جنرل الیکشن ۔ خدشات اور خطرات: محمد خان قلندر

0
  • 72
    Shares

پاکستان میں الیکشن کی تاریخ اتنی ہولناک ہے کہ ہر الیکشن سے پہلے ایک وحشت اور خوف کی فضا طاری ہو جاتی ہے۔پہلی قانون ساز اسمبلی پچاس کی دہائی میں مسلسل بلی چوہے کا کھیل کھیلتے کھیلتے جب 1956 میں آئین بنانے میں آخر کار کامیاب ہو ہی گئی تو جنرل سکندر میرزا نے اسمبلی پر جھرلو پھیر دیا۔ عدالت عالیہ نے نظریہ ضرورت عطا کر دیا اور جنرل ایوب خان نے پہلا مارشل لا نافذ کر دیا۔ اگلے الیکشن 1962 میں بنیادی جمہوریت کے نظم سے صدارتی نظام کے مطابق ہوئے، ایوب خان صدر اور فیلڈ مارشل تو بن گئے لیکن مشرقی پاکستان میں شورش اور بد امنی پھیل گئی، جس کے اثرات مغربی پاکستان میں بھی نمودار ہوئے، وہاں مجیب الرحمن اور یہاں ذوالفقار علی بھٹو ایوب مخالف تحریک کے لیڈر بنے اور ملک میں دوسرا مارشل لا لگ گیا۔

اگلے جنرل الیکشن 1970 میں دوبارہ آئین ساز اسمبلی کے لئے منعقد ہوئے، اس الیکشن نے ملک کی چولیں ہلا دیں اور مشرقی پاکستان علیحدہ ہو گیا۔ مغربی پاکستان میں جو اب پاکستان تھا 1973 میں آئین بنا اور اس کے تحت 1977 میں پہلے عام انتخابات ہوئے۔ اس جنرل الیکشن سے ایک اور جرنیل ضیاالحق برآمد ہوا۔ اور تیسرا مارشل لا لگ گیا۔

اگلا جنرل الیکشن 1985 میں غیر جماعتی بنیاد پے ہوا، اسمبلی سے ایک مسلم لیگ بنائ گئی، جس کے بطن سے نُون لیگ پیدا کرائی گئی، حسب روایت آئین کی بحالی کے چوتھے ہی سال جنرل ضیا راہی عدم ہوئے تو 1988-92 -97 میں یکے بعد دیگرے جنرل الیکشن ہوئے، جن میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی مین متحارب رہیں، ان جنرل الیکشنز کا ںتیجہ بھی دہشت ناک نکلا۔

نواز شریف نے آصف زرداری کو جیل میں اور بینظیر کو بیرون ملک بھجوانے کے بعد، کھیوے کی سُنجی گلیوں میں میرزا جٹ بن کے پھرنے، کی کوشش کی تو جنرل پرویز مشرف نے خود اسے بمع ڈنڈا ڈولی سعودیہ بھیج دیا، ملک میں ان تین جنرل الیکشن کی کوکھ سے چوتھے مارشل لا نے جنم لے لیا، چوتھا جنرل صدر پاکستان بن گیا اگلا جنرل الیکشن ہوا 2002 میں ، یہ بھی عجوبہ روزگار تھا۔ نُون لیگ کو ق لیگ کی قبا پہنائی گئی۔ پیپلز پارٹی میں پیٹریاٹ کی چوتھی پی جمع کی گئی اور مولوی مجتمع کر کے ایم ایم اے بنا دی گئی، ملک میں دہشت گرد گروہ منظم ہوئے۔ تحریک طالبان پاکستان وجود میں آئی۔ لال مسجد آپریشن دارالحکومت کے مرکز میں دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کی کوریج میںسٹیج کیا گیا۔ عدالت عالیہ جس نے جرنیل صاحب کو سند قبولیت کے ساتھ پہلے تین سال من مانی کرنے کی اجازت تک عطا کی تھی اس کے چیف کو معزول کر کے ، وکلا اور سول سوسائیٹی کو شورش پے متحرک کرنا اور این آر او اگلے جنرل الیکشن کی ہنگامہ خیز تیاری تھی۔

بدقسمتی سے ہر برسر اقتدار حکمران ہر آنے والے الیکشن میں اقتدار کے چھن جانے کے خوف میں مبتلا ہو کر ملک میں انتشار اور بدامنی کو اپنے اقتدار کے دوام کی ضمانت سمجھتا ہے۔ لاشعور میں کسی بڑے حادثے کے وقوع پذیر ہونے کی تمنا ہوتی ہے کہ شائد الیکشن ٹل جائیں، اسی پس منظر میں اُس الیکشن سے پہلے بینظیر کی شہادت ہوئی۔ لیکن 2008 کا الیکشن ہوا۔ جنرل مشرف رخصت ہوئے اور پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئے آصف زرداری صدر بن گئے۔

حالات کے سنگین مد و جذر کے ساتھ ، ان کے صدر ہوتے 2013 کے جنرل الیکشن ہوئے، پیپلز پارٹی سینٹ اور سندھ تک محدود ہو گئی، جنرل مشرف کے دور میں سیاسی منظر نامے پے ابھرنے والے عمران خان مقبول لیڈر بن کے ابھرے ان کے حصے میں کے پی کی حکومت آ گئی۔ نواز شریف تیسری دفعہ وزیراعظم بنے اور پنجاب میں پانچویں دفعہ نُون لیگ کی حکومت بنی،یہ الیکشن 77 کے الیکشن کے مقابل متنازعہ ٹھہرے۔ جلسے جلوس، طویل ترین دھرنا ہوا، بے یقینی کے فضا قائم رہی کہ حکومت اب گئی کہ تب گئی لیکن نواز شریف اس شور شرابے باوجود اس کرائسس سے تو بچ نکلے لیکن ان کے پاؤںاکھڑے رہے، ویسے بھی ان کا مزاج اپوزیشن لیڈری کے لئے زیادہ موزوں ہے، اور اب ان کو یہ موقعہ پنامہ کیس میں نااہل ہونے اور وزارت عظمی سے معزولی کے بعد ہاتھ آ گیا ہے۔ اپنے موجودہ دور میں برسر اقتدار ہوتے بھی انہوں نے فوج، عدلیہ اور عمران خان سے محاذ آرائی پیدا کئے رکھی، اب تو وہ لڑائیاں لڑنے کے لئے حکومتی ذمہ داری سے بھی آزاد ہیں۔

اگلا الیکشن لڑنے کی تیاری میں سب سے بہترین ماحول ان کو میسر ہے، اگرچہ وہ خود الیکشن لڑنے سے نااہل ہیں لیکن وہ اس امر کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، نُون لیگ کے صدر ہونے کے باوجود الیکشن کے قوانین اور ضابطے ان پر لاگو نہیں ہوتے، وہ عدلیہ کو جو کہتے پھریں، فوج کو لتاڑیں، مجیب بننے کا کہیں، جو بھی کریں تو نااہل ہونے کی سزا تو مل چکی، دوبارہ کیسے نااہل کئے جائیں، اس کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن یہ بے مہار، بےخوف آزادی ہی خطرے کا سبب ہے کہ وہ ملک کو کسی بڑے حادثے سے دوچار کر سکتے ہیں۔ جب دوسری طرف فوج ملکی حالات کی وجہ سے بہت محتاط ہے اور یہ بھی کہ پچھلے تین اور خاص طور پر مشرف کے مارشل لا کے بعد اس کا دل بھی مارشل لا لگانے، لگتا ہے بھر گیا ہے، پچھلے نو سال میں بارہا دعوت بھی تھی اور حالات کے متقاضی ہونے کے باوجود براہ راست مداخلت سے گریز کیا گیا ہے، عدالت عالیہ بھی عدلیہ بحالی تحریک کے بعد اپنی سابقہ حکمران نوازی کی روایت دوبارہ زندہ نہیں کرنا چاہتی، موجودہ سیاسی اور سیاست دانوں کے مقدمات میں الجھائے جانے اور اس پے عوامی رد عمل سے مزید معاملات میں الجھنے سے گریزاں ہے۔

اپوزیشن میں شامل جماعتوں میں اتحاد عمل ممکن ہی نہیں، ساری جماعتیں اپنے محدود مفاد کی اسیر ہیں ، تحریک انصاف شروع سے کسی حادثے یا معجزے کے انتظار میں ہے، یہ بھی ظاہر ہے کہ اب وہ ان الیکٹیبلز پر انحصار کرے گی جن کو نُون لیگ یا پیپلز پارٹی میں پنجاب اور سندھ میں رسائی نہیں ملے گی، ممکنہ طور پر، اس صورت حال میں، موجودہ الیکشن کمشن، اور انتظامیہ کے ہوتے نواز شریف کا پلڑہ بھاری رہے گا، یہی سب سے بڑی خطرے کی گھنٹی ہے، جنرل الیکشن تک ماحول کی کشیدگی، امن عامہ، ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ہو سکتی ہے اور اتنے خطرات میں الیکشن ہونے کے بعد ، کوئی بھی اپنی ہار ماننے کو تیار نہیں ہو گا، تو کیا یہ بہتر نہیں کہ سیاستدان بزرگ ہونے کا ثبوت دیں اور باہم بیٹھ کر رولز آف گیم طے کر لیں، نواز شریف سڑسٹھ سال کے ہیں کیا وہ نوابزادہ نصراللہ خان جیسے بزرگ اور بردبار ہو سکتے ہیں!!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: