تیرے پہلو میں جنت کی تلاش ۔۔۔۔۔ سحرش عثمان

0
  • 92
    Shares

نیندسے لڑتے جھگڑتے جب کھڑکی کے پاس جا ٹھکانہ کیا تو باہر اکتوبر کی اولین راتوں کا سحر پھونکتا آسماں منتظر تھا۔گہرا نیلا خاموش آسمان اور چپکے چپکے چمکتےتارے جیسے ان کے زور سے چمکنے سے منظر ٹوٹ جانے کا خوف لاحق ہو انہیں۔ کھڑکی کی گرل کھولنے سے پہلے دیور پہ لگے اے سی کی طرف دھیان گیا جو ہر صورت کمرے کو “رہنے” کے قابل بنائے رکھتا تھا۔ کولنگ خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظر بند کھڑکی پر پردے گرا کر خود باہر چلی آئی ٹیرس کی دیوار کے ساتھ ساتھ پھیلتی بوگن ویلیا۔

دیوار کے ساتھ گملوں میں پرپل زینیا جس کے درمیان میں گہرا سبز رنگ تھا جو اس کے پرپپل اور ایمرلڈ گرین ڈریس کا ڈیزائنر بھی تھا۔ گیٹ کے پول پر لگی دودھیا لائٹ کا ہلکا تاثر جو منظر واضح تو نہیں کر پارہی تھی مگر اس کی موجودگی چیزوں کو ان کی ساخت پر قائم رکھے ہوئے تھی۔

لائٹ کو دیکھتے ہی اسے دوست کا کہا ہوا وہ جملہ بھی یاد آیا کہ تم لان میں لگی لائٹ کے جیسی ہو جسے بجھا دیا جائے تو ہر شئے بے معنی ہو جاتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تمہیں تو اداس ہونے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے تمہارے ساتھ اداسی بلکل نہیں جچتی، جیسے چھم چھم برستی بارش میں اچانک سورج نکل آئے اور ہاتھ میں پکڑا چائے کا مگ تک اپنی اہمیت کھو دے۔۔

کین کی کرسی پر بیٹھتے یہ فکرے یاد آئے تو مدھم سے مسکراہٹ لمحہ بھر کو چہرے پہ آئی اور پھر معدوم ہو گئی گویا مسکرانا بھی کوشش سے ہو۔ اور اب وہ اکثر اداس رہتی ہے۔ گویا منظر پگھلاتی رہتی ہے۔ موم کی صورت جس میں دھاگا جلتا رہتا ہے اور وہ پگھل پگھل کے ہستی کھوتی رہتی ہے۔ ناآسودہ خواہشات ان کہے لفظوں کی کوئی نظم اس کے اندر بھی تڑپ تڑپ کے ہستی کھوتی رہتی ہے اور وہ کاغذ قلم پکڑے یہ سوچتی رہتی ہے لکھ دے وہ سارے احساس جو اسے مسلسل تخلیق کے کرب میں مبتلا رکھتے ہیں۔ لیکن لفظ بھی کہاں تک ترجمانی کرتے اس بے انت درد کی۔ اور بظاہر کس قدر نارمل زندگی تھی اس کی بلکہ بہت سوں کے لیے قابل رشک۔

وہاں بیٹھے اس منظر کا حصہ بنے نہیں معلوم کتنا وقت گزرا تھا بس اتنا معلوم تھا کہ آسما ں پر دمکنے والے ستارے اس کی چشم حیراں میں آن بسے تھے۔ وہ سارے ستارے ایک ایک کر کے ٹوٹنے کو تھے وہ جن کو آنکھوں میں بسا کر آغاز سفر کیا تھا۔ اس سے پہلے کے یہ متاع شہاب ثاقب میں بدل کر زمیں کی گہرائیوں میں روح سے عاری جسم کی طرح بسیرا کرتے اس نے بات کرنے، سمجھانے اور اپنا نکتہ بتانے کا فیصلہ کر لیا۔

ارادے کے بعد کا اطمینان لیے آسمان کے ستاروں کو چاندنی کے اور زینیا کے سبز اور کاسنی رنگ کو پول پر لگی لائٹ کے حوالے کر کے کمرے میں چلی آئی۔

اگلی صبح کا سورج ارادے اور عزم کی روشنی لیے ہوئے تھا۔ اسی زینیا کے جیسا سوٹ پہنے نفاست سے میک اپ کیے جب وہ گھر سے نکلی تو مصمم ارادے کے ساتھ فتح کی امید سے دل معمور تھا۔ ویسے امید بھی کیا بری شے ہے انسان کو جیتے رہنے پر مجبور کرتی رہتی ہے۔

شہر کی مصروف سڑک پر موجود اس کہ آفس میں بڑی سی میز کے سرے پر دھری کرسی پر بیٹھی وہ اس مصروف ترین شخص کو دیکھ رہی تھی اور جملے ترتیب تھی اس شخص کے لیے جو اس کہ لیے رفتہ رفتہ اے ٹی ایم مشین میں بدلتا جا رہا تھا جس میں سے وہ حسب ضرورت روپے نکال کر ” زندگی” خریدتی تھی___ وہ جس کہ خواب الگ تھے وہ جسے بسی بسائی دنیا میں اپنا مستقبل “روشن” رکھنا تھا۔ وہ جو چھٹیوں پر بھی جاتا تھا تو دبئی یا لندن کہ چھٹیاں تو آسائش سے گزرنی چاہییں، ارلی گرے ہوجانے والے بالوں کو سلیقے سے جمائے ارلی گرے بھی خوب اصطلاح ہے۔۔۔ جب دن رات آٹھوں پہر مقابلہ جیت جانے کی دھن سوار ہو تو گرے چھوڑ سلور بھی بچ جائیں تو غنیمت سمجھنا چاہیے__ عینک کے پیچھے اس کی کسی فائل میں ڈوبی آنکھوں میں خود کو تلاشنے کی سعی لا حاصل میں وہ کہیں دور نکل گئی تھی۔۔۔فائل سے نظریں ہٹا اس نے آنکھوں کہ سامنے چٹکی بجائی تو حال میں واپس آتے ہوئے بے ساختہ سوچے گئی_____

آہ! تمہیں یہ سمجھانا کسقدر دشوار ہے نا کہ مجھے ان بسے بسائے سجے سجائے سیٹلڈ شہروں سے وحشت ہوتی ہے۔ مجھے لگتا ہے یہ “آسان” زندگی میرے اندر کا خواب پرست مار ڈالے گی۔۔۔ کیا میرے لہجے کی تھکن یہ بتانے کہ لیے ناکافی ہے کہ یہ سہولتوں کا انبار مجھے جینے نہیں دیتا۔ تم نہیں سمجھ پاؤ گے شائد۔

مجھے لگتا ہے مجھے سسی ہونا تھا پنوں کہ پیچھے تھل کی ریت چھاننا تھی۔۔۔ روحی کہ کسی سرد ٹیلے پر زندگی کی شام بتانی تھی۔۔۔

کبھی یہ بھی گمان گزرتا ہے کہ کسی پہاڑی دریا کے کنارے کسی ٹری ہاؤس کہ نیچے کرسی ڈالے اکتارہ بجاتے ہوئے سپہریں کاٹنا تھیں۔۔ یہ تو نہ چاہا تھا کہ آدمیوں کے ہجوم میں عمر بسر ہو۔۔ پر تم نہیں سمجھ پاؤ گے تمہیں لگتا ہے زندگی آسائش کا دوسرا نام ہے، تمہیں یہ بھی لگتا ہے کہ سیٹلٹڈ شہروں کی رونقیں جاگتی راتیں مصروف دن زندگی کی علامت ہیں۔۔۔۔

سنو! کسی دن صحرامیں رات گزارو، ٹہرے ہوئے آسماں پر فسوں جگاتے ستارے ریت پر منعکس ہوتی چاندنی اور دوور کہیں بجتی بانسری، تم سحر کا مفہوم نہ جان جاؤ تو تو جادو کا لفظ ہی لغت سے نکال باہر کرنا۔۔۔

سنو تم جاگتی راتوں میں چمکتی، آنکھوں کو خیرہ کرتی مصنوعی روشنیوں کو ہی خوبصورتی سمجھ بیٹھے ہو۔۔۔۔خوبصورتی دیکھنا چاہو گے؟؟؟ تو پھر کسی معصوم بچے کی شفاف آنکھوں میں ڈوبتا سورج دیکھو اگر حیرت استجعاب خوشی امید باہم یکساں مجسم خوبصورتی نہ دکھیں تو میں خوبصورتی کی تمہاری تعریف کو مان لوں گی۔

تم ایک دفعہ کسی دوست کا ہاتھ تھام کہ ان شہروں سے نکل کر کسی ویرانے میں جا بسرام تو کرو، زندگی کاٹنے اور جینے کہ درمیان فرق سمجھ جاؤ گے۔ ۔دیکھو!! بڑا گھر بڑی گاڑی بڑا بینک بیلنس یہ ہی تو زندگی نہیں۔ کسی دن چوٹی پر چھوٹا سا کیمپ اس میں راڈ سے پانی گرم کر کے کافی اور اس کافی میں ڈبوئے سخت بسکٹ کھا کر دیکھو تم زندگی محسوس کرو گے۔

تم ایک بار ایک بار میرے ساتھ چلو ہم دریا کہ ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ریت پر بیٹھ کہ پانی میں بنتے بگڑتے بھنور دیکھیں گے۔ اگر یہ سب مایا اس بھنور جیسا نہ لگا تو میں تمہاری دنیا میں پلٹ آؤں گی پر آسائش آسان زندگی والی دنیا میں__ پر ایک بار چلو تو سہی۔۔ اس کے اندر کی دیوانی سی لڑکی منظروں کی دلیلوں کے انبار لگا رہی تھی اور وہ ہونٹوں پہ چپ کی دبیز تہہ لگائے بیٹھی تھی۔ اندر کی شوریدہ سری نے سر پٹخا اور اس نے کہنے کے لیے لب کھولے اور کہا تو بس یہ کہ دیر ہو گئی ہے۔۔ کیونکہ دیر تو واقعی ہو چکی تھی وہ زندگی کی ان منزلوں کی مسافر ہو چکی تھی جن راہوں کا سب سے بڑا خوف اظہار کے بعد کی بے توقیری ہوتا ہے وہ کہہ کہ لفظوں کا مان نہیں گنوانا چاہتی تھی۔

اگر اس نے حسب معمول میرے محبتوں کے سارے فلسفے چٹکی میں اڑادیے تو__ کیا اس کے بعد جینا ممکن ہوگا؟

چلیں کی آواز نے اس کی خیال کو بریک لگائی اور وہ دیوانی اس کہ ساتھ گاڑی میں آ بیٹھی__ کیونکہ سمجھداروں کو دیوانگی سمجھانا کس قدر مشکل ہوتا ہے یہ کوئی “دیوانہ” ہی سمجھ سکتا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: