مکر کے وظیفے : سلمیٰ جیلانی کی ایک نظم

0
  • 42
    Shares

آج میں نے عجب ہی
منظر دیکھا
سرابوں کی دنیا
جہاں
جھوٹے وعدوں
محبت کے دھوکے
آس نراس
جینے مرنے کی
قسموں کے
ریشمی جال بنتی
مکڑیاں
لجلجے چہرے
سنہرے حسن کی
کھال پہن کر
تھرتھرا تی
ناچتی
مسکراتی ہیں
نفاق کے
کاروبار میں فائدہ
ہی فائدہ ہے
دبیز ریشم کی
آستینوں میں
مصلحت کے سانپ
چھپائے
تبلیغ جاری ہے
نماز افضل تریں ہے
خدائے واحد کو پوجو
مگر
وہ خود
با اختیار انسانوں کے سامنے
سجدہ ریز ہیں
زرو جواہر کے منبر پہ چڑھ کے
اور
لیمو زین کار
سے اترتے
دن رات
سادگی کا
سبق رٹتے ہوئے
سبز اور سفید
طوطے
بن چکے ہیں
بے اثر ہوتی صداؤں میں
اذان بلالی
کہیں نہیں ہے
بس کریہہ چیخ
باقی ہے
جو کہہ رہی ہے
انسانیت
مر چکی ہے
اسے
مذہب کی
صلیب سے اتارو
اور
ندامت کی قبر
میں
دفن کر دو

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: