‘‘انار کلی’’ : ایک رکا ہوا فیصلہ — بی بی امینہ کا مرزا حامد بیگ کے نئے ناول پہ تبصرہ

0
  • 518
    Shares

‘‘انار کلی’’ کے عنوان سے جنوری ۲۰۱۸ء میں ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کا ایک ناول منظر عام پر آیا ہے جو اکتیس سال کے طویل عرصے میں تحریر کردہ ایک دستاویزی ناول ہے۔یہ ناول تقریباً اڑھائی سو صفحات پر مشتمل ہے جسے اولاً ایک ہزار سے زائد صفحات پر لکھا گیا تھا۔ بعد ازاں اس کی کاٹ چھانٹ کی گئی اور کمال مہارت سے اڑھائی سو صفحات میں چار سو اٹھارہ سالہ تاریخ ِ ہند کو سمو دیا گیا۔ تاہم ناول نگار کے مطابق ناول کے اصل مسودے کو بھی محفوظ رکھا جائے گا تا کہ شائقین ادب خود ملاحظہ کر سکیں کہ یہ ناول کیسے تحریر کیا گیا۔

ناول ‘‘انارکلی’’ میں مرزا صاحب نے اٹل حقیقت اور ایک اہم زمینی واقعے کو زیر بحث لانے کے لیے کہانی کا سہارا لیا ہے اور یہی ان کا اصل فن ہے کہ موضوع سے متعلق وہ تمام پہلو جنھیں نظر انداز کر دیا گیا یا مسخ کرنے کی کوشش کی گئی، وہ ان تمام باتوں کو سامنے لے آئے اور آخر میں فیصلہ قاری پر چھوڑ تے ہوئے ان پر اپنی رائے مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک کمال یہ بھی ہے کہ انھوں نے ناول کو تحقیقی مقالہ نہیں بننے دیا بل کہ تمام تر معلومات کو کہانی کا حصہ بنا کر اس میں حقیقت کا رنگ بھر دیا ہے اور حقائق کے ساتھ ان کے حوالہ جات کو بھی کہانی کے اندر ہی، اس قدر چابک دستی کے ساتھ گتھم گتھا کر دیا ہے کہ تحریر میں کسی بھی قم کی رکاوٹ یا کمی محسوس نہیں ہوتی۔

ہر ناول کی تحریر کا کوئی بنیادی مقصد ہوتا ہے جو ناول کی تحریر کا باعث بنتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے اس ناول کا مقصد میل شاؤنزم اور اس کی بنیاد پر ہونے والی نا انصافیوں کو سامنے لے کر آنا ہے جس کی ایک نمایاں صورت، مرزا صاحب کے نزدیک ‘‘غیرت کے نام پر قتل’’ بھی ہے جو مذکورہ ناول کے حوالے سے انا ر کلی کا قتل ناحق ہے۔ اگرچہ یہ مغلیہ دور اور بالخصوص لاہور کا کوئی واحد قتل نہیں۔ اس سے پہلے اور بعد میں بھی اس طرٖح کے واقعات پیش آتے رہے ہیں لیکن تاریخ پر نگاہ دوڑائی جائے تو سب سے زیادہ معروف یہی ہے۔علاوہ ازیں بات صرف قتل پر ہی ختم نہیں ہوتی بل کہ انارکلی پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان اس قدر طویل ہے کہ چار سو اٹھارہ سال بعد بھی نہ تو اس کے قتل کا کوئی فیصلہ ہو سکا اور نہ ہی ایک سو پچپن سال سے اپنی قبر سے محروم انار کلی اپنے مدفن میں واپس جا سکی ہے۔ یہی ناول نگار کا بنیادی قضیہ ہے جس کی تائید خود ناول کے انتساب سے بھی ہو جاتی ہے جو اکبر اعظم کے نام کرنے کے بعد ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں:

‘‘جنھوں نے شہزادہ لوہ کے ہاتھوں قلعۂ لاہور میں جلایا چراغ بجھنے نہ دیا اور ایک ننھا سا دیا پھونک مار کر بجھا دیا۔’’

چنانچہ تحقیق و تفتیش نے انھیں اس قدر مضطرب کر دیا کہ انھوں نے مغلیہ عہد کی عمارات کی مضبوط فصیلوں کو توڑ کر ان کی خستہ حال دیواروں میں موجود رازوں کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی اور اس کوشش میں وہ نہ صرف کامیاب رہے بل کہ عہد اکبری سے لے کر زمانۂ حال تک کی معاشرتی اور سماجی تاریخ کے ساتھ ساتھ ادبی تاریخ میں بھی ایسی ایسی نا انصافیوں اور سرقوں کی نشان دہی کر گئے جن کا بر وقت ادراک نہ ہونے اور وقت کی دھول کی دبیز تہوں کے نیچے چھپ جانے کے سبب ادب کے قارئین اور محققین بل کہ تمام شائقین ادب ہوا میں معلق تھےاور جھوٹ کو ہی سچ مان بیٹھے تھے،لیکن حقائق کی جمع آوری کے بعداب وہ اس قابل ہو گئے ہیں کہ مذکورہ معاملات پر اعتماد سے بات کر سکیں اور ان سے متعلق اپنا فیصلہ صادر کر سکیں۔ مرزا صاحب کی مساعی نے جن اہم حقائق کی بازیافت کو ممکن بنایا ہے ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

۱۔ اکبر کے عہد اور بعد کے مؤرخین اور مصنفین نے انارکلی، اس کی موت اور سبب چھپانے کی سر توڑ کوشش کی۔اس کوشش میں سب سے نمایاں کردار ابو الفضل کا تھا اور اس نے اس لیے پردہ پوشی کی تاکہ شاہی خاندان کے ماتھے سے ‘‘زنا بالمحرمات’’ کا داغ دھویا جا سکے۔اس مقصد کے لیے ابو الفضل نے ۱۵۹۴ء میں پاگل کا بہروپ بھر کر انارکلی سے ملنے والے سلیم کو ‘‘اکبر نامہ ’’میں ایک عام پاگل ہی قرار دیا لیکن یورپی مؤرخین اور سفرنامہ نگاروں نے سلیم ہی کے حوالے سے اس واقعے کا ذکر کرکے اس کی موجودگی کو ثابت کیا ہے۔مزید برآں دربار اکبری کے شاعر عرفی شیرازی نے بھی اپنے اشعار میں انارکلی کے بیک وقت سلیم اور اکبر کے ساتھ تعلقات کا ذکر کیا ہے،جس کی بنا پر بعد میں اسے زہر دے کر قتل بھی کر دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر صاحب کے اس ناول کا مقصد میل شاؤنزم اور اس کی بنیاد پر ہونے والی نا انصافیوں کو سامنے لے کر آنا ہے جس کی ایک نمایاں صورت، مرزا صاحب کے نزدیک ‘‘غیرت کے نام پر قتل’’ بھی ہے

۲۔ میر عدل میر عبد الحیی کی عدالت میں انارکلی پر ۱۵۹۱ء میں شہنشاہ اکبر کو زہر دینے اور بعد ازاں اکبر کے حرم شاہی کا حصہ ہوتے ہوئے بھی شہزادہ سلیم کے ساتھ پکڑے جانے کے حوالے سے ‘‘زنا بالمحرمات’’کے مقدمات کیے گئے۔انار کلی نے اکبر کو زہر دینے کی سازش میں ملوث ہونے کا اقرار اذیت ناک سزاؤں کے باوجودآخر دم تک نہیں کیا۔لہٰذا اسےمؤخر الذکر مقدمے کے لیے سزا ملی اور آئین اکبری کے تحت اس کی ناک اور کان کاٹنے کے بعد اسے نظروں سے اوجھل کرنے کے لیے دیوار میں چنوا دیا گیا۔

۳۔ انار کلی ۲۹؍نومبر تا ۶؍دسمبر ۱۵۹۹ء کی درمیانی مدت میں زندہ دیوار میں چنوا دی گئی۔ حتمی تاریخ اس لیے نہیں بتائی گئی کیوں کہ ہجری اور عیسوی تقویم میں افتراق کی وجہ سے حتمی تاریخ کا تعین انتہائی مشکل ہے۔جہانگیر نے بھی انار کلی کی قبر کے تعویز پر ۱۵۹۹ء اور ۱۰۰۸ھ ہی لکھوایا کیوں کہ کنیز کو سزا ملنے کا سال یہی تھا لیکن چوں کہ سزا حبس دم کی تھی اس لیے بھی اس بات کا فیصلہ صرف تاریخ کی مدد سے نہیں کیا جا سکتا کہ دیوار میں چنوا دینے کے بعد اس کی سانس کب رکی اور موت کب واقع ہوئی؟

۴۔ مقبرہ انار کلی کو سلیم کی ایک بیگم صاحب جمال کا مدفن قرار دیا جاتا ہے۔قبر کے اوپر سال وفات ۱۰۰۸ھ درج ہے جب کہ صاحب جمال کا سال وفات ۱۰۰۷ھ تھا۔

۵۔ عہد اکبری کی بیش تر عمارات موجود ہیں لیکن اکبری محل اور حرم شاہی میں موجود بیگمات اور لونڈیوں کے حجروں کی صرف بنیادیں باقی رہ گئی ہیں۔ناول میں نہ صرف محل کے مختلف حصوں بل کہ قلعۂ لاہور کے مسجدی دروازے کے قریب ایستادہ اکبری محل سے ملحقہ انار کلی کے حجرے کی بھی نشان دہی کی گئی ہے جس میں انار کلی ۱۵۹۰ء۔تا ۱۵۹۱ء اقامت پذیر تھی۔

۶۔ ولیم فنچ نے اپنی تحقیقات میں جس مسجد کا حوالہ دیا ہے اسے اب تک بابا فرید گنج شکر کی مسجد سمجھا جاتا رہا ہے،لیکن فنچ نے شیخ فرید کی مسجد بتائی ہے جو گورنر لاہور نواب مصطفیٰ خان شیخ فرید بخاری تھے جو ۱۶۱۶ء تک زندہ رہے۔

۷۔شالا مار باغ اور شیش محل کو عہد شاہجہاں کی یادگاریں قرار دیا جاتا ہے جب کہ یہ عمارات اکبر کے عہد میں موجود تھیں اور اس وقت ‘شالا مار ’ کو ‘شالی مار’ کہا اور لکھا جاتا تھا جس کا تذکرہ اس دور کی شاعری میں بھی ہے۔

۸۔اکبر کے مذہب کے حوالے سے یہ بحث بھی ملتی ہے کہ ‘‘دین الہٰی ’’کا کوئی وجود تھا بھی یا نہیں؟ ناول میں نہ صرف اس کی موجودگی کا بیان ہے بل کہ اس کے پیروکاروں کی اس دین میں شمولیت کے طریقۂ کار اور کھانے پینے کے باب میں بھی مکمل تفصیل فراہم کی گئی ہے۔

۹۔ حضرت داتا گنج بخش کی قبر کے بارے میں یہ بیان کہ یہ اکبری عہد سے پہلے قلعۂ لاہور کی زمین پر راوی کے کنارے تھا،غلط ہے۔

۱۰۔ معروف ملامتی صوفی شاعر شاہ حسین اکبر کا مخالف تھا لیکن اس کا شہزادہ سلیم کے ساتھ رابطہ تھا۔

۱۱۔محمد حسین آزاد کی کتاب ‘‘دربار اکبری’’ کی پہلی اشاعت (۱۸۹۸ء)پر مولوی ممتاز علی نے محمد حسین آزاد کے ساتھ اپنا نام بھی اس بیان کے ساتھ لکھا تھا کہ انھوں نے مسودہ از سر نو مکمل کیا ہے؛آزاد کی اغلاط کو درست کیا ہے اور ستر امرا و اعیان اکبری کے حالات بہ طور تتمہ قلم بند کیے ہیں۔جب آزاد کے بیٹے کی طرف سے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا تو انھوں نے معافی مانگ لی۔بعد ازاںدوسری اشاعت صرف آزاد کے نام کے ساتھ ہی منظر عام پر آئی۔

۱۲۔اردو ادب کا معروف ڈراما ‘‘انارکلی’’ سید امتیاز علی تاج کی تحریر نہیں بل کہ یہ ایس۔کے۔فیروز کا ڈراما ہے جو انھوں نے ‘‘انارکلی’’ کی اشاعت (۱۹۳۲ء) سے دس سال پہلے دارالاشاعت پنجاب کے مالک مولوی ممتاز علی کو اشاعت کی غرض سے دیا تھا لیکن تاج نے اسے اپنے نام سے شائع کروایا۔

۱۳۔ انار کلی کی قبر مقبرے میں ہونے کے باوجود اپنی جگہ پر یعنی گنبد کے عین نیچے نہیں۔گنبد کے نیچے اس کی تلاش کے لیے ۱۹۹۲ء میں ناول نگار کی ہی کوششوں سے ملتان سے پیشہ ور بلوا کر بورنگ کروائی گئی تاکہ قبر کی موجودگی کا پتا چلایا جا سکے لیکن بور کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی جو اس بات کا ثبوت تھا کہ نیچے کوئی قبر موجود نہیں۔ درحقیقت ۱۸۵۲ء میں مقبرۂ انارکلی کو چرچ بنانے کی صورت میں انارکلی کا ماندہ وجودگنبد کے نیچے سے نکال کر صدر دروازے سے ملحقہ بائیں برجی کے نیچے دفن کر دیا گیا تھا جہاں وہ اب بھی موجود ہے،لیکن ناول کے عام قارئین کے لیے اس جگہ کی نشان دہی کے باوجود اس تک پہنچنا اس لیے مشکل ہےکیوں کہ انھیں معلوم نہیں کہ جب یہ عمارت بنی تھی اس وقت صدر دروازہے کے طور پر کون سا دروازہ مستعمل تھا؟ ڈاکٹر مرزا حامد بیگ کے بقول صرف وہ ہی اس ضمن میں راہ نمائی کر سکتے ہیں۔

پلاٹ کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ایک مربوط اور منظم پلاٹ ہے بل کہ ناول میں حقیقی اور ‘‘مجازی’’ انار کلی کے حوالے سے دو پلاٹ چلتے ہیں اور دونوں کے حالات،اشتراکات اور معاملات اس طرح باہم پیوسط ہیں کہ ایک کی کہانی دوسرے کو متاثر نہیں کرتی بل کہ اس میں کچھ نہ کچھ اضافہ ہی کرتی چلی جاتی ہے۔ اس کا سب سے اہم سبب یہ ہے کہ ایک ہی طرز کے واقعات کو ناول کے ایک ہی باب میں سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے،جس سے قاری کی توجہ منتشر نہیں ہونے پاتی۔ علاوہ ازیں واقعات کا تاریخی تسلسل قابل داد ہے جو ناول کی اہم ضرورت ہونے کے ساتھ ساتھ ناول نگار کی اکتیس سالہ تحقیق اور محنت پر بھی دلالت کرتا ہے۔قدم قدم پر اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں اور ان کے جوابات خود ہی فراہم بھی کر دیے ہیں جو پلاٹ میں کوئی خلا باقی نہیں رہنے دیتے۔ہاں اگر ایک بھی کڑی نکال دی جائے تو خلاکا پیدا ہونا یقینی امر ہے۔ لیکن یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ناول نگار ہر موقعے پر اعتدال و توازن قائم رکھتے ہیں۔وہ پورے ناول میں اکبر اور سلیم کی مخالفت اور انارکلی اور اس کے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر کڑھتے ضرور ہیں ،لیکن اکبر کی پدرانہ شفقت کو بھی نظر انداز نہیں کرتے بل کہ ایک دیانت دار فن کار کی طرح حقیقیت کو تسلیم کرتے اور اس کی نفسیاتی توجیہ تلاشنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں اور پھر انھیں حوالوں کی مدد سے ثابت بھی کر جاتے ہیں۔

کردار نگاری اس ناول کا سب سے متاثر کن جز ہے۔ناول نگا ر کا نقطۂ نظر فلسفیانہ انداز میں کرداروں کا جائزہ لیتا ہے۔وہ کرداروں کی نفسیات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور ان کرداروں کو لے کر تخلیقی انداز میں اپنی فکر اور اپنی سوچ کے ساتھ قدم آگے بڑھاتے ہیں۔ان کے تاریخی کردار تو اپنی جگہ مکمل ہیں ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ فلم یونٹ کے افراد اور شہریار مرزا کے کردار بھی قابل تحسین ہیں۔ کوئی بھی کردار غیر ضروری نہیں۔تمام کردار ناول نگار کے ترتیب دیے ہوئے دائروی عمل کا حصہ ہیں جو اس دائروی عمل میں موجود اپنی ذات سے متعلق چھوٹے چھوٹے دائروں کی تکمیل کے لیے اپنا کردار نبھا رہے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے قاری کو نہ صرف حیران و پریشان کر دیتے ہیں بل کہ بعض اوقات جھنجھوڑ بھی دیتے ہیں۔علاوہ ازیں ناول کا ہر کردار جب کچھ بولتا ہے تو ساتھ ساتھ نہایت غور سے کچھ سن بھی رہا ہوتا ہے۔یوں خارجیت میں داخلیت اور حاضر میں غائب کی صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے جو ناول میں شعور کی رو لیے راستہ ہموار کر دیتی ہے،جس کی سب سے زیادہ کار فرمائیاں شہریار مرزا میں نظر آتی ہیں۔

ناول میں اگرچہ مکالمے کم ہیں لیکن دلچسپ، موزوں اور بر محل ہیں۔ یہ کرداروں کے خیالات، جذبات اور احساسات کو عیاں کرتے ہیں۔یہ مکالمے نہ صرف برجستہ اور آسان زبان میں ہیں بلکہ کرداروں کی تفہیم میں بھی مدد دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرزا صاحب نے تاریخی کرداروں کے خیالی مکالمے بھی لکھے ہیں لیکن ایسے مکالمے ان کی تاریخ نویسی کی راہ میں حائل ہونے کے بجائےکرداروں کے خیالات اور نفسیات کے ساتھ اپنے عہد کے مسائل کی طرف بھی قاری کی توجہ دلاتے ہیں اور ان کا منااسب حل تجویز کرنے میں مدد دیتے ہیں۔

تاریخی موضوع ہو اور وہ بھی اکبری عہد اور اس میں منظر نگاری نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے؟چناں چہ مرزا صاحب نے موضوع سے انصاف کرتے ہوئے سماجی اور مادی منظر نگاری دونوں کو برتا ہے۔انھوں نے ماحول کو جزئیات کی مدد سے قاری کے لیے اس طور سے واضح کر دیا ہے کہ قاری اسی منظر اور اسی عہد میں اکبر اور جہانگیر کے شانہ بشانہ چلتا اور سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔انار کلی کی موت کا واقعہ واقعہ کوئی معمولی نوعیت کا واقعہ نہیں ہے۔وہ اپنے ساتھ کتنا بدلاؤ اور انتشار لے کر آیا،جو اس حقیقیت سے واقف ہیں وہی جانتے ہیں۔ اس کے بیان کے لیے دفتر درکار ہیں لیکن مرزا صاحب نے سماجی منظر نامے کو واضح کرتے ہوئے اور اس دور کا کوئی بھی اہم نکتہ نظر انداز کیے اس انتشار زدہ صورتِ حال کو ناول کے ابواب میں اس طرح بیان کر دیا ہے کہ اکبر، سلیم،انارکلی اور دل آرام،شہریار مرزا،شازی حیات کے علاوہ شاہ حسین تک اس کی گرفت سے بچ نہیں پائے۔

اسی طرح اگر مادی منظر نگاری کے معاملے کو دیکھیں تو انھوں نے مکانوں،سڑکوں اور دوسرے مقامات کی چھوٹی چھوٹی باتوں کوانتہائی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ انھوں نے اس ناول میں مصور کے فرائض ادا کیے ہیں جس نے اپنی قوتِ مشاہدہ سے کام لے کر ایسی جزئیات کو بیان کیا ہے جن پر قلعۂ لاہور کی سیر کے لیے جانے والے عوام کی نظر تک نہیں پڑتی۔اس منظر نگاری میں کرداروں کےحلیے، ان کے عادات و خصائل سے لے کر ان کےطرزِ رہائش تک سب ہی کچھ شامل ہے۔ حویلی،بارہ دری، ایوان خاص، خلوت خانہ، شیش محل،نو لکھا،دروازوں،برجوں،مقبروں، محرابوں،بیگمات اور لونڈیوں کے حجروں کے طویل سلسلوں کے بیان اور پھر ان تمام مساکن میں خوف اور خواہشات کے تصادم، آرزو کے حصول کی جستجو، تعیش پرستی،سزا و جزا کےاحکامات اور احساس جرم نے مل ایک عجیب و غریب،ظلم و دہشت سے بھرپور،پر اسرار مگر مکمل منظر نامے کو اس طرح تشکیل دیا ہے کہ ہر کردار اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی سعی میں مصروف عمل ہے۔

ناول کا اسلوب رواں ہے۔اسی کی بدولت کہانی سست روی سے نہیں بل کہ سطر بہ سطر آگے بڑھتی رہتی ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی توجہ نہیں ہٹتی اور نہ ہی بیزاری محسوس ہوتی ہے۔چونکا دینے والی سچائی کو کہانی کے روپ میں ڈھالنا ایک عمدہ تکنیک ہے،جس کی وجہ سے کہانی میں محض فکر ہی نہیں سچائی بھی ہے۔ مکالموں کی زبان اور الفاظ کا چناؤ کرداروں کے پیشوں، جنس اور نفسیات کے مطابق ہے۔ درست املا کا خیال رکھنے کی حتی الامکان کوشش کی گئی ہے اس کے لیے ناول کے آغاز میں ہی ‘‘انتباہ’’ کے عنوان سےایک عبارت دی گئی ہے جو درج ہے:

‘‘مروج غلط املا کے عادی اس ناول کو پڑھتے ہوئے کسی قدر دقت محسوس کر سکتے ہیں۔’’

علامات کا استعمال کمال ذہانت اور ہوش یاری سے کیا گیا ہے۔خصوصاً ‘‘شہریار مرزا’’، ‘‘انار کی کلی (شازیہ حیات)’’ اور ‘‘مجنون سلیم اکبر’’ میں جو معنویت تلاش کی گئی ہے وہ بہت دل چسپ ہے۔اگرچہ کئی مقامات پر تکرار سے بھی کام لیا گیا ہے لیکن راقمہ کے خیال میں اس کا مقصد اہم تاریخی حقائق اور واقعات اور ان کے وقوع پذیر ہونے کی تواریخ کی ذہن نشینی ہے۔جو ایک احسن اقدام ہے۔

غرض مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ تواریخ، فلم، مضامین اور ناولوں کی موجودگی میں اتنے عرصے بعد منظر عام پر آنےوالی انار کلی سے متعلق تحقیق ایک نئی سمت اور نئی جہت ہی نہیں بلکہ اردو ناول کی تاریخ میں بھی ایک ایک نئے سفر اور جدت کی نوید ہے جو آیندہ ناول نگاروں کے لیے تحقیق و تفتیش کے پل صراط سے گزرنے کے لیے ایک کڑے امتحان کی پیش گوئی بھی ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد ادب کے با ذوق اور سنجیدہ قارئین کے لیےکسی بھی دستاویزی ناول میں، بغیر تحقیق و حوالہ جات کے،کسی ارضی حقیقت کو ماننے میں تامل ضرور ہو گا۔

مزید برآں آخر میں اس اہم سوال کا تذکرہ بھی ضروری ہے جو ناول کے توسط سے مرزا حامد بیگ نے فلم یونٹ کے افراد کے پردے میں اپنے قارئین سے پوچھا ہے اور وہ یہ ہے کہ مرزا حامد بیگ انار کلی کے ماندہ وجود کو عین اسی جگہ دفنانا چاہتے ہیں جہاں وہ ۱۸۵۲ء سے پہلے دفن تھی،لیکن کیا اس کاوش میں ہم مرزا حامد بیگ کا ساتھ دیں گے؟؟؟


تبصرہ نگار شعبۂ اردو، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی،اسلام آباد سے وابسطہ ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: