بار ڈسی گئی۔ بے وقوف عورت تھی جوبصارت والی آنکھ رکھتی تھی مگر پہچان والی نظر نہیں۔

دروازے کی طرف بڑھتے ہوئے فاروق پر بے وجہ کی گھبراہٹ طاری تھی۔ اس نے نورین کی طرف دیکھا بھی نہیں۔ وہ رخصت نہیں فرار ہو رہا تھا۔ نورین نے شوہر کے تکیے کے نیچے سے ریوالور نکالا اور نشانہ لے کر فائر کیا۔ گولی اس کے سر کے پچھلے حصہ میں لگی۔ وہ گھوم کےگرا اور اس کے خون کا یک دھارا دیوار تک گیا۔ نورین اس کے کرب سے ایٹھتے جسم کو سکون سے دیکھتی رہی۔ اس کا نشانہ اتنے سال بعد بھی ٹھیک تھا حالانکہ این سی سی کی ٹریننگ اس نے کئی سال پہلے انٹر میں لی تھی۔ اس کی نظر دروازے پر مرتکز رہی۔ ۔ شیدا چکری بد حواس اوردہشت زدہ دروازے میں نمودار ہوتے ہی نشانہ بنا اور ایک ہاتھ سینے پردبا کے جھکا تو جھکتا چلا گیا۔ وہ گرا اور پیر چلانے لگا۔ اس کی ایک لات فاروق کے منہ پر پڑی۔ نورین نے ریولور میز پر رکھا اور کپڑے پہن کے کچن کے ساتھ والے اسٹور تک گئی۔ حسب توقع اس کا شوہر فرش پر گھٹنوں میں سر دئیے بیٹھا تھا۔ نورین کو دیکھ کر وہ ایک دم اٹھا ’’یہ فائر کیسے تھے۔ تم، تم ٹھیک ہونا؟‘‘۔ ہاں ان دونو ڈاکو ئوں کو میں نے شوٹ کر دیا ’’وہ اس کو سہارا دے کر باہر لے آ گئی‘‘ ’’تمہاری طبیعت ٹھیک ہے نا؟‘‘

کمرے میں اندھیرا تھا اور نیند کے لیے اس کی ہر کوشش لاحاصل ثابت ہو چکی تھی ڈرائینگ روم میں اس کا شوہر پولیس کو بیان لکھوا رہا تھا۔ اس نے ریوالور پر سے نورین کے فنگر پرنٹ بالکل صاف کر دئیے تھے اور دونو ڈاکوئوں کو شوٹ کرنے کی ساری ذمے داری خود قبول کرلی تھی۔ وہ سمجھ سکتی تھی کہ پولیس کی گاڑی دونو کو سرکاری ہسپتال پہنچا چکی ہو گی جہاں ان کی لاشیں مردہ خانے کے غلیظ پرانے خون کے سیاہ دھبوں والے فرش پر پھینک دی جائیں گی۔ تفتیش خاک ہو گی جب وہ جو زندگی کی اس کہانی کو آغاز سے انجام تک جانتی تھی بالکل انجان بنی یہاں لیٹی تھی۔ وقت کو جو سب کی نظر سے اوجھل تھا وہ لمحۂ گزراں کی طرح دیکھ رہی تھی۔

انٹر کے بعد یہ گویا طے تھا کہ وہ قریب کے ایک ڈگری کالج میں داخلہ لے گی لیکن نتیجہ آنے تک اس کا ارادہ بدل گیا۔ دفع کر کالج کو ’’یونیورسٹی میں پڑھنے والی پڑوس کی فاطمہ نے اسے سمجھایا‘‘۔ یونیورسٹی میں بڑی موج ہے نورین۔ نہ یہ سفید کفن جیسی یونیفارم، نہ یہ پرنسپل کا آسیب اور نہ ہر تیسرے مہینے والے امتحان کی رپورٹ پر دستخط کرانے کا جھنجٹ۔ ذرا بھی کچھ ہو تو بلائو ابا، ابا کے دستخط تو کیے جا سکتے ہیں، ابا بنا کے کسے لے جائیں؟۔ ڈگری کالج میں بھی اسٹوڈنٹ نہیں سب کنویں کے مینڈک۔ یونیورسٹی اس کے مقابلے میں کھلا سمندرہے۔ ہر ڈیپاٹمنٹ کی کینٹین، لائبریری، لان اور باغ۔ لڑکیاں ایک سے بڑھ کرایک فیشن کرتی ہیں اور سب کا سائے کی طرح تعاقب کرتے فلمی ہیرو ہیں۔ نہ کوئی دیکھتا ہے نہ پروا کرتا ہے ’’ایک بات البتہ ہے، اپنی پسند کے رشتے مل جاتے ہیں‘‘ اوروہ کان میں بولی ’’اور مزے کی بات یہ کہ ڈر کسی کا نہیں، اس سے پہلے کے تجھے کسی اما ابا کی پسند کے مجازی خدا کی تحویل میں دے دیا جائے خود دیکھ لے اوپن مارکیٹ میں‘‘۔ لیکن فاطمہ، خطرہ تو رہتا ہے نا۔ لڑکوں کا کیا ہے۔ ’’فاطمہ ہنس پڑی‘‘ کس دنیا میں رہتی ہے تو نورین۔ کیا دیکھتی ہے موبائل فون پر۔ لڑکیاں سب جانتی ہیں حفاظتی طریقے، ’’ٹی وی پر اشتہار دے کے خود ہماری حکومت سکھاتی ہے‘‘ مسائل بہت تھے۔ کیسے آئے جائے گی اتنی دور۔ اچھے کپڑے بھی ضروری ہیں اور پاکٹ منی کے ساتھ خرچ دگنا تین گنا۔ لیکن بیٹی آنکھوں میں آنسو لے آئے توماں کتنی بھی مخالفت کرے باپ بالآخر ہتھیار ڈال دیتے ہیں۔

اس نے یونیورسٹی میں قدم رکھا تو اسے فاطمہ کی بات ایک ’’انڈر اسٹیٹ منٹ‘‘ لگی جیسے خطیب کو جنت کی تعریف کے لیے جذبات کی زبان سے شکوۂ کوتاہی داماں ہی رہتا ہے۔ ابتدا میں نورین کی گائڈ فاطمہ نے اسے ٹریننگ ضرور دی۔ لیکن ایک وقت آیا جب شاگرد نے استاد کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ پہلی بار وہ خاصی نروس ہوئی جب کینٹین میں تنگ لال ٹی شرٹ اور جینز کے ساتھ جیمز بانڈ گاگل چڑھائے شاہ رخ بنا ایک چھچورا سا لڑکا اس کے سامنے آ کے بیٹھ گیا۔ ادھر ادھرہر میز پر سب ایسے ہی ملے جلے بیٹھے تھے۔ ہیلو، میں وحید ہوں۔ انگلش آنرز میں ابھی دوسرا سال ہے۔ آپ کو پہلے نہیں دیکھا۔ ’’آپ کا نئے پرانے کا ریکارڈ بالکل اپ ڈیٹ ہے؟‘‘۔ وہ ہنسا ’’سچ بتاتا ہوں لیکن آپ پہلے بتائیں کیا لیں گی‘‘۔ کچھ بھی نہیں کیونکہ میں پی چکی ہوں۔ ’’بات نہیں ایک میرے ساتھ بھی سہی‘‘ اس نے کہا اور ویٹر کھٹ سے ان کے درمیان دو کوک رکھ کے غائب۔ وہ جانتا ہوگا کہ اس مستعدی کا انعام ہے۔ نورین کے انکار سے پہلے وحید بولنے لگا ’’سچ پر ناراض توہوں گی آپ، مگرمجھے ایسی بیوٹی پہلے نظر آئی ہوتی تو میں یہ کیوں کہتا، پلیز، اللہ رسول کا واسطہ، یہ پی لیں؟‘‘۔ وہ واک آئوٹ کرگئی۔ فاطمہ نے اسے خبردار کیا ’’ایک نمبر کا فلرٹ ہے وہ بگڑا رئیس زادہ حرامزادہ۔ اس کے چکر میں آنے والی لڑکیاں روتی پھرتی ہیں۔ پتا نہیں کتنی کو بلیک میل کرتا ہے‘‘۔ ایک ہفتہ وہ کسی کینٹین میں نہیں گئی۔ دوسرے ہفتے اس نے دوسری کینٹین میں قدم رکھنے سے پہلے اطمینان کر لیا کہ وہ موجود نہیں اور اسے بیٹھنے کے لیے ایک محفوظ گوشہ بھی مل گیا۔ مگر اس کے بیٹھتے ہی وہ ٹپک پڑا ’’مس نورین، اگر میں یہاں سب کے سامنے آپ کے یہ سفید کبوتروں جیسے پیر پکڑ کے معافی مانگ لوں، پھر تو آپ ایک ڈرنک شیئر کریں گی نا‘‘۔ وہ گھبرا گئی ’’پلیز، مجھے تماشا نہ بنائیں‘‘۔ اس نے دیکھا کہ سب ہی اس کی طرف متوجہ ہیں۔ یہاں بھی ویٹر نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی دو بوتلیں درمیان میں رکھ دیں۔ ’’حیران ہونگی آپ کہ میں نے نام کیسے معلوم کرلیا، تو جناب مجھے آپ کا فون نمبر زبانی یاد ہے، آپ کی بارہ تصویریں توآگئی ہیں میرے پاس‘‘۔ نورین کو ٹینشن سے پسینہ آ گیا لیکن اس نے ہمت سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ آخر کیا سمجھ رکھا ہے مجھے اس پیشہ ور عاشق نے مجھے۔ میں اتنا آسان شکار ہوں۔ ذرا ’’وہ مسکرائی اور اس سےفون لے لیا۔ ایک ایک کرکے اس نے سب تصویریں ڈیلیٹ کر دیں وہ ڈھٹائی سے مسکراتا رہا کوئی بات تھی جس نے اسے جارحانہ پیش قدمی سے روکے رکھا۔ نورین نے فون واپس کر دیا‘‘۔ دیکھیں وحید صاحب، یہ ایک غیر اخلاقی ہی نہیں غیر قانونی بات بھی ہے ’’آپ پوائنٹ کی بس سے آتی جاتی ہیں نا، کہاں رہتی ہیں آپ، آج سے میں آپ کو ڈراپ کروں گا‘‘۔ اس نے ڈھٹائی سے موضوع بدل دیا ’’یہ تو ایسی بات نہیں‘‘۔ اسے سخت طیش آیا لیکن نورین نے خود کو ایزی کیا۔ فوری سخت جوابی کارروائی کا رد عمل اسے مشکل میں ڈال سکتا تھا۔ اس نے شائستگی سے مسکرا کے کہا ’’دیکھئے، میرے منگیتر بھی ہیں یہاں اور وہ ذرا پرانے خیال کے مولانا ہیں‘‘۔ وحید مراد کے ارمانوں پر جیسے اوس پڑ گئی۔

اگلے ایک مہینہ میں تجربہ کار فاطمہ کے مشوروں نے نورین کو ہر ڈرون حملے سے بچا یا۔ وحید مراد کے بعد بھی پیشہ ور عشاق سامنے آتے جاتے رہے لیکن یونیورسٹی کے ماحول میں اس کی فضا اور ہوا میں رہ کے نورین ایک اسکول گرل نہیں بنی رہ سکتی تھی۔ وہ دیکھ رہی تھی کہ لڑکیاں سلیبس کے علاوہ عملی زندگی کے کیا سبق پڑھ رہی ہیں جو قبل از وقت تو نہیں تھے۔ تھیوری کی حد تک وہ سب پہلے سے سب جانتی تھیں۔ یہاں وقت کے ساتھ ان کو پریکٹکل کا حوصلہ ملا تھا۔ خود فاطمہ سمجھتی تھی کہ یونیورسٹی میں سلیبس کی کتابیں پڑھنے کون آتا ہے۔ بی اے ایم اے تو گھر بیٹھے بھی ہو جاتا ہے۔ یہ بات ان کو یہاں بھیجنے والے اخلاق اور شرافت کی ساری قدروں کے محافظ بھی جانتے تھے وہ خود پندرہ بیس کلومیٹریا اس سے بھی زیادہ دور گھروں دفتروں کارخانوں یا دکانوں میں تھے اور وہ آنا چاہتے بھی تو انہیں بہت دور گیٹ پر شناخت کے بعد کوئی قابل قبول وجہ بتائے بغیر داخلے کی اجازت نہیں ملتی تھی۔ فاطمہ جیسی سب اس آزادی کا بھرپور فائدہ اٹھاتی تھی اس کے رومانٹک ایڈونچر انوکھے نہیں تھے۔ لیکن نورین احساس جرم میں مبتلا رہتی تھی۔ یار سب عیش کر رہی ہیں یہاں۔ ’’فاطمہ نے ایک دن جھنجلا کے کہا‘‘۔ اب کیا عیش کا مطلب بھی سمجھائوں؟ آنکھیں کھول کے دیکھ بے وقوف لڑکی، یہی دو چار سال ملے ہیں آزادی کے پھر تو ساری عمر ایک مرد کے پائوں کی جوتی بن کے رہنا ہے۔ نورین نے ایک کمزور سا دفاع کیا ’’یہ ضروری تو نہیں‘‘۔ ناگزیر ہے یہ۔ بڑے بڑے آزاد خیال۔ باہر کے پڑھے ہوئے۔ ان سب کی وہی ایک سوچ ہے پاگل، تم گھر سے باہر جائو گی تو ان کے ساتھ۔ ان کی اجازت سے۔ تم ڈاکٹر ہو یا پروفیسر۔ ان کی بیوی پہلے ہو۔ ان کے پاس یک طرفہ حقوق ہونگے تمہارے اخلاق و کردار کی نگرانی کے۔ وہ تمہاری فیس بک اور موبائل تک لے سکتا ہے۔ تمہارے سامنے چیک کرنے کے لیے۔ تمہارا مجازی خدا جو ہوا ’’اس نے ایک گہری سانس لی‘‘۔ دعا کرو کوئی رشتہ پسند نہ آجائے اماں ابا کو تا کہ تم کو یہ چار سال کی مہلت مل جائے۔ بس یہی ہوگی وہ زندگی جو تم اپنی مرضی سے جیو گی۔ اپنی خوشی کیلے۔ پھرتم ترسو گی تمام عمر اس آزادی کے لیے۔ نورین نے فاطمہ پر نظر جما کے کہا ’’تم نے دیکھا کوئی اپنے لیے؟‘‘ فاطمہ نے مسکرا کے سر ہلایا ’’دو ہیں میدان میں ابھی لیکن مجھے جلدی نہیں ہے، ابھی دوسال اور ہیں، کیا پتا ان سے بھی اچھا ہو تیسرا، یا چوتھا‘‘۔

اس رات وہ فاطمہ کو جھٹلانے کے لیے دلیل کی تلاش میں دیر تک جاگتی رہی۔ سیدھی اور بے وقوف عام سی لڑکی نظر آنے والی وفاطمہ کو کتنا ادراک تھا زندگی کا جو ابھی اس نے جی ہی نہیں مگر وہ دیکھتی ہے سنتی ہے اور جانتی ہے۔ اندھی اور بہری میں ہوں سب کی طرح۔ اللہ میاں کی گائے کہ جدھر مرضی ہانک دو۔ مگر میں ایسی نہیں رہوں گی اب اور ایک خوف زدہ احتیاط کے ساتھ اس نے جائزہ لینا شروع کیا کہ کون ہے جو صرف اس کی خوبصورتی پر نہیں مرتا۔ اسے مایوسی ہوئی۔ لیکن پھر اسے سلمان ملا اس سے ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھا تو نورین کا اعتماد بھی بڑھا۔ وہ کسی بنک مینیجر کا بیٹا تھا اور قدرے سنجیدہ مزاج تھا۔ اکثر باپ کو ڈراپ کر کے اس کی گاڑی بھی لے آتا تھا جو شام تک ا س کے پاس رہتی تھی، اس کے ساتھ وہ لنچ کے لیے گئی تو اس نے پہلی بارکسی فائیو اسٹار ہوٹل کو اندر سے دیکھا۔ ایک دن انہوں نے سمندر کے ساحل پر گذارا۔ اس کے سارے کپڑے یوں بھیگے کہ سلمان کی نظر اور اس کے ہاتھ دونو بہکنے لگے۔ واپسی میں نورین پہلی بار کسی مرد کی آغوش سے روشناس ہوئی اور اس کے لب سلمان سے یوں ملے کہ نورین کا سانس رکنے لگا۔ اس نے خود کو چھڑانے کے لیے سلمان کو دھکیل کر ہٹایا۔

دو دن وہ ناراضی میں سلمان سے دور رہی لیکن چوتھے دن یہ مزاحمت اندر کی لذت آفریں خواہش کے پیہم دبائو سے اتنی کمزور پڑ چکی تھی کہ سلمان نے اچانک گاڑی روک کے دروازہ کھولا تواندر بیٹھتے ہی نورین اپنے وجود میں بھڑک اٹھنے والی جذبات کی آگ سے کسی برف کے مجسمے کی طرح پگھل گئی۔ یونیورسٹی سے باہر آتے ہی سلمان نے اسے سمیٹ لیا۔ اسے دیوانہ وار چومتے ہوئے اس نے ایک بار بھی سوری نہیں کہا۔ وہ نورین کو دوسرے زیادہ چکا چوند والے ہوٹل میں لے گیا۔ کھانے کے بہت دیر بعد جب نورین نے کہا ’’کہیں اور چلتے ہیں‘‘ تو اس نے ایک گتے کا ڈبہ نورین کے سامنے رکھ دیا کیا ہے یہ؟ ’’نورین سمجھتے ہوئے بھی انجان بن گئی۔ وہ ایک مہنگا برانڈڈ سوٹ تھا

اس گستاخی کا جو میں نے کی اور پھر کروں گا ’’وہ مسکرایا میں کوئی گفٹ کیسے قبول کر سکتی ہوں، گھر والوں کو کیا جواب دوں گی‘‘۔

دو دن وہ ناراضی میں سلمان سے دور رہی لیکن چوتھے دن یہ مزاحمت اندر کی لذت آفریں خواہش کے پیہم دبائو سے اتنی کمزور پڑ چکی تھی کہ سلمان نے اچانک گاڑی روک کے دروازہ کھولا تواندر بیٹھتے ہی نورین اپنے وجود میں بھڑک اٹھنے والی جذبات کی آگ سے کسی برف کے مجسمے کی طرح پگھل گئی۔

جو تمہاری راز دار ہے نا۔ فاطمہ، اسے دے دینا، وہ تمہارے گھر لے کر آ جائے گی۔ دو دن بعد تمہاری سالگرہ ہے ’’سلمان نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ نورین نے مزاحمت نہیں کی۔ قریب ہی دوسری میز پر ساتھ لگ کر بیٹھے ہوئے جوڑے نے بہت دیر سے یہی رومنٹک پوز بنا رکھا تھا اور انہیں کسی کے دیکھنے کی پروا نہیں تھی۔ نورین کو حیرانی نے آ لیا ’’یہ تم کیسے جانتے ہو‘‘۔ ’’زندگی جس کے ساتھ گذارنی ہو اس کے بارے میں سب پتا ہونا چاہئے‘‘۔ نورین کا دل دھک سے رہ گیا۔ کیا وہ پروپوز کر رہا تھا؟ سوال اس کی آنکھوں میں ٹہر گیا۔ سلمان نے مسکرا کے اقرار میں سر ہلایا۔ وہ فرط جذبات سے گنگ بیٹھی رہی۔ واپس یونیورسٹی پہنچ کے اس نے فاطمہ کو سب بتایا تو وہ ہنس پڑی۔ دیکھ ابھی سے ہاں مت کر دینا بے وقوف لڑکی۔ ابھی تڑپا اسے اور گفٹ وصول کر اس سے، بس اپنا حفاظتی انتظام پکا رکھا ’’اس نے اپنا بیگ کھول کے دکھایا۔ یہ سب ہے نا تیرے پاس؟‘‘ نورین نے انکار میں گھڑے جیسا سر ہلا دیا۔ فاطمہ نے سب چیزیں اس کے بیگ میں ڈال دیں ’’میدان جنگ کے سپاہی کو کیا خالی ہاتھ ہونا چاہیے؟ یہ زرہ بکتر تو اب لڑکیاں بھی رکھتی ہیں۔ نورین خوفزدہ سی کھڑی رہی ’’کسی نے دیکھ لیا تو‘‘۔ پاگل، کون تلاشی لے گا تیرے بیگ کی اوراس میں تو اتنا الم غلم بھرا ہوا ہے۔ کیا نظر آئے گا کسی کو’’ وہ ہنسی۔

سالگرہ پر فاطمہ نے اسے جو گفٹ دیا اس نے سب کے دل جیت لیے‘‘۔ سہیلی ہو تو ایسی۔ ارے دس کا نہیں سات ہزار کا تو ہو گا یہ جوڑا۔ برانڈڈ ہے اماں۔ نورین کے بھائی نے کہا۔ سلمان کے اصرار پر ایک ہفتے بعد وہ سل کر آیا تو نورین کو ایک ’’سہیلی‘‘ کی سالگرہ میں پہن کے جانا پڑا۔ اس کا بھائی نورین کو ان فلیٹس تک چھوڑنے گیا جہاں یہ سہیلی رہتی تھی۔ واپس وہ چھوڑ دے گی مجھے بھائی۔ تم جائو۔ نورین نے کہا۔ دو منٹ بعد سڑک پر کچھ دور سے سب دیکھنے والے سلمان نے گاڑی نورین کے سامنے لا کھڑی کی۔ پلک جھپکائے بغیر وہ اسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ لال ہو جانے والی نورین کو کہنا پڑا ’’اب چلو لوگ دیکھ رہے ہیں‘‘۔ مجھے یقین ہے امی تمہیں انکار کر ہی نہیں سکیں گی اب۔ ’’اس نے گاڑی آگے بڑھائی امی؟ کیا تم نے بتا دیا ہے انہیں؟‘‘ نورین کا دل برے زور سے دھڑکا میں تم کو سیدھا ان کے پاس لے جا رہا ہوں۔ یہ انگوٹھی وہ خود آج ہی پہنائیں گی تمہیں ’’اس نے سرخ ویلوٹ کی ڈبیا سامنے سے اٹھائی ’’دیکھو‘‘۔ نورین نےڈبیا لے لی۔ ’’مگر ایسے کوئی پیغام دئیے بغیر‘‘ اس نے بہت قیمتی انگوٹھی کو دیکھا۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے۔ میری پسند ان کو بھی پسند آگئی تو وہ کل ہی آئیں گی ’’سلمان مسکرایا، نوری کے جسم پر ٹھنڈا پسنہ بہنے لگا۔ یہ سب اتنا غیر متوقع اور اچانک ہو رہا تھا۔ لیکن اس کے سوچنے سمجھنے سے پہلے گاڑی گلشن میں ایک گھر کے گیٹ پر تھی۔ سلمان نے گیٹ کھولا اور گاڑی کو اندر کھڑا کرکے پھر بند کر دیا۔ گاڑی کا دروازہ کھول کے اس نے نورین کو اتارا۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا۔

فیصلے کی گھڑی کبھی یوں بھی آتی ہے؟ اس نے خود سے سوال کیا۔ یا اس کے خواب ہی اس کا عذاب بن گئے ہیں؟۔ اسے انکار کر دینا چاہیے لیکن اب باہر والے دروازے سے پہلے انکار کا کوئی دروازہ تھا تو وہ بھی بند ہو چکا تھا۔ وہاں کوئی امی نہیں تھی۔ اسے بچانے والا بس وہی حفاظتی سامان تھا جو فاطمہ نے اس کے بیگ میں ڈالا تھا۔ ایک حادثے کے بعد وہ محتاط ہو گئی تھی۔ اس نے ہر پرستار کے نام کو آزمائش کے آخری مرحلے میں قلم زد کر دیا لیکن پھر فاروق اس کی زندگی میں سارے حفاظتی حصار توڑ کے داخل ہوا تو نورین کچھ نہ کر سکی، سوائے اپنے حفاظتی اسباب استعمال کرنے کے جن کی وجہ سے وہ اب تک کنواری تھی۔ پھر بھی آنرز کے بعد ایم اے کرنے کے معاملے میں اس کی ہر دلیل سختی سے مسترد کر دی گئی۔ اس کے جتنے رشتے آئے تھے ان کو یہی بتا یا گیا تھا کہ لڑکی یونیورسٹی میں ہے لیکن ایم اے پاس لڑکوں کی حور پری تلاش کرنے والی کسی ماں نے بھی نورین کی خوبصورتی کوتعلیم کی ’’ڈس کوالی فیکیشن‘‘ پر ترجیح نہیں دی تھی۔

اس سے جونیئر فاروق فائنل ایئر میں تھا جب اس کے لیے صدیقی صاحب کا رشتہ آیا۔ اس نے فون پر فاروق سے بات کی ’’اب رشتے کی بات ٹالنے کا وقت نہیں رہا فاروق‘‘۔ وہ خفا ہونے لگا ’’ٹالا کب ہے، میں نے، بس میری تعلیم مکمل ہو جاے‘‘۔ ’’مجھے لگتا ہے یہ رشتہ منطور کر لیا جائے گا‘‘۔ تم انکار کر سکتی ہو۔ زبردستی تمہاری شادی کیسے ہو سکتی ہے۔’’ وہ بولا “جیسے تمہاری بہن کی ہوئی تھی‘‘ نورین کے منہ سے نکل گیا۔ رابطہ منقطع ہو گیا اور پھر کبھی نہ ہوا۔ فاروق نے اسی دن اپنا نمبر بدل لیا تھا۔

لائٹ جلی تو اس نے آنکھیں کھول کے اپنے شوہر کو اندر آتا دیکھا۔ ضروروہ خواب آور دوا کے اثر سے سو گئی تھی اور اب اٹھی تھی تو سامنے وال کلاک رات کے آٹھ بج رہا تھا۔ صدیقی نے جھک کے محبت سے اس کے بالوں پر ہاتھ پھیرا اور مسکرایا، ’’کیسی ہو ڈارلنگ؟’’ اور اس کے پاس بیٹھ گیا۔ ’’ٹھیک ہوں‘‘۔ اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ ’’سبخود ہی ٹھیک ہو گیا۔۔۔۔۔ میں نے تو لکھ کے دے دیا تھا کہ ڈاکوئوں کو میں نے دیکھا تو شوٹ کر دیا۔ میری آنکھ کھل گئی تھی کھٹکے سے، بھرا ہوا ریوالور میں ہمیشہ اپنے پاس رکھتا ہوں سوتے وقت لیکن اس کا لائسنس ہے میرے پاس’’ وہ ہنسنے لگا۔ لیکن پتا ہے اس سے کیا ہوا۔ انسپکٹر نے بتایا کہ ایک اشتہاری تھا۔ رفیق جھٹکا نام تھا۔ اس کا پانچ لاکھ ہیڈ منی تھی اس پر۔ اب انعام ملے گا مجھے۔ تم اپنا کچھ زیور بنالینا۔ ’’کارنامہ تو تمہارا ہی ہے نا‘‘۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: