چالیس چراغ عشق کے: علی عبداللہ کا تبصرہ

0
  • 18
    Shares

ایلف شفق ترکی کی معروف و مقبول مصنفہ ہیں۔ 1971 میں پیدا ہونے والی یہ مصنفہ اب تک کئی شاندار ناول لکھ کر متعدد بین الاقوامی ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں جن میں 1998 میں ان کو دیا جانے والا رومی ایوارڈ، سنہ 2000 میں ٹرکش رائٹرز یونین پرائز، 2013میں وومن فکشن ایوارڈ سمیت کئی دیگر ایوارڈز شامل ہیں۔ ان کے مشہور ناولوں میں دی باسٹرڈ آف استنبول، آنر، دی گیز اور دی فورٹی رولز آف لو وغیرہ شامل ہیں۔

ایلف شفق کی بین الاقوامی شہرت یافتہ تصنیف دی فارٹی رولز آف لو بنیادی طور پر ترک زبان میں لکھا جانے والا ناول تھا جو کہ دنیا کی کئی زبانوں میں شائع ہوا اور ترکی میں اسکی 750000 کاپیاں فروخت ہوئیں جو کہ ترکی کا بیسٹ سیلنگ ناول رہا ہے۔ ایلف شفق کے پسندیدہ موضوعات میں صوفی ازم، تاریخ، سیاست اور فلسفہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تارکین وطن اور مختلف ثقافتوں پر بھی لکھنا پسند کرتی ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ شمس تبریز کے چالیس اصولوں کو ناول کے مختلف کرداروں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی بہترین کوشش کی گئی ہے۔ صرف اتنا نہیں بلکہ ناول میں مزید بیبرس، مدحوش سلیمان، گل صحرا جیسے کرداروں کا اضافہ کر کے مصنفہ نے صوف ازم کو اپنے تخیل کے کینوس پر خوب رنگا ہے۔

فارٹی رولز آف لو کا پاکستان میں غالباً 2017 میں اردو ترجمہ ہوا جسے شائقین میں نہایت پذیرائی حاصل ہوئی۔  اس ناول کا اردو ترجمہ چالیس چراغ عشق کے نام سے ہما انور نے کیا ہے۔ بہترین انداز بیاں اور قاری پر ایک مسحورکن اثر چھوڑ جانے والے اس ناول کے ترجمے کے ساتھ مترجم نے نہایت انصاف کیا ہے اور اس بات کا پورا خیال رکھا ہے کہ ناول اپنا حقیقی اثر کھو نہ دے۔ چالیس چراغ عشق کے، ایک طرف مولانا روم اور شمس تبریز کے مابین تعلق اور جذب و مستی کو بیان کرتا ہے اور مولانا روم کی عوامی پذیرائی سے گوشہ نشینی تک کا سفر بتلاتا ہے تو دوسری جانب ایک ایسی خاتون کی کہانی بھی بیان کرتا ہے جو اپنی زندگی میں تمام آسائشوں کی موجودگی کے باوجود طمانیت کی کھوج میں اک ایسے اجنبی سے رابطے میں رہنے لگتی ہے جو اسے شمس تبریز جیسے خیالات و احساسات کا مالک دکھائی دیتا ہے اور وہ اس کی شخصیت کے سحر میں کھو کر اپنے خاندان کو چھوڑ کر راہ عشق اختیار کر بیٹھتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شمس تبریز کے چالیس اصولوں کو ناول کے مختلف کرداروں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی بہترین کوشش کی گئی ہے۔ صرف اتنا نہیں بلکہ ناول میں مزید بیبرس، مدحوش سلیمان، گل صحرا جیسے کرداروں کا اضافہ کر کے مصنفہ نے صوف ازم کو اپنے تخیل کے کینوس پر خوب رنگا ہے۔ صوفی ازم، تصوف اور روحانیت کے سفر پر چلنے کے لیے ایک شمع کا کردار ادا کرنے والا یہ ناول یقیناً ہماری زندگیوں کو بدلنے اور ان میں مثبت تبدیلیاں لانے کا باعث ہے۔

ناول سے چنے گئے چند بہترین موتی جو کہ در حقیقت شمس تبریز کے ہی چالیس اصولوں میں سے ہیں اور یہ انسان کے دماغ کو سوچ و فکر کی نئی راہ دکھا کر انسانیت سے محبت کا درس دیتے ہیں۔ آپ بھی پڑھیے اور غور و فکر کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہو جائیے۔

1۔ محبت ہی زندگی کا جوہر اور مقصد ہے یہ ہر کسی پر وار کرتی ہے ان پر بھی جو محبت سے گریزاں ہوتے ہیں۔

2۔ جب آپ سچ بولتے ہیں تو لوگ آپ سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ آپ جتنا محبت کے بارے بات کریں گے لوگ اتنی ہی آپ سے نفرت کریں گے۔

3۔ سچائی کا راستہ دماغ کی نہیں دل کی متواتر مشقت ہے دماغ کو نہیں دل کو اپنا رہنما اپنا مرشد بنا لو، اپنے نفس سے ملو اسے للکارو اور بالآخر دل کے ذریعے اس پر غالب آ جاؤ یہ جانتے ہوئے کہ تمہاری ذات کی معرفت خدا کی معرفت کی طرف تمہاری رہنمائی کرے گی۔

4۔ ہم چاہے جو کوئی بھی ہیں اور جہاں کہیں ہیں، اپنے اندر کہیں ہم سب خود کو نامکمل محسوس کرتے ہیں یوں جیسے ہم نے کچھ کھو دیا ہے اور اب واپس حاصل کرنا چاہتے ہیں بس یہ کہ ہم میں سے بیشتر کبھی نہیں جان پاتے کہ وہ کیا شے ہے جو کھو گئی ہے اور وہ جو جان لیتے ہیں ان میں سے بھی بہت کم ہیں جو اسکی تلاش میں نکلتے ہیں۔

5۔ صبر بے بسی سے برداشت کیے جانے کا نام نہیں اس سے مراد ہے اتنی دور اندیشی کہ کسی عمل کے انجام پر بھروسا کیا جائے۔ صبر سے کیا مراد ہے؟ اس کا مطلب ہے خار پرنگاہ کرتے پھول دکھائی دے، رات نظر میں ہو اور دکھائی صبح کا اجالا دے۔ بے صبری کا مطلب کوتاہ بینی یعنی کوئی شخص انجام کو دیکھنے کے قابل نہ ہو پائے۔ محبان الہٰی صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں کیونکہ وہ خوب آگاہ ہوتے ہیں کہ ہلال کو ماہ کامل بننے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔

6۔ چونکہ تم دوسروں کی پسندیدگی حاصل کرنے کے لیے بہت جان توڑ کوشش کرتے ہو، تم ان کی تنقید سے کبھی چھٹکارا حاصل نہ کر پاؤ گے چاہے تم کتنی ہی مشقت کرو۔

7۔ ماضی ایک بھنور ہے اگر تم نے اسے اپنے حال پر غالب آنے کی اجازت دے دی تو وہ تمہیں نگل جائے گی وقت محض ایک فریب خیال ہے تمہیں حال میں اس موجودہ لمحے میں جینے کی ضرورت ہے بس یہی اہم ہے۔

حرف آخر یہ کہ ایسے تمام لوگ جو روحانیت اور انسانیت سے بے لوث محبت کرتے ہیں ان کے لیے یہ ناول اپنے اندر بیش بہا خزانے لیے ہوئے ہے اور جو جتنا چاہے شمس تبریز کے اصولوں اور مولانا روم کے جنون کو محسوس کر کے زندگی میں اک نیا موڑ لا سکتا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: